خدائی آواز
Al-Risala, June 1997, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبرہ میں ارشاد ہوا ہے ـــــ اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر ۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔ کہ ہمارے باپ دادا نے پہلے شرک کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے۔ تو کیا تو ہم کو اس کام پر ہلاک کرے گا جو غلط کار لوگوں نے کیا، اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ رجوع کریں (الاعراف ۷ ،۱۷۲-۱۷۳)
یہ اس معاملے کا ذکر ہے جب کہ انسان کی فطرت میں خالق و مالک کا شعور اس طرح داخل کر دیا گیا کہ وہ اس سے جدا نہ ہو سکے۔ موجودہ زمانے میں ایک اعتبار سے روس اور دوسرے اعتبار سے ترکی کا تجربہ بتاتا ہے کہ مکمل طور پر مخالف مذہب ماحول میں بھی انسان کی فطرت نہیں بدلتی۔ جانوروں میں جو چیز جبلت کی صورت میں ہے وہی چیز انسان کے اندر فطرت کی صورت میں ہے۔ لیکن جانور مجبور ہیں، جب کہ انسان مجبور نہیں۔ جانور کے برعکس انسان کا حال یہ ہے کہ شعورِ فطرت کی حد تک پابند ہونے کے باوجود عمل کے معاملے میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ جب بھی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اس کی عقل اور اس کا ضمیر اندر سے اشارہ کرتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اپنی اندرونی آواز کی پیروی کرے چاہے اس کو نظر انداز کر کے من مانی کارروائی
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہو رہا ہے اور اسی پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ شخص خدائی آواز پر کان لگائے اور وہی کرے جو خدا فطرت کی خاموش زبان میں اس سے کہہ رہا ہے وہ امتحان میں پورا اترا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ فطرت کی یہ آواز ہر آدمی کے اوپر خدا کی دلیل ہے۔ اب کسی کے پاس نہ تو بے خبری کا عذر ہے اور نہ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ماضی سے جو ہوتا چلا آ رہا ہے وہی ہم بھی کرنے لگے۔ جب انسان پیدائش ہی سے خدا کا شعور لے کر آتا ہے اور ماحول کے علی الرغم اس کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے تو اب کسی شخص کے پاس بے راہ ہونے کا کیا عذر ہے۔