Al-Risala · January 1997

Killing of a sensation is sin and vice versa.

Al-Risala, January 1997, pp. 45–32

By Maulana Wahiduddin Khan

میز پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ سوامی جی، سائنٹفک دور میں تو اب یہ معلوم ہو چکا ہے کہ ہر چیز میں زندگی ہے۔ دودھ، سبزی، پانی، حتیٰ کہ ہوا میں بھی زندگی ہے۔ لئے اپنے نقطہ نظر کے مطابق اس دنیا میں رہنا ممکن ہی نہیں۔ اگر آپ اس اصول کے مطابق رہیں تو آپ کسی دوسری جان کو تو قتل نہیں کریں گے، البتہ خود اپنے آپ کو قتل کر لیں گے۔ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ خود کشی کو ترجیح دیتے ہیں یا، آپ کے الفاظ میں، قتل احساس کو۔ سوامی جی مسکرا کر خاموش ہو گئے۔

کھانے سے فراغت کے بعد سوامی اگنی ویش سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ یہاں کا کھانا آپ کو کیسا لگا۔ انھوں نے کہا کہ میں تو ٹھیک سے کھا نہ سکا۔ میں نے کہا کہ آپ تو اکثر باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں۔ پھر آپ دوسرے ملکوں کے کھانے کے عادی نہیں ہوئے۔ کہا کہ میں تو ہر جگہ اپنے کسی ہندوستانی کے یہاں ٹھہر جاتا ہوں۔ وہ مجھے ہندوستانی بھو جن کھلا دیتا ہے۔ مگر یہاں فلارنس میں ایسا کوئی ہندوستانی نہیں ملا۔

ہمارے علماء کا حال بھی یہی ہے۔ وہ باہر جاتے ہیں تو اپنے حلقہ کے کسی مسلمان کے یہاں ٹھہر ناپسند کرتے ہیں۔ وہاں ان کو اپنی پسند کا کھانا اور اپنی پسند کا ماحول مل جاتا ہے۔ اس ذوق کی بنا پر ان کے بیرونی اسفار بڑی حد تک بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسری قوموں سے ان کا اختلاط نہیں ہوتا۔ ان کے نرم اور گرم سے وہ آشنا ان کی تلخیوں کو وہ نہیں چکھتے، چنانچہ بیرونی ملکوں میں جانے کے با وجود عملاً وہ وہاں کے حقیقی حالات سے بے خبر رہتے ہیں۔ اپنے سے مختلف ذوق اور مختلف سوچ کے لوگوں سے اختلاط (انٹر ایکشن) بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کبھی ذہنی ارتقا نہیں ہو سکتا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ اختلاط کرتا ہے اور ان کی اذیتوں کو سہتا ہے وہ اس شخص سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ اختلاط نہیں کرتا اور نہ لوگوں کی اذیتوں کو برداشت نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں پر یہی حدیث صادق آتی ہے۔

یہاں بہت سے ملکوں کے لوگ آئے ہیں۔ مسلم بھی اور غیر مسلم بھی۔ اکثر ان سے ملاقات ہوتی جاپان سے بھی کئی لوگ آئے ہیں۔ جاپانی وفد کے قائد کا نام یہ ہے : Most Ven. Kojun Handa Chief Priest, Jourakuji Temple Ueda-city. (Tel. 0268-38-2040, Fax 0268-38-8545)

ان سے دیر تک گفت گو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ جاپان میں ۹۰ فیصد بودھ ہیں۔ نمبر پر شنتو مذہب کے لوگ ہیں۔ اور تیسرے نمبر پر عیسائی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان ہمارے ملک میں بہت کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سو سال پہلے تک مسلم ملکوں سے جاپان کا کوئی ربط ہی نہیں تھا۔ ایک صاحب ملے۔ انھوں نے بتایا کہ میں مسلم ہوں اور قفقاز سے آیا ہوں، وہ انگریزی یا عربی دونوں میں سے کوئی زبان نہیں جانتے تھے۔ اس لئے ان سے زیادہ گفتگو نہیں ہوسکی۔ نے مجھ کو دیکھ کر سوالیہ انداز میں کہا: پاکستان؟ میں نے کہا کہ انڈیا۔ پھر انھوں نے کہا: Kashmir, Bombay, You? ان کا مطلب غالباً یہ تھا کہ کیا آپ کشمیر یا بمبئی سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ سے آیا ہوں۔ اس کے بعد گفت گو ختم ہوگئی۔

ایک نوجوان سے میں نے کہا کہ زندگی میں اصل اہمیت صحیح آغاز کی ہوتی ہے۔ صحیح آغاز کو پالیں تو یقیناً آپ صحیح انجام تک بھی پہنچ جائیں گے۔ اس نے کہا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت لکھ دیجئے ۔ میں نے لکھا: no beginning, no end یعنی اگر آغاز نہیں تو انجام بھی نہیں۔ فلارنس کی کانفرنس کا انتظام کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو نے کیا تھا۔ یہ لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں پسماندہ طبقہ کی فلاح کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے مستقل کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے، اس معاملہ میں وہ لوگ

پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ امن کے مقصد کے تحت وہ دنیا کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر امن کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ ان کے بعض ذمہ داروں سے میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی کوششوں میں ایک کمی ہے۔ اور اس کمی کی بنا پر آپ کی کوششوں کا زیادہ نتیجہ نہیں نکل رہا ہے۔ میں نے کہا کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جن کو نو پر ابلم پیپل کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے وہ جن کو میں پر ابلم پیپل کہتا ہوں۔ نو پر ابلم پیپل وہ سنجیدہ لوگ ہیں جو اپنے مزاج کے اعتبار سے امن پسند لوگ ہیں۔ وہ ٹکراؤ کو پسند نہیں کرتے۔ اس طرح گویا کہ وہ پہلے ہی سے اس کے مقابلے میں پر ابلم پیپل وہ لوگ ہیں جن کے مزاج میں شدت ہے۔ ٹکراؤ کے طریقہ میں یقین رکھتے ہیں۔ جو موجودہ زمانہ کی بے امنی کا اصل سبب ہیں۔ میں نے کہا کہ اب تک آپ لوگوں نے زیادہ تر نو پر ابلم پیپل سے ربط قائم کیا ہے۔ میں سے کچھ لوگوں کو بلا کر آپ امن کانفرنس کر لیتے ہیں۔ بلاشبہ اس کا بھی ایک فائدہ ہے۔ آپ کو اپنی کوششوں کے دائرہ کو پر ابلم پیپل تک بھی پھیلانا ہوگا۔ جب تک آپ پر ابلم پیپل کو اعتدال پر نہ لائیں امن کی فضا دنیا میں قائم نہیں ہو سکتی۔

میں نے مزید کہا کہ اس کا ایک عملی تجربہ میں خود انڈیا میں کر چکا ہوں۔ پچھلے پچاس سال سے انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑے ہورہے تھے۔ ہندوؤں سے سخت شکایات تھیں۔ اس معاملہ میں مسلم رہنماؤں نے قیام امن کی جو کوششیں کیں وہ سب نو پر ابلم ہند و کی سطح پر چلتی رہیں۔ مگر ۵۰ سالہ کوشش کے باوجود اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

۱۹۹۲ میں ہندوؤں کا تشد د مسلمانوں کے خلاف انتہا پر پہنچ گیا جب کہ انھوں نے تاریخی بابری مسجد کو ڈھاکر وہاں ایک مندر بنا دیا۔ اس وقت سے میں نے نئی پالیسی اختیار کی ۔ اب میں نے پر ابلم ہندوؤں کو اپنا مخاطب بنایا۔ ان لوگوں سے تعلقات بڑھائے۔ ان کے اپنے جلسوں میں جاکر ان کو امن اور انسانیت کا پیغام دینا شروع کیا۔ پالیسی کی یہ تبدیلی انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ چند سال کی کوششوں کے نتیجہ میں فضا چنانچہ آج انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان امن قائم ہو چکا ہے۔

ہندونے تخریب کا طریقہ چھوڑکر بھائی چارہ کا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ دونوں فرقوں میں لمبی مدت سے جاری غیرمعتدل فضا ختم ہوگئی ہے اور دونوں کے درمیان امن کی حالت قائم ہوگئی ہے۔ فرقہ وارانہ جھگڑے تقریباً معدوم ہوگئے ہیں۔ اس معاملہ میں یہی واحد طریقہ ہے جو نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔

۲۲ اکتوبر کی شام کو کانفرنس کا افتتاحی اجلاس فلارنس کے قدیم شاہی محل میں کیا گیا صدیوں پرانا محل نہایت وسیع اور شاندار ہے۔ اس کا غیر معمولی طور پر بڑا ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔

جب میں قیام گاہ سے روانہ ہو کر یہاں پہنچا تو محل کے باہر انسانوں کا ہجوم تھا۔ خصوصی مہمانوں کو دیکھ کر وہ لوگ تالیاں بجاکر ان کا استقبال کرتے تھے۔ میں قریب پہنچا تو راستہ کے دونوں طرف کھڑے ہوئے لوگوں نے پر جوش طور پر تالیاں بجانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو ابل پڑے۔ مجھے آخرت کا لمحہ یاد آگیا جب کہ میں مرکر وہاں میرے دل نے کہا ؛ کیا آخرت میں بھی کوئی میرے لئے تالیاں بجائے گا۔ کیا وہاں بھی کوئی ہوگا جو میری آمد پر خوشی کا اظہار کرے ۔ دنیا کی تالیاں کتنی زیادہ بے قیمت ہیں اگر آخرت میں کوئی تالیاں بجانے والا نہ ہو۔

افتتاحی اجلاس میں فلپائن کی خاتون صدر اکینو (Corazon C. Aquino) مہمان خصوصی کے طور پر شریک تھیں۔ میری سیٹ اسٹیج کے عین قریب اگلی صف میں تھی۔ کی کارروائی کے دوران میرے دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت میں ایسا کروں کہ کود کر اسٹیج پر پہنچوں اور صدر اکینو سے کہوں کہ اسلام قبول کرو ورنہ تم جہنم میں جاؤگی: Accept Islam, otherwise you will go to hell. تو کیا یہ دعوت کا عمل ہوگا۔ میرے دل نے کہا کہ نہیں۔ بلکہ یہ ایک مجنو نانہ عمل ہوگا نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا عمل ۔ دعوت یہ نہیں ہے کہ آپ کسی نہ کسی طرح چیخ کر اپنی آواز دوسروں کے کانوں میں داخل کر دیں۔ دعوت کا معیار ، قرآن کے الفاظ میں ، یہ ہے کہ وہ قولا بليغاً في أنفسهم (النساء ٦٣ ) ہو نہ کہ کسی کو لفظی پتھر مارنا۔

۲۲ اکتوبر کی شام کو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں دوسرے ممتاز افراد کے علاوہ خصوصی مہمان کی حیثیت سے فلپائن کی خاتون صدر اکینو اور کئی اہم شخصیات اسٹیج پر موجود مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ آخری تقریر صدر اکینو کی تھی۔ انھوں نے تیار شدہ تقریر کو پڑھ کر سنایا۔ یہ انگریزی زبان میں تھی۔ ان کا انگریزی لہجہ نہایت عمدہ تھا۔ تاہم ان کی لمبی تقریر میں صرف ایک بات کی تفصیل تھی۔ فلپائن میں قدیم حکمران مارکوس کے مظالم اور ان کے شوہر (Benigno S. Aquino) کا قتل ہونا اور اس کے بعد خود خاتون کا صدر کے عہدہ پر پہنچنا۔ تاہم اس تقریر میں ایک بات نہایت سبق کی تھی۔ اکینو کے خاندان پر مارکوس نے شدید حتیٰ کہ ۱۹۸۳ء میں ان کے شوہر کو قتل کر دیا گیا۔ مگر انھوں نے کہا کہ ہم نے مسیح اور گاندھی کی تعلیم کے مطابق یہ طے کر لیا تھا کہ ہمیں تشدد کے مقابلہ میں تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرنا ہے۔ چنانچہ میرے شوہر پر ظلم ہوا تو انھوں نے بہت سنگر اسٹرا ئک کر دی ۔ ان کے قتل کے بعد فلپائن کے عوام کی بڑی تعداد میری حمایت پر آگئی۔ مگر میں نے ہمیشہ پر امن دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی تحریک چلائی۔ یہاں تک کہ مارکوس کو مجبور ہو کر الیکشن کرانا پڑا جس نے ۱۹۸۶ء میں مجھ کو صدارت کے منصب پر پہنچا دیا۔ انھوں نے اپنے طریقہ کو یہ نام دیا برائی کا مقابلہ امن کے طریقوں سے:

Printed page