ایک نصیحت
Al-Risala, June 1997, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۳۹ میں ارشاد ہوا ہے کہ (اے لوگو) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس کو زمین کے چشموں میں جاری کر دیا۔ پھر وہ اس سے مختلف قسم کی کھیتیاں پھر یہ کھیتیاں خشک ہو جاتی ہیں۔ تو تم ان کو زرد دیکھتے ہو۔ پھر وہ ان کو ریزہ ریزہ کر دیتا بے شک اس میں نصیحت ہے عقل والوں کے لیے۔ کیا وہ شخص جس کا سینہ خدا نے اطاعت الہی کے لیے کھول دیا۔ پس وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے۔ تو خرابی ہے ان کے لیے جن کے دل خدا کی نصیحت کے معاملہ میں سخت ہو گئے۔ یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں (الزمر ۲۱ - ۲۲) زمین پر بارش کا حیرت انگیز نظام، پھر اس سے سبزہ کا اگنا، پھر فصل کی تیاری، ان مادی واقعات میں بے شمار معنوی نصیحتیں ہیں۔ مگر ان نصیحتوں کو وہی لوگ پاتے ہیں جو باتوں کی گہرائی میں اترنے کا مزاج رکھتے ہوں۔
ایک طرف خدا نے خارجی دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا کہ اس کی ہر چیز حقیقتِ اعلیٰ کی نشانی بن دوسری طرف انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں رکھ دیں کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھے اور ان کو سمجھ اب وہ لوگ جو اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھیں اور ان سے کام لے کر دنیا کی چیزوں پر غور کریں ان کے سینے میں معرفت کے دروازے کھل جائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ نہ رکھ سکیں وہ نصیحتوں کے ہجوم میں بھی نصیحت لینے سے محروم رہیں گے۔ وہ دیکھ کر بھی کچھ نہ دیکھیں گے اور سن کر بھی کچھ نہ سنیں گے۔
موجودہ دنیا میں ہر چیز کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آغاز سے تکمیل کی طرف جاتی ہے مثلاً ایک بیج پودے سے شروع ہو کر مکمل درخت بنتا ہے۔ اسی طرح کھیتی کی ایک ابتدا ہے اور دوسری اس کی یہی حال موجودہ دنیا میں تمام چیزوں کا ہے۔
یہ واقعہ انسان کے لیے خدائی سبق ہے۔ اس طرح خدا انسان کو بتاتا ہے کہ تم بھی آغاز سے تکمیل کی طرف جا رہے ہو۔ بچپن کے بعد جوانی اور بڑھاپا، اور پھر مر کر ایک نئی اور ابدی زندگی کی منزل میں داخل ہو جانا۔