Al-Risala · June 1997

پیغمبرانہ رہنمائی

Al-Risala, June 1997, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۵۳ میں ارشاد ہوا ہے ۔ کیا انسان کو خبر نہیں پہنچی اس بات کی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے ۔ اور ابراہیم کے ، جس نے اپنا قول پورا کر دیا۔ کہ کوئی اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا ۔ اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب دیکھی جائے گی۔ پھر اس کو پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور یہ کہ سب کو تمہارے رب تک پہنچنا ہے (النجم ۴۲-۳۶)

اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو اسی کے ساتھ اس کی ہدایت کے لیے پیغمبروں کا سلسلہ قائم فرمایا ۔ ہر دور میں اور ہر قوم میں پیغمبر آتے رہے اور وہ انسانوں تک خدا کی ہدایت زندگی گزارنے کا سامان لوگوں کو خود اسی دنیا سے ملتا رہا۔ لیکن زندگی کے اصول اس کے پاس بار بار آسمان سے بھیجے جاتے رہے ۔

ہر پیغمبر یکساں طور پر خدا کا سچا نمائندہ تھا۔ مگر زمانہ گزرنے کے ساتھ پچھلے پیغمبروں کی کتابیں اور ان کی ہدایات یا تو مٹتی رہیں یا بدلتی رہیں۔ یہاں تک کہ آخر میں خدا نے پیغمبر عربی کو قرآن کے ساتھ بھیجا اور آپ کی لائی ہوئی ہدایت کو کامل طور پر محفوظ کر دیا تاکہ ہر دور کے انسانوں کے لیے وہ مستند رہنمائی کا ذریعہ بنی رہے۔

پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے۔ نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا ہے اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا ہے۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

خدا کی نسبت سے انسان کا جو معاملہ ہے اس میں ہر آدمی اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ آدمی نہ دوسرے کے انجام میں شریک ہو سکتا ہے اور نہ کوئی آدمی کسی بھی اعتبار سے دوسرے شخص کا مددگار بن سکتا ہے۔ خدا کی دنیا میں ہر آدمی کے لیے صرف وہی ہے جس کے لیے اس نے خود محنت کی ہو، ایک کی محنت کسی بھی حال میں دوسرے کے کام آنے والی نہیں۔

Printed page