Al-Risala · June 1997

ٹھیک تول

Al-Risala, June 1997, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۵۵ میں ارشاد ہوا ہے ـــــ خدائے رحمن ، اس نے قرآن کی تعلیم دی ، اس نے انسان کو پیدا کیا۔ اس کو بولنا سکھایا۔ سورج اور چاند کے لیے ایک حساب ہے۔ اور ستارے اور درخت سجدہ کرتے ہیں۔ اور اس نے آسمان کو اونچا کیا۔ اور اس نے ترازو رکھ کہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو تولو۔ میں نہ گھٹاؤ (الرحمن انسان کو پیدا کرنا اور اس کے لیے آسمانی ہدایت اتارنا دونوں ہی خدا کی صفتِ رحمت کا انسان کو پیدا کر کے خدا نے اس کو یہ موقع دیا کہ وہ زمین و آسمان میں عملی ترقی کا مقام وہ خوشیوں اور لذتوں کی ایک ابدی دنیا اپنے لیے پالے۔

اس کے بعد پیغمبر کی بعثت اور آسمانی کتاب کا نزول گویا اس نعمتِ الہی کا اتمام ہے۔ طرح انسان کو یہ موقع فراہم کیا گیا کہ وہ صحیح رہنمائی کے ساتھ یہاں اپنی زندگی کا آغاز کرے ۔ اُدھر بھٹکے بغیر اس سیدھی شاہراہ پر اپنا سفر جاری رکھے جو اس کو منزلِ مقصود تک پہنچانے والی ہے۔ خدا نے انسان کو بنایا۔ اس کو نطق کی انوکھی صلاحیت دی جو ساری معلوم کائنات میں کسی کو پھر انسان سے جو عادلانہ روش مطلوب تھی اس کا اعلیٰ نمونہ اس نے کائنات میں قائم کر دیا۔ انسان کے گرد و پیش کی پوری دنیا عین اسی اصولِ عدل پر قائم ہے جو انسان سے خدا کو مطلوب اور قرآن میں اسی عدل کو لفظی طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ قرآن خدائی عدل کا لفظی اظہار ہے اور کائنات خدائی عدل کا عملی اظہار۔ بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قول و عمل کو اسی ترازو سے وہ نہ لینے میں بے انصافی کریں اور نہ دینے میں۔

ترازو عدل کی علامت ہے۔ وہ کسی چیز کو ٹھیک معیاری وزن کے مطابق تول دیتا ہے۔ یہ ترازو بتاتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں لینے اور دینے کے معاملہ میں کیا اصول اختیار کرنا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ اپنے قول و عمل میں یکسانیت پیدا کرے۔ اس کی ہر روش اس معیار کے مطابق ہو جو حق و صداقت کا معیار ہے۔

Printed page