Al-Risala · June 1997

دو بلندیاں

Al-Risala, June 1997, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۹۰ میں ارشاد ہوا ہے ـــــ نہیں میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ تم اس میں مقیم ہو۔ اور قسم ہے باپ کی اور اس کی اولاد کی۔ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کسی کا زور نہیں۔ کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال خرچ کر دیا۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا۔ کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں۔ اور ایک زبان اور دو ہونٹ۔ اور ہم نے اس کو دونوں راستے بتا دیے۔ پھر وہ گھاٹی پر نہیں اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ گھاٹی۔ گردن کو چھڑانا۔ یا بھوک کے زمانہ میں کھلانا، قرابت دار یتیم کو، یا خاک نشیں محتاج کو۔ پھر وہ ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کی۔ یہی لوگ نصیب والے ہیں۔ اور جو ہماری آیتوں کے منکر ہوئے وہ بدبختی والے ہیں، ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی (البلد ۲۰-۱) انسان کسی حال میں اپنے آپ کو مشقتوں سے آزاد نہیں کر پاتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کسی بالاتر قوت کے ماتحت ہے۔ اسی طرح انسان کی آنکھیں بتاتی ہیں کہ کوئی برتر آنکھ بھی ہے جو اس کو دیکھ رہی ہے۔ انسان کی قوت نطق اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اوپر بھی ایک صاحبِ نطق موجود ہے جس نے اس کو نطق کی صلاحیت دی۔ اور اس کو ہدایت کا راستہ دکھایا۔ اگر حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو پہچان لے تو یقیناً وہ خدا کو بھی پہچان لے گا۔ خدا نے انسان کو دو قسم کی بلندیوں پر چڑھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک انسان کے ساتھ منصفانہ سلوک اور انسان کی ضرورتوں میں اس کے کام آنا۔ دوسری چیز اللہ پر ایمان و یقین ہے۔ ایمان و یقین جب آدمی کے اندر گہرائی کے ساتھ اترتا ہے تو وہ آدمی کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ متعدی بن جاتا ہے۔ ایسا انسان دوسروں کو بھی اسی حق پر لانے کی کوشش کرنے لگتا ہے جس کو وہ خود اختیار کیے ہوئے ہے۔

خدائی اصولوں کے تحت زندگی گزارنا انسان کو مشکل معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ بظاہر مشکل اپنے اندر آسانی لیے ہوئے ہے کیونکہ وہ انسان کو ابدی نجات کی طرف لے جانے والی ہے۔

Printed page