کتاب ہدایت
Al-Risala, June 1997, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۹۶ میں ارشاد ہوا ہے ــــ پڑھ اپنے رب کے نام سے۔ پیدا کیا انسان کو علق سے۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم سے۔ کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا۔ ہر گز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے۔ اس بنا پر کہ وہ اپنے کو بے نیاز بے شک تیرے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے (العلق ۸-۱)
یہ قرآن کی وہ آیتیں ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے اتاری گئیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے پیغمبروں پر وحی بھیجنے کا جو طریقہ اختیار فرمایا اس کا مقصد کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو وہ بات بتائی جائے جس سے انسان عام حالات میں باخبر نہیں ہو سکتا تھا۔ موجودہ دنیا میں انسان بظاہر آزاد ہے۔ اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ انسان کی کوئی پکڑ موجودہ دنیا میں انسان کچھ دن زندہ رہ کر مر جاتا ہے۔ اس سے یہ گمان گزرتا ہے کہ انسان کی زندگی ، بس پیدائش سے موت تک ہے، اس کے آگے اور کچھ نہیں۔
اسی بے خبری کو توڑنے کے لیے خدا نے وحی اور رسالت کا سلسلہ قائم کیا۔ ہر دور میں اور ہر قوم میں خدا کی طرف سے پیغمبر آتے رہے۔ یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جو آخری نبی ہیں۔ اور اب وہی قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہدایت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔
یہ پیغمبرانہ خبر، یہ ہے کہ انسان موجودہ دنیا میں آزاد نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے جو چاہے کرے اس کو اپنے تمام معاملات میں خدا کے ان حکموں کی پابندی کرنی ہے جو پیغمبر کے ذریعہ اس کو دیے گئے ہیں۔ خدا نے صرف خبر دے کر انسان کو چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ وہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ موت کے بعد تمام انسان خدا کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور پھر ہر ایک کے لیے اس کے دنیوی ریکارڈ کے مطابق سزا یا انعام کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ انسان کی ہدایت کے لیے اصل اہمیت نبی کی ذاتی موجودگی نہیں ہے بلکہ اس کی لائی ہوئی کتاب کی موجودگی ہے۔ خدا کی کتاب، قرآن چونکہ محفوظ حالت میں موجود ہے اور پیغمبر کی سنت بھی مدون حالت میں موجود ہے اس لیے اب کسی انسان کے لیے کوئی عذر نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کتاب و سنت سے ہدایت لے کر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ اور خدا کی ابدی رحمتوں کا مستحق بن جائے۔