ایک بھونچال
Al-Risala, June 1997, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۹۹ میں ارشاد ہوا ہے جب زمین شدت سے ہلا دی جائے گی ۔ زمین اپنا بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی ۔ اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا۔ اس دن وہ اپنے حالات بیان کرے گی۔ کیوں کہ تمہارے رب کا اس کو یہی حکم ہوگا۔ اس دن لوگ الگ الگ نکلیں گے تاکہ ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ پس جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا (الزلزال ۸-۱)
قیامت کا زلزلہ مدت امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خدا کی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی "بولنے" کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہو رہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔ دنیا میں انسان کے رویہ کو درست کرنے کے لیے صرف ایک ہی چیز کافی ہے۔ آدمی کو اس بات کا پختہ شعور ہو جائے کہ وہ ہر لمحہ خدا کی نگرانی میں ہے۔ اس کا پورا کارنامہ حیات خدا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ چھوٹا عمل ہو یا بڑا عمل، چھپ کر کیا ہوا کام یا اعلانیہ کیا ہوا کام، سب کا سب وہاں سامنے آجائے گا۔
آدمی کو اس حقیقت کا پورا یقین ہو جائے تو زمین کے ہلائے جانے سے پہلے وہ خود ہل جائے گا۔ قیامت کے عام زلزلے سے پہلے خود اس کی اپنی روح میں ایک ایسا زلزلہ آجائے گا جو اس کو آخری حد تک بدل کر رکھ دے۔ اس کے بعد آدمی خود اپنا نگراں بن جائے گا۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی اختیار کرلے گا۔ وہ اپنے اختیار کو خدا کے حکم کے تحت استعمال کرے گا نہ کہ آزادانہ طور پر۔