Al-Risala · June 1997

موت کے بعد

Al-Risala, June 1997, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۰ میں ارشاد ہوا ہے ۔ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں ۔ پھر ٹاپ مار کر چنگاری نکالنے والے۔ پھر صبح کے وقت چھاپہ مارنے والے۔ میں غبار اڑانے والے۔ پھر اس وقت فوج میں گھس جانے والے۔ بے شک انسان اپنے رب کا شکر نہیں کرتا۔ اور وہ خود اس پر گواہ ہے ۔ اور وہ مال کی محبت میں بہت شدید ہے۔ اس وقت کو نہیں جانتا جب وہ قبروں سے نکالا جائے گا۔ اور نکالا جائے گا جو کچھ دلوں میں ہے۔ بے شک اس دن ان کا رب ان سے خوب با خبر ہو گا (العٰادیت ۱۱-۱)

گھوڑا ایک نہایت وفادار جانور ہے۔ وہ اپنے مالک کے لیے اپنے آپ کو آخری حد تک قربان کر دیتا ہے، حتیٰ کہ جنگ کے میدان میں بھی وہ اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتا خواہ اس میں اس کی جان چلی جائے ۔

یہ گویا ایک علامتی مثال ہے جو انسان کو بتاتی ہے کہ اسے کیسا بننا چاہیے۔ انسان کو بھی اپنے رب کا اسی طرح وفادار بننا چاہیے جیسا کہ گھوڑا انسان کا وفادار ہوتا ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیں۔ اس دنیا میں جانور اپنے مالک کا شکر گزار ہے۔ مگر انسان اپنے رب کا شکر گزار نہیں۔ جانور اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے۔ مگر انسان اپنے رب کا حق نہیں پہچانتا۔ یہاں جانور اپنے مالک کی اطاعت میں سرگرم ہے۔ مگر انسان اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم نہیں۔

انسان اسی جانور کی قدر کرتا ہے جو اس کا وفادار ہو۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اس راز کو نہ جانے کہ خدا کے یہاں وہی انسان قابل قدر ٹھہرے گا جو خدا کی نظر میں اس کا وفادار ثابت ہو۔ مال کی محبت انسان کو اندھا بنا دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی حقیقت کو جاننے سے محروم رہتا ہے۔ جس کا وہ خود اپنے قریبی حالات میں تجربہ کر چکا تھا۔

یہ صورت حال اسی طرح باقی رہنے والی نہیں۔ انسان کی موت اس بات کا الارم ہے کہ وہ مکمل طور پر خدا کی پکڑ میں ہے۔ موت در اصل، حساب وکتاب کی دنیا میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ وہاں انسان کو اس خدا کی عدالت کے سامنے کھڑا ہونا ہے جس سے انسان کی کوئی بھی بات چھپی ہوئی نہیں۔

Printed page