Al-Risala · July 1997

اسلامی جہاد

Al-Risala, July 1997, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاد کیا ہے۔ جہاد پرامن جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ آج کل کی زبان میں جہاد کو پیس فل ایکٹوزم (peaceful activism) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی پرامن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے کسی اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔

جہاد کے لفظی معنی کوشش یا جدوجہد کے ہیں۔ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ خدا کی کتاب کے ذریعہ ان کے اوپر جہاد کبیر کرو (الفرقان (۵۲) ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے اپنے نفس سے مقابلہ کرے (المجاہد من جاهد نفسه فی طاعة الله) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے۔ یہ ایک مہم تھی جس میں کوئی جنگ پیش نہیں آئی۔ واپسی کے بعد آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں (رجعنا من الجهاد الأصغر الى الجهاد الأكبر)

جہاد تمام تر ایک پرامن عمل کا نام ہے۔ انفرادی اعتبار سے جہاد یہ ہے کہ آدمی نفس کی ترغیبات سے اور ماحول کی ناخوش گواریوں کے باوجود خدا کے پسندیدہ راستہ کو نہ چھوڑے۔ اسباب کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو حق کی روش پر قائم رکھے۔ اجتماعی اعتبار سے جہاد کو پرامن جدوجہد کہا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی اسلامی مقصد کے لیے جب کوئی تحریک اٹھائی جائے تو اس کو مجاہدانہ انداز سے آگے بڑھایا جائے نہ کہ متشددانہ انداز سے۔ متشددانہ انداز میں آدمی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مجاہدانہ انداز یہ ہے کہ ترغیب کے فطری طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مقصد کو حاصل کیا جائے۔

مجاہدانہ اسلوب میں سب سے زیادہ اعتماد ذہنی بیداری پر کیا جاتا ہے۔ اندر صحت مندا سپرٹ جگائی جاتی ہے۔ تعمیری شعبوں میں مثبت استحکام پر ابھارا جاتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ لوگوں کے اندر اعلیٰ کردار پیدا ہو۔ لوگ دوسروں کے لیے نفع بخش لوگوں کے اندر دوسروں کے لیے ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہو۔ جہاد کا ہتھیار محبت ہے نہ کہ نفرت اور تشدد۔

Printed page