The New Face of Islam
Al-Risala, July 1997, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی انتہا پسند تحریکیں اب جگہ جگہ امن کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ مثلاً ملیشیا کے انور ابراہیم ابتداءً الاخوان المسلمون کے اثر سے انتہا پسند مسلم نوجوان بن گئے۔ مگر اپنے ملیشیائی مزاج کی بنا پر جلد ہی انھوں نے انتہا پسندی چھوڑ دی اور ملیشیائی لیڈر ماترا محمد کے ساتھ مل کر تعمیری سیاست کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ ستمبر ۱۹۸۹ میں طرابلس (لیبیا) میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ یہاں میری ملاقات فلپائن کے انقلابی لیڈر مسٹر نور مسواری (Nur Misvari) سے ہوئی۔ اس کی تفصیل الرسالہ جنوری ۱۹۹۰ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہاں انھوں نے انگریزی میں ایک پر جوش تقریر کی۔ نے بتایا کہ فلپائن کے جنوبی علاقہ میں ہم آزادی کی جو لڑائی لڑرہے ہیں اس میں اب تک ۱۳۵ ہزار مسلمان اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔
نور مسواری اور ان کے ساتھیوں نے اپنی یہ خونیں تحریک ۱۹۷۱ میں شروع کی تھی۔ جان و مال کی زبردست تباہی کے بعد نور مسواری نے تشدد کو چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کر لیا۔ انھوں نے فلپائن کے جنوبی حصہ کی آزادی کے مطالبہ کو ترک کر دیا اور حالت موجودہ (statusquo) پر راضی ہو گئے۔ اس کے نتیجہ میں انھیں جنوبی فلپائن کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔ یہی صورت حال فلسطین سے لے کر بوسنیا تک ہر اس جگہ پیش آرہی ہے جہاں مسلمانوں نے ابتداءً پر تشدد تحریک شروع کی مگر ہولناک نتائج نے مجبور کر دیا کہ وہ تشدد کو چھوڑ دیں اور امن کا طریقہ اختیار کر لیں۔
ٹائم کے مذکورہ شمارہ میں بتایا گیا ہے کہ چند سال قبل مسٹر نور مسواری خفیہ طور پر ملیشیائی لیڈر ماترا محمد اور انور ابراہیم سے ملے۔ انور ابراہیم نے ٹائم کے نامہ نگار کو اس ملاقات کی تفصیل
بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے فلپائن کے باغی لیڈر سے پر زور تاکید کی کہ وہ جنگ کا طریقہ چھوڑ ہم نے انھیں بتایا کہ ایک ہی ممکن صورت ہے اور وہ امن ہے :