Al-Risala · January 1997

resistance of evil by the ways of peace

Al-Risala, January 1997, pp. 32–36

By Maulana Wahiduddin Khan

عجیب بات ہے کہ جس فلپائن میں سنگین مظالم کے باوجود اکینو نے اپنی سیاسی تحریک مکمل طور پر پر امن انداز میں چلائی۔ اسی فلپائن میں مسلم لیڈر تعداد کی قلت کے باوجود مظالم کا نام لے کر ۳۰ سال سے تشدد دانہ انداز میں اپنی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ کامیاب تو نہیں ہوئے۔ البتہ فلپائن کے مسلمانوں کی مشکلات میں انھوں نے سو گنا زیادہ اضافہ کر دیا۔

فلپائن ایک مجمع الجزائر ہے۔ اس میں سات ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے جزیرے اس کی آبادی تقریباً ۵ کروڑ ہے۔ اس میں پچاسی فیصد عیسائی ہیں۔ آبادی میں تقریباً پانچ فیصد ہیں۔ تاہم اس کے ایک حصہ میں مسلمان زیادہ بڑی تعداد

میں آباد ہیں۔ ان کو موروز کہا جاتا ہے۔ یہ نام ان کو اسپینیوں نے دیا تھا۔ فلپائن کا جنوبی حصہ ملایا کے قریب ہے۔ چنانچہ اس حصہ میں ملایا کے علاقہ سے مسلمان جانا ان کے اثر سے جنوبی حصہ کے کئی جزائر میں اسلام پھیل گیا۔ مثلاً سولو (Sulu) منڈاناؤ (Mindanao) پالاوار (Palawan) وغیرہ، اس دوران ایک طاقت ور سردار (datu) مسلمان ہو گیا۔ حتیٰ کہ اس علاقہ میں مسلم راجہ کی سلطنت قائم ہوگئی۔ مگر سولہویں صدی کے وسط میں اسپینی آگئے ۔ یہاں ان کا غلبہ قائم ہو گیا۔ اسپینی غلبہ کے بعد اسلام کی اشاعت کا عمل رک گیا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ اسپینی اگر ایک صدی کے بعد آتے ، یا اگر ان کا محرک صرف اقتصادی ہوتا تو آج پورے فلپائن میں مسلمانوں کی اکثریت ہوتی : Had they come a century later or had their motives been strictly commercial, Filipinos today might be a predominantly Muslim

فلپائن کے جنوبی علاقہ کے بارہ میں مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ یہاں ان کی اکثریت ہے۔ جب کہ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی تعداد نصف سے کچھ کم ہے۔ جنگ کے بعد اس علاقہ میں علیحدہ مسلم حکومت قائم کرنے کی تحریک اٹھی۔ یہ صدر مارکوز کا زمانہ تھا جن کی صدارت ۱۹۶۶ سے ۱۹۸۶ تک رہی ہے۔ مارکوز کا کہنا تھا کہ مسلمان اگر پولیٹیکل انڈینڈی ننس کا مطالبہ نہ کریں تو ہم ان کو تمام دوسری آزادیاں دینے کے لئے تیار ہیں۔ مگر مسلم لیڈر راضی نہیں ہوئے۔ اس کے نتیجہ میں حکومت نے ان پر سخت ترین مظالم ڈھائے۔ آخر کار اب مسلمان مجبور ہو کر خاموش ہو رہے ہیں۔

افتتاحی اجلاس میں شیخ مصطفیٰ بن احمد العلوی (رئیس جمعیة علماء المغرب والسنغال) نے بھی تقریر کی۔ انھوں نے عربی میں لکھی ہوئی ایک تقریر پڑھی ۔ اس میں اسلام کو امن و سلامتی کے مذہب کی حیثیت سے پیش کیا گیا تھا۔

ایران کے ایک صاحب سے کئی بار ملاقات ہوئی۔ وہ تہران یونیورسٹی میں فلسفہ کے ان کی تعلیم امریکہ میں ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ نہایت عمدہ انگریزی بول رہے تھے۔

۲۳ اکتوبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر ہم لوگ ساتھ تھے۔ میں نے پوچھا کہ کچھ اسکالرس نے لکھا ہے کہ اسلامی فلاسفہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں:

There is no Islamic philosophy, in the true sense of the word. ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلامی فلسفہ کی اساس مقدس متن (ٹیکسٹ) پر ہے۔ یہ فلسفہ کے بنیادی تصور کی نفی ہے۔ کیوں کہ فلسفہ اپنے صحیح مفہوم کے اعتبار سے وہ ہے جو عقل انسانی پر مبنی ہو۔ نے کہا کہ ہاں۔ اسلامی فلسفہ تو نہیں ہے ، البتہ مسلم فلسفہ ضرور ہے۔ میں نے کہا کہ وہ لوگ دوبارہ یہ کہیں گے کہ مسلمانوں میں جو فلسفی پیدا ہوئے، وہ اپنے اسلامی عقیدہ سے آزاد نہ تھے۔ ان کا فلسفہ بھی بنیادی طور پر اسلامی عقیدہ ہی پر مبنی ہوتا ہے۔ انھوں نے اس کو مانتے ہوئے کہا کہ ہاں، انھوں نے فلسفہ کو اسلامائز کیا۔

پھر میں نے کہا کہ مگر خود مغرب کے فلسفہ کو بھی اس سے مستثنی نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ بھی کہیں نہ کہیں جا کر اپنے مسیحی عقیدہ سے متاثر نظر آنے لگتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات بھی درست ہے۔ انھوں نے ہیگل کی مثال دی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا فلسفہ مسیحی عقیدہ کا فلسفیانہ اظہار تھا۔

ناشتہ کے آخر میں میں نے چند جملے فارسی میں کہے۔ میں نے کہا : شما فارغ شدید۔ انھوں نے کہا: از چہ۔ میں نے کہا از چائے۔ انھوں نے کہا بلے ۔ اور پھر ہم لوگ اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

۲۳ اکتوبر کو پانچ مختلف ہالوں میں پانچ الگ الگ پروگرام تھے۔ میں نے اس ہال کا انتخاب کیا جس میں افریقہ کا موضوع رکھا گیا تھا۔ اس کے چھ مقررین میں سے ایک احمد بن بیلا بھی تھے، جو الجیریا کے سابق پریزیڈنٹ رہ چکے ہیں۔

اس پروگرام کو سننے کے لئے اندر پہنچا تو معلوم ہوا کہ مقررین اطالوی یا فرانسیسی زبان میں تقریر کریں گے۔ وہاں اتفاق سے عربی یا انگریزی میں ترجمہ کا انتظام نہ تھا۔ میرے گائیڈ ایک خاتون کو لائے جو اطالوی زبان جانتی تھیں ۔ وہ میرے قریب کی کرسی پر بیٹھ کر مجھے تقریر کا مفہوم بتاتی اس کے بعد جب فرانسیسی تقریر شروع ہوئی تو ان کے لئے بھی مسئلہ پیدا ہو گیا۔ کیوں کہ وہ

فرانسیسی نہیں جانتی تھیں۔ انھوں نے فوراً یہ کیا کہ معاون آلہ اپنے کان میں لگالیا۔ اب وہ خود مقرر کی تقریر کا اطالوی ترجمہ سن رہی تھیں اور میرے لئے اس کا انگریزی ترجمہ کرتی جاتی تھیں۔ میں نے سوچاکہ انسان کا ذہن بھی کیسا عجیب ہے۔ وہ ہر مسئلہ کا فوری حل دریافت کر لیتا ہے۔ فطرت کے اس قیمتی عطیہ سے صرف وہ لوگ محروم رہتے ہیں جو مسئلہ پیش آنے کے بعد تدبیر تلاش بلکہ فریاد و ماتم میں لگ جائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا میں محرومی کا شکار ہو کر رہ جاتے

کانفرنس کے تمام اجلاس کی ویڈیو ریکارڈنگ ہورہی تھی اور عین اسی وقت وہ ہال میں رکھے ہوئے وی سی آر پر لوگوں کو دکھائی بھی جارہی تھی۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچاکہ لمحہ لمحہ کی یہ تصویر کشی اور ریکارڈنگ اس حقیقت کا ایک علامتی اعلان ہے کہ اسی طرح خدا کے برتر انتظام کے تحت ہر انسان کی لمحہ بہ لمحہ ریکارڈنگ ہورہی ہے۔ یہ پورا ریکارڈ خدا کے خزانہ میں محفوظ ہے۔ آخرت میں وہ ہر شخص کے اعمال نامے کی صورت میں ہر ایک کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ افریقی مقررین کی تقریریں سننے کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہاکہ ہر مقرر نے صرف افریقہ کے مسائل بیان کئے اور بیرونی طاقتوں کی شکایت کی کہ وہ ان مسائل کے حل میں ان کی مدد نہیں کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی تقریر کوئی تقریر نہیں ہے۔ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے۔ اس دنیا میں ہر شخص اور ہر قوم خود اپنے آپ میں مشغول ہے۔ کسی کو یہ فرصت نہیں کہ وہ آپ کے لئے دوڑے یا آپ کے مسائل حل کرے۔

پھر میں نے کہا کہ اس قسم کی تمام تقریریں غیرفطری ہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں پرابلم کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ پرابلم کے ساتھ ہمیشہ مواقع بھی موجود ہوتے ہیں۔ اب حل یہ ہے کہ پرابلم کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کیا جائے۔ لوگ صرف دو چیز جانتے ہیں۔ پرابلم اور سولیوشن۔ حالاں کہ یہاں ایک تیسری چیز بھی ہے۔ اور وہ مواقع (opportunities) ہیں۔ لوگ اپنے ثنائی طرز فکر کی وجہ سے، ہمیشہ پرابلم اور سولیوشن میں الجھے ہوتے ہیں۔ اگر وہ جانیں کہ یہاں ایک تیسری چیز (مواقع) بھی موجود ہیں۔ تو وہ فوراً مواقع کو استعمال کرکے اپنے مسائل کو حل کر لیں۔ میں نے کہا کہ مشہور مقولہ ہے کہ When there is a will there is a way اسی طرح

میں کہتا ہوں کہ جہاں مسائل ہوں گے وہیں مواقع بھی ضرور موجود ہوں گے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کے قانون میں کوئی استثناء نہیں۔

اٹلی کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان سے میں نے کہا کہ کرسی ایٹو زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کسی ایک ذہنی حالت پر نہ ٹھہریں۔ بلکہ اپنا ذہنی سفر برابر جاری رکھیں۔ برابر جاری رہنے کی پہچان یہ ہے کہ آپ ہر روز کوئی نئی چیز دریافت کر رہے ہوں ۔ میں نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو چاہیے کہ ایک متلاشی کی زندگی گزاریں : Live the life of a seeker. پھر میں نے ان سے کہا کہ میری بات دہرائیے کہ میں نے کیا کہا۔ انھوں نے انگریزی میں اسے دہرایا۔ آخر میں میں نے کہا کہ میرے اس جملہ کا اطالین زبان میں ترجمہ کیجئے۔ انھوں نے حسب ذیل ترجمہ لکھ کر دیا :

Printed page