Al-Risala · July 1997

غلط فہمی

Al-Risala, July 1997, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۱مارچ ۱۹۹۷ کو ایرانی علماء کا ایک وفد مرکز میں آیا۔ اس میں سات افراد شامل تھے۔ اس کے قائد مولانا حسن ضیاء توحیدی تھے ، وہ زاہد دان میں رہتے ہیں۔ ان کا ٹیلی فون نمبر 0098-541-36698, 0098-541-28686 : یہ ہے انھوں نے بتایا کہ صابر طعیمہ کی ایک کتاب ہے۔ اس کا نام ”دراسات فی الفرق “ (مطبوعہ ریاض) ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے لکھا ہے کہ مشہور شیعہ عالم شیخ مکینی کی کتاب " اصول الکافی" میں درج ہے کہ امامیہ شیعہ اپنے بارہ اماموں کو ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے) مانتے ہیں۔ گویا کہ ہمارا اعتقاد عیسائیوں جیسا ہے جو حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں نے اصل کتاب سے رجوع کیا اور اس صفحہ کو دیکھا جس کا حوالہ کتاب مذکور میں درج کیا گیا تھا۔ میں نے پایا کہ کتاب کی اصل عبارت اس طرح ہے کہ ہم اللہ کے امین ہیں رخن (أمناء الله) انھوں نے کہا کہ مصنف نے ”میم“ کو ”ب“ سے بدل دیا اور امامیہ کی طرف غلط طور پر وہ عقیدہ منسوب کر دیا جس کے کفر میں کوئی شک نہیں (بدّل الميم باء وافتوى على الشيعة الامامية شيئاً لا شك في كفر من اعتقده)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط فہمیاں کس طرح پیدا ہوتی ہیں حتیٰ کہ آدمی بد دیانت نہ ہو بلکہ وہ مخلص اور عالم ہو تب بھی وہ سنگین قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہو سکتا ہے، جیسا کہ مذکورہ مثال میں نظر آتا ہے۔ مصنف نے ”أمناء“ کو ”أبناء“ پڑھ لیا۔ اور اس کے بعد وہ بات لکھ دی جو اصل واقعہ کے بالکل خلاف تھی۔

کسی شخص کی طرف ایک بات کو منسوب کرنا بے حد ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ ایسے موقع پر لازم ہے کہ حد درجہ احتیاط سے کام لیا جائے۔ پہلے پوری غیر جانب داری کے ساتھ قائل کے منشاء کو سمجھنے کی کوشش کی جائے پھر صحت کے ساتھ اس کے قول کو نقل کیا جائے۔ قائل کی طرف وہی بات منسوب کی جائے جو اس نے فی الواقع کہی ہے۔ کسی کی طرف غلط بات منسوب کرنا اگر نادانستہ ہو تو وہ سخت بے احتیاطی ہے اور اگر دانستہ ہو تو عظیم سرکشی۔

Printed page