حدیث کا مطالعہ
Al-Risala, July 1997, pp. 15–17
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص جب حدیث کا تفصیلی مطالعہ کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ حدیثوں میں کافی اختلاف ہے جو عام طور پر قرآن میں نظر نہیں آتا۔ یہ دیکھ کر وہ الجھن میں پڑ جاتا ہے اور حدیث کی صحت کا انکار کر دیتا ہے۔ مگر یہ کم فہمی کی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن میں اسلام کے بنیادی اصول بتائے گئے ہیں جو ہمیشہ یکساں رہتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں حدیث اس بات کاریکارڈ ہے کہ ان غیر متغیر اصولوں کو روزانہ کے بدلتے ہوئے حالات میں کس طرح منطبق کیا گیا۔ عملی زندگی چوں کہ ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتی، اس لئے فطری طور پر انطباق میں فرق ہو جاتا ہے۔ حدیثوں میں جو بظاہر اختلاف نظر آتا ہے وہ دراصل اسی فطری فرق کی بنا پر پیدا ہوا ہے۔ وہ حکم کا اختلاف نہیں بلکہ انطباق کا اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر ہدیہ کے مسئلہ کو لیجئے۔ ایک طرف بہت سی روایتیں ہیں جن میں ہدیہ اور تحفہ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے برعکس روایتیں بھی ہیں۔ مثلاً مؤطا (باب ماجاء فی المھاجرة ) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے کو ہدیہ دو، اس سے باہمی محبت پیدا ہوگی اور عداوت جاتی رہے گی اتھادوا تحابو وتذھب الشحناء ، مؤطا الامام مالک ، صفحہ ۶۵۳ ۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ ہدیہ اور تحفہ کے لین دین سے آپس میں انسیت اور محبت اسی طرح ہدیہ اور تحفہ نہ دینے سے دوری پیدا ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی ہدیہ دے اور اس کو قبول نہ کیا جائے تو اس کا برعکس اثر ہو گا۔ آپس میں نفرتیں بڑھیں گی ۔ باہمی تعلقات میں کھنچاؤ اور تناؤ کی حالت پیدا ہو جائے گی ۔ اس طرح کی کیفیت دیر تک باقی رہے تو ایسے ماحول میں کوئی تعمیری کام کرنا ہی سرے سے ناممکن ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدیہ کے تبادلہ کی تلقین بھی کی اور خود بھی اس پر عمل فرمایا۔ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی ہدیہ دیا جاتا تو آپ خوشی کے ساتھ اس کو قبول فرماتے تھے (کان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل الهدية)
فتح الباری بشرح صحیح البخاری (۲۳۹/۵)
اب جہاں تک اہل اسلام سے ہدیہ قبول کرنے کا تعلق ہے، اس میں احادیث میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ لیکن غیر مسلموں کے سلسلہ میں روایات میں اختلاف ہے۔ کچھ روایات بتاتی ہیں کہ کسی غیر مسلم نے ہدیہ پیش کیا تو آپ نے شوق کے ساتھ اس کو قبول فرمایا۔ دوسری طرف ایسی بھی روایتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول (انی لا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مشرك)، فتح الباری ۲۳۹/۵ سنن ابی داؤد، کتاب الخراج والامارۃ والفئی (باب فی الامام یقبل ہدایا المشرکین) میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم فدک (غیر مسلم حکمران) کا ہدیہ قبول فرمایا۔ پھر عین اسی باب میں دوسری روایت ہے کہ ایک غیر مسلم نے ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا سنن ابی داؤد (۳ / ۷۰-۱۶۹)
یہاں واضح طور پر ایک ہی معاملہ میں دو مختلف مسلک اختیار کیا گیا۔ مگر یہ کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ اس فرق کا سبب نفس حکم کا فرق نہیں ہے بلکہ حالات کا فرق ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ حالات کی رعایت ہمیشہ ایک حکم کے انطباق میں فرق پیدا کر دیتی ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار حاکموں اور سرداروں سے ہدیہ قبول فرمایا۔ مثلاً تبوک کی مہم (رجب ۹ھ) میں آپ نے تیس ہزار اصحاب کے ساتھ سفر فرمایا تھا۔ اس مہم کے ذیل میں جو واقعات پیش آئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس علاقہ کے مقام ایلہ کا حاکم یوحنا بن روبہ آپ کی خدمت میں آیا۔ نے آپ کو ایک سفید خچر کا ہدیہ پیش کیا جو واضح طور پر اس بات کی علامت تھی کہ وہ آپ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ آپ نے خوشی کے ساتھ اس کا ہدیہ قبول فرمایا۔ اس کے بعد معتدل فضا میں اس سے بات ہوئی۔ اس نے آپ سے صلح کرلی اور جزیہ دینے پر (فتح الباری ۳/ ۴۰۵)
یہ واقعہ واضح طور پر تالیف قلب کا واقعہ ہے۔ ایک حاکم جس سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، اگر اس کا ہدیہ قبول نہ کیا جائے تو تلخی پیدا ہوگی اور بہتر تعلق قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اس کا ہدیہ قبول کرنا اور اپنی طرف سے اس کو ہدیہ پیش کرنا قربت اور انس کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے غیر مسلم حاکموں سے ان کا تحفہ قبول فرمایا۔ سرداروں اور حکمرانوں سے ہدیہ قبول کرنے کے متعدد واقعات حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ ایک انسان جو ایک مشن کا علم بردار ہو وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ لوگوں کے ہدیے اور تحفے قبول نہ کرے۔ ہدایا کے لین دین سے مشن کی ترقی کی راہیں کھلتی ہیں اور ہدایا کو لینے سے انکار کرنا مشن کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ اس لئے اسلام میں یہ پسندیدہ بات نہیں کہ ہدایا کے لینے سے انکار کر دیا جائے۔
اب دوسری نوعیت کی مثال لیجئے ۔ سنن ابی داؤد (۳/ ۱۰۷) اور بعض دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مشرک عیاض بن حمار المجاشعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی ۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا : فانی نہیت عن زبد المشرکین (تو مجھے مشرکوں کا عطیہ لینے سے منع کیا گیا ہے) فتح الباری ۵/ ۳۷۲ واقعات بتاتے ہیں کہ یہ انکار حقیقۃ کوئی انکار نہ تھا بلکہ وہ شفقت کا ایک معاملہ تھا۔ زبان میں ہم اس کو ایک قسم کا ترمیبی انکار کہہ سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ عیاض بن حمار آپ کی تحریک توحید سے متاثر تھے اور ذاتی طور پر آپ کے عقیدت مند بن چکے تھے۔ تک انھوں نے اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا۔ آپ نے مذکورہ الفاظ میں ہدیہ کا انکار کر کے ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ حسب توقع اس کا مفید اثر ہوا اور جلد ہی انھوں نے باقاعدہ اسلام قبول کر لیا ۔ چنانچہ اب ان کو اسلام کی تاریخ میں عیاض بن حمار المجاشعی رضی اللہ عنہ لکھا جاتا ہے (حیات الصحابہ ۲/ ۲۴۵ )