Al-Risala · July 1997

آدم کی تخلیق

Al-Risala, July 1997, pp. 18–21

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ساری کائنات خداکی تسبیح کررہی ہے (الجمعہ ۱)، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام کائناتی چیزیں کامل طور پر خدا کے آگے مسخر ہیں۔ وہ ادنی انحراف کے بغیر اس کی مرضی کی تعمیل کر رہی ہیں۔

کائنات کی یہ تسبیح تبع تکوینی ہے۔ کائنات کی تسبیح اپنے آزاد ارادہ کی بنا پر نہیں ہے۔ بلکہ خدا کی محکم تقدیر کے تحت ہے۔ کائنات وہی کرتی ہے اور وہی کر سکتی ہے جو اس کے لئے پیشگی طور پر مقدر کر دیا گیا ہے۔ اس کے پاس نہ آزاداختیار ہے اور نہ اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ اپنے آزادانہ اختیار کے تحت کوئی عمل کرے اب خدا کو منظور ہوا کہ ایک ایسی مخلوق ہو جو خود اپنے اختیار کے تحت خدا کی تسبیح اسی اختیاری تسبیح کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا۔ انسان کو وہی دین اپنی آزاد مرضی کے تحت اختیار کرنا ہے جس کو بقیہ کائنات مجبورانہ طور پر اختیار کئے ہوئے ہے۔ اختیاری تسبیح کے اس مقصد کے لئے پہلے جنات کو پیدا کیا گیا تھا۔ اور ان کو زمین پر بسایا گیا تھا۔ مگر جنوں نے سرکشی کی۔ انھوں نے زمین پر فساد کیا۔ چنانچہ انھیں معزول کر دیا گیا اور زمین ان کے قبضہ سے لے لی گئی۔

جن کا تخلیقی مادہ آگ تھا۔ آگ میں طاقت زیادہ ہے۔ مگر اس میں سرکشی بھی زیادہ ہے۔ اب خدا نے انسان کی صورت میں ایک اور مخلوق پیدا کی جس کا مادہ تخلیق مٹی تھی۔ طاقت کم ہے مگر اسی کے ساتھ اس میں سرکشی بھی کم ہے۔ آگ شدت کی نمائندہ ہے اور مٹی نرمی اور اعتدال کی نمائندہ۔

انسان چوں کہ جن کے بعد آیا تھا اس لئے اس کو خلیفہ کہا گیا۔ یعنی سابق ساکنان ارض کی جگہ آنے والا۔ انسان کو پیدا کر کے اس کو جنت میں بسانے کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ جنت انسان ہی کے لئے ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ تسبیح اختیاری کا ثبوت دے اور اس کے انعام کے طور پر جنت کی پر راحت دنیا میں آباد رہے۔

انسان کی پیدائش پر فرشتوں کا اشکال اس لئے تھا کہ انھوں نے انسان کو جنات پر قیاس کیا۔ انہوں نے سمجھا کہ آ نہ دسی پا کر جب پہلی مخلوق سرکش ہوگئی تو نئی مخلوق بھی ضرور اسی طرح سرکش ہو جائے گی۔ اس وقت خدا نے عملی مظاہرہ کر کے فرشتوں کو بتایا کہ آتشیں مخلوق کے مقابلہ میں یہ خاکی مخلوق مختلف ہوگی۔ اگر چہ ان میں بھی بہت سے سرکش لوگ نکلیں گے لیکن اسی کے ساتھ ان میں ایسے قیمتی افراد بھی نکلیں گے جو ساری مخلوقات کے لئے قابل رشک قرار پائیں ۔

خدا نے جب انسان کو جنت میں بسایا تو فرمایا کہ یہاں کی ہر راحت تمہارے لئے ہے۔ البتہ فلاں درخت کا پھل تم نہ کھانا۔ اس سے مکمل طور پر پر ہیز کرنا۔ بائبل میں اس کو اچھے اور برے کے علم کا درخت (tree of the knowledge of good and evil) کہا گیا ہے۔ یہاں درخت کا لفظ تمثیلی معنی میں ہے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں قیام کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ متقیانہ (پرہیزگاری کی زندگی ہے۔ یعنی یہ کرو اور وہ نہ کرو کے بارہ میں تم کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند رہنا ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا تو خدا کی مدد تم سے اٹھ جائے گی ۔ اور تم اسی طرح محروم ہو جاؤ گے جس طرح کسی ملبوس آدمی کو اچانک ننگا کر دیا جائے۔ اس بات کو قرآن میں مختلف انداز سے بار بار بتایا گیا ہے۔ مثلاً فالهمها فجورها وتقواها (الشمس (۸) یعنی انسان کو یہ سمجھ عطا کی کہ کیا چیز اس کے لئے بری ہے اور کیا چیز اچھی اس سے مراد نیکی اور بدی کا وہ وجدانی شعور ہے جو پیدائشی طور پر ہر انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے۔

شیطان کے بہکاوے پر آدم نے جب ممنوعہ درخت کا پھل کھایا ، بالفاظ دیگر، وہ خدا کی قائم کی ہوئی حد پر برقرار نہ رہ سکے تو ظاہر ہو گیا کہ صرف ہدایت نامہ دے کر انسانوں کو جنت میں داخل کرنا کافی نہیں۔ آدم تمام انسانیت کے نمائندہ تھے ، ان کی لغزش نے ثابت کیا کہ اس معاملہ میں عمومی داخلہ کے بجائے انتخاب کا طریقہ اختیار کیا جانا چاہئے۔ اب یہ منصوبہ بنایا گیا کہ تمام انسانوں کو باری باری جنت کے باہر پہلے زمین پر آباد یہاں زندگی کے مختلف احوال میں ڈال کر ہر ایک کی جانچ کی جائے۔ اور پھر جو افراد

اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ آزادانہ ماحول میں بھی وہ تسبیح اختیاری کے معیار پر قائم تھے۔ ان کو منتخب کر لیا جائے اور صرف انھیں کو جنت کی معیاری دنیا میں داخلہ دیا جائے۔ پہلے جنت کا داخلہ عمومی تھا ، اب جنت میں داخلہ کو انتخابی بنا دیا گیا۔ انسان کے سلسلہ میں خدا کی جو اصل اسکیم ہے وہ یہی ہے کہ ہر آدمی کو محدود مدت کے لئے دنیا کی آزمائش گاہ میں رکھا جائے۔ یہاں اس پر مختلف قسم کے احوال گزریں۔ آدمی یہ ثبوت دے کہ تمام احوال سے اوپر اٹھ کر اس نے خدا پرستی کی زندگی گزاری، اور اس طرح اپنے کو جنت کا مستحق ثابت کیا۔ صرف ایسے ہی لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے ۔ تمام لوگوں کو اسی طرح رد کر دیا جائے جس طرح کارخانوں میں ناقص پیدا وار رد کر دی جاتی ہیں۔ پیشگی طور پر جنت میں بسانا بھی اس اسکیم کا ایک اہم جزو تھا۔ اس طرح گو یا انسان کو وہ قیمتی جنت پہلے ہی دکھا دی گئی جس کی خاطر اس سے یہ قربانی مطلوب تھی کہ وہ دنیا کی ترغیبات کے درمیان رہتے ہوئے اپنے آپ کو جنت کا طلب گار بنائے رکھے۔

آدم انسان اول بھی تھے اور پوری انسانیت کے نمائندہ بھی ، ان کو جنت کے مناظر براہ اس کے بعد ان کی بعد کی نسلوں میں جنت کا تصور، پیدائشی اور وراثتی طور پر ڈال دیا گیا۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانہ میں جینیک تسلسل کہا جاتا ہے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر ایک آئیڈیل دنیا کا تصور بسا ہوا ہے۔ لفظوں میں یہ کہ ہر آدمی نے اپنے لاشعور میں ایک جنت کو آباد کر رکھا ہے۔ یہی تصور جنت آدمی کو ایک ایسا گول دیتا ہے جو اس کو مسلسل متحرک رکھتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیوں کا خاتمہ ہو جائے۔ قرآن (محمد ۶ ) میں ہے کہ اللہ اپنے صالح بندوں کو جس جنت میں داخل کرے گا وہ وہی جنت ہوگی جس کی انہیں پہچان کرا دی ہے (عرفھا لهم)

اب سوال یہ ہے کہ انسان کو اس جنت کی پہچان کہاں اور کب کرائی گئی ۔ جواب یہ ہے کہ اس سے مراد وہی پہچان ہے جب کہ آدم کو جنت میں داخل کرکے اس کا مشاہدہ کرادیا گیا۔ اول نے اس جنت کو خود اپنی آنکھ سے دیکھا ۔ بعد کی انسانی نسلوں کو جینیک کوڈ کی صورت میں وراثتی طور پر اس سے متعارف کرایا گیا ۔ پہلے انسان کے لئے جنت کا تعارف ایک شعوری واقعہ

دوسرے انسانوں کو لاشعور کے تحت یہ تعارف حاصل ہوا۔

لاشعور میں بسی ہوئی اس جنت یا اس آئیڈیل دنیا کو عام آدمی اکثر موجودہ زندگی کی رونقوں سے وابستہ کرتا ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ مگر جب وہ اس کو حاصل کر لیتا ہے تو وہ دریافت کرتا ہے کہ وہ اس کے تصورات سے کم تر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت ایک معیاری دنیا ہے اور موجودہ دنیا ایک غیر معیاری دنیا۔ دنیا کبھی معیاری دنیا کا بدل نہیں بن سکتی اس لئے موجودہ دنیا کا پانا کسی کے لئے حقیقی اطمینان کا باعث بھی نہیں بنتا۔

سجدہ آدم کا جو واقعہ ہے جس میں فرشتوں نے اور ابلیس نے دو الگ الگ کردار ادا کیا ، وہ انسانی آزمائش کے اصولی نکتہ کو بتاتا ہے۔ ابلیس نے جب آدم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا تو اس کی وجہ اس نے یہ بتائی کہ میں اس سے بہتر ہوں ( انا خیر منہ ) اس کو یاد نہیں رہا کہ مسئلہ بہتر اور کمتر کا نہیں ہے بلکہ خدا کے حکم کا ہے۔ جہاں خدا کا حکم آجائے وہاں بظاہر ایک برتر کو بھی اپنے سے کم تر کے آگے جھکنا ہے۔ ایسا نہ کرنا کبر کا مظاہرہ کرنا ہے ، اور کبر خدا کی نظر میں سب سے بڑا جرم ہے۔

یہی آزمائش کا بنیادی نکتہ ہے۔ جس طرح خدا نے ابلیس کو آدم کے سامنے جھکنے کا حکم دیا ، اسی طرح خدا کا حکم ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کے مقابلہ میں تواضع کی روش ہر انسان صاحب حق کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے ۔ ہر انسان فخر و ناز اور کبرو برتری کی نفسیات سے آخری حد تک اپنے آپ کو پاک کرلے۔

جنت میں داخلہ کی یہی بنیادی شرط ہے۔ تاہم انسان کی رعایت کرتے ہوئے توبہ کا طریقہ بھی رکھ دیا گیا۔ یعنی آدمی اگر کسی وجہ سے غلطی کر بیٹھے تو اس کے بعد اس کے اندر ندامت کا جذ بہ ابھرنا چاہئے۔ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کر کے دوبارہ صراط مستقیم پر گامزن ہو جائے۔

Printed page