Al-Risala · July 1997

This is your copy.

Al-Risala, July 1997, pp. 26–42

By Maulana Wahiduddin Khan

مسافروں کے ساتھ اس فیاضی کا سبب کیا تھا۔ اخبار کا ہر صفحہ خاموش زبان میں اس کو بتا رہا تھا۔ کیوں کہ وہ زیادہ تر اشتہارات سے بھرا ہوا۔ اس فیاضی کا مقصد مسافر کو "اخبار"

دینا نہیں تھا۔ بلکہ صرف اپنا اشتہار دینا تھا۔ تاکہ وہ ان کے سامانوں کاخریدار بن سکے۔ اپنے انٹرسٹ کے لئے لوگ مفت اخبار تقسیم کر رہے ہیں۔ مگر دوسروں کے انٹرسٹ کے لئے مفت اخبار فراہم کرنے والا کوئی نہیں۔

درمیان میں جہاز چالیس منٹ کے لئے جے پور میں ٹھہرا۔ کچھ مسافر یہاں اترے، اور کچھ نئے مسافر سوار ہوئے۔ وسیع نگاہ سے دیکھا جائے تو زمین بھی اسی قسم کی ایک زیادہ بڑی سواری ہے۔ ہر روز کچھ لوگ اس سے اترتے ہیں اور کچھ نئے افراد اس پر سوار جہاز کے مسافروں کے لئے ہم اترنے اور چڑھنے کا لفظ بولتے ہیں، اور زمین کے مسافروں کے لئے پیدائش اور موت کا لفظ۔

جے پور راجستھان کی ریاستی راجدھانی ہے۔ جے پور ۱۷۲۷ میں آباد کیا گیا تھا تاکہ امبر کی جگہ اس کو راجدھانی بنایا جاسکے۔ یہ ایک منصو بہ بند شہر ہے جس کی سیدھی سڑکوں کے کنارے گلابی رنگ کی عمارتوں کی قطاریں کھڑی ہوئی ہیں۔ دوسری بہت سی تاریخی عمارتوں کے علاوہ یہاں ایک رصد گاہ (جنتر منتر) ہے جو اٹھارویں صدی میں بغداد کی رصد گاہ کے نمونہ پر بنائی گئی تھی۔

جے پور کی ریاست کو بارھویں صدی میں راجپوتوں نے قائم کیا تھا۔ سولھویں صدی میں وہ مغل سلطنت کے ماتحت آگئی۔ ۱۸۱۸ء میں اس پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا۔ ۱۹۴۹ء میں اس کو راجستھان میں ضم کر دیا گیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سو سال پہلے ریاست جے پور کی سرکاری زبان اردو تھی۔ اور انتظامیہ دونوں شعبوں میں اردو ہی میں کام ہوتا تھا۔ (ماہنامہ ہدایت جنوری ۱۹۹۵ء ، صفحہ ۸۹) جے پور میں ایک بڑا مدرسہ (جامعۃ الہدایت) قائم ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے دینی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر اور صنعت و حرفت کو بھی اپنے کورس میں داخل کیا ہے۔ اس کی طرف سے ایک ماہنامہ ہدایت نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ جنوری ۱۹۹۵ء میں ایک مضمون کی چند سطریں یہ تھیں:

(غدر کے بعد) علماء کرام نے انگریزوں سے نفرت کے ساتھ انگریزی سے بھی نفرت کر کے

اور انگریزی کی تعلیم کو ناجائز بلکہ حرام قرار دے کر مسلم قوم کے لئے علوم جدیدہ کی تحصیل کے دروازے بند کر دئے۔ اور اس فیصلے سے برطانوی حکومت کے انتقامی اور عیارانہ وشاطرانہ عزائم کے پر لگادئے۔ انگریزوں سے نفرت حق بجانب تھی، لیکن انگریزی جو علوم جدیدہ کے حصول کا ذریعہ تھی اور جس سے سائنس اور ٹکنالوجی کی تعلیم حاصل کرکے مسلم قوم پستی سے ابھر سکتی تھی اور برادران وطن کے شانہ بشانہ چل سکتی تھی، اس کے دروازے مسلم قوم پر خود مسلم علما نے بند کر دئے (صفحہ ۸۹)

میں اضافہ کروں گا کہ انگریزوں سے نفرت کرنے میں بھی ہمارے علماء یقینی طور پر حق بجانب کیوں کہ یہ انگریز ہمارے لئے مدعو کی حیثیت رکھتے تھے۔ اور مدعو سے داعی کا متنفر ہونا ہرگز جائز نہیں۔

جہاز جے پور سے روانہ ہو کر اودے پور پہنچا۔ یہ ایک چھوٹا ایئر پورٹ ہے۔ صرف چند جہاز اترتے اور روانہ ہوتے ہیں۔

اودے پور راجستھان کا ایک تاریخی شہر ہے۔ ۱۵۶۸ ء میں چیتوڑ کے بعد وہ مہاراجہ اودے پور کی راجدھانی بنا۔ اس کے بعد راجہ نے یہاں دو بڑے محل تعمیر کرائے۔ نے ۱۶۲۸ میں مغل تخت پر قبضہ کرنے سے پہلے جب اپنے باپ جہانگیر کے خلاف بغاوت کی تھی تو اس وقت اس نے اودے پور کے ایک محل میں پناہ لی تھی۔ اودے پور کی ریاست سیسودیا راجپوتوں نے آٹھویں صدی عیسوی میں قائم کی تھی۔ ۱۸۱۸ء میں اس پر انگریزوں نے قبضہ کیا۔ ۱۹۴۸ میں اودے پور کو راجستھان میں شامل کر دیا گیا۔

آریہ سماج (۱۸۷۵ء) کے بانی دیانند سرسوتی نے اودے پور ہی میں اپنی مشہور کتاب ستیا تھ پر کاش لکھی تھی اودے پور ایئر پورٹ پر مسٹر رادھے شیام چیپان اور پربھو دیال برملا موجود تھے۔ ان کے ساتھ بذریعہ کار بھیل واڑہ کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں حسب معمول ان لوگوں سے معلوماتی انداز کی گفتگو کرتا رہا۔

مسٹرادھے شیام چیپان ایک صنعت کار ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مرکزی حکومت

کی لبرلائزیشن کی پالیسی سے کیا آپ لوگ متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبرلائزیشن اصولی طور پر تو درست ہے۔ مگر حکومت کو اسی کے ساتھ ملکی صنعتوں کو انفراسٹرکچر (بجلی، پانی، سڑک وغیرہ) بھی فراہم کرنا چاہئے۔ ابھی تو یہ حال ہے کہ باہر کی کمپنیوں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ مثلاً ان کے سارے کام ایک "ونڈو" پر ہو جاتے ہیں۔ مگر ہم کو دسیوں ونڈو پر لائن لگانا پڑتا ہے۔ یہ تو کاپیٹیشن نہیں ہے۔ یہ تو ایک کو پیچھے کرکے دوسرے کو آگے بڑھنے کا موقع دینا ہے۔

"راجستھان" کا عام تصور یہ ہے کہ وہ ریگستانی علاقہ ہے۔ راجستھان کی علامتی تصویروں میں اکثر اونٹ اور صحرا دکھایا جاتا ہے۔ مگر مجھے ائیرپورٹ سے بھیل واڑہ تک کہیں صحرا اور ریگستان نظر نہیں آیا۔ سڑک کے دونوں طرف درخت اور سبزہ اور کھیت کے مناظر تھے. میں نے ساتھیوں سے اس کا ذکر کیا تو مسٹر برلانے کہا کہ میں ایک بار ٹرین سے دہلی سے بھیل واڑہ آ رہا تھا۔ راستہ میں ایک خاتون کے ساتھ ان کا بچہ تھا۔ سفر کرتے ہوئے جب ہماری ٹرین راجستھان میں داخل ہوئی تو لڑکے نے اپنی ممی سے کہا : ممی، راجستھان تو آگیا۔ مگر وہ ریگستان کہاں ہے؟

مسٹر برلانے کہا کہ اصل یہ ہے کہ راجستھان کے صرف ایک علاقہ میں ریگستان ہے۔ چوں کہ دوسری ریاستوں میں نہیں ہے اس لئے راجستھان کی پہچان ریگستان بن گیا۔ کا تعلق صرف راجستھان سے نہیں۔ اکثر معاملات میں لوگ اس قسم کی غلطی کرتے ہیں، وہ جزئی پہلو کو کل کی پہچان بنا لیتے ہیں۔

راجستھان کا قدیم نام راجپوتانہ تھا۔ برٹش دور میں یہاں اٹھارہ ریاستیں تھیں۔ جہاں راجپوت راجہ راج کرتے تھے۔ اس لئے اس کا یہ نام پڑا۔ ۱۹۴۷ میں آزادی کے بعد ریاستیں ختم ہو گئیں اور اس کا مجموعی نام راجستھان رکھ دیا گیا۔

اس علاقہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہاں کھدائی میں مٹی کے کچھ برتن ملے ہیں۔ ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی تاریخ ۲۰۰۰ قبل مسیح تک جاتی ہے۔ سولھویں صدی میں یہاں طاقت ور راجپوت سلطنت قائم تھی۔ لیکن رانا سنگرام سنگھ (سانگا) اور بابر کی لڑائی

میں رانا سانگا کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد یہ علاقہ مغل سلطنت کے تحت آگیا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جہاں گیر اور شاہ جہاں دونوں راجپوت ماؤں سے پیدا ہوئے تھے۔ راجستھان راجاؤں کی سرزمین رہی ہے۔ چنانچہ یہاں کثرت سے تعمیری یادگاریں ہیں جو دورِ قدیم کو یاد دلاتی ہیں۔ ذیل میں اسی قسم کی ایک خوبصورت عمارت کی تصویر دی جارہی یہ اودے پور کے پاس ہے۔ اس کو راج سمندر یا جے سمندر کہا جاتا ہے۔ ادے پور سے ڈھائی گھنٹہ کا سفر طے کر کے ہم لوگ بھیل واڑہ پہنچے۔ بھیل واڑہ میں میرا قیام یہاں کے سرکٹ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ سرکٹ (circuit) کے معنی ہیں پھیرا۔ کا لفظ انگریزوں کے زمانہ میں رائج ہوا۔ انگریزی حکومت نے شہری مقامات پر ایک رقبہ مخصوص کر کے اس کے اندر بنگلہ نما مکانات بنائے تھے تاکہ انگریز عہدیدار اپنے دوروں کے وقت وہاں قیام کر سکیں۔ اس قسم کے مخصوص علاقے اب بھی ہر شہر میں موجود ہیں، اور اودے سمندر پر بنی نئی چوکیاں، جب نور محلوں کی گنجائش کا موجب بنی ہوئی ہیں (راول)

حکومت کے ذمہ دار اپنے سفروں کے دوران وہاں وقتی قیام کرتے ہیں۔ انہیں کو سرکٹ ہاؤس کہا جاتا ہے۔

بھیل واڑہ نے صرف دس سال کے اندر نمایاں ترقی کی ہے۔ بھیل واڑہ نے بھیونڈی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حالاں کہ بھیونڈی کو مفت بلہ بہت سے ایڈوانٹج حاصل تھے۔ "سوٹنگ" میں وہ سارے ملک سے آگے نکل گیا ہے۔

مسٹر گووند نارائن راٹھی جو خود بھی بزنس میں ہیں، انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ "یہاں کے لوگوں میں رسک لینے کی استعداد (capacity) ہے مزید یہ کہ یہاں کے لوگ دنگے سے بہت دور رہتے ہیں۔ یہاں کوئی جھگڑانہیں ہوتا۔ اور بزنس کے لئے امن بہت ضروری ہے۔ بھیل واڑہ کی آبادی تقریباً دو لاکھ ہے۔ اس میں ۱۰ فیصد سے کچھ زیادہ مسلمان شامل ہیں۔ یہاں دس مسجدیں ہیں اور اتنی ہی تعداد میں دینی مدرسے ہیں۔ دستور ہند نے مسلمانوں کو برابر کے شہری کا درجہ دیا ہے۔ مگر تعلیم اور اقتصادیات میں پیچھے ہو جانے کی وجہ سے عملاً ہر جگہ وہ " دوسرے درجے" کی کمیونٹی نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال کی ذمہ داری تمام تر صرف مسلمانوں کے نا اہل رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔

بھیل واڑہ کا یہ سفر بھارت وکاس پریشد کی دعوت پر ہوا۔ بھارت وکاس پریشد کا قیام ۱۹۸۵ میں ہوا تھا۔ اس کے آل انڈیا پریزیڈینٹ سپریم کورٹ کے سابق جج شری آرایچ کھنا ہیں۔ راجستھان میں اس کی چالیس شاخیں ہیں۔

بھارت وکاس پریشد ایک غیر سیاسی ادارہ ہے۔ یہ لوگ تعمیری کاموں میں دلچسپی مثلاً اسکول، اسپتال، رفاہ عامہ، خدمت خلق، وغیرہ۔ انھوں نے سوامی ویویکانند کے اس قول کو اپنا ماٹوبنایا ہے کہ راشٹر نر مان ۔ ویکتی نر مان ۔ یعنی فرد کی تعمیر سے ملک کی تعمیر ہوتی ہے۔ ان کے پروگراموں کے چار اجزاء یہ ہیں : سیوا ، سنسکار، سہیوگ،

ایک بات کا میں نے خود تجربہ کیا۔ اور وہ وقت کی پابندی ہے۔ ان کے تمام پروگرام وقت کی پوری پابندی کے ساتھ انجام دئے گئے۔ ۳۱ مارچ کی شام کے پروگرام میں بھیل واڑہ

کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چند منٹ کی تاخیر سے پہنچے۔ مگر منتظمین نے کلکٹر صاحب کا انتظار کئے بغیر ٹھیک وقت پر اپنا پروگرام شروع کر دیا۔ ہر پروگرام ٹھیک مقررہ وقت پر شروع ور ختم یکم اپریل کو مجھے بھیل واڑہ سے بذریعہ کار چل کر ساڑھے چار بجے اودے پور پہنچنا اودے پور میں دوپہر کا کھانا تھا۔ اور یہاں کا مشہور قلعہ دیکھنا تھا۔ پھر ایئر پورٹ پہنچنا تھا جس کا وقت ساڑھے چار بجے مقرر تھا۔ سارے پروگراموں کو پوراکرنے کے بعد جب ہماری کار ایئر پورٹ پہنچ کر کھڑی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ گھڑی کی ایک سوئی چار پر تھی اور دوسری سوئی ۳۰ پر۔

مسٹر نریندرلودھا ( بھارت و کاس پر یشد کے مقامی صدر ) کا ٹیلیفون دہلی میں آیا تھا کہ ۳۱ مارچ کو جمعہ کا دن ہو گا ۔ اس دن آپ لوگوں کی خاص نماز ہوتی ہے۔ پھر اس کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا۔ میں نے کہا کہ آپ کسی مسلمان سے کہہ دیں کہ وہ مجھ کو مسجد میں لے جائے۔ وہاں میں نماز پڑھ لوں گا۔

چنانچہ جمعہ سے پہلے سرکٹ ہاؤس میں کئی مسلمان آگئے۔ ان کے ساتھ جا کر یہاں کی اسٹیشن والی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ نماز پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ دہلی کی مسجد میں جس طرح میں اپنے آپ کو دوسروں سے مانوس پا تا ہوں ۔ اسی طرح یہاں بھی اور ساری دنیا میں باہمی انسیت کا احساس ہوتا ہے۔

اس تجربہ کے بعد خیال آیا کہ اسلامی اتحاد کی بنیاد دہی روحانی یگانگت ہے۔ کے جس حصہ میں جائیں ، آپ محسوس کرتے ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کا عقیدہ ، ان کی سوچ ، ان کا اخلاقی اصول ، ان کی عبادت کا طریقہ ، وہی ہے جو میرا ہے۔ یہی اشتراک عالمی اسلامی اتحاد کی بنیاد ہے۔ مگر کچھ انتہا پسند لوگوں نے بے بنیاد طور پر یہ نظریہ بنایا کہ سیاسی ادارہ اسلامی اتحاد کی بنیاد ہے۔ یعنی ساری دنیا کا ایک خلیفہ ہوا اور تمام لوگ اس کے سیاسی عصا کے تحت منظم ہوں۔ یہ ایک بے اصل نظریہ ہے۔ قرآن و سنت میں اس کے لئے کوئی بنیاد

۳۱ مارچ کو دوپہر کا کھانا سرکٹ ہاؤس میں کھایا۔ لمبی میز پر کئی معزز لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔

भारत विकास परिषद, भीलवाड़ा नववर्ष कार्यक्रम दिनांक 31-3-1995 व 1-4- नववर्ष कार्यक्रम दिनांक 31-3-1995 व 1-4-1995 मौलाना वहीदुद्दीन खान सा. का कार्यक्रम दिनांक 31-3-1995 प्रातः काल 5.55 पर देहली से उड़ान प्रातः काल 7.50 पर डबोक (उदयपुर) पहुंच प्रातः काल 8.15 पर डबोक से भीलवाड़ा के लिए कार द्वारा प्रस्थान प्रातःकाल 8.15 पर डबोक से भीलवाड़ा के लिए कार दोपहर 12.00 बजे भीलवाड़ा (सर्किट हाउस पर) पहुंच दोपहर 12.30 भोजन (सर्किट हाउस) दोपहर 1.20 प्रस्थान नमाज हेतु दोपहर 1.30 से 2.30 तक नमाज दोपहर 2.55 बजे बैठक हेतु प्रस्थान अपरान्ह 3.00 से 4.00 बजे तक सदस्यों के साथ बैठक अपरान्ह 4.00 से 5.00 बजे तक पत्रकार वार्ता (सूचना सांय 5.15 से 7.15 तक विश्राम (सर्किट हाउस) सांय 7.15 पर प्रस्थान विचार गोष्ठी (सभागार हेतु) रात्रि 9.15 सभागार से सर्किट हाउस रात्रि 9.30 भोजन (सर्किट हाउस) रात्रि 10.30 बजे दीप विसर्जन प्रातःकाल 8.00 बजे अल्पाहार प्रातःकाल 9.00 बजे चुनिन्दा मुस्लिम बन्धुओं के साथ प्रातःकाल 10.00 बजे चाय प्रातः काल 10.30 बजे प्रस्थान चित्तौड़ के लिए (कार द्वारा) दोपहर 11.30 बजे चित्तौड़ पहुंच दोपहर 11.30 1.30 से तक दुर्ग भ्रमण मध्यान्ह 1.30 से 2.00 तक भोजन चित्तौड़ अपरान्ह 2.00 बजे डबोक (उदयपुर) हेतु प्रस्थान अपरान्ह 4.30 बजे डबोक पहुंच सांय 5.55 बजे डबोक से उड़ान रात्रि 8.00 बजे दिल्ली पहुंच

میں نے کھانا شروع کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا : بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ بیٹھے ہوئے ایک تعلیم یافتہ ہندو نے اس کا مطلب جاننا چاہا۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے میں شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو نہایت رحیم اور مہربان ہے۔ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ آدمی جب بھی کوئی کام شروع کرے تو وہ ان الفاظ کو اپنی زبان سے دہرائے۔ کی بندگی کا اظہار اور خدا کی خدا کا اعتراف ہے۔

۳۱ مارچ کو ۳ بجے سہ پہر میں سوچنا کیندر (انفارمیشن سنٹر) میں نوجوانوں کی ایک میٹنگ تمہیدی تقریروں کے بعد مجھے موقع دیا گیا۔ میں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو باتیں اگر ہمارے اندر آجائیں تو ملک کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ آج کل یہ حال ہے کہ لوگ دیش سے صرف لینا جانتے ہیں، وہ دیش کو دینا نہیں جانتے۔ یہ مزاج نہ صرف ملک کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ طویل مدت کے اعتبار سے خود افراد کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ کرنا ہوگا کہ ذاتی مفاد کے مقابلہ میں دیش کے مفاد کو اونچا رکھیں ۔ دوسری چیز یہ کہ اس ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہند و مسلم جھگڑا ہے۔ یہ جھگڑا اتمام تر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ ایمرجنسی کے زمانہ میں جب ہندوؤ ں اور مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور وہاں دونوں ایک ساتھ رہے تو ہر ایک نے محسوس کیا کہ ایک دوسرے کے بارہ میں ان کے خدشے بے بنیاد تھے۔ ہندوؤ ں اور مسلمانوں میں اگر کسی طرح صرف اختلاط بڑھ جائے تو تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔

اس میٹنگ کے بعد کافی سوالات آئے جن کا میں نے جواب دیا۔ خاص بات یہ تھی کہ سوالات کے لئے نہایت منظم طریقہ اختیار کیا گیا۔ لوگوں نے کاغذ پر لکھ کر اپنے سوالات صدر صاحب کے پاس بھیج دیجئے۔ یہ سوالات ہندی میں لکھے ہوئے تھے۔ صدر صاحب نے ایک ایک سوال کو باری باری پڑھا اور میں نے ہر ایک کا جواب دیا۔ کسی بھی جواب کے بعد دوبارہ سوال نہیں کیا گیا۔ سوالات اور ان کے جوابات یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔ سوال : آپ دیش میں آنے والے سمے میں کس پر کار کی راج نیتک شاشن ویو ستھا کی سمبھاونا دیکھتے ہیں۔ وشیش کرورتمان سندربھ میں (پرکاش چندر نکل )

جواب : بظاہر حالات امید کی طرف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ۱۹۹۲ء کے آخر میں میں نے بھاجپا کومخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگ کانگریس کے سیکولرزم کو سوڈو سیکولرزم کہتے اور خود ہندتو کا نام لیتے ہیں۔ مگر سوڈو سیکولرزم کا بدل ہند تو نہیں ہے بلکہ ٹرو اب آپ دیکھئے خود بھا جپا کے لیڈر (آڈوانی اور باجپئی) ٹھیک اسی قسم کے الفاظ بول رہے ہیں۔ یہ واضح طور پر ایک صحت مند تبدیلی کی علامت ہے۔ سوال : بھارتیہ سنسکرتی ایوم اسلامک سنسکرتی میں کیا فرق ہے۔ دونوں سنسکرتیوں میں ہم کیا سمائیا دیں۔ کیا دونوں سنسکرتیاں راشٹر کو سنگھٹن کرنے ایوم نو زمان میں سہماگی ہو سکتی ہیں (جگیر سنگھ چودھری)

جواب : ہماری موجودہ سنسکرتی ایک نئی سنسکرتی ہے۔ اس کا قدیم بھارتی سنسکرتی سے بہت کم تعلق ہے۔ یہ دراصل ہندستانی تہذیب ، اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے امتزاج سے بنی ہے۔ اور تہذیب یا سنسکرتی ہمیشہ اسی طرح امتزاج ہی سے بنتی ہے۔ تہذیب ہندستان کی تہذیب ہے اور وہی ہماری ترقی کا ذریعہ ہے۔

سوال : شری رام مندر ایوم بابری مسجد کا مدعا مندر ایوم مسجد تک سمیت نہیں رہ کو اب یہ ہندوؤں کی ایوم مسلمانوں پرتی شود کا کارن بن گیا ہے۔ اس کمی کو اب کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔ ایوم اس سمسیا کا کیا سمائک سمادھان ہو سکتا ہے۔ کر پیا پر کاش ڈالیں۔

جواب : میں سمجھتا ہوں کہ وقتی طور پر ضرور ایسا ہوا تھا کہ یہ اشو دونوں فرقوں کے لئے پرستیج اشو بن گیا تھا۔ مگر حالات کے زور پر اب وہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اب دونوں فرقوں کو محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ ایک نان اشو تھا جس کو ہم نے جذبات میں آکر اشو بنا لیا۔ سوال : ہندوشبد راشٹروادشبد ہے۔ پھر بھی راشٹر کے سبھی ورگ کے لوگ اس کو جاتی کا دھرم سمجھ رہے ہیں۔ اس کا کیا کارن ہے۔ آپ کا اس سمبندھ میں کیا وچار ہے (ریکھارام چندرانی)

جواب : یہ بات کہ ہندوشبد ایک راشٹر واد شبد ہے، یہ صرف کچھ ہندوؤں کا کہنا

ہے جو بہت چھوٹی مائناریٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد ملک کا جو کانسٹی ٹیوشن بنا وہ تمام تر ہندو افراد ہی کا بنایا ہوا تھا۔ مگر اس میں ملک کے شہری کو ہندو نہیں کہا گیا۔ بلکہ انڈین (یا ہندوستانی) کہاگیا۔ آپ جب تک کانسٹی ٹیوشن میں ترمیم نہ کرلیں آپ کو ایسا کہنے کا حق نہیں ہے۔

سوال: ایسا کہا جاتا ہے کہ بھارتیہ مسلم آج بھی راشٹر کی مکھیہ دھار اتھاس سے کٹا ہوا ہے۔ تتھاس کی کیا وجہ ہے۔ آپ ایسا مانتے ہیں۔ انھیں کیسے جوڑا جا سکتا ہے۔ ہری کرشن رام چندانی) جواب: میں اس کو نہیں مانتا کہ مسلمان کسی فیصلہ کے تحت نیشنل مین اسٹریم سے کٹا ہوا ہے۔ واقعہ ہے وہ یہ ہے کہ نکمے قسم کے مسلم لیڈروں نے جذباتی تحریکیں چلا کر مسلمانوں کو تعلیم میں پیچھے کر دیا۔ اس پچھڑے پن کی وجہ سے مسلمان ملک کی عمومی سرگرمیوں میں جڑ نہیں پاتے۔ اس بنا پر وہ کارنر ہو کر رہ گئے ہیں۔ اگر مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے تو اپنے آپ وہ تمام ملکی سرگرمیوں میں شریک ہو کر مین اسٹریم میں دکھائی دینے لگیں گے ۔

سوال: ہندوستان کے مسلم سماج میں ابھی بھی یہ ابھیمان بنا ہوا ہے کہ ہم نے بھارت ورش پر راج کیا۔ اسی انک کے کارن وہ بھارتیہ سنسکرتی میں گھل مل نہیں پائے ہیں۔ اس بارہ میں آپ کے کیا وچار ہیں۔ اس کمی کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے۔ (رام کمار چرچانی) جواب: میں سمجھتا ہوں کہ "مسلم سماج" میں یہ ابھیمان نہیں ہے۔ البتہ کچھ نام نہاد مسلم دانشوروں میں ضرور یہ ابھیمان پایا جاتا ہے اور وہ اس قسم کی بولیاں بولتے رہتے ہیں۔ مسلم سماج میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے۔ اور حالات کا رخ بتاتا ہے کہ ایسی سوچ کے لوگ بہت جلد تاریخی میوزیم کا حصہ بن کر رہ جائیں گے۔

سوال: کوئی بستی ہندو بستی نہیں۔ پھر کوئی بستی مسلم بستی کیوں (سنجیو اگروال) جواب: میرے جاننے میں کسی بستی کا نام مسلم بستی نہیں ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی بستی میں سب مسلمان ہوں تو اس کو کوئی مسلم بستی کہنے لگے۔ اسی طرح کسی بستی میں سب ہندو ہوں تو اس کو کوئی شخص ہندو بستی کہنے لگے۔

سوال: انتر راشٹریہ استرے دیکھا جائے تو آج ساپر دائے واد کا زہر ہندوستان میں

ہی زیادہ دکھ ہوتا جارہا ہے، ایسا کیوں (نام درج نہیں)

جواب: اس کا سبب ہندوستان کا تعلیم میں پچھڑا پن ہے۔ مزید یہ کہ قوموں میں اس طرح کی خرابیاں ہمیشہ انٹرایکشن نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ نو آبادیاتی دور میں ہندوستان کا انٹرایکشن دوسری قوموں سے ہونا تھا۔ آزادی کے بعد نہرو کی" پروٹیکشن" کی پالیسی نے یہ انٹرایکشن ختم کر دیا۔ اسی کے یہ سب نتائج ہیں۔ اب نئی سرکاری پالیسی کے تحت دوبارہ ہندوستانیوں کا انٹرایکشن دوسری قوموں کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اپنے آپ یہ برائی ختم ہو جائے گی۔

سوال: کیا دور درشن یا آکاش وانی سے ایکتا کے نعرے لگانے سے راشٹریہ ایکتا ہو سکتی ہے۔ بدیسی نہیں تو دونوں ورگوں میں بھائی چارہ کی نیو مضبوط کرنا ہے تو ملاؤں تنھا سنتوں کو نیترت کرنا ہے تو کون پر یہ رنا دے گا۔ کہیں نہ کہیں دو ش ورگوں کا ہے۔ اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے (نام درج نہیں)

جواب: دور درشن اور آکاش وانی کے پروگراموں سے قومی ایکتا نہیں آسکتی۔ اس کے لئے سچی کوشش ضروری ہے۔ اور یہ سچی کوشش مذہبی اور روحانی لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ ماضی میں صوفیوں اور سنتوں نے ہی میل ملاپ کی فضا بنائی تھی، آج بھی وہی لوگ ایسا کر سکتے ہیں۔ سوال: ایسا کیوں ہے کہ بھارت میں کئی ورگوں کے ہوتے ہوئے بھی ساپر دایک تناؤ صرف دو ورگوں ہی میں پھیلتا ہے۔ کیا اس کا کارن مسلم ورگ کی شاشک منو ورتی ہے یا دھارمک ہندوستان میں ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے مسلم ورگ کو ہزار ورش ہونے کے باوجود سنگھرش کو منو ورتی کیوں ہے۔ (نام درج نہیں)

جواب: اس کا صحیح جواب وہ ہے جو ہمایوں کبیر نے دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان میجارسٹی کمیونٹی کے مقابلہ میں نیکسٹ ٹو میجارسٹی کی حیثیت رکھتے یہ وہی نفسیات ہے جس کو ہندی میں ترپریا کہا جاتا ہے۔ بھائی بہن اگر تر پریا ہوں تو ان میں نوک جھونک ہوتا رہتا ہے۔ یہی مسلمانوں اور ہندوؤں کے ساتھ ہورہا ہے۔ بھائی بہن جب بڑے ہو جائیں تو یہ نفسیات ختم ہو جاتی ہے۔ ہندو اور مسلمان تعلیم کی کمی کی بنا پر

ابھی پختگی کی عمر کو نہیں پہنچے۔ تعلیم بڑھنے کے بعد جب دونوں کا شعور پختہ ہوگا تو یہ حالت اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔

۳۱ مارچ کی شام کو چار بجے سوچا کیندر (انفارمیشن سنٹر) کے ہال میں پریس کانفرنس تقریباً سبھی اخباروں کے نمائندے یہاں موجود تھے۔

بہت سے سوالات کئے گئے۔ اکثر ٹیڑھے قسم کے سوالات تھے۔ مگر میں نے تمام سوالوں کا جواب بالکل ٹھنڈے انداز میں دیا۔ پریس کانفرنس کی رپورٹ ، نیز پبلک میٹنگ کی رپورٹ یہاں کے تمام اخباروں میں شائع ہوئی۔

پریس کانفرنس میں ایک ہندو جرنلسٹ نے سوال کیا کہ آجکل دیکھا جا رہا ہے کہ مندر اور مسجد دونوں جگہ جانے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں فرقوں کی مذہبی کٹرتا میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس مسئلہ کا حل آپ کے نزدیک کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مفروضہ درست نہیں۔ مندر اور مسجد میں جانے کا کوئی تعلق کٹرتا سے نہیں وہاں جانے والے من کی شانتی یا روحانی سکون حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ نے کہا کہ آج ہی کی مثال لیجئے۔ آج میں نے جمعہ کی نماز یہاں کی اسٹیشن والی مسجد میں پڑھی۔ دو ہندو بھائی اپنی گاڑی پر مجھ کو وہاں لے گئے تھے جو اس پریس کانفرنس میں اب آپ کے سامنے موجود ہیں۔ آپ ان سے پوچھ لیجئے۔ جب میں مسجد سے نماز پڑھ کر نکلا تو سیکڑوں مسلمان مجھ سے مصافحہ کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے۔ حالانکہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ میں کٹرتا کے اگر وہ لوگ مسجد سے کٹرتا کا سبق لے کر نکلتے تو کبھی بھی مجھ سے ملنے کے لئے اس طرح نہ دوڑ پڑتے۔

میں نے کہا کہ مذہبی کٹرتا کی بات وہ لوگ کرتے ہیں جو سرے سے مذہبی ہی نہیں ۔ اپنے سیاسی انٹرسٹ کے لئے مذہب کا ایکسپلاٹیشن کر رہے ہیں۔

۳۱ مارچ کی شام کو ساڑھے سات بجے یہاں کے ٹاؤن ہال میں پر وگرام تھا۔ پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ ضلع کلکٹر سے لے کر تاجر اور وکیل اور ڈاکٹر اور پروفیسر تک سبھی لوگ جمع اس میں اصل تقریر میری ہی تھی۔ اور اسی پروگرام کے لئے مجھے یہاں بلایا گیا تھا۔

میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ملک کو امن اور ترقی کی طرف لے جانے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے، دوسری باتوں کے علاوہ میں نے ایک بات یہ کہی کہ کسی قوم کے دانشور قوم کا ذہن بنانے والے (opinion makers) ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے دانشوروں نے اس معاملہ میں صحیح کردار ادا نہیں کیا۔ اس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے لوگوں میں صحیح سوچ نہیں ابھری۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۷۱ء میں انڈیا نے شیخ مجیب الرحمان کا ساتھ دیا اور پاکستان ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تو پاکستان کے دانشوروں نے اپنی قوم میں انتقام کی آگ بھڑکانا شروع کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں انڈیا سے اس کا بدلہ لینا ہے۔ چنانچہ انھوں نے کشمیر کے علاحد گی پسند عناصر کی ہمت افزائی کی۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۹ میں باقاعدہ طور پر وہاں گن کلچر چلوا دیا۔ ایسا ہی کام ہندو دانشوروں کے ایک طبقہ نے کیا۔ انھوں نے بابری مسجد کے معاملے میں ہندو قوم کو یہ بتایا کہ یہ تمہارے لئے دوسری ہار (second defeat) کا مسئلہ ہے ۔ میں تم کو مسلمانوں کے مقابلہ میں ہار ہوئی تھی۔ اب دوسری ہار تم کو ہار پر راضی نہیں ہونا ہے۔ دونوں فرقوں کے دانشوروں کو وہ کرنا چاہئے تھا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپانی دانشوروں نے کیا۔ امریکہ نے ایٹم بم گرا کر جب ہیروشِیما کو تباہ کیا تو جاپانی انتقامی نفسیات سے بھڑک اٹھے۔ اس وقت جاپانی دانشوروں نے اپنی قوم سے کہا کہ ۱۹۲۱ میں ہم نے امریکہ کے پرل ہار پر کو تباہ کیا تھا، انھوں نے ۱۹۲۵ میں ہمارے ہیروشیما کو تباہ کر دیا۔ اب ماضی کے انتقام کو چھوڑ کر مستقبل کی تعمیر کی فکر کرو ۔ اس طرح جاپانیوں کو عمل کا صحیح تعمیری رخ مل گیا ۔

اسی طرح پاکستانی دانشوروں کو کہنا چاہئے تھا کہ ہم نے ۱۹۷۲ میں ان کے ملک کو توڑا تھا، انھوں نے ۱۹۷۱ میں ہمارے ملک کو توڑ دیا۔ معاملہ برابر ہو گیا۔ اسی طرح ہندستانی دانشوروں کو کہنا تھا کہ ۱۹۷۲ میں انھوں نے ہمارے ملک کو بٹایا تھا جس کا ہمیں غم تھا ، ۱۹۷۱ میں ہم نے ان کے ملک کو دو حصے کرکے معاملہ برابر کرلیا۔ اب اس بات کو چھوڑو اور تعمیر و ترقی کی طرف دھیان لگاؤ۔ مگر بدقسمتی سے دونوں میں سے کسی ملک میں بھی جاپان جیسے دانشور نہیں

اس لئے ہم جاپان کی طرح ترقی بھی نہیں کرسکے۔

یکم اپریل کی صبح کو میں سرکٹ ہاؤ س( کمرہ نمبر ۴) میں سورہا تھا کہ باہر سے اذان کی آواز مسجد اگرچہ یہاں سے دور تھی۔ مگر لاؤڈاسپیکر کی وجہ سے آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ نئے زمانہ کی تکنیک نے کس طرح ہم کو یہ موقع دیدیا ہے کہ ہم خدا کی آواز کو وہاں تک پہنچا سکیں، جہاں ہم اپنی زبان سے بولے ہوئے الفاظ کو پہنچا نہیں سکتے۔ میں نے اٹھ کر وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کی۔ دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا رہا۔ نئی جگہ پر جب آپ نماز پڑھیں اور رکوع اور سجدہ کریں تو آپ کے اندر نئی کیفیات پیدا ہو جاتی آپ نئی کیفیات کے ساتھ اپنے رب کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔

صبح کو کچھ لوگ سرکٹ ہاؤس میں آگئے۔ ان سے ملکی اور ملی موضوعات پر باتیں ہوتی صبح کی چائے کے لئے’’ سیرت سرائے‘‘ والوں نے بلایا تھا۔ ڈاکٹر چھپا کے ساتھ انھیں کی گاڑی پر سیرت سرائے گیا۔ یہاں ایک مختصر نشست ہوئی۔

سیرت سرائے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ’’سیرت سرائے‘‘ کے لفظ سے بظاہر یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ کوئی ٹوٹی پھوٹی گندی جگہ ہوگی۔ مگر یہ نہایت صاف ستھری جگہ تھی۔ اس میں تقریباً ایک سو کمرے ہیں۔ یہ کمرے مسافروں کو معمولی کرایہ پر دئے جاتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مفید ملی خدمت ہے جس کی تقلید ہر جگہ کے مسلمانوں کو کرنا چاہئے۔

اس کے بعد صبح ۹ بجے سوچنا کیند رمیں جلسہ تھا۔ یہاں ہندو اور مسلمان دونوں اکٹھا ایک ہندو بھائی نے قرآن کا ذکر کیا۔ چنانچہ میں نے اپنی تقریر میں قرآن ہی کو موضوع

میں نے کہا کہ پہلی آیت جو قرآن میں اتری وہ اقرأ تھی۔ یعنی علم حاصل کرو۔ مکہ میں بہت سے مسائل تھے، مگر ان مسائل کا ذکر نہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ علم حاصل کرو۔ اس سے ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ قرآن کا طریق عمل ہے۔ خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں، ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے عمل کا آغاز ہمیشہ علم اور شعوری بیداری سے کرنا۔ اس سلسلہ میں قرآن اور اسلامی تاریخ سے تفصیلات بیان کی گئیں۔

اس درمیان میں مسلسل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کئے اور میں اپنے انداز میں ہر ایک کو جواب دیتا رہا۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کیا غیر مسلموں کے تئیں نفرت کی تعلیم دیتا ہے۔

میں نے کہا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اسلام تمام انسانوں کے ساتھ محبت کی تعلیم دیتا حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور انسان سے نفرت یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ کسی دل میں جمع نہیں ہوسکتیں ۔ اس سلسلہ میں مختلف حدیثیں پیش کیں جو بتاتی ہیں کہ ایمان کس طرح آدمی کے اندر اعلیٰ انسانی اخلاق پیدا کرتا ہے۔

یکم اپریل کو واپسی تھی ۔ بذریعہ کار بھیل واڑہ سے او دے پور کے لئے روانہ ہوا جہاں سے جہاز لینا تھا۔ راستہ میں ہم لوگ کچھ دیر کے لئے چتور میں ٹھہرے جو بھیل واڑہ اور او دے پور کے بیچ میں ہے۔

چتور گڑھ میں ایک بہت بڑی درگاہ ہے۔ اس کا نام ہے " درگاہ قاضی چل پھر شاہ" اس درگاہ کی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی ۔ درگاہ کی سیڑھیوں پر ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر کافی ہوچکی تھی۔ انھوں نے مجھ کو دیکھ کر میرے ساتھی سے کہا : حضرت چل پھر شاہ انھیں کی طرح میں نے ان کو اپنی نوجواني کی عمر میں دیکھا ہے۔

چتور گڑھ نہایت تاریخی مقام ہے۔ یہاں ایک بہت بڑا قلعہ ہے جو آٹھویں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا۔ سولہویں صدی تک یہ شہر ریاست میواڑ کی راجدھانی تھا۔ یہاں سیسو دیا راجپوت راج کرتے تھے۔

مسلم عہد میں سب سے پہلے علاء الدین خلجی نے ۱۳۰۳ء میں اس کا محاصرہ کیا۔ بہادر شاہ نے ۱۵۳۴ء میں اور اکبر نے ۱۵۶۷ء میں اس کا محاصرہ کیا۔ لیکن راجپوتوں نے نہایت بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ مرد بڑی تعداد میں مارے گئے اور عورتوں نے اجتماعی خود سوزی کی رسم (جوہر) کے تحت اپنا خاتمہ کر لیا ۔ مگر انھوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ ۱۵۶۸ء میں اکبر اس کو فتح کرنے میں کامیاب ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں تیس ہزار راجپوت ہلاک ہو گئے (9/380)

اس وسیع قلعہ کے اندر بہت سی عمارتیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک پدمنی محل بھی ہے ۔ فاصلہ کے ساتھ نیچے اوپر دو عمارتیں بنی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان خلجی کی فرمائش پر نیچے کی عمارت میں رانا پرتاپ سنگھ کی رانی پدمنی بیٹھی جو بہت خوبصورت تھی۔ دوسری طرف سامنے کی عمارت میں بڑا سا آئینہ دیوار پر لگا تھا۔ اس آئینہ میں نیچے کی بالمقابل عمارت دکھائی دیتی تھی۔ علاء الدین خلجی نے اس آئینہ میں رانی پدمنی کا عکس دیکھا۔ وہ اس پر فریفتہ ہو گیا۔ مگر پدمنی نے سلطان کا پیغام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسری راجپوت خواتین کے ساتھ جوہر (خود سوزی) کے ذریعہ اس نے اپنا خاتمہ کر لیا ۔ بورڈ میں اس کی بابت یہ الفاظ درج ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ سلطان خلجی نے پدمنی کو آئینہ کے ذریعہ دیکھا تھا :

Printed page