Al-Risala · January 1997

Cross is the Way of peace.

Al-Risala, January 1997, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ صلیب کا امن سے کیا تعلق ہے ، اس کو مثال سے واضح کیجئے ۔ مگر وہ کوئی واضح مثال نہ دے سکے۔ اکثر لوگ بیانیہ انداز میں یا مدعیانہ اسلوب میں ایک بات کہتے ہیں۔ مثال مانگی جائے تو مثال نہیں دے پاتے۔ آدمی جب بھی کوئی دعویٰ کرے تو اس کو جاننا چاہیے کہ اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اس کی تصدیق میں ایک حقیقی مثال (نہ کہ فرضی مثال) پیش مثال کے بغیر دعویٰ بے دلیل رہتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ ایک شاعرانہ مضمون بندی ہے نہ کہ کوئی واقعی بات۔

کچھ عربوں سے بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آجکل اسلام کی دھوم بہت زیادہ ہے۔ مگر اسلام کی اسپرٹ غائب ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ اسپرٹ سے آپ کی کیا مراد ہے۔ میں نے کہا کہ مثلاً حدیث میں ہے کہ اکثرواذکرھادم اللذات۔ اس حدیث کے مطابق

ایمان و اسلام کی زندگی کا تقاضا ہے کہ آدمی بہت زیادہ موت کو یاد کرنے والا بن جائے۔ مگر آجکل میں دیکھتا ہوں کہ ہر جگہ بس زندگی کا چرچا ہے۔ موت کا تذکرہ کہیں نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ ہم سب لوگ موت کو یاد کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ موت کو یاد کرنے کی پہچان کیا ہے۔ وہ خود اس حدیث کے الفاظ میں موجود ہے۔ میں موت کو ھادم اللذات (لذتوں کو ڈھادینے والی) کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کو یاد کرنے والا وہ ہے جس کے لئے موت کی یاد ہادم اللذات بن جائے۔ اس کے لئے دنیا کی چیزوں میں لذت نہ رہے۔ وہ دنیا کی لذتوں سے محظوظ نہ ہو سکے۔ دنیا کی ہر لذت اس کے لئے بے لذت بن گئی ہو۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔

فلارنس میں ایک مسیحی ادارہ ہے جس کے تحت مختلف تعلیمی اور رفاہی شعبے قائم ہیں۔ کے ڈائرکٹر فادر چیارونی (Chiaroni) ہیں۔ ادارہ کا پورا نام یہ ہے :

Printed page