Al-Risala · January 1997

Parrocclic Madonna Della Tosse

Al-Risala, January 1997, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

اس ادارہ کی طرف سے مجھے دعوت دی گئی تھی کہ میں ان کے اجتماع میں اسلام کا تعارف پیش کروں۔ اس کے مطابق۲۳اکتوبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد ہم لوگ وہاں کے لئے روانہ ہوئے۔ کھانا بھی انھیں کے یہاں تھا۔ ہم لوگ پہنچے تو کھانا میز پر رکھا جا چکا تھا۔ چنانچہ ہم لوگ سیدھے طعام گاہ میں چلے گئے۔

یہ ایک سادہ اور نہایت صاف ستھرے انداز کا ایک بڑا کمرہ تھا۔ کمرہ میں داخل ہوتے ہی پہلی چیز جس نے متوجہ کیا وہ اس کی ایک بڑی تصویر تھی جو فریم کرکے دیوار پر لگائی گئی یہ آئن سٹائن کی تصویر تھی۔ اس تصویر کے نیچے آئن سٹائن کا ایک قول اس طرح لکھا ہوا تھا امن کو طاقت کے ذریعہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف مفاہمت کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے:

Peace cannot be kept by force. It can only be achieved چوکورمیز کے گرد ادارہ کے تمام ذمہ دار بیٹھ گئے۔ یہ تقریباً ۳۰ عورت اور مرد تھے۔

کمرہ کا پورا ماحول انتہائی سادگی کے ساتھ انتہائی بات سادگی اور سلیقہ مندی کا نمونہ تھا جس کی تصویر کشی لفظوں میں نہیں کی جاسکتی۔

میز پر پانی کی بوتل کے اوپر سرخ رنگ میں لکھا ہوا تھا پنا (PANNA) میں سمجھا کہ اس کا مطلب پانی ہے، اور ہندوستان کا پانی اٹلی میں پن ابن گیا ہے۔ مگر یہ میری غلط فہمی تھی۔ معلوم ہوا کہ پنا مخفف انداز میں کمپنی کا نام ہے۔ ورنہ اطالوی زبان میں پانی کو اکوا (acqua) کہا جاتا اسی طرح اکثر لوگ ایک مفروضہ اپنے ذہن میں قائم کر لیتے ہیں۔ اور پھر بلا تحقیق اس کے اوپر منزل در منزل عمارت بناتے چلے جاتے ہیں۔ حالاں کہ وہ سب کا سب بے بنیاد ہوتا ہے جب ابتدائی مفروضہ ہی غلط ہو تو اس کی بنیاد پر گھڑی ہوئی کہانی کیوں کر درست ہوسکتی ہے۔ کھانے کے دوران مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ اٹلی کی آبادی میں کمی ہورہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ذاتی سہولت کی خاطر برتھ کنٹرول کے طریقے اختیار کرتے ہیں۔ اکثر شادی شدہ جوڑے بچے کے بغیر زندگی گزارتے ہیں۔ کھانے پر ایک صاحب اپنی بیوی کے ساتھ تھے۔ انھوں نے تصویر دکھائی کہ انھوں نے کیرلا کے دو بچوں کو اڈاپٹ

اس کے نتیجہ میں کئی نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے اٹلی کے لوگ زیادہ کمائی کے لئے باہر جایا کرتے تھے۔ اب خود اٹلی باہر کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ اٹلی آئیں اور یہاں کام کریں۔ خاص طور پر چھوٹے کام یا مزدوری والے کاموں میں کارکنوں کی بہت قلت ہوگئی ہے۔

کھانے کے بعد ساڑھے نو بجے ہم لوگ ادارہ کے هال میں جمع ہوئے۔ یہاں بہت سے مرد و عورت کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میری تقریر انگریزی میں تھی جس کا ترجمہ ساتھ ساتھ اطالوی زبان میں کیا جا رہا تھا۔ تمہیدی کلمات میں منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آجکل اسلام کے بارہ میں غلط فہمیاں بڑھ گئی ہیں۔ خاص طور پر یورپ میں یہ غلط فہمیاں اور زیادہ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مذہب کو براہ راست طور پر جانیں۔ اس کے بعد میں نے بتایا کہ مسلم کون ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے قرآن کی آیت

(ابراہیم (۲۴) کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ قرآن میں مومن کی مثال درخت سے دی گئی ہے۔ سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن اپنے ماننے والے کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مسلمان اس دنیا میں درخت کی مانند رہے۔ وہ خدا کی دنیا سے رزق لے کر ارتفا کرے۔ ہر اعتبار سے اہل عالم کے لئے نفع بخش بن جائے۔

اس کے بعد میں نے ایک پیپر پیش کیا۔ یہ صرف احادیث کے ترجمہ پر مشتمل تھا۔ عنوان تھا ۔ اپنے ماحول میں مسلم کا سلوک :

Printed page