برتر تدبیر
Al-Risala, August 1997, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابراہیم بن عیلہ کو خلیفہ ہشام بن عبدالملک اموی نے بلایا اور ان کو مصر کے محکمۂ خراج کے افسر کا عہدہ پیش کیا۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ نے عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔
خلیفہ ہشام کو غصہ آگیا۔ اس نے کہا کہ آپ کو یہ عہدہ قبول کرنا ہوگا ورنہ آپ کو سخت سزا دی جائے گی۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ نے نہایت نرمی کے ساتھ کہا۔ " اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ہم نے زمین و آسمان کو امانت پیش کی مگر انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار پھر جب خدائے بزرگ و برتر ذمہ داری قبول نہ کرنے پر خفا نہیں ہوئے تو آپ کیوں مجھ پر خفا ہورہے ہیں"۔ خلیفہ ہشام یہ سن کر چپ ہو گیا اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ ابراہیم بن عیلہ کے مذکورہ جواب سے پہلے خلیفہ ہشام کو غلطی ابراہیم بن عیلہ کی طرف نظر آرہی تھی، اس جواب کے بعد خلیفہ کو محسوس ہوا کہ غلطی خود اس کی اپنی طرف ہے۔ نے اس کی سوچ کو بدل دیا اور اس نے اپنے متشددانہ حکم کو واپس لے لیا۔
یہ ایک عظیم الشان فطری ہتھیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے لیے اور ہر آدمی کے خلاف مہیا کیا ہے، خواہ اس کا حریف بادشاہ وقت ہی کیوں نہ ہو۔
آدمی اگر ردعمل کی نفسیات میں مبتلا ہو ۔ وہ تیز و تند الفاظ بول کر یا مخالفانہ ککارروائی کرکے معاملے کو مزید نہ بگاڑے تو یقینی طور پر وہ اس امکان کو اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے۔ چاہیے کہ جب بھی اپنے خلاف کوئی صورت حال پیش آئے، وہ ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر وہ فریق ثانی کے اندر احساسِ خطا کو جگانے کی کوشش کرے۔ اگر فریق ثانی کے اندر احساس خطا بیدار ہو گیا تو گویا وہ خود ہی اپنے ہتھیاروں سے زخمی ہو گیا۔ فریق ثانی کے اندر چھپی ہوئی فطرت کو جگانا اس کے اوپر سب سے بڑا حملہ ہے۔ کوئی بھی شخص نہیں جو اس حملہ کی تاب لاسکے۔ تاہم یہ حملہ وہ لوگ کر سکتے ہیں جو اپنے آپ کو ردعمل کی نفسیات سے مکمل طور پر عالی کر لیں۔ جو لوگ اشتعال کی بات پر مشتعل ہو جائیں وہ کبھی اس اعلیٰ تدبیر کو استعمال نہیں کر سکتے۔