Al-Risala · August 1997

arfi@mail.idt.net

Al-Risala, August 1997, pp. 14–21

By Maulana Wahiduddin Khan

گوہاٹی (آسام) میں ۳ - ۶ جنوری ۱۹۹۵ کو ایک نیشنل سیمینار ہوا۔ اس کی دعوت پر گوہاٹی کا سفر ہوا۔ اس سیمینار کا موضوع تھا ---- نارتھ ایسٹ انڈیا اور اکیسویں صدی: North-east India and the 21st century. آج گوہاٹی کے لئے روانگی کا دن تھا۔ میں تیاری میں مصروف تھا۔ ملاقات کے لئے آگئے۔ دونوں پڑھے لکھے اور دین دار مسلمان تھے۔ دونوں نے کہا کہ ہم کو آپ کے مشن سے اختلاف ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا اختلاف ہے۔ ایک نے کہا کہ آپ ہمارے اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ دوسرے نے کہا کہ آپ ہندوؤں کے مقابلہ میں صبر کرنے کے لئے کہتے میں نے جواب دیا کہ اس وقت میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ میں آپ دونوں سے صرف ایک بات کہتا ہوں۔ آج رات کو جب آپ بستر پر سونے کے لئے جائیں تو یہ سوچیں کہ کل اگر آپ کی موت ہو جائے اور خدا آپ سے پوچھے کہ تم الرسالہ مشن کے مخالف کیوں بن گئے تھے۔ تو کیا آپ کا یہ جواب وہاں کام آئے گا کہ ہم اس لئے مخالف ہو گئے کہ یہ شخص ان لوگوں پر تنقید کرتا تھا جس کو ہم نے بطور خود اکابر کا درجہ دے رکھا تھا۔ اور وہ ہندوؤں سے صبر کرنے کے لئے کہتا تھا جن کو ہم اپنا قومی دشمن بنائے ہوئے تھے۔

جنوری ۱۹۹۵ کی دو تاریخ ہے اور صبح ساڑھے گیارہ بجے کا وقت، میں دہلی ایئرپورٹ پر گوہاٹی جانے والے جہاز کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ نشست گاہ میں نسبتاً کم آدمی نظر آ رہے ہیں۔ تاہم تقریباً ہر آدمی کے ہاتھ میں آج کا اخبار ہے۔ اخبار کیا ہے ۔ خارجی دنیا کا خبر نامہ۔ سوچا: ہر آدمی دوسروں کا خبر نامہ پڑھ رہا ہے۔ خود اپنا خبر نامہ پڑھنے کا شوق کسی کو نہیں۔ (Now Boarding - کچھ دیر میں گیٹ پر روشن حروف میں یہ الفاظ نمایاں ہو گئے یہ اس بات کا خاموش اعلان تھا کہ گوہاٹی جانے والا جہاز روانگی کے لئے تیار ہے۔ کر کے گیٹ سے گزر کر انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ ۸۸۹ میں داخل ہو گئے۔ جہاز کسی قدر تاخیر کے ساتھ روانہ ہوا۔ دہلی سے گوہاٹی کے لئے یہ سوا دو گھنٹہ کی نان

اسٹاپ فلائٹ تھی۔ ائیر پورٹ پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جہاز ٹھیک وقت سے گوہاٹی کے لئے روانہ ہو گا۔ مگر جب تمام مسافر جہاز کے اندر بیٹھ گئے تو معلوم ہوا کہ کچھ تکنکل سبب کے تحت جہاز لیٹ ہے چنانچہ ۴۵ منٹ کی تاخیر کے ساتھ جہاز پونے ایک بجے روانہ ہوا۔

میں نے سوچا کہ ہندوستان میں آدمی خواہ ہوائی جہاز سے سفر کرے یا ٹرین کے ذریعہ ، ہر جگہ ناقابل قیاس مسائل ہیں۔ کل دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک ناقابل ذکر واقعہ پیش آیا۔ دفتر کے ایک کارکن نصیر احمد صاحب کے بوڑھے والد اپنے بیٹے سے مل کر واپس اپنے وطن یوپی ان کے ساتھ ایک نیا سوٹ کیس تھا جس میں کچھ نئے کپڑے اور کھانے کا سامان بزرگ پلیٹ فارم پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے بیٹے سیٹ دیکھنے کے لئے گاڑی میں گئے تھے۔ اتنے میں ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا : بڑے میاں چلئے آپ کو گاڑی میں بٹھا دیں۔ یہ کہہ کر فوراً اس نے بیگ اٹھایا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ بڑے میاں کہتے رہے کہ میرے ساتھ میرا لڑکا ہے۔ مجھے ضرورت نہیں۔ مگر وہ آدمی تیزی سے بیگ لے کر غائب ہو گیا۔

اس قسم کے جرائم ہر روز ہر بستی اور ہر شہر میں ہورہے ہیں۔ ان کے مسلسل جاری رہنے کا واحد سبب یہ ہے کہ مجرائمین کو یہ اطمینان رہتا ہے کہ انہیں کوئی سزا ملنے والی نہیں۔ یقین ہو کہ جرم کرنے پر مجھے کوڑے مارے جائے گا، میرا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، مجھے گولی مار دی جائے گی، تو جرم اپنے آپ ختم ہو جائیں۔

پرواز کے دوران ۲ جنوری کے اخبارات ہندو، بزنس لائن، دی آنبرور پڑھا۔

مگر ان میں کوئی قابل ذکر بات نہیں ملی۔ ہندوستان کے اخبارات پر سیاسی ذوق اتنا زیادہ چھایا ہوا ہے کہ میرے جیسے آدمی کو کوئی کام کی بات مشکل ہی سے ملتی ہے۔ مغربی ملکوں میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں بھی صرف یہ فرق ہوا ہے کہ اخباروں کے صفحات پر سیاست کی جگہ تجارت نے قبضہ کر لیا ہے۔ انڈین ائیرلائنز کی فلائٹ میگزین سوگت کا شمارہ جنوری ۱۹۹۵ دیکھا۔ اس میں ایک مضمون ہندوستان کی سیاحت پر تھا جو مارک نکلس (Mark Nicholls) کے قلم سے تھا۔ وہ بذریعہ ٹرین مختلف مقامات کا سفر کرتا ہوا آگرہ پہنچتا ہے۔ وہاں وہ تاج محل کو دیکھتا ہے۔ تاج محل کو وہ عجوبہ عالم (Wonder of the World) قرار دیتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ اگر کسی ایک بلڈنگ کو انڈیا

کی علامتی تصویر بیت انا ہو تو وہ ممتاز محل کا مقبره ( تاج محل) هے: If one building was to sum up an image of India it is the tomb of Mumtaz Mahal. (p. 74)

لوگ تاج محل کو غیر معمولی اہمیت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر تقریبًا ۲۵ سال پہلے جب میں پہلی بار آگرہ گیا اور تاج محل کو دیکھا تو مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوئی ۔ میں اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر قریب کی مسجد میں چلا گیا۔

۲ جنوری کی سہ پہر کو ۳ بجے جہاز گوہاٹی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ یہاں ایئر پورٹ کے لاؤنج میں تھوڑی دیر کے لئے بیٹھنا پڑا۔ یہاں ایک معمر بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ بی کے رائے برمن تھے۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں (641194 .Tel) انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اسلام اور مسلمانوں پر کئی کتابیں انگریزی میں لکھی ہیں۔ ان کی دو کتابوں کے نام ہیں: Prism in Islam Muharram in two cities by B.K. Roy Burman 1779, C.R. Park, New Delhi میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مختصر طور پر بتائیں گے کہ آپ کے مطالعہ کے مطابق اسلام کی اسپرٹ کیا ہے۔ انھوں نے حسب ذیل الفاظ میں اپنا تاثر بیان کیا : Human brotherhood, man's basic nature is in quest of his humane essence, social justice. پروفیسر رائے برمن نے کثرت سے ملک کے مختلف حصوں کا سفر کیا ہے۔ کہا کہ ہندوستان مختلف اور متضاد کلچروں کا ملک ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ گوہاٹی سے ۶۰ کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک مندر ہے۔ وہاں سال میں ایک دن با جماعت نماز ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بھوٹان کی سرحد پر ایک قبیلہ ہے ۔ وہ اپنے دیوتا کو خوش کرنے کے لئے سال میں ایک دن گائے کی قربانی کرتا ہے ۔ اس طرح کی مختلف باتیں انھوں نے بتائیں۔ ایئر پورٹ سے ہوٹل کے لئے روانگی ہوئی ۔ یہ تقریبًا پون گھنٹہ کا راستہ تھا۔

میں سڑک کے دونوں طرف گوہاٹی کے مناظر سامنے سے گزرتے رہے۔ ہر چیز پر پس ماندگی کے آثار یہاں کے مکانات، یہاں کی دکانیں، یہاں کے مرد اور عورت، سب کچھ کم (Miniature) سے دکھائی دئے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہر چیز پر پس ماندگی کی اسٹیمپ لگی ہوئی ہے۔ ایک آدمی جب دہلی کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو پرعظمت شہر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ گوہاٹی کو دیکھتا ہے تو گوہاٹی اس کو مقابلہ نمبر ۲ کا شہر معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہ فرق اس کے اندر وہ احساس جگاتا ہے جس کو ”علیحدگی پسندی“ کہا جاتا ہے ۔ ہندوستان کی یہی نامساوی ترقی یہاں کی سیاسی بے چینی کی اصل ذمہ دار ہے۔ اس کے برعکس آپ امریکہ میں جائیں یا یورپ کے کسی ترقی یافتہ ملک کا سفر کریں تو وہاں بڑے شہر اور چھوٹے شہر میں اس قسم کا فرق آپ کو نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ہمارے ملک جیسی علیحدگی کی تحریکیں بھی ابھرنے نہیں پاتیں۔ گوہاٹی میں میرا قیام اشوک گروپ کے ہوٹل برہم پترا کے کمرہ ۳۰۱ میں تھا۔ کمرہ میں پشت کی طرف ”شیشہ کی دیوار“ کے باہر سبزہ اور درخت کے مناظر ہیں۔ اس کے بعد جھیل ہے جس کا پانی دور تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے اوپر چڑیوں کے جھنڈ اڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جھیل کے اس پار سبز پوش پہاڑ کھڑے ہوئے ہیں۔

یہ مناظر بتاتے ہیں کہ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے بھرا ہوا ہے۔ خاص طور پر یہاں پانی کی افراط ہے جس سے زراعت اور باغبانی کو بہت ترقی دی جاسکتی ہے۔ نیز، سستی بجلی بڑی مقدار میں پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ علاقہ پس ماندہ پڑا ہوا ہے۔ ایک ریٹائرڈ افسر نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حکومت نے اس علاقہ کی مدد نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے اس علاقہ کو بے پناہ مالی مدد بھیجی ہے۔ مگر اس مدد کا بڑا حصہ تھوڑے سے سے لوگوں کی جیب میں چلا گیا۔ اس کا بہت کم حصہ ڈیولپمنٹ کے کاموں میں استعمال ہوا۔ ہندوستان میں آپ جس سلسلہ کی تحقیق کریں، آخر میں سب کی جڑ میں یہی کرپشن نظر آئے گا۔ اس صورت حال کی بنا پر اب میرا حال یہ ہے کہ حکومت جب ڈیو لپمنٹ“ کے نام پر کسی بڑی رقم کا اعلان کرتی ہے تو میری روح کانپ اٹھتی ہے کہ عوامی ٹیکسوں پر لوٹ کی ایک نئی مدکھل گئی۔

۲ جنوری کی شام کو میں اپنے کمرہ میں تھا کہ داخلی ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے آواز آئی کہ جس بھاگوتي آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد ان سے گفتگو وہ بھی سینار میں آئے ہوئے ہیں اور اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ضرور تشریف لائیں۔ چند منٹ کے بعد وہ کمرہ میں آگئے۔ جسٹس پی این بھاگوتي (سابق چیف جسٹس آف انڈیا)، انٹرنیشنل شہرت کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں سے واپسی کے بعد میں ارٹریٹا جا رہا ہوں۔ وہاں کی حکومت نے اپنے دستور کا ڈرافٹ تیار کرنے کے لئے مجھے بلایا ہے۔ وہاں سے واپسی کے بعد میں دہلی میں آپ سے تفصیلی ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ گفتگو کے بعد ۱۵ جنوری کی تاریخ طے ہوئی۔ میں نے تجویز کیا کہ دہلی میں کچھ معروف افراد پر مشتمل ایک حلقہ بنایا جائے۔ اس کی ماہانہ میٹنگ ہوا کرے۔ دوسرے کاموں کے علاوہ اس کا ایک خاص کام یہ ہو، کہ پیش آمدہ اشوز پر وہ تبادلہ خیال کے بعد ایک اسٹیٹمنٹ تیار کرے اور فوری طور پر اس کو اخبارات میں شائع کرایا جائے ۔ انھوں نے اس سے مکمل اتفاق کیا۔ اور کہا کہ میں سفر سے واپسی کے بعد ۱۵ جنوری تک آپ سے ملوں گا اور اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لئے گفتگو کروں گا۔

آج شام کو مغرب کی نماز ہوٹل کے کمرہ میں پڑھی۔ نماز کے بعد ہاتھ اٹھایا تو یہ دعا زبان سے نکلی : اللهم ادخلني مدخل صدق و اخر جنی مخرج صدق و اجعل لی من لدنك سلطانا نصيراً ۲ جنوری کی شام کو ۸ بجے ایک ہال میں تفریحی پروگرام تھا۔ لوگ اس کو دیکھ کر محفوظ ہو رہے تھے۔ میں رنج و غم میں ڈوبا ہوا تھا۔ مجھے قرآن کی آیت (الجمعة ۱۱) یاد آئی۔ نے سوچا کہ آج کی دنیا میں آدھے انسان لہو میں مبتلا ہیں۔ اور آدھے انسان تجارت میں۔ ذکر خداوندی میں مشغول ہونے والا انسان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

اس سے واپسی میں مسٹر چترنجن ڈیب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اگر تلا کے رہنے والے ہیں۔ ۱۹۴۶ میں جب گاندھی جی نوآکھلی گئے تھے تو وہ وہاں جا کر گاندھی جی سے ملے تھے۔ بتایا کہ اس وقت میری عمر ۱۶ سال تھی۔ میں نے گاندھی جی کو ہاتھ جوڑ کر پر نام کیا تو گاندھی جی

یہ ہنسی غضب کی تھی۔ وہ آدمی کو مسحور کر دینے والی تھی۔ اس وقت میری سمجھ میں آیا کہ سرونسٹن چرچل نے کیوں اپنے لڑکے سے کہا تھا کہ اس ننگے فقیر سے (naked Fakir) مت ملنا ۔ اس کی ہنسی تم کو کھا جائے گی ۔

اشوک ہوٹل میں مولانا اسعد مدنی کے صاحبزادے جناب محمود اسعد مدنی (۲۸ سال) سے وہ بزنس کے سلسلہ میں یہاں آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب میں دارالعلوم میں تعلیم حاصل کر رہا تھا، اس وقت سے میرے اندر تجارت کا جذبہ پیدا ہوا۔ لوگوں سے سنتا تھا کہ چندہ لے کر کھا گئے تو میں نے طے کیا کہ میں بزنس کروں گا۔ چنانچہ انھوں نے لکڑی کی تجارت شروع کی ہے۔ ٹیک کی لکڑی وہ آسام سے خرید کر لے جاتے ہیں اور لکھنؤ میں ہول سیل میں اس کو فروخت کرتے ہیں۔

میں نے کہا کہ آپ نے بہت اچھا کیا۔ عام طور پر علماء کے خاندان کے لوگ مدرسہ اور چندہ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ آپ نے اس کے بجائے تجارت کا کام شروع کر کے ایک مثال قائم

مولانا محمود اسعد مدنی سے میں نے کہا کہ میں گوہاٹی کے کچھ مسلمانوں سے ملنا چاہتا ہوں ۔ انھوں نے کچھ مقامی مسلمانوں سے ربط قائم کیا۔ چنانچہ ۵ جنوری کو نماز مغرب کے بعد کچھ لوگ ہوٹل کے کمرہ میں نشست ہوئی۔ ان میں جمیل الدین احمد صاحب ، رقیب حسین صاحب آصف احمد صاحب، علی رضا صاحب ، غلام اکبر صاحب وغیرہ موجود تھے۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی اس نشست میں گوہاٹی اور آسام کے مسلمانوں کے بارہ میں گفتگو انھوں نے بتایا کہ آسام میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۳۰ فیصد ہے اور گوہاٹی میں تقریباً گوہاٹی شہر میں تقریباً ایک سو مسجدیں ہیں۔ بہت سے مدرسے قائم ہیں۔ مدرسہ جس میں دورہ حدیث تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ تاہم پورے آسام میں مسلمانوں کا کوئی اخبار موجو دنہیں ۔ روایتی طور پر آسام میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات بہت اچھے مگر ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے انتہائی نادانی سے کام لیتے ہوئے اجودھیا کا غصہ آسام میں اتارنا چاہا ۔ اس کے نتیجہ میں تعلقات میں کچھ بگاڑ آگیا۔

۳ جنوری کی صبح کو ناشتہ کی میز پر کئی آدمیوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک مسٹر روند رکیلے کر (Ravindra Kelekar) ہیں۔ ان کی عمر، 8 سال ہے اور وہ گوا کے رہنے ان سے میں نے پوچھا کہ اپنی زندگی کا کوئی خاص واقعہ بتائیے۔

انھوں نے ۱۹۵۳ کا ایک واقعہ بتایا۔ اس وقت وہ واردھا (سیوا گرام) میں تھے۔ سے گجراتی زبان میں ایک پرچہ نکلتا تھا جس کا نام منگل پر بھات تھا۔ اس پر ایڈریٹر کی حیثیت سے کاکا صاحب کالیلکر کانام ہوتا تھا۔ مگر عملاً اس کو روویند رکیلے کر ہی مرتب کرتے تھے۔ ایسا ہوا کہ انھوں نے سنسکرت کا ایک اشلوک گجراتی میں نقل کیا تو سنسکرت میں زیادہ واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کو انھوں نے غلط طور پر لکھ دیا تھا۔ لوگوں نے کاکاصاحب کالیلکر کو توجہ دلائی تو انھوں نے روند رکیلے کر کو ایک خط لکھا تھا کہ تم سنسکرت کے اشلوک غلط لکھتے ہو ، اس طرح تو میری بدنامی ہو جائے گی۔ اس کے جواب میں روندر کیلے کرنے انھیں لکھا کہ اس کا حل یہ ہے کہ پرچہ میں میرا نام ور کنگ اڈیٹر کے طور پر لکھ دیا جائے۔ اس طرح اس قسم کی غلطیاں میرے خانہ میں چلی جائیں گی۔ اور آپ کی بد نامی نہیں ہوگی۔

کاکا صاحب کالیکر (وفات ۱۹۸۱) نے جواب میں لکھا کہ ایسا کرنا تمہارے حق میں اچھا نہیں جب تک تم تیاری کے مرحلہ میں ہو تب تک تمہاری غلطیاں مجھے لینا چاہئے۔ اس وقت تم کو بدنامی سے بچانا زیادہ ضروری ہے تاکہ تمہارا صحافتی مستقبل خراب نہ ہونے پائے۔

۳ جنوری کو سیمنار کا افتتاح تھا۔ ہم لوگ ہوٹل سے رابندر بھون لے جائے گئے۔ اندر داخل ہوئے تو دو درجن کی تعداد میں نا گا لوگ استقبال کے لئے موجود تھے۔ وہ اپنے روایتی لباس میں تھے ۔ روایتی انداز کا نیم بر ہنہ لباس ان کے جسم پر تھا۔ ہاتھوں میں ہلم لئے ہوئے انھوں نے اپنی زبان میں ایک گانا گایا جو سمجھ میں نہ آسکا۔ اس کے بعد مہمانوں کو دونوں طرف سے اپنے جلو میں لے کر اندر ہال میں لے گئے۔ یہاں دوبارہ وہ لوگ اسٹیج کے پیچھے اپنے روایتی اسلحہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔

مسٹر نئو تھکر جو اسی علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتا یا کہ یہ نا گا لوگ ہیں۔ کلچر جنگ پر مبنی ہے۔ ان کا پوراکلچر، وار کلچر ہے۔ آج کی تقریب میں انھوں نے فتح کا منظر دکھایا تھا، جیسے

کہ ہم نے اس شہر کو فتح کیا ہے۔ اور اب فتح کی تقریب منانے کے لئے ہم اس حال میں آئے ہیں اور فوجی دستے ہمارے ساتھ ہیں ۔

مسٹر ٹوشکر نے اپنے ویلکم ایڈریس میں کہا کہ جو ابر لال نہرو کہتے تھے کہ ہم سب چھوٹے لوگ ہیں جو ایک بڑے کام میں مشغول ہیں :

Printed page