the only solution is decentralisation of power.
Al-Risala, August 1997, pp. 21–33
By Maulana Wahiduddin Khan
چند اور تقریریں ہوئیں۔ مقامی انگلش اخبار کے ایڈیٹر ڈاکٹر بیز بورہ (D. N. Bezboruah) نے کہا کہ اکیسویں صدی میں ہمارے ملک میں کوئی معجزہ ہونے والا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کا آدمی صرف اپنے حقوق کو جانتا ہے۔ اس کو ملک کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کا پتہ
No miracle was going to happen in the 21st century in the country. This was due to our obsession with our rights rather than duties to our country. افتتاحی اجلاس ۳ جنوری کو رابندر بھون میں ہوا تھا۔ بقیہ تمام اجلاس ہوٹل برہم پتر
اشوک کے ہال میں ہوئے ۔ مقررین نے بہت سی باتیں کہیں ۔ ساری باتیں نقل کرنا ممکن نہیں چند باتیں متفرق طور پر یہاں درج کی جاتی ہیں :
ایک صاحب نے گاندھی جی کا یہ قول دہرایا کہ "سارے مذہب اچھے ہیں، سارے مذہب سچے ہیں، مگر سارے مذہب کچے ہیں۔ " یہ بات کہنے میں بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ مگر وہ غیر منطقی سچائی کو آدمی اس لئے اختیار کرتا ہے تاکہ وہ اعتقادی یقین حاصل کر سکے۔ مگر مذکورہ فارمولا آدمی کو ہمیشہ کے لئے یقین سے محروم کر دیتا ہے۔ ایسا فارمولا تلاش حق کے جذبہ کے مطابق نہیں، اس لئے وہ صحیح بھی نہیں ہو سکتا۔
ایک صاحب نے کہا کہ جو لوگ انگریزی زبان کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں ان کو جاننا چاہئے کہ موجودہ حالات میں وہ ممکن نہیں۔ لوگ انگریزی زبان کی طرف کیوں جاتے ہیں۔ باتوں کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ پاور ، ریسپکٹ ، جاب ۔ یہ تینوں باتیں جب تک آپ کی زبان میں پیدا نہ کرسکیں ، انگریزی کی طرف دوڑ بھی ختم ہونے والی نہیں۔ مسٹر دوارکا شرما نے بتایا کہ میزورم میں ایک نوجوان سے انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا نوجوان نے جواب دیا کہ ہم انڈیا سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا نوجوان نے جواب دیا کہ وہ ہمارے ساتھ برابر کا سلوک نہیں کرتے : They are not treating us as equal. ایک صاحب نے کہا کہ ان نوجوانوں میں گھومنے کے بعد میں سمجھا ہوں کہ ان کے نزدیک پرامن ذرائع کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وہ ہتھیار کے سوا کوئی اور بات سننے کے لئے تیار نہیں۔ نوجوان مایوس ہیں ، اور یہی اصل مسئلہ ہے : Youths are disillusioned, this is the problem. ۳ جنوری کو دوپہر بعد کے سیشن میں ہیومن رائٹس کے مسئلہ پر غور ہوا۔ زیر بحث آیا کہ اس علاقہ میں عوام کے اندر جو بے چینی ہے اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کے حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں دو قسم کی باتیں سامنے آئیں ۔ میری رائے یہ تھی کہ اصل مسئلہ بے شعوری کا ہے نہ کہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا۔
۴ جنوری کو تیسرا اجلاس ساڑھے نو بجے صبح شروع ہوا۔ آج بھی حقوق انسانی کا مسئلہ دوبارہ زیر بحث آیا۔ سرکاری افسروں کا خیال تھا کہ گورنمنٹ بہت کام (tremendous work) کر رہی ہے۔ تحفظ حقوق کا قانون (Protection of human rights act) بنایا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن بنایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کا نیشنل رجسٹر بنایا گیا۔ کمیشن کے نام چار ہزار شکایتیں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی وصول ہوئیں،
ایک اہم مثال یہ ہے کہ کمیشن نے تجویز کیا کہ ٹاڈا پر نظر ثانی کی جائے۔ اسی طرح جیل کا معائنہ کر کے تجویز کیا کہ قیدیوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے۔ مثلاً جیل میں جگہ کی تنگی وغیرہ (over crowding in jails)۔
میں نے کہا کہ حقوق انسانی کے جو واقعات اخباروں میں چھپتے ہیں وہی مجالس میں زیر بحث حالانکہ وہ کل ہونے والے واقعات کابمشکل ۵فیصد حصہ ہوتا ہے۔ ۳ جنوری کی شام کو میں پروگرام سے فارغ ہو کر ہوٹل واپس آ رہا تھا۔ میرے علاوہ دو اور صاحبان تھے۔ دونوں دو الگ الگ یونیورسٹیوں کے پروفیسر تھے۔ دوسرے سے پوچھا : آپ کی یونیورسٹی میں کوئی پرابلم تو نہیں۔ انھوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ جس یونیورسٹی میں پرابلم نہ ہو وہ یونیورسٹی ہی نہیں :
University minus of problems is not a university. یہ حال اب ہمارے ملک میں تعلیمی اداروں کا ہو چکا ہے۔ اب تعلیمی اداروں میں تعلیم سے زیادہ سیاست کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں کے لئے جو آش و استعمال کئے جاتے ہیں انھیں کا نام پرابلم ہے۔ ہماری تعلیم گاہوں کا یہ حال کیوں ہے۔ اس کا سبب بہت پیچھے تک
۱۹۴۷ سے پہلے کے زمانہ میں تعلیم گاہوں میں سیاست داخل کی گئی تاکہ آزادی کی تحریک کے حق میں نوجوانوں کی تائید حاصل کی جاسکے۔ ۱۹۴۷ کے بعد دوبارہ یہ سیاست جاری رکھی گئی کیونکہ نئے حکمرانوں کو الکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے طلبہ کی مدد کی ضرورت تھی۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر کار تعلیمی ادارے تعلیم سے زیادہ سیاست بازی کا مرکز بن گئے۔ اس علاقہ کی سات ریاستوں میں تعلیم کی حالت کیا ہے ، اس کا اندازہ ذیل کے نقشہ سے ہوگا :
ایک مقامی بزرگ نے بڑے دردمندانہ انداز میں اس علاقہ کے حالات بتائے۔ انھوں نے کہا کہ علیحدگی کی تحریک میں ہم نے اپنا سب کچھ کھودیا، اور پایا کچھ بھی نہیں۔ نئی دہلی کے لوگوں سے کہتے کہ وہ کوئی مؤثر ڈائیلاگ شروع کریں ، اور یہ ڈائیلاگ کسی پیشگی شرط (pre-condition) کے بغیر ہو۔ نارتھ ایسٹ کا یہ علاقہ جلنے کے لئے نہیں ہے :
میں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ غیر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرنے کی وجہ سے پیش آیا ہے ۔ اور اب حقیقت پسندی کا طریقہ کرکے ہم اس کو ختم کر سکتے ہیں۔
گو ہاٹی کو اگرچہ دوسرے ہندوستانی شہروں کے مقابلہ میں ایک بی کلاس سٹی کا درجہ حاصل ہے ۔ مگر اس کی اہمیت اس اعتبار سے بہت زیادہ ہے کہ وہ پورے نارتھ ایسٹرن علاقہ کے لئے ہندوستانی دروازہ کی حیثیت رکھتا ہے :
نارتھ ایسٹ انڈیا کا علاقہ اپنی مخصوص جغرافی پوزیشن کی وجہ سے مرغ کی گردن
(chicken's neck) کہا جاتا ہے ۔ ذیل کے نقشہ سے اس کا اندازہ ہوگا : سیمنار میں جو کاغذات تقسیم کئے گئے ان میں کچھ معلوماتی صفحات تھے ۔ ان میں سے ایک میں بتایا گیا تھا کہ ان ساتوں ریاستوں میں مذہب کے اعتبار سے آبادی کا تناسب کیا ہے ، یہ اعداد و شمار اگلے صفحہ پر نیچے نقل کئے جا رہے ہیں ۔
واضح ہو کہ ہندوستان میں اس وقت چھ بڑے مذاہب پائے جاتے ہیں ۔ ہیں ـــــ ہندوازم ، اسلام ، مسیحیت ، سکھ ازم ، بدھرم ، جین ازم ، آبادی کے اعتبار سے ان مذاہب کا تناسب یہ ہے :
(1) Hindu .... 76.4% (2) Islam .... 12.6% (3) Christian .... 7.3% (4) Jaina .... 2.2% (5) Buddhist .... 2% (6) Sikh .... 2.8% مسٹر نٹور بھکٹر مشنری انسان کا کامیاب نمونہ ہیں۔ انھوں نے نیشنل انٹیگریشن کمیشن لیکچر ۱۹۵۵ میں ناگا پہاڑیوں میں گاندھی آشرم بنایا۔ اس وقت سے اب تک ہر قسم کی مشکلات کے باوجود وہ اس ایک مقصد کے تحت یہاں جمے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا علاقہ جہاں علیحدگی کی تحریک جارحانہ بنیاد پر چل رہی تھی، وہاں انھوں نے ملکی اتحاد کے لئے خاموش محنت شروع کی۔ ان پر کئی بار قاتلانہ حملے کئے گئے، مگر آج وہ ناگاؤں کے درمیان ایک محبوب شخصیت ہیں۔ انھوں نے اپنے مقصد میں قابل لحاظ کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ کامیابی انھیں کیسے ملی۔ اس کے لئے سب سے پہلے انھوں نے یہ کیا کہ یہاں آنے کے بعد انھوں نے پوری طرح ناگا کلچر کو اختیار کر لیا۔ وہ انھیں میں کے ایک فرد بن گئے ۔ سخت قسم کے سبزی خور ہیں اور پورے معنوں میں گاندھی وادی ہیں۔ مگر یہاں انھوں نے دیکھا کہ گوشت ناگاؤں کی روز مرہ کی غذا ہے۔ ایسی حالت میں سبزی خوری کی عادت کو لے کر وہ ناگاؤ ں میں گھل مل نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے مقصد کی خاطر گوشت خور (non-vegetarian) بن گئے۔ انھوں نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا:
Distribution of Religion in North Eastern State (in percentage) States Hinduism Islam Christ. Sikh Buddhists Jains Others Assam* 58.57 24.28 6.3 0.12 0.43 0.12 0.03 Manipur 60.04 6.99 29.6 0.06 0.03 0.06 3.15 Meghalaya 18.02 3.10 52.6 0.12 0.20 0.04 25.76 Mizoram 7.14 0.45 83.8 0.08 8.19 — 0.23 Nagaland 14.36 1.52 80.1 0.00 0.07 0.15 3.68 Tripura 89.34 6.74 1.20 0.01 2.69 0.01 0.01 *-1971 census figures for Assam
مجھے یاد ہے کہ کس طرح میں گوشت کھانے کی کوشش کرتا تھا۔ جس کا ذائقہ مجھے بالکل ربڑ کی طرح معلوم ہوتا تھا۔ البتہ اپنے مذہب کے احترام میں گائے کا گوشت کھانے سے میں نے انکار کر دیا۔ مسٹر ٹھکّر اپنے آشرم سے ایک انگریزی پرچہ اشانی (Ishani) کے نام سے نکالتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ سیاست اور مذہب کا دور ختم ہو گیا۔ مستقبل اب سائنس اور روحانیت کے
میں نے کہا کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ سیاست کا رول اب محدود ہو گیا ہے۔ مگر سچا اور حقیقی مذہب بدستور علم اور روحانیت دونوں کے لئے گائیڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گوہاٹی کے سمینار (اور اس طرح کے دوسرے سمیناروں میں جو باتیں میں نے سنیں اور مسلم اجتماعات میں جو باتیں کی جاتی ہیں، جب میں دونوں کامقابلہ کرتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں کوئی مناسبت نہیں۔ اس طرح کے سیمناروں میں ہمیشہ ملکی مسائل زیر بحث آتے ہیں۔ مثلاً گوہاٹی کے سیمنار میں ساری بحث دو نکتہ پر مرکوز رہی۔ اس علاقہ میں علیحدگی پسندی کے رجحان کو کس طرح ختم کیا جائے۔ اس علاقے کی معاشی پس ماندگی کو کس طرح دور کیا جائے۔ کے برعکس مسلم اجتماعات میں ساری بحث صرف مسلم کمیونٹی کے مسائل پر ہوتی ہے۔ یہ بحث بھی اس مفروضہ پر ہوتی ہے کہ مسلمان اس ملک میں تعصب اور ظلم کا شکار ہو رہے ہیں، اس کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔
اس صورت حال نے مسلمانوں کو ملک کی مین اسٹریم سے الگ کر دیا ہے۔ وہ اس طرح زندگی گزار رہے ہیں، جیسے کہ وہ کوئی الگ قوم ہیں۔ مزید یہ کہ وہ اس ملک میں ایک محروم اور مظلوم طبقہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک مسلمان بزرگ سے میں نے کہا کہ ہندوستان کی قیادت کی سوسالہ سرگرمیوں کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے ہنگامہ کر کے تقسیم کرانا، اور جب تقسیم
سے ان کے مسائل حل نہ ہوئے تو اس کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر دوبارہ فریاد شروع کر دینا۔ ایک صاحب نے کہا کہ اعداد و شمار پیش کر کے ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ گراس نیشنل پروڈکشن (جی این پی) میں اضافہ ہوا ہے۔ میں کہوں گا کہ اگر جی این پی بڑھا ہے تو ساتھ ہی ایک اور جی این پی بھی بڑھا ہے۔ یہ دوسرا جی این پی ہے ۔ گراس نیشنل پاورٹی۔
ایک صاحب نے کہا کہ نارتھ ایسٹ انڈیا کا سارا مسئلہ مصنوعی تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوا اس غلطی کی تصحیح کیجئے ، اور بنگلہ دیش کی سرحدوں کو ختم کر کے سارے علاقہ کو ایک جغرافی وحدت بنا دیجئے ، اور پھر سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہو جائے گا۔
بنگلہ دیش کی طرف سے روزگار کی تلاش میں جو لوگ آتے ہیں ، ان کو ایک صاحب نے ناخوانده مهمان (unwelcome guests) بتایا اور کہا کہ ان کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ صاحب نے کہا کہ اس کا تعلق "بنگلہ دیش" سے نہیں ہے۔ یہ تو تقسیم کے بہت پہلے سے رایج معاشی ضرورت کے تحت ساری دنیا میں لوگ ادھر سے اُدھر جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ بھی آتے ہیں ، اور پھر اکثر واپس چلے جاتے ہیں۔
گوہاٹی کے انگریزی اخبار نارتھ ایسٹ ٹائمز (The North East Times) کا شمارہ ۳ جنوری دیکھا۔ اس میں نیو گوہاٹی کے جیبون سائیکیا (Jibon Saikia) کا خط پڑھا۔ لکھا تھا کہ کانگریس کی ووٹ بنک کی پالیسی کے نتیجہ میں بنگلہ دیش سے مسلمانوں کی آمد برابر جاری مسلمانوں کو خوش کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے ۲۰ سال میں آسام ایک مسلم اکثریت کا علاقہ بن جائے گا :
It has now become crystal clear that Assam is going to be a Muslim majority state in India, in the course of near about twenty years. (p. 4) اسی کے ساتھ اخبار میں بہت سی خبریں تھیں جو بتا رہی تھیں کہ یہاں کے جرائم کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ امپھال کے علاقہ میں پانچ کو کی مار ڈالے گئے اور تین آدمی بری طرح زخمی ہوگئے۔ جورہاٹ میں پانچ مسلم نوجوان ایک بنک میں داخل ہوئے اور دو لاکھ ستائیس ہزار روپے لے کر فرار ہو گئے۔ گرام دیوگاؤں میں پندرہ ڈاکوؤں کا ایک گروہ ایک اسکول ٹیچر مہندر داس کے گھر
میں گھس گیا۔ انھوں نے گھر والوں کو مارا اور ایک ہزار روپیہ نقد اور قیمتی سامان لے کر بھاگ گئے۔ دومونی میں ایک ہتھیار بند گر وہ ایک بنک میں داخل ہوا اور پچاس لاکھ روپیہ لے کر بھاگ گیا۔ آسام میں بنگلہ دیشیوں کی آمد کا افسانہ صحیح ہے یا غلط ، اس سے قطع نظر ، آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ ریاست اگر بالفرض مسلم اکثریت کا علاقہ بننے والی ہو تو ان کو سخت پریشانی ہوگی لیکن اگر ان کی ریاست جبرُاًا اکثریت کا علاقہ بن رہا ہو تو اس کے لئے انھیں کوئی پریشانی نہیں ، یہی غیر حقیقت پسندانہ مزاج ہے جس نے ملک کو موجودہ تباہی کے مقام پر پہنچایا ہے۔ مسٹر چارلس چاشی (Charles Chashie) انگریزی روزنامہ گالیگنڈ آبزرور کے ایڈیٹر انھوں نے کہا کہ اس علاقہ کی ٹریجڈی دراصل لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ انھوں نے آرایم لالہ کی کتاب قیادت کی تلاش (In Search of Leadership) کا حوالہ دیا۔ مصنف نے اس میں میک گریگر (Mac Gregor) کا قول نقل کیا ہے کہ عوام کو بہتر حالت کی طرف لے جانے کا راز قیادت کو بہتر بنانا ہے :
That people can be lifted into their better selves is the secret of میں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف اس علاقہ کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کا اور ہر کمیونٹی کا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے یہاں اچھے لیڈر نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ عمومی جہالت اور بے شعوری کی وجہ سے لوگ اچھے آدمی کو اپنا لیڈر نہیں بناتے ۔ کیوں کہ اچھا لیڈر ہمیشہ حقیقت پسندی کی بات کرتا ہے جس کی اہمیت کو بے شعور عوام سمجھ نہیں پاتے۔ اس کے برعکس ، بر لیڈر جذباتی باتیں کرتا ہے جس کو ہر آدمی سمجھ لیتا ہے اور پر جوش طور پر اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ کلکتہ سے مبارک کریم جو ہر صاحب بھی اس سمینار میں آئے ہیں۔ ان کی عمر تقریباً پچاس سال ہے۔ اس مدت میں وہ بنگلہ زبان میں پچاس کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں صوفی ازم پر ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کوئی معرفت کی بات جو آپ نے اپنے مطالعہ میں پائی ہو اس کو بتائیے۔ نے حسب ذیل الفاظ اپنے قلم سے لکھے : انسان اپنے کو جاننے سے تمام ادیان کا جاننا ہو جاتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کلکتہ کے ہند و پبلشر ہر ایران سے اسلامی کتابیں مانگتے رہتے ہیں مگر وہ ان کی فرمائش پوری نہیں کر پاتے۔ ان کی کتابیں زیادہ تر ہند و پبلشر نے چھاپی ہیں۔ بخاری اور اس طرح کی کئی دوسری کتابوں کا بنگلہ ترجمہ وہ چھپواچکے ہیں۔ انھوں نے کلکتہ میں انڈین صوفی سماج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔
ایک مجلس میں ملک کی تقسیم پر بات ہونے لگی۔ ایک صاحب نے کہا کہ مسٹر محمد علی جناح تو ۱۹۳۰ میں لندن چلے گئے تھے اور وہاں پریوی کونسل میں پریکٹس کرنے لگے تھے۔ بعد نواب زادہ لیاقت علی خاں لندن گئے۔ اور ان کو ہندوستان واپسی کے لئے آمادہ کیا۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ یہ سب غیر ضروری باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کے سب ملک کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں ۔ اور ہم ہی کو اس کی قیمت ادا کرنا ہے : We all are responsible for partition and we have to pay the price. ایک صاحب نے بتایا کہ راج موہن گاندھی نے اپنی انگریزی کتاب (آٹھ زندگیاں) میں لکھا ہے کہ مسٹر محمد علی جناح جب ہندستانی پال ٹیکس سے الگ ہو کر لندن چلے گئے تو اس کے بعد برٹش سرکار کے کسی ذمہ دار نے بات کرتے ہوئے جواہر لال نہرو سے پوچھا کہ جناح کا معاملہ کیا ہے ۔ نہرو نے جواب دیا کہ جناح تو سیاسی اعتبار سے ختم ہو گئے (Jinnah is finished) جناح تک یہ خبر پہنچی تو انھوں نے کہا کہ اچھا، میں ان کو دکھاؤں گا کہ میں کس طرح زندہ ہوں : Finished, I will show him. اس کے بعد نواب زادہ لیاقت علی خاں لندن گئے۔ اور مسٹر جناح کو ہندوستان واپس آنے کے لئے کہا ۔ مسٹر جناح نے کہا کہ آپ ہندوستان واپس جائیے اور لوگوں کی رائے معلوم کر کے مجھے بتائیے ۔ لیاقت علی خاں واپس آئے۔ اور لوگوں کی رائے معلوم کرنے کے بعد مسٹر جناح کو ایک ٹیلی گرام بھیجا ۔ یہ ٹیلی گرام صرف ایک لفظ پر مشتمل تھا۔ آ جائیے (come) اس طرح مسٹر جناح دوبارہ ہندستانی پال ٹیکس میں واپس آگئے ۔
انھوں نے بتایا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا ہے کہ ۱۹۳۷ کے الیکشن کے بعد جناح کا کانگریس سے الگ ہو گئے اور ملک کی تقسیم پر پختہ ہوگئے۔ مگر مولانا آزاد کے بیان کے
مطابق ، یہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ یوپی کیبنٹ میں کانگریس مسلمان لے جائیے یا مسلم لیگی مسلمان ۔ اصل یہ ہے کہ مسلم لیگ نے اپنے جن دو آدمیوں کو کیبنٹ میں شامل کرنے کے لئے جو دو نام دئے تھے ، وہ لیاقت علی خاں اور عبد الرحمان نشتر تھے ۔ دونوں زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے جب پرکاش نرائن ، رام منوہر لوہیا جو کسان لیڈر تھے ، وہ اس کے سخت مخالف یہ لوگ سوشلسٹ ذہن کے تھے اور اس زمانہ میں زمیندار ی کے خلاف تحریک چلا رہے انھوں نے کہا کہ اگر ہم زمیندار وں کو اپنی کیبنٹ میں لیں تو ہم عوام کو کیا جواب دیں گے ۔ وجہ تھی جس کی بنا پر مسلم لیگ کے نامزد افراد کو کیبنٹ میں لینے سے انکار کیا گیا۔ مسٹر بی کے رائے برمن نے اپنے مفصل پیپر میں نارتھ ایسٹ کے قبائل کے لئے حق خود اختیاری (right of self-determination) کی وکالت کی اور اس علاقہ کے مسئلہ کا حل یہ بتا یا کہ ان کواٹانومی دی جائے ۔ تا ہم انھوں نے کہا کہ حق خود اختیاری سے ان کی مراد حق خود انتظامی (right of self-management) ہے نہ کہ انقطاع (secession) ، اس سلسلہ میں انھوں نے دستور ہند کے علاوہ اقوام متحدہ کے ڈیکلریشن اور انسائیکلوپیڈیا آف سوشل سائنسز کا حوالہ دیا۔
ایک صاحب نے کہا کہ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے دستور میں شہریوں کے حقوق کی دفعہ تو موجود ہے۔ مگر اس میں شہریوں کی ذمہ داری کی کوئی دفعہ نہیں۔ چنانچہ اب سارے ملک کا یہ حال ہو ر ہا ہے کہ لوگ اپنے حقوق کو تو آخری حد تک جانتے ہیں ، مگر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی انھیں خبر نہیں ۔ ہمارا ذہن کچھ اس طرح بن گیا ہے جیسے کہ آزاد ملک کے لوگوں کے صرف حقوق ہوتے ہیں ، ان کے کوئی فرائض نہیں ہوتے :
Citizens of a free country have only rights and rights and rights, but no اس معاملہ میں مسلمانوں کا کوئی استثناء نہیں ۔ میں مسلم دانشوروں کی جتنی بھی تحریریں پڑھتا ہوں ہر ایک میں صرف مسلمانوں کے حقوق بتائے جاتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں جو مسلمانوں کو بتائے کہ مسلمان جس ملک میں یا جن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں ان کے
تئیں ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔
ایک مجلس میں ایک صاحب پر جوش تقریر کر رہے تھے کہ بنگلہ دیش سے مسلمان برابر سرحد پار کر کے ہمارے یہاں آ رہے ہیں، یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ بنگلہ دیش کو ختم کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے، پھر ہم کیا کر سکتے ہیں۔ مسٹر ٹنچے ہزار یکانے کہا کہ مائیگریشن موجودہ زمانہ کی ایک عام چیز ہے۔ امریکہ بھی اس کو روک نہیں سکتا، پھر ہم کیسے اس پر روک لگا سکتے ہیں۔
پھر انھوں نے کہا کہ نصف ملین ہندوستانی نیپال چلے گئے ہیں۔ وہاں ان کا جانا نیپال کے لئے ایک مسئلہ ہے۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے کہ ان ہندوستانیوں کو وہاں سے واپس لانے کی بات کریں۔ پھر بنگلہ دیش والوں پر اتنا شور کیوں۔ ہم ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں ہو سکتے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس علاقہ میں علیحدگی پسندی کا رجحان پیدا ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ ترقیات کا فائدہ خواص تک رہ جاتا ہے، وہ عوام تک نہیں پہنچتا: The fruit of developments do not perculate to the grassroot level. دوسرے صاحب نے کہا کہ یہی اصل بات نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پنجاب کو ترقیاتی پروگراموں کا اتنا فائدہ پہنچا کہ وہ ملک کی سب سے زیادہ خوش حال ریاست بن وہاں اس معاملہ میں عوام و خواص میں کوئی تفریق نہیں۔ اس کے باوجود پنجاب میں علیحدگی کی خون ریز تحریک شروع ہوئی۔
۴ جنوری کی شام کے اجلاس میں مجھے موقع دیا گیا۔ میں دہلی سے ایک انگریزی پیپر تیار کر کے لے گیا تھا جو ملک میں بڑھتی ہوئی علاقائیت پسندی کے خلاف تھا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ علیحدہ خطہ بنانا کسی کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس معاملہ کو پاکستان اور بنگلہ دیش کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ دونوں ہی مسائل کے حل کے نام پر علیحدہ ملک کے طور پر وجود میں آئے ۔ مگر دونوں میں سے کسی جگہ بھی مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ بلکہ مسائل پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ۔ ثابت ہو کہ جغرافی تقسیم یا علیحدگی سے مسائل کے حل کا کوئی تعلق نہیں۔ سمینار کے ناظم مسٹر ٹنخورٹھکر نے آخر وقت میں کہا کہ آپ کو ایک اور موضوع پر بھی بولنا ہے۔
وہ مذہبی ہم آہنگی اور کلچرل ٹالرنس کا مسئلہ ہے۔ اس موضوع پر پہلے سے میں نے کچھ تیار نہیں کیا اسی وقت بیٹھ کر گریزی میں ایک پیپر لکھا اور اس کو وہاں پیش کیا لوگوں نے بہت پسند کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مذہبی اختلافات یا کلچرل اختلاف کے مسئلہ کا حل اختلاف کو ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کو ٹالریٹ کرنا ہے۔ اس نقطہ نظر کی تفصیل کرتے ہوئے آخر میں میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل سوامی ویویکانند نے ایک جملہ میں اس طرح بتایا ہے ایک کی اتباع کرو، اور کسی کے خلاف نفرت نہ کرو :