Behaviour of a Muslim in his environment
Al-Risala, January 1997, pp. 39–42
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں ۶۰ حدیثیں تھیں جو سب کی سب صحاح سے لی گئی تھیں۔ ترتیب یہ تھی کہ میں ایک حدیث پڑھتا تھا اور میرے پاس بیٹھے ہوئے ایک پر وفیسر اس کا ترجمہ اطالین زبان میں کرتے
نصف حدیثیں سنانے کے بعد میں نے حاضرین سے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو ساری حدیثیں آپ کو سناؤں۔ اور اگر آپ کی رائے ہو تو حدیث سنانے کا سلسلہ یہیں روک دیا جائے اور اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں، آپ تمام حدیثیں پہلے سنا دیں۔ اس کے بعد سوال و جواب ہوگا۔ چنانچہ میں نے تمام حدیثوں کے ترجمے سنائے۔ جن کی تعداد مجموعی طور پر ساٹھ تھی۔
اس کے بعد صدر جلسہ نادر چیا رونی نے اعلان کیا کہ اب آپ لوگ مقرر سے سوالات کر سکتے ہیں۔ وہ آپ کے سوالات کا جواب دیں گے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے پوچھا کہ سوال صرف پیپر کے دائرہ میں کیا جا سکتا ہے یا اس کے باہر کے سوالات بھی پوچھے جاسکتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ آپ کو اختیار ہے کہ جو سوال چاہیں کریں۔ دو تین آدمیوں نے انگریزی میں سوال کیا اور بقیہ تمام لوگوں نے اطالین زبان میں سوالات کئے ۔ میں نے ہر ایک کا جواب انگریزی میں دیا۔ کا فوری ترجمہ کیا جاتا رہا۔
صدر جلسہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ کسی نے اب تک اسلام کو ہمارے سامنے اس طرح پیش نہیں اب تک ہم اسلام کے بارہ میں وہی چند باتیں جانتے تھے جو میڈیا کے ذریعہ ہم تک پہنچی
دوسرے کئی لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے اسلام کو از سر نو دریافت کیا ہماری اسلامی معلومات میں بہت اضافہ ہوا ۔
پروگرام کے خاتمہ پر ایک صاحب ملے۔ انھوں نے بتایا کہ میں مسلمان ہوں اور مراکو (مغرب) سے یہاں آیا ہوں۔ انھوں نے اپنا نام اس طرح کاغذ پر لکھ دیا۔ (Sdaigui Mohamed) ان سے عربی میں بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ فلارنس میں تقریباً پانچ ہزار مسلمان ہیں جو بیشتر افریقہ کے ہیں۔ یہاں شہر کے اندر ایک مسجد بھی ہے۔ زیادہ تر چھوٹے کام کرتے ہیں۔ تاہم یہاں ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک خاتون نے پوچھا کہ اسلام میں عورت کا درجہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام عورت اور مرد کو مکمل طور پر برابری کا درجہ دیتا ہے۔ دونوں میں عزت اور حقوق کے اعتبار سے کوئی صالح عورت کے لئے بھی اسی طرح جنت کی خوش خبری ہے جس طرح صالح مرد کے لئے۔ البتہ مقامِ کار (work place) دونوں کا اسلام میں الگ الگ رکھا گیا ہے۔ عملی بندوبست (arrangement) ہے نہ کہ امتیاز۔ میں نے مثال دی کہ ایک بزنس ہاؤس میں کچھ لوگ آفس کے اندر کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ فیلڈ ورک میں مصروف ہوتے ہیں۔ گروپ اندر کا کام سنبھالتا ہے اور دوسرا گروپ باہر کا کام۔ اس فرق کو کوئی امتیاز نہیں سمجھتا۔ تقسیمِ کار سمجھتا ہے۔ اسی طرح اسلام میں عورت اور مرد کے مقامِ کار میں فرق رکھا گیا ہے۔ عورت بنیادی طور پر گھر کے کام کو سنبھالتی ہے اور مرد بنیادی طور پر باہر کا کام۔ مگر یہاں بھی یہ فرق صرف تقسیمِ کار کے معنی میں ہے نہ کہ امتیاز کے معنی میں۔
میں نے کہا کہ عورت کے بارے میں مغربی تصور اور اسلامی تصور میں صرف یہ فرق ہے کہ مغربی تصور میں عورت اور مرد کو دو برابر کی شخصیت مانا گیا ہے۔ اور اسلام یہ کہتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لئے تکملہ (complementary) ہیں۔
ایک صاحب نے اسلامی فنڈمنٹلزم کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے کہاکہ مروجہ مفہوم میں فنڈمنٹلزم کو فَن اٹسنزم کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے لیا جائے تو اسلام میں فنائٹسنزم نہیں ہے۔ اسلام ایک فطری مذہب ہے۔ اس میں انسانوں کو حد درجہ رعایت دی
اسلام میں حکیمانہ انداز کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ کٹر پن، انتہا پسندی اور تشدد کے لئے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
ایک صاحب نے پوچھا کہ گاندھی کے نظریہ اور اسلام کے نظریہ میں کیا فرق ہے۔ نے کہا کہ جہاں تک گاندھی کے مذہب کا تعلق ہے تو گاندھی ایک ہندو تھے اور ہندو مذہب الگ ہے اور اسلام الگ۔ مگر جہاں تک ان کے طریق کار کا تعلق ہے جس کو عدم تشدد (non-violent activism) کہا جاتا ہے تو وہ اسلام کے عین مطابق ہے۔ اسی لئے وقت کے تمام مسلم علماء نے اس طریق کار کو اختیار کیا اور سیاسی اعتبار سے گاندھی کو اپنائٹ اُڈ بنالیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامک ایکٹوزم بھی عین وہی ہے جس کو نان وائلنٹ اکٹوزم کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے مختلف سوالات کئے گئے۔ کسی نے بھی کراس کوسچن نہیں کیا۔ نہایت سنجیدہ اور افہام وتفہیم کے ماحول میں ہوئی۔
پروگرام کے خاتمہ پر میں نے ایک مسیحی نوجوان مسٹر سیر جیو (Sergio) سے پوچھا کہ اس بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے۔ نوجوان نے نہایت سادگی سے جواب دیا : آج آپ کو سن کر میں نے جانا کہ اب تک اسلام کے بارہ میں بہت کم جانتا تھا۔ اس پروگرام نے میرے اندر یہ خواہش جگادی کہ میں اسلام کے بارہ میں اور زیادہ معلومات حاصل کروں۔ ایک اور صاحب نے کہا کہ آپ نے جس سادگی اور وضاحت کے ساتھ اسلام کے بارہ میں بتایا وہ بہت انوکھا تھا۔ آپ کی بات خوب سمجھ میں آئی۔ موجودہ زمانہ کی نئی پیدا شدہ چیزوں میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آج لوگ صرف اپنے خول میں رہنا کافی نہیں سمجھتے۔ ہر آدمی خارجی دنیا کے بارہ میں جاننا چاہتا ہے۔ خواہش کا تعلق تمام چیزوں سے ہے حتی کہ مذہب سے بھی۔ لوگ اپنے مذہب کو مانتے ہوئے دوسرے مذاہب کو جاننے کا شوق رکھتے ہیں۔ یہ ایک نیا امکان ہے جس کو استعمال کرنے کی
تاہم اس جدید امکان کو استعمال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی بات کو جدید انسان کے پسندیدہ اسلوب میں پیش کیا جائے ۔ آج کا پسندیدہ اسلوب سائنٹفک
مناظرانہ یا واعظانہ انداز آج پسند نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح ادبی یا قصہ گھڑی انداز بھی آج کے اعتبار سے غیر موزوں ہے۔ اس لئے جدید امکان کو استعمال کرنا صرف اسی وقت ممکن ہے جبکہ ہم مخاطب کے اپنے اسلوب کے مطابق بات کہیں ۔ ہمارا تیار کیا ہوا لٹریچر جدید انسان کو اپیل کرنے والا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ سن کر بھی نہیں سنے گا۔ پڑھ کر بھی کچھ نہیں پائے گا۔ ۲۴ اکتوبر کو ناشتہ کی میز جسٹس کھنا ( سابق جج سپریم کورٹ) سے مسٹر محمد علی جناح کے بارے میں میں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مسٹر جناح انگریزوں کے ایجنٹ تھے۔ وہ فوراً بولے یہ مکمل طور پر نادرست بات ہے: