Al-Risala · August 1997

We have no that one minute.

Al-Risala, August 1997, pp. 33–38

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ سن کر مجھے موت کے لمحہ کا خیال آگیا۔ میں نے سوچا کہ آدمی کی عمر کا آخری وقت جب آئے گا اور موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لئے پہنچے گا تو آدمی کہے گا کہ ایک منٹ کی مہلت مجھے اور دے دو۔ فرشتہ جواب دے گا کہ اس ایک منٹ کا وقت گزر چکا۔ اب وہ ایک منٹ

منی پور کے مسٹر نیل کنٹھ شرما نے کہا کہ ہمارے علاقہ کے نوجوان ان کثرت سے ہتھیار اور ڈرگ کی طرف جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ڈرگ سے بچانے کے لئے ان کے والدین اپنے بچوں سے کہتے ہیں کہ تم کو شراب پینا ہو تو پی لو، لیکن ڈرگ کے قریب نہ جاؤ۔ یہ سب اس لیے کہ ان

نوجوانوں میں بے روزگاری اور وسائل معاش کی کمی نے سخت فرسٹریشن پیدا کر دیا ہے۔ انفرادی ملاقات میں مسٹر پی ایچ ترویدی نے کہا کہ یہاں جو لوگ اکٹھا ہوئے ہیں، وہ وہ لوگ ہیں جو فساد نہیں کرتے۔ فساد کرنے والے تو دوسرے لوگ ہیں اور ہمارے ان کے درمیان کوئی لنک نہیں۔ میں نے کہا کہ اس کو میں اس طرح کہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں ایک پرابلم گروپ ہے اور دوسرا نوپرابلم گروپ۔ چنانچہ میں پچھلے دو سال سے پرابلم گروپ کے لوگوں سے ربط قائم کر کے ان کی سوچ کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ انتہا پسند ناگاؤں کے خیالات کتنے سخت ہیں، اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہاں ہم ایک اقتباس نقل کرتے ہیں۔ ۶۲ سالہ مسٹر موئیوا (Thuingaleng Muivah) مشہور ناگا وہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کے فاؤنڈر ہیں۔ ان کے اوپر کئی قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔

سنڈے کے نمائندہ مسٹر سو بیر بھومک (Subir Bhaumik) اور ان کے ساتھی تھائی لینڈ اور برما کی سرحد پر ایک خفیہ مرکز میں ان سے ملے۔ وہ لوگ ۸ گھنٹہ تک جنگلوں میں سفر کر کے مسٹر موئیو اکے یہاں پہنچے تھے۔ انھوں نے ناگا لیڈر کا انٹرویو لیا جس کو خود ناگا لیڈر انٹرویو کے بجائے انٹرایکشن کہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ سنڈے کے شمارہ ۱۶ جون ۱۹۹۶ میں یہ انٹرویو پانچ صفحات پر چھپا ہے جس کے ساتھ کئی تصویریں بھی شامل ہیں۔ اس انٹرویو کا ایک سوال و جواب یہاں نقل کیا جاتا ہے:

Q. But unless you start talking, how do you know how sincere India is about a settlement? A. Mr. Bhaumik, it may hurt your feelings as an Indian if we tell you how bad our experience has been in this regard. India's government, her bureaucrats are masters of double-talk, your society has so much double standard. I have read your epics and even your heroes like Rama and Krishna have made and broken rules at their convenience. Rama used dissension to subjugate Bali's kingdom, a kingdom of tribals. His brother Sugriv was used. Krishna signalled to Bhim to hit Duryodhana below his waist when Bhim was all at sea. Whenever rules have proved to be problem, your society and its leaders have flouted it, expecting everyone else to observe them. Sunday weekly, Calcutta, 16-22 June 1996, p. 50

اشانی کے شمارہ اپریل ۱۹۹۶ میں منی پور کے شری رتن تھیم (Ratan Thiyyam) کا انٹرویو انھوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں مجھ سے زیادہ غمگین شاید اور کوئی نہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج میرے وطن منی پور کی کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی: Nothing seems to be in place in Manipur today. انھوں نے کہا کہ پہلے ہم منی پور کے لوگ بہت آسودہ زندگی گزارتے تھے۔ ہمارا ہر معاملہ درست کھانا پینا، ہر چیز فراغت کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ آج سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ روایتیں ختم ہو گئیں۔ ہمارا اعتماد جاتا رہا۔ ۳۰ سال کی مدت میں پوری زندگی کچھ سے کچھ ہو گئی۔ یہ سب نتیجے علیحدگی پسندی کی انتہا پسندانہ اور تشدد دانہ تحریک کا۔ میں نے اس کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ آج ٹھیک یہی حال ان تمام مسلم علاقوں کا بھی ہے جہاں آزادی کے نام پر اسی قسم کی تحریکیں چلائی گئیں۔ مثلاً بوسنیا، چیچنیا، برما، فلپائن، فلسطین، وغیرہ ۔ ہر جگہ آج سے ۳۰ سال "پہلے مسلمان نہایت عمدہ حالت میں تھے۔ ہر قسم کی ترقی کے مواقع انھیں حاصل تھے مگر انھوں نے تشدد دانہ قسم کی سیاسی تحریکیں چلا دیں۔ اس کے نتیجہ میں ملا ہوا بھی تباہ اور مزید کچھ تو ملنے والا ہی نہ تھا۔

میں نے ایک صاحب سے کہا کہ لوگوں کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ وائلنٹ ایکٹوزم کا زمانہ ختم ہو گیا۔ اب صرف نان وائلنٹ ایکٹوزم یا پیس فل ایکٹوزم ہی ممکن ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب کہ فی الواقع اس کی ضرورت پیش آگئی ہو۔

نارتھ ایسٹرن انڈیا میں علیحدگی پسندی کے رجحان کو ختم کرنے اور اس کو ملک کی مین اسٹریم میں لانے کے لئے بار بار نئی دہلی اور مقامی لیڈروں کے درمیان میٹنگیں ہوئیں اور اکار ڈطے پائے۔ مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔

Shillong Accord 1975, Assam Accord 1985, Mizoram Accord 1986, Tripura Accord 1988, Bodo Accord 1994 اس کے باوجود اس علاقہ کی بے چینی ختم نہیں ہوئی۔ درجنوں عسکری تنظیمیں بدستور پورے علاقہ میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس علاقہ کی معاشی اور تمدنی پسماندگی بدستور باقی ہے۔

ہندستان ٹائمکس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر مسٹر آش نرائن رائے کاایک مقالہ جنرل آف پیس اسٹڈیز نئی دہلی) کے شمارہ جولائی - اگست 1995 میں چھپا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہمیں کہ اس علاقہ میں امن اور ہم آہنگی کی کنجی محض اکارڈوں پر دستخط کرنا نہیں ہے بلکہ ضرورت یہ ہے کہ یہاں اقتصادی ترقی لائی جائے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معاشی وسائل فراہم کئے جائیں : The key to peace and harmony in the region lies not in merely signing accords but in the rapid economic development and the widening of economic opportunities. (Ash Narain Roy)

جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے ، خرابی کی اصل جڑ کرپشن ہے ، مرکزی حکومت کی طرف سے اس علاقہ کی ترقی کے لئے بہت بڑی رقمیں منظور کی گئیں مگر وہ زیادہ تر لوگوں کی جیبوں میں چلی گئیں۔ اس علاقہ کے ترقیاتی کاموں میں وہ بہت کم استعمال ہوسکیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ یہ درست ہے کہ نارتھ ایسٹ ایریا ایک پرابلم ایریا بن گیا ہے۔ لیکن ہر مسئلہ کا الزام حکومت کو دینا صحیح نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو ہم اپنے عمل کی قیمت بھگت رہے ۱۹۴۷ سے پہلے جب ہندوستان میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی تو ہمارے سیاسی لیڈر ہر مسئلہ کا الزام برٹش گورنمنٹ کو دیدیتے تھے، خواہ وہ کوئی بھی مسئلہ ہو۔ اس وقت ۔ یہ بات بہت اچھی لگتی تھی۔ کیوں کہ اس طرح عوام انگریزوں کے خلاف اٹھ رہے تھے اور وہ عوامی طاقت ظہور میں آرہی تھی جو ہماری بے تشدد تحریک آزادی کو طاقت ور بنانے کے لئے ضروری تھی۔

اس طرح عوام کی نفسیات یہ بن گئی کہ تمام مسائل کی ذمہ دار حکومت ہوا کرتی ہے چنانچہ اپنے اس مزاج کی بنا پر اب وہ اسی طرح ہر خرابی کا الزام قومی حکومت کو دے رہے ہیں۔ ہیں اس وقت تک بھگتنا ہوگا جب تک عوام میں نیا شعور پیدا نہ کر دیا جائے۔ ایک پرانے گاندھی وادی نے بتایا کہ جب وہ نوجوان تھے ، وہ کھادی کی ایک کانگریسی دکان پر کپڑا خریدنے گئے۔ دکان والے نے پوچھا : ہاتھ کھادی یا مل کھادی۔ یعنی ہاتھ سے بنے ہوئے سوت کی کھادی یا مل میں تیار کئے ہوئے سوت کی کھادی۔ مذکورہ نوجوان کو اس سے بہت دھکا لگا۔ انھوں نے مہاتما گاندھی کو خط لکھا کہ میرے ساتھ ایسا ایسا واقعہ گزرا۔ کیا کھادی بھی دو کھادی ہوتی

یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

گاندھی جی نے اس خط کا جواب اپنے پرچہ ینگ انڈیا میں دیا۔ انھوں نے لکھا کہ نوجوان کو اس طرح کے معاملات میں زیادہ حساس (oversensitive) نہیں ہونا چاہئے ۔ میں نے کہا یہ نہایت صحیح جواب تھا۔ اگر معاملہ حق اور ناحق کا ہو تو آدمی کو ضرور بہت زیادہ حساس ہونا مگر جو معاملہ حق اور ناحق سے تعلق نہ رکھتا ہو تو اس میں نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس فرق کے بغیر زندگی کا نظام نہیں چلایا جاسکتا۔

ایک صاحب نے کہا کہ گاندھی جی جب ساؤتھ افریقہ سے آئے تو وہ کوٹ پتلون پہنتے تھے۔ گاندھی جی نے کہا کہ آزادی کی تحریک میں شریک ہونے سے پہلے میں سارے دیش میں گھوم کر لوگوں سے ملوں گا۔ چنانچہ انھوں نے پورے ملک کا دورہ کیا۔ انھوں نے دیکھا کہ ملک میں بے شمار لوگ ابھی تک غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے جسم پر پورا کپڑا بھی نہیں ہے۔ اس کے بعد گاندھی جی نے کہا کہ جس دیش میں غریبوں کی اکثریت ہو وہاں آزادی کی تحریک چلانے کے لئے مجھے خود بھی غریب ہندوستانی کی طرح رہنا ہو گا۔ یہ کہہ کر انھوں نے کوٹ پتلون اتار دیا اور وہ کپڑا پہن لیا جس کو دیکھ کر برطانیہ کے سرونسٹن چرچل نے ان کو ننگا فقیر (naked fakir) کہا تھا ۔ کو ہیما سے ایک انگریزی اخبار نکلتا ہے۔ اس کا نام جرنل (The Journal) ہے۔ کے شمارہ ، نومبر ۱۹۹۳ میں ایک جائزہ چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا جبری استحصال کی زمین (A Land of Extortion) اس میں بتایا گیا تھا کہ اس علاقہ کے بیرونی آئی اے ایس افسران بہت غیر مطمئن حالت میں ہیں۔ وہ جلد سے جلد یہاں سے چلے جانا چاہتے ہیں : Non-local IAS officers want to be transferred out of Nagaland as quickly اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہر وقت ان کو اپنی جان کا خطرہ رہتا ہے۔ غیر مقامی افسروں کو یہاں کے لوگ اسی نظر سے دیکھتے ہیں جس طرح ۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان میں انگریز افسران کو دیکھا جاتا تھا۔ مقامی لیڈروں کی تقریروں نے اس معاملہ میں لوگوں کو اتنا جذباتی بنا دیا ہے کہ غیر مقامی افسروں کو دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ ہم کو غلام بنانے کے لئے یہاں آئے ہیں۔

اگرتلہ (ترپورہ) کی شریمتی کرابی دیو برمن نے اپنے پیپر میں نارتھ ایسٹ انڈیا کے بارے پر اظہار خیال کئے۔ ان میں سے بارھواں یہ تھا ۔ سب سے زیادہ اہم یہ کہ اس علاقہ کے لوگوں میں ایسے مشترک رشتہ کی غیر موجودگی کہ وہ اپنے آپ کو انڈین محسوس کریں : Above all absence of a common chord or a binding force to feel 'Indian'. یہ بلاشبہ سب سے زیادہ اہم بات ہے۔ اگر انڈین ہونے کا مشترک احساس موجود ہو تو بقیہ مسائل اپنے آپ غیر اہم بن جاتے ہیں۔ اور اگر یہ مشترک احساس باقی نہ رہے تو اس کے بعد غیر اہم چیز بھی اہم بن جائے گی۔

مقامی انگریزی اخبار ناگالینڈ ٹائِمْس (۲۳ نومبر ۱۹۹۴) میں اس علاقہ کی سات ریاستوں کے بارہ میں ایک رپورٹ چھپی تھی جس کا عنوان تھا:

Printed page