Symphony of the Seven Sisters.
Al-Risala, August 1997, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں بتایا گیا تھا کہ نارتھ ایسٹ کی سات ریاستوں (آسام ، ناگالینڈ ، منی پور ، میگھالیہ ، میزورم ، ارونا چل پردیش ، تری پورہ) میں ہر ایک کا مخصوص کلچر ہے۔ ہر ایک کا مذہب اور زبان الگ الگ ہے۔ ان پر پڑوسی ممالک برما ، چین ، تبت کلچر کے اثرات ہیں ۔ علاقہ کی کوئی مشترک زبان نہیں۔ اس کی وجہ سے ”سات بہنوں“ کا باہمی اتحاد بے حد مشکل ہو گیا ہے۔ ناگالینڈ ٹائِمْس کی اس رپورٹ میں مزید بہت کیا تھا کہ در حقیقت انڈیا کا ہند و کلچر ان قبائل کے لئے اجنبی ہے جو کہ بنیادی طور پر گوشت خور ہیں :
Hindu culture is much alien to the psyche of the tribals who are basically non-vegetarians and liberated in their way of life. اس میں بتایا گیا تھا کہ نارتھ ایسٹ کا یہ علاقہ ۱۸۲۶ میں امریکن اور یورپین مشنری کے زیر اثر آیا۔ اور اس پہاڑی علاقہ میں مسیحیت نے اپنی جڑیں قائم کر لیں ۔ یہ ان مسیحی مبلغین کے ذریعہ ہوا جنھوں نے ان پہاڑیوں میں انتھک محنتیں کیں۔ مثال کے طور پر میگھالیہ کے قبائل کی بولی کو لکھنے پڑھنے کی زبان بنانے کا کارنامہ تھامس جونسنہ (Rev. Thomas Jones) وغیرہ نے کیا۔ لوگوں نے میگھالیہ کے قبائل کو ان کی پہلی مطبوعہ کتاب دی۔ انھوں نے یہاں اسکول اور اسپتال
قائم کئے ۔ انھوں نے اس علاقہ کے لوگوں کو پہلی بار علم سے آشنا کیا۔ تاہم ان مسیحی مبلغوں کے اثرات سے منی پور اور ارونا چل بچا رہا۔
۴ جنوری کی شام کو کھانے کی میز پر کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ صاحبان تھے۔ وہ گاندھی واد میں یقین رکھتے تھے۔ ڈاکٹر جینت پاٹل (ممبر پلاننگ کمیشن ) نے کہا کہ ساری سمسیاؤ ں کاحل گاندھی واد میں ہے۔ گاندھی کے وچاروں کو دیش میں لانا ہوگا ، تبھی دیش کا بھلا ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ کے بعد مہا تما گاندھی کے اپنے بنائے ہوئے ساتھی ان سے پھر گئے ۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جو گاندھی ہیرو بنا ہوا تھا ، وہ ۱۹۴۷ کے بعد خود اپنے ملک میں زیر و ہو گیا۔ اس وقت مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ اب میری کون سنے گا۔ ان کے اسی جملہ کو پیارے لال نے اپنی کتاب کا ٹائٹل بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد انڈیا میں خود گاندھی جی اپنے وچاروں کو عمل کی صورت نہ دے سکے۔ پھر اب کون ہوگا جو ان کو عملاً قائم کرے۔ کہیں سے ایک سپر گا ندھی لاسکتے ہیں۔ بمبئی کے پروفیسر رودر نذیر کیلئے کر بھی اس گفتگو میں شریک تھے۔ پھر میں نے کہا کہ وہ مقام جہاں گاندھی واد فیل ہوا ہے وہ لارڈایکٹن کے الفاظ میں انسان کی یہ کمزوری ہے کہ طاقت اور اقتدار آدمی کو بگاڑ دیتا ہے :
Power currupts and absolute power corrupts absolutely. کانگریس کے لیڈروں کے بگڑنے کا اصل سبب یہی تھا۔ اب ہمیں اس انسانی کمزوری کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ہمارے خوابوں کا نیا ہندوستان بننے والا نہیں ۔ ایک مجلس میں یہ بحث تھی کہ سیاسی استحکام کیسے حاصل کریں۔
(how to attain political stability) مختلف لوگوں نے مختلف باتیں کہیں ۔ میں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد کوئی بھی پارٹی اپنے حق میں نئی سیاسی روایات قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ کانگریس بعد از آزادی کار کردگی پر زندہ نہیں تھی بلکہ قبل از آزادی روایات کے سہارے زندہ تھی۔ کانگریس کا سارا سرمایہ جد و جہد آزادی کے دور کی یہ سرمایہ اب اپنی آخری حد پر پہنچ کر ختم ہو گیا۔
بھاجپا کے پاس کوئی مثبت پیغام نہ تھا۔ اس نے دو بڑے فرقوں کے درمیان چھپی ہوئی
تاریخی نفرت کو استعمال کیا، مگر اس کی بھی ایک حد تھی۔ ٦ دسمبر ۱۹۹۲ کو خود اسی کے ہاتھوں اس کی آخری حد آگئی۔ اب ملک میں ایک قسم کا سیاسی خلا ہے، اور ملک کسی ایسے نئے گروہ کا منتظر ہے جو ظاہر ہو اور دوبارہ ملک کو سیاسی استحکام دے سکے ۔
نارتھ ایسٹ انڈیا سات مختلف ریاستوں پر مشتمل ہے۔ اس لئے ان کو سات بہنیں کہا دھنک میں چوں کہ سات الگ الگ رنگ ہوتے ہیں، اس لئے ان ریاستوں کے مجموعہ کوزمینی دھنک کا نام بھی دیا گیا ہے :