a rainbow on the ground.
Al-Risala, August 1997, pp. 40–42
By Maulana Wahiduddin Khan
ان سات ریاستوں میں آپ گھومیں پھریں تو آپ کو ہر طرف وہاں مسائل ہی مسائل دکھائی مگر الفاظ کی دنیا میں اس کی تصویریں بالکل برعکس دکھائی دیتی ہیں۔ جو لوگ صرف الفاظ کو دیکھ کر حقیقت کے بارے میں رائے قائم کریں وہ ہمیشہ اصل حقیقت کے ادراک سے محروم رہیں گے۔
۵ جنوری کو صبح ۳ بجے نیند کھلی۔ مجھے ٹی وی کا کوئی شوق نہیں۔ مگر میں نے سوچا کہ دیکھیں کیا رات کو بھی ٹی وی کے پروگرام آتے ہیں۔ میں نے یہ جاننے کے لیے ٹی وی سیٹ کھولا تو اس وقت کئی پروگرام آرہے تھے۔ ایک چینل سے کھیل کا پر وگرام آرہا تھا۔ دوسرے چینل پر غالباً کوئی انگریزی فلم دکھائی جارہی تھی۔ اس کا جو منظر میرے سامنے آیا اس میں ایک مرد اور ایک عورت کھڑے ہوئے تھے۔ عورت اپنے اتارے ہوئے کپڑے کو پہن رہی تھی۔ اس نے اپنے کھلے جسم پر مختصر لباس پہنا اور مرد کی ناک پر پستول رکھ کر اسے گولی
ہندوستان میں کچھ لوگ یہ لکھنے اور بولنے میں مشغول ہیں کہ ہندو ایک منظم سازش کے تحت ہمارے ملی تشخص کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ یہ بے حد سادہ لوحی کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہند و اور مسلمان دونوں کے روایتی تشخص کو مٹانے کا کام سٹلائٹ ٹی وی کر رہا ہے جس کی زد سے اپنے آپ کو بچانا دونوں میں سے کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ یہ ٹی وی رات دن کھیل کود ، مار دھاڑ اور سیکس کے مناظر دکھاتا رہتا ہے ۔ اس کی ہمہ گیری کا یہ حال ہے کہ
زمین پر اگر آپ اس کو روکیں تو وہ آسمان سے آپ کے گھروں میں داخل ہو جائے گا۔ سیلاب نہ صرف ہندوستان کو بلکہ تمام عرب دنیا اور مسلم دنیا کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے ۔ میری طرح کے کچھ لوگ جو اپنے ذوق کے تخت محفوظ نہ ہو سکتے ہوں وہی اس سے بچے ہوئے ہیں ۔ ورنہ نام نہاد دیندار ار گھر آنے تک اس فتنہ سے محفوظ نہیں۔ ۵ جنوری ۱۹۹۵ کی صبح کو ناشتہ کی میز پر مسٹر نر وید می دآئی اے ایس) سے گفتگو انہوں نے کہا کہ انڈ یا کے جھگڑوں کو ختم کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ مذہب کے بارہ میں گاندھی جی کے نظریہ کو پھیلایا جائے۔ یعنی یہ کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں دو نقطہ نظر ہیں۔ ایک یہ کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ نظریہ بظاہر خوبصورت معلوم ہوتا ہے مگر وہ یقینی طور پر قابل عمل نہیں۔ شہنشاہ اکبر سے لے کر ڈاکٹر بھگوان داس (اسینشل یونینٹی آف آل ریلیجنز) اور مہاتما گاندھی تک غیر معمولی کوشش کے باوجود یہ نظریہ سراسر نا کام رہا ہے :
حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کا حل باہمی اعتراف (mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) میں ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ نا گالینڈ اور منی پور کی حیثیت ٹائم بامب کی ہو چکی ہے۔ صاحب نے کہا کہ یہ صرف دور ریاستوں کی بات نہیں۔ بلکہ نارتھ ایسٹ کاپور اعلاقہ آج اسی حالت کو پہنچ چکا ہے۔ اس طرح کی اور بہت سی باتیں لوگ کر رہے تھے ، اور میں سوچ رہا تھا کہ اردو اخباروں میں ہمارے لکھنے والے جو کچھ لکھتے ہیں، اس کے مطابق ، اردو خواں مسلمانوں کو صرف اتنا ہی معلوم ہے کہ اس علاقہ میں مسلمانوں کے خلاف شدید تعصب ہے اور بنگلہ دیشی کے نام پر مسلمانوں کو یہاں سے نکالا جارہا ہے۔ حالانکہ " بنگلہ دیشی مسئلہ" اس علاقہ میں پیدا شدہ مسائل کا صرف ایک فیصد ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ مذہب اور کلچر کے اختلافات میں یہ ہونا چاہئے کہ ہم اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہوئے دوسروں کے مذہب کا احترام کریں :
We have to respect other religions while following our own.
میں نے کہا کہ اس معاملہ میں یہی صحیح ترین بات ہے اور یہی واحد قابلِ عمل صورت ہے۔ معاملہ میں ہمیں پریکٹیکل بننا چاہئے نہ کہ آئیڈیلسٹ۔ عجیب بات ہے کہ ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ ہو تو ہر آدمی پریکٹیکل بن جاتا ہے۔ مگر جب ملک اور سماج کے بارہ میں گفتگو ہو تو ہر آدمی آئیڈیلیزم کی بات کرنے لگتا ہے۔ اسی دو طرفہ معیار نے سارے مسائل پیدا کئے ہیں۔ سینما رکا مقصد ان لفظوں میں بتایا گیا تھا کہ ـــــ نارتھ ایسٹ اور ملک کے بقیہ حصوں کے دانشوروں کو باہمی تبادلہ خیال کا موقع دینا :
to facilitate interaction between the intellectuals of the North-East and the rest of the country. مگر میرا تجربہ ہے کہ برصغیر ہند کے دانشوروں کا تبادلہ خیال ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں سننے اور ماننے کا مزاج نہیں۔ ہر ایک میں صرف سنانے اور منوانے کا مزاج ہے۔ یہاں کا ہر آدمی اعجاب کل ذی رائے پرایہ کا مصداق ہے۔ ایسے لوگوں کے درمیان تبادلہ خیال کبھی کسی مثبت نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔ گوہاٹی کا یہ انٹرنیشنل سمینار بڑی امیدوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس کا اہتمام ناگالینڈ گاندھی آشرم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف اداروں نے اس کے ساتھ تعاون خاص طور پر حسب ذیل ادارہ نے :
North-East Institute of Bank Management (NEIBM)
اس کا بنیادی موضوع تھا : نارتھ ایسٹ انڈیا اور اکیسویں صدی۔ اس کے چھ ذیلی موضوعات مقرر کئے گئے تھے۔ ان میں سے ایک موضوع یہ تھا :