North-East, a rainbow on the ground
Al-Risala, August 1997, pp. 42–45
By Maulana Wahiduddin Khan
Religious and ethnic pluralism--amity through diversity -a future perspective. آخری اجلاس میں منتظمین کی طرف سے ایک رزولیوشن کا ڈرافٹ پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس کو رد کر دیا گیا۔ پھر یہ طے ہوا کہ ایک اسٹیٹمنٹ جاری کیا جائے ۔
اس کا ڈرافٹ بھی رد ہو گیا۔ آخر میں طے ہوا کہ اجلاس کے دوران جو مختلف رائیں سامنے آئی ہیں ، ان کا خلاصہ تیار کیا جائے اور اس کو اشاعت کے لئے دے دیا جائے۔ نے اس کا ڈرافٹ تیار کیا۔ مگر وہ بھی منظور نہ ہو سکا۔ آخر کار یہ سیمینار اس طرح ختم ہوا کہ اس کی طرف سے کوئی متفقہ چیز پریس میں اشاعت کے لئے نہ دی جاسکی۔
میں بے حد غم زدہ حالت میں یہ تمام بحثیں سن رہا تھا۔ آخر میں میں نے کہا کہ کسی عجیب بات ہے کہ ایک سنگین قومی مسئلہ پر پورے ملک کے دماغ اکٹھا ہوئے۔ تین دن کے بحث و مباحثہ کے بعد اب وہ یہاں سے واپس جارہے ہیں۔ اور حالت یہ ہے کہ ہم اتنا بھی نہیں کرسکے کہ ایک متفقہ بیان تیار کر کے کل کے اخبار میں دے دیتے تاکہ لوگ کم سے کم یہ جان لیں کہ ہم نے انھیں کیا پیغام دیا ہے۔
۶ جنوری کی شام کو واپسی تھی۔ ہوٹل سے ایئرپورٹ تک کے سفر میں دو صاحبان کا پرتاپ سنگھ اور عبدل بھائی۔ ایئر پورٹ پر دیر تک ان لوگوں سے گفت گو ہوئی۔ پرتاپ سنگھ ایک سیاسی آدمی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام لیڈر کرپٹ ہیں ، خواہ ایک پارٹی کے ہوں یا دوسری پارٹی کے۔ میں نے کہا کہ پالی ٹکس میں ہمیشہ کرپشن رہتا ہے۔ کو ایک حد کے اندر رہنا چاہئے۔ ہندوستان کی مصیبت یہ ہے کہ یہاں کا کرپشن حد سے باہر چلا گیا ہے۔
عبدل بھائی مسلمانوں میں نکاح و طلاق کے مسائل سے بہت پریشان تھے۔ خیال تھا کہ اس سلسلہ میں کچھ اصلاحی قانون بننا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں اصل مسئلہ قانون کا نہیں ہے ، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم بہت کم ہے۔ آدمی ہی جانتا ہے کہ کیسے جینا چاہئے۔ اس لئے اگر آپ اصلاح چاہتے ہیں تو قوم کو تعلیم یافتہ بنائیے ، اس کے بعد تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔
۶ جنوری ۱۹۹۵ء کو گوہاٹی سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ یہ سفر انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ نمبر ۸۹۰ کے ذریعہ طے ہوا۔ گوہاٹی سے واپسی میں جہاز کے نیچے بادلوں کی گہری چادر نہیں تھی۔ ہمارا جہاز بنگلہ دیش کے اوپر سے اڑتے ہوئے ہندوستانی علاقہ میں
میں نے جہاز کے نیچے دیکھا تو درختوں سے ڈھکا ہوا بنگلہ دیش ایک جنگل کی تصویر پیش کر رہا تھا۔
مجھے یاد آیا کہ ایک ہندوستانی جرنلسٹ مسٹر چنچل سرکار نے حال میں بنگلہ دیش کا سفر کیا اس کے بعد ان کا ایک تبصرہ دہلی کے انگریزی اخبار پائینیر میں چھپا تھا۔ مسٹر سرکار نے بنگلہ دیش میں مختلف قسم کے لیڈروں سے ملاقات کی۔ کوئی اسلامی سیاست کی بات کرتا تھا اور کوئی سیکولر سیاست کی۔ مگر ہر ایک کا اسلام بھی الگ تھا اور ہر ایک کا سیکولر زم بھی الگ۔ چنانچہ انھوں نے بنگلہ دیش کو ایک سیاسی جنگل (political jungle) سے تعبیر کیا تھا۔ یہ صرف بنگلہ دیش کی بات نہیں۔ اختلافات کی کثرت نے آج پوری مسلم دنیا کو اسی طرح کی صورت حال میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اتحاد کے لئے یہی کافی نہیں ہے کہ قوم کے پاس ایک کتاب اور ایک قرآن ہو۔ اگر لوگوں کا مزاج بگڑا ہوا ہو تو وہ ایک کتاب کی سیکڑوں تعبیر کرکے دوبارہ قوم کو افکار کے ایک جنگل میں بھٹکا دیں گے۔
اس قسم کی صورت حال ہمیشہ نااہل لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ قابل لوگوں کے لئے جتنا بولنا ضروری ہے اتنا ہی ضروری یہ ہے کہ وہ لوگ جو بولنے کے قابل نہیں ہیں وہ نہ بولیں ۔ ۹۹ آدمی چپ رہیں اسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی بولے اور اس کا بولنا لوگوں کے لئے مفید ثابت ہو۔
گوہاٹی سے دہلی تک ڈھائی گھنٹہ کا سفر تھا۔ درمیان میں کچھ اخبارات پڑھے۔ (گوہاٹی) کے شمارہ ۶ جنوری ۱۹۹۵ کے صفحہ اول پر ریاستی حکومت کے حوالے سے یہ خبر تھی کہ تری پورہ میں قبائلی جنگجوؤں (tribal militants) کے پاس جدید ہتھیاروں (sophisticated arms) کی بھاری مقدار پہنچ گئی ہے۔ وہ انسانوں کے اوپر ان ہتھیاروں کا تجربہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ اخبار کی اسی اشاعت میں کئی خبر یں تھیں کہ اچانک موٹر سائیکل پر کچھ لوگ آئے اور بے قصور لوگوں پر فائر کرکے بھاگ گئے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو علاقہ کی آزادی کے نام پر اپنی متشددانہ تحریک چلا رہے ہیں۔
کے بجائے اگر وہ یہ کہیں کہ ہم نراج اور بدامنی لانے کے لئے تحریک چلا رہے ہیں تو یہ زیادہ صحیح بات ہوگی۔
بدقسمتی سے ٹھیک یہی حال مسلم دنیا کا ہے۔ جگہ جگہ مسلم نوجوانوں نے اسلام کے نام پر ہتھیار اٹھارکھا ہے۔ حالاں کہ ان کی اس تشدد دانہ تحریک سے آج بھی صرف قتل وخون برآمد ہورہا ہے اور آئندہ بھی اس سے قتل وخون ہی کا تحفہ لوگوں کو ملنے والا ہے۔ کی ایک واضح مثال افغانستان ہے۔
ہوائی جہاز کے نیچے جو پہیہ ہوتا ہے وہ ایئر پورٹ پر جہاز چلانے کے لئے استعمال جب جہاز اوپر اٹھ کر اڑنے لگتا ہے تو پہیہ اندر کی طرف اٹھا لیا جاتا ہے۔ پائلٹ سے پوچھا کہ لینڈنگ کے وقت اگر آپ پہیہ کو نیچے گرانا بھول جائیں تو کیا ہوائی جہاز حادثہ کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ معمولی نقصان تو ہوگا، لیکن اس سے کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آئے گا۔ انھوں نے بتایا کہ لینڈنگ کے وقت پہیہ نیچے گرانے کے لئے یا د دہانی کے مختلف انتظامات کئے گئے ہیں۔ نئے ہوائی جہازوں میں کمپیوٹرائزڈ ریکارڈنگ ہوتی ہے جو لینڈنگ کے وقت پائلٹ کو ان الفاظ میں مسلسل وارننگ دیتی ہے : Check your landing gear, check your landing gear. میں نے پوچھا کہ جہاز کا پہیہ (لینڈنگ گیر) اوپر کیوں اٹھا لیا جاتا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ شاید اونچی بلڈنگ یا پہاڑ وغیرہ کی ٹکر سے بچانے کے لئے ایسا کیا جاتا ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ اصل یہ ہے کہ یہ پہیہ دس فٹ یا اس سے بھی زیادہ لمبا ہوتا ہے۔ اگر پہیہ نیچے لٹکار ہے تو اس کی وجہ سے ہوائی رکاوٹ پیدا ہو جائے گی :