Al-Risala · September 1997

سفر نامہ فلسطین

Al-Risala, September 1997

By Maulana Wahiduddin Khan

روم کی مسیحی تنظیم (The Community of S. Egidio) کی طرف سے یروشلم میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس میں یہودیت مسیحیت اور اسلام کے نمائندے اکٹھا ہوئے۔ کی دعوت پر فلسطین کا سفر ہوا۔ ذیل میں اس سفر کی روداد درج کی جاتی ہے۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۹۵ کی شام کو سفر پر روانگی ہوئی۔ ایئر پورٹ کے راستہ میں مغرب کی نماز کا وقت یہاں کینٹونمنٹ ایریا میں ایک مسجد ہے ۔ اس کے چاروں طرف دور تک سندھ دکھائی دیتا گاڑی سڑک کے کنارے روک کر مسجد میں پہنچا۔ جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔ نے سورہ الکوثر تلاوت کرتے ہوئے کہا : فصل لربك والنحر ان شانئك هو الابتر“ دل سے دعا نکلی کی خدایا، تیرے حکم کے مطابق میں نے نماز ادا کر لی۔ اب تو ان شانئك هو الابتر کے وعدہ کو میرے لیے پورا فرما۔ امام صاحب نے بتایا کہ اس مسجد کا نام الحبیبیہ مسجد ہے۔ اس مخصوص علاقہ میں ایک خوب صورت مسجد کو دیکھ کر خیال آیا کہ کچھ مسلم لیڈروں کی نادانی سے اس ملک کے مسلمانوں نے اگر چہ بہت کچھ کھو دیا ہے۔ مگر اب بھی یہاں ملک کے طول و عرض میں تقریباً چار لاکھ ایسی مسجدیں موجود ہیں جو اہل توحید کے لیے امید اور اعتماد کا نشان ہیں۔ فیضی کا یہ شعر مسلمانوں کے لیے مزید اضافہ کے ساتھ سچا ثابت ہوا ہے :

گفته گر شد ز کفم شکر که ناگفته بجا است ازدوصدگنج یکے مشت گہر باختہ ام دہلی کے انٹر نیشنل ایر پورٹ پر میں فلائٹ کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ کچھ لوگ خوش پوش اور خوش باش چہرہ کے ساتھ چلتے ہوئے نظر آئے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ یہ کہہ رہے ہوں کہ ہم ہماری جیب میں پیسے ہیں۔ ہم اپنی پسند کی کوئی بھی چیز دنیا کے بازار سے خرید سکتے ہم اپنی راحت اور خوشی کی کوئی بھی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔

میرے دل نے کہا کہ کیسا جھوٹا احساس کامیابی ہے جس میں لوگ جی رہے ہیں۔ اصل حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے ۔ کاش وہ اس جھوٹے بھرم سے باہر نکل سکیں ۔ میرے سفر کا راستہ یہ تھا —— دہلی، بمبئی، تل ابیب، دہلی۔ ایئر انڈیا کی فلائٹ ۳۱۱

کے ذریعہ دہلی سے روانگی ہوئی۔ جہاز کا مقرر وقت 9 بجے شام تھا۔ مگر جہاز ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے دہلی سے بمبئی کی دوری ۱۱۷۰ کلومیٹر ہے جو پونے دو گھنٹہ میں پوری ہوئی۔ دورانِ پرواز ایئر انڈیا کی فلائٹ میگزین نمسکار( (جولائی۔ اگست 1995) دیکھا۔ ایک صفحہ پر اوپر کے درجہ کے مسافروں سے کہا گیا تھا کہ فرسٹ کلاس اور ایگزیکٹیو کلاس کے مسافروں کے لیے دورانِ سفر میں بلا انقطاع تفریح (non-stop entertainment) کا انتظام کیا گیا میری سیٹ کے ساتھ ایئر فون رکھا ہوا تھا مگر میں نے اس کو استعمال نہیں کیا۔ اس قسم کی تفریحات نے انسان سے یہ موقع چھین لیا ہے کہ وہ کائنات میں بکھری ہوئی خدا کی تجلیات پر غور کرے اور ان سے اپنی روح کے لیے ربانی غذا حاصل کرے ۔ کائنات میں ہر طرف خدائی نغمے بلند ہو رہے ہیں مگر انسان نے ”ہیڈ فون“ لگا کر اپنے آپ کو اس سے محروم کر لیا ہے کہ وہ زیادہ اعلیٰ نغماتِ خداوندی کو سن سکے ۔

بمبئی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا تو یہاں بہت زیادہ بھیڑ نظر آئی۔ مسلمان اور عرب بھی کافی تعداد میں تھے۔ ایئرپورٹ پر لمبی مسافت طے کر کے کے ایل آل کے کاؤنٹر پر پہنچا۔ خاتون نے کہا کہ میں ایل آل کی طرف سے سیکیورٹی چیک کے لیے ہوں۔ اور میں آپ سے سوالات کروں گی۔ یہ خاتون آدھا گھنٹہ تک مجھ سے طرح طرح کے بے معنی سوالات کرتی رہی ــــــــ آپ کہاں سے آئے کہاں جا رہے ہیں۔ آپ کا ٹکٹ کس نے خریدا ہے۔ آپ کو کسی نے کوئی گفٹ دیا ہے۔ بیگ میں کیا کیا چیزیں ہیں۔ آپ کا یہ پاسپورٹ نیا ہے پھر پچھلا پاسپورٹ کہاں ہے۔ اس بیگ میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے۔ اگر سب سامان نکال دیا جائے تو بیگ کس کا ہے۔ آپ دہلی میں رہتے ہیں تو دہلی سے کیوں نہیں گئے، بمبئی سے کیوں جا رہے ہیں۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک وہ اس قسم کے سوالات کرتی رہی۔ میں پہلے تو معتدل انداز میں اس کا جواب دیتا رہا۔ مگر جب میں نے دیکھا کہ اس کے سوالات ختم ہی نہیں ہو رہے ہیں تو مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے کہا :

Who are you foolish girl to ask me such silly questions. میں نے کہا کہ میں تل ابیب نہیں جاؤں گا۔ میرے کاغذات مجھے لوٹا دو۔ میں اب دہلی واپس جا رہا ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ تم اپنا نام بتاؤ۔ میں تمہاری کمپلینٹ کروں گا اور پھر تم کو سب کچھ معلوم

ہو جائے گا۔ اب وہ گھبرا گئی اور نام بتانے کے لیے تیار نہیں ہوئی ۔ آخر میں ایک مرد آیا۔ اس نے کہا کہ تم ان۔ کو مت روکو اور اپنا نام لکھ کر دے دو۔ اس کے بعد اس نے اپنا نام سوسن تک (Ms Susan Jacob) اور فوراً میرا بورڈنگ کارڈ مجھے دے دیا۔ اس کے بعد ایک اور مرد مسٹر نیویل مستری (Naville Mistry) کو میرے ساتھ کر دیا۔ وہ پہلے مجھے ریسٹوراں میں لے گیا۔ کے بعد مجھے گیٹ نمبر تک پہنچایا جہاں سے مجھے آگے کا جہاز لینا تھا۔

ہندوستان میں ساڑھے چھ ہزار یہودی ہیں۔ ان میں سے ساڑھے پانچ ہزار بمبئی میں آباد بمبئی کی سموئيل اسٹریٹ پر یہودیوں کی ایک عبادت گاہ (synagogue) ہے جو 1796ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہندوستان میں یہودی دو ہزار سال پہلے آئے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے برصغیر ہند میں ان کی تعداد ساٹھ ہزار تھی۔ بمبئی میں مجموعی طور پر یہودیوں کے نوسینیگا گ موجود ہیں۔ تاہم یہودیوں کی دلچسپی اپنے مذہب سے اتنی کم ہے کہ سموئيل اسٹریٹ کے دوسوسالہ قدیم سینیگاگ میں سنیچر(سبت) (سبت) کے دن بمشکل دس یہودی اپنی ہفتہ وار عبادت کے لیے آتے ہیں (آفٹر نون، بمبئی، ۳ ستمبر ۱۹۹۵) بمبئی کے ابو القا صاحب (عمر ۷۴ سال) نے ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۵ کی ایک ملاقات میں بتایا کہ بمبئی میں ایران سے آیا ہوا ایک یہودی تھا۔ اس کا نام مسٹر کلائی (A. A. Kelaty) تھا۔ اس کی تجارتی فرم کا نام یہ تھا:

Printed page