It is absolutely incorrect
Al-Risala, January 1997, pp. 42–45
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے کئی بڑے ہندوؤں کے تاثرات مسٹر جناح کے بارے میں نقل کئے۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ چندی گڑھ میں پنجاب ہائی کورٹ کے جج تھے تو مسٹر گاڈ گل گورنر پنجاب نے ان سے کہا کہ مسٹر جناح کی پیشہ ورانہ دیانت داری (Professional integrity) مکمل طور پر ہر شبہ سے بالاتر اور اسی لئے وہ اپنے وقت میں انڈیا کے نمبر ایک قانون داں بن گئے ۔ میں نے مسٹر جناح کے بارے میں کئی تعلیم یافتہ ہندوؤں سے بات کی ۔ میں نے محسوس کیا کہ بٹوارہ کی تلخی کے باوجود ہر ایک ذاتی اعتبار سے مسٹر جناح کا قدرداں تھا ۔ مثلاً مسٹر ملکانی روائس پریزیڈینٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زبان سے ایک بار میں نے مسٹر جناح کی تعریف سنی۔ میں نے کہا کہ مسٹر جناح تو ملک کے بٹوارہ کے ذمہ دار تھے ، پھر بھی آپ ان کی تعریف کرتے ہیں۔ مسٹر ملکانی نے کہا: کچھ بھی ہو، وہ نرم دار تو تھا۔
فلارنس کے مختلف علاقوں میں بار بار جانے کا اتفاق ہوا۔ مگر وہاں کبھی ہارن کی آواز سنائی نہیں دی ۔ حتیٰ کہ پر شور انجن والی گاڑیاں بھی کہیں دکھائی نہیں دیں۔ آج میں نے دیکھا کہ ایک گاڑی مسلسل ہارن بجاتی ہوئی سڑک پر دوڑی چلی جا رہی ہے۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ یہ ایمبولنس کی گاڑی مغربی ملکوں میں ذاتی مقصد کے لئے کوئی ہارن نہیں بجاتا۔ یہاں صرف دو قسم کی گاڑیاں ہارن بجاتی ہیں ۔ ایمبولنس کی گاڑی یا فائر بریگیڈ کی گاڑی ۔
جسٹس کھنہ روزانہ صبح کو بی بی سی کا ٹی وی پر پروگرام دیکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ چند دن
پہلے انھوں نے بی بی سی پر سنا کہ اٹلی میں اگر چہ سیاسی عدم استحکام کا مسئلہ ہے۔ اس کے باوجود اقتصادی شرح ترقی (rate of growth) کے اعتبار سے اٹلی پورے یورپ میں سب سے آگے ہے۔ ایک ہندوستانی، جو عرصہ سے یورپ میں رہتے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ یورپ کے شہروں میں آپ نے خاص چیز کیا دیکھی۔ انھوں نے کہا کہ سکون۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ خیال ہے کہ یورپ کے شہروں کی سب سے زیادہ ممتاز صفت وہاں کی ریاضیاتی صحت ہر چیز اور ہر پہلو میں نظر آتی ہے :
The most striking feature of European cities is the mathematical precision which you see there in every thing and in every aspect. فلائنس کو اور اسی طرح یورپ کے دوسرے شہروں کو دیکھ کر بار بار میرے ذہن میں یہ سوال آتا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دین باطل کے علمبرداروں میں ہر طرف سلیقہ مندی ہے۔ حق کے حاملین کے یہاں ہر طرف بد سلیقگی دکھائی دیتی ہے۔ میں برسوں سے اس پر غور کرتا رہا ہوں۔ آج ۲۴ اکتوبر کی صبح کو اس کا جواب میرے ذہن میں آیا ۔ کم از کم ذاتی طور پر میں مطمئن ہو گیا کہ یہی اس سوال کا صحیح جواب ہے۔
جواب یہ ہے کہ اس فرق کا تعلق دین باطل یا دین حق سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق تمام تر اس رد عمل سے ہے جو جدید سائنسی انقلاب کے مقابلہ میں دونوں نے اختیار کیا۔ جدید سائنسی انقلاب جب ظاہر ہوا تو دین باطل کے علمبرداروں نے اس کو دل و جان سے قبول کر لیا۔ اس کے برعکس دین حق کے علمبرداروں نے اس کو اپنا دشمن سمجھا اور اس کو حقارت کے ساتھ رد کر دیا۔ دین باطل کے علمبرداروں کے یہاں ہر چیز میں جو نظم اور سلیقہ دکھائی دیتا ہے وہ ان کے مذہب کی دین نہیں ہے بلکہ تمام تر سائنس کی دین ہے۔ اسی طرح دین حق کے علمبرداروں کے یہاں جو بد نظمی اور بد سلیقگی نظر آتی ہے وہ بھی ان کے مذہب سے نہیں آئی ہے۔ وہ صرف اس کوتاہی کا نتیجہ ہے کہ سائنس کو اپنے لئے اجنبی یا خلاف اسلام سمجھ کر وہ اس سے دور ہو گئے۔ سائنس کیا ہے۔ سائنس نظم فطرت کا انکشاف ہے۔ سائنس خدا کی چھپی ہوئی نعمتوں کا ظہور سائنس حقائق عالم کا تعارف ہے۔ سائنس حسن تخلیق کو دریافت کر کے اس کو انسانی دنیا
میں منطبق کرنا ہے۔ سائنس سے بے تعلقی ایسی ہی تھی جیسے آفتاب کے نکلنے کے بعد کوئی شخص اپنی دونوں آنکھوں کو بند کر لے۔
۲۲ اکتوبر کو صبح کاسیشن اسلام کے بارہ میں تھا۔ اس کی صدارت اٹلی کے ایک مشہور جرنلسٹ ایگورمان (Igor Man) نے کی۔ چار مسلم مقررین تھے۔ مصطفیٰ العلوی (مراکو)، احمد محمد زباره (یمن)، نصراللہ پور زوادی (ایران) اور راقم الحروف ۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ برآمدہ میں بھی بہت سے لوگ کھڑے ہوئے نظر آئے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ لوگ اسلام کے بارہ میں سننا چاہتے ہیں۔
پہلے صدر جلسہ نے مختصر تقریر اطالوی زبان میں کی۔ اس کو میں نے انگریزی میں سنا۔ نے کہا کہ یورپی ملکوں میں اسلام کے بارہ میں ایک خوف (fear) پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام ایک تشدد کا مذہب ہے۔ اسلام ان ٹالرنس کو فروغ دیتا ہے۔ مقررین کو آج اس سوال کا جواب دینا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام اگر تشدد کا مذہب ہوتا تو وہ ساری دنیا میں پھیل نہیں سکتا تھا۔ اور اگر سیاسی طاقت کے زور پر پھیلتا تو سیاسی طاقت کے کمزور ہوتے ہی وہ ختم ہو جاتا۔
شیخ احمد محمد زباره نے اپنی عربی تقریر میں قرآن کی کئی آیتیں پیش کیں اور کہا کہ اسلام تمام آسمانی مذاہب کی تصدیق کرتا ہے (ان الاسلام يُقِرُّ الأديان السماوية كلها)۔ شیخ مصطفیٰ العلوی کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام عدل اور سلامتی کا دین ہے۔ (الاسلام دين العدل والسلام)۔ پروفیسر پور زوادی کی انگریزی تقریر ایرانی اسلام پر انھوں نے کہا کہ نو جوانی کی عمر میں ہم لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام سارے مسائل کا حل ہے۔ اس لئے ہم لوگ شاہ کی حکومت کے خلاف ہو گئے تاکہ اس کو ختم کر کے اپنے خوابوں کا اسلام قائم کر سکیں۔ مگر انقلاب کے بعد ایران میں نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ مثلاً یہ سوال پیدا ہو گیا کہ کیا دورِ جدید میں سنگسار کرنا اور ہاتھ کاٹنا جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ جلسہ کے آخر میں میں نے ایرانی پروفیسر سے کہا کہ آپ نے تو صرف مسائل بیان کئے، حالاں کہ مقرر کی حیثیت سے آپ سے توقع کی گئی تھی کہ آپ مسائل کا حل بتائیں گے۔
میری تقریر انگریزی میں تھی اور اس کا عنوان تھا: اسلام اور امن (Islam and Peace) حاضرین میں سے کچھ لوگوں نے بتایا کہ آپ کی تقریر بہت واضح اور قابل فہم تھی۔ اس کو بہت پسند کیا گیا ۔ صدر جلسہ نے آخر میں بولتے ہوئے کہا کہ انقلاب کے بعد میں ایران گیا اور امام خمینی سے انٹرویو لیا۔ میں نے بعد از انقلاب مسائل کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ ہمارا انقلاب ابھی وہ ابھی تکمیل کو نہیں پہنچا۔ مگر عجیب بات ہے کہ انقلاب کے 7 سال بعد آج بھی ایرانی پروفیسر وہی زبان بول رہے ہیں۔ واضح ہو کہ ایران میں " اسلامی انقلاب" جنوری ۱۹۷۹ میں آیا تھا۔
تقریر وں کے بعد سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کئے۔ ایک عرب نوجوان نے میری تقریر پر بولتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب مگر امن محض امن کی باتیں کرنے سے قائم نہیں ہوسکتا۔ امن کے قیام کی دو لازمی شرطیں رفع الظلم وتحقيق الحق۔ یعنی ظلم کو ختم کرنا اور حق کو قائم کرنا۔ پہلے ہم کو ظلم کا خاتمہ کر کے حق کو غالب کرنا ہو گا۔ اس کے بعد ہی امن قائم ہو سکتا ہے۔
میں نے کہا کہ تشدد یا خوف کے ماحول میں کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا۔ امن کی ضرورت اس لئے ہے کہ امن سے کام کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ رفع ظلم یا اقامت حق کے لئے بھی اسی وقت کوئی مؤثر کوشش کی جا سکتی ہے جب کہ ماحول میں امن و امان کی فضا موجود ہو۔ جاپان کے ایک بدھسٹ نے میری تقریر پر سوال کیا کہ آپ نے کہا ہے کہ اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے۔ البتہ دفاعی جنگ ہے۔ مگر دفاعی جنگ سے آپ کی کیا مراد ہے۔ آجکل کے زمانہ میں ہر ملک میں ڈیفنس منسٹری ہوتی ہے۔ ایک ملک ڈیفنس کے نام پر دوسرے ملک سے جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ " دفاعی جنگ مخصوص شرطوں پر" اس کا مطلب یہ ہے کہ دفاعی جنگ بھی صرف اس وقت کی جاتی ہے جبکہ جنگ سے بچنے کی تمام ممکن کوشش ناکام ہو جائے۔ دشمن آپ کے اوپر اس طرح ٹوٹ پڑے کہ آپ کے لئے بچاؤ کی کارروائی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ گویا دفاع مجبورا نہ جنگ کا نام ہے اور جارحیت اقدامی جنگ کا نام۔