Kelaty Trading Company
Al-Risala, September 1997
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ شیپ کیسنگ (sheep casing) کی سپلائی کا کام کرتا تھا۔ ۱۹۷۱ میں اس کے ساتھ ابوالبقاصاحب کی پارٹنر شپ ہوئی۔ کئی سال تک اس کے ساتھ پارٹنر شپ بہت اچھی طرح چلتی رہی۔ اس کے بعد وہ بمبئی چھوڑ کر اسرائیل گیا اور وہاں سے پھر امریکہ چلا گیا۔
جب دونوں میں پارٹنر شپ کی بات ہوئی تو مسٹر کلائی نے کہا کہ دیکھئے، آپ مسلمان ہیں، میں ایک یہودی ہوں۔ عرب اور اسرائیل کی نزاع میں میرا آپ کا اختلاف واضح ہے، اس کے باوجود ہمیں اپنی مشترک تجارت کو کامیابی کے ساتھ چلانا ہے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ ہم آپ کبھی عرب اور اسرائیل کے مسئلہ پر بات نہ کریں۔ چنانچہ دونوں اس پر قائم رہے ۔ ان کی پارٹنر شپ آپ جی رب اور اسراریں کے سلہ پر بات نہ کریں۔ چاپہ پہ رودوں اس پر کام رہے ۔ ان ہی پار پر چپ آخر وقت تک کامیابی کے ساتھ چلتی رہی۔
اسرائیلی ائیر لائن کا نام ایل آل (El Al) ہے۔ اس کی فلائٹ نمبر ۸۲ (LY-082) کے ذریعہ بمبئی سے روانگی ہوئی۔ جہاز اپنے وقت پر صبح چار بجے روانہ ہوا۔ جب کہ کی لینڈرمیں، ۲ اگست کی تاریخ ہو چکی تھی۔ یہ سات گھنٹہ کی مسلسل پرواز تھی۔ راستہ میں بار بار نیند آتی رہی۔ طرح راستہ آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔
جہاز میں ایک شخص نے میرے چہرہ پر داڑھی اور سر پر پگڑی دیکھ کر کہا کہ کیا آپ سکھ ہیں؟ Are you a Sikh میں نے کہا کہ نہیں، میں مسلم ہوں۔ اگر وہ زیادہ غور کرتا تو ایسا سوال نہ کرتا۔ کیوں کہ میری داڑھی سکھوں کی داڑھی سے مختلف تھی۔ اسی طرح میری سفید پگڑی سوڈانیوں کی پگڑی سے مشابہ تھی نہ کہ سکھوں کی فرق یہ ہے کہ سوڈانیوں کی پگڑی کافی بڑی ہوتی ہے اور میری نسبتاً چھوٹی۔ جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو نیچے بادلوں کا منظر تھا جس کے اوپر جہاز رینگتا ہوا دکھائی دے میں نے سوچا کہ یہی منظر ہر جہاز میں اور ہر ملک میں سفر کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ کے سفر میں جو منظر مشاہدہ میں آرہا ہے وہی غیر اسرائیل کے سفر میں بھی نظر آتا ہے۔ مگر انسان کا مزاج وہ مشابہتوں پر دھیان نہیں دیتا اور اختلافات کی طرف زیادہ دوڑتا ہے۔ جہاز اور اس کی سروس دوسرے ملکوں کے جہازوں کے مقابلہ میں معمولی تھی۔ حتی کہ ایرا نڈیا کے مقابلہ میں بھی۔ رات کو مسافروں کی تفریح کے لیے جو فلم دکھائی گئی وہ زیادہ تر مار دھاڑ کی فلم تھی۔ کچھ نوجوان گولی مارتے ہوئے اور بم مارتے ہوئے دکھائے گئے جس سے ماحول میں تباہی پھیل گئی۔ میں نے سوچا کہ اسرائیل کی اقتصادیات جنگی اقتصادیات (war-based economy) ہے۔ کے تمام بہترین وسائل جنگی تیاریوں اور متشددانہ کارروائیوں پر صرف ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل سنگاپور اور جاپان کی طرح ترقی نہ کر سکا۔
صبح کو کھڑکی کھولی تو سورج کی سنہری روشنی کھڑکی کے راستہ سے اندر داخل ہوئی اور جہاز کے اندر ہر طرف روشنی پھیل گئی۔ میں نے سوچا کہ سورج اسرائیلی جہاز اور غیر اسرائیلی جہاز میں فرق نہیں کرتا۔ اس کی نفع رسانی ہر ایک کے لیے یکساں طور پر جاری ہے۔ یہ خدائی اخلاقیات ہے جس کو گویا سورج کے ذریعہ معلوم و مشہود بنایا جا رہا ہے۔
بمبئی اور تل ابیب کے درمیان پرواز کرتے ہوئے ایک انگریزی میگزین ایکشن ایشیا (Action Asia) کا شمارہ اگست ۔ ستمبر ۱۹۹۵ دیکھا۔ یہ میگزین امریکہ سے شائع ہوتا ہے۔ یہ دو ماہی میگزین ہر اعتبار سے نہایت عمدہ تھا۔ امریکہ موجودہ زمانہ میں غیر امریکی ملکوں کا بھی چیمپین بنا ہوا ہے۔ اس میں ایک مضمون کامیاب لوگوں (Achievers) کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نیپال کے کچھ دریاؤں میں پانی نہایت طغیانی کے ساتھ بہتا ہے۔ ان میں کشتی چلانا بہت جوکھم کا معذور لوگوں کی ایک ٹیم نے طے کیا کہ وہ ان دریاؤں میں عین طغیانی کے زمانہ میں کشتی انھوں نے سوچا کہ ہم جسم کے اعتبار سے معذور ہیں مگر ہمارا دماغ معذور نہیں: We are disabled only in body, not in mind. نومبر ۱۹۹۴ میں چھ معذور افراد نے ہر قسم کے ضروری سامان سے لیس ہو کر اپنی کشتی دریا میں ڈال دی۔ انھوں نے ہمت سے کام لے کر کامیابی حاصل کی اور یہ ثابت کیا کہ اعلیٰ کارکردگی کے لیے واحد رکاوٹ صرف وہ ہے جو آدمی خود اپنے اوپر ڈال لے:
A group of disabled adventurers took on the wild white water of Nepal. A group of disabled adventurers took on the wild white water of Nepal, and proved the only limits to performance are those we impose on بمبئی کے تجربہ کی بنا پر مجھے اندیشہ تھا کہ شاید اسرائیلی ایرپورٹ پر پہنچ کر وہاں بھی اسی قسم کا سخت تر معاملہ پیش آئے۔ تاہم یہ سوچ کر مطمئن تھا کہ وہاں ایرپورٹ پر کانفرنس کے منتظمین موجود ہوں گے اور وہ میرے لیے کافی ہو جائیں گے۔ مگر جہاز سے باہر آنے کے بعد وہاں کوئی دکھائی نہیں چنانچہ میں دوسرے مسافروں کے ساتھ لائن میں لگ گیا۔ یہاں بھی اتفاق سے کھڑکی کے پیچھے ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی۔ مگر اس نے چند معمولی سوال پوچھ کر فوراً ہی میرے پاسپورٹ پر اسٹیمپ ڈال دی اور مجھے رخصت کر دیا۔
باہر آیا تو ڈاکٹر لیونار ڈومل گئے جو میری رہنمائی کے لیے یہاں آئے ہوئے تھے۔ ساتھ کچھ دیر کے لیے وی آئی پی لاؤنج میں بیٹھا۔ پھر بذریعہ کار یروشلم کے لیے روانگی ہوئی۔ مایا سے اپنے ساتھ لے گیا ہے، اس کے علاوہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جس اسرائیلی رابرٹ سرماز جہاز اترا ہیلی کا پٹر ہے، اور یہاں کے تمام پتے معلوم کئے گئے ہیں۔ ان میں اسرائیل کی جانب سے یہاں سے تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ جس اسرائیلی ایر پورٹ پر ہمارا جہاز اترا اس کا نام بن گوریان انٹرنیشنل ایر پورٹ ہے وہ لُد (Lod) کے علاقہ میں واقع ہے۔
وسیع ایئر پورٹ پر جہاں ہمارا جہاز اترا عین اسی مقام پر سفید رنگ کا ایک اونچا مینار تھا۔ یہ مینار اپنی بلندی کی وجہ سے دور سے دکھائی دیتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ مسیح ابن مریم جب نازل ہوں گے تو وہ دجال کا پیچھا کریں گے۔ تک کہ وہ لد کے دروازہ پر اس کو پکڑیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے (فیطلبہ حتی یدركه بباب لُدّ فيقتله) صحیح مسلم، سنن ابی داؤد وغیرہ اس مقام کا قدیم نام لُد ہے۔ انگریزی میں اس کو لُڈہ (Lydda) کہتے ہیں۔ جس مقام کا ذکر ہے، ممکن ہے کہ وہ یہی مقام ہو۔ اس کا نام بائبل میں کئی بار آیا ہے۔ نے ۲۹ نومبر، ۱۹۴۷ کو فلسطین کی تقسیم کا جورتزولیوشن پاس کیا تھا اس کے تحت یہ مقام عربوں کو دیا گیا مگر ۱۲ جولائی ۱۹۴۸ کو اسرائیلی فوجوں نے حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت سے وہ اسرائیل کا ایک حصہ ہے۔ لد کا یہ انٹر نیشنل ایئر پورٹ اسرائیل کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے۔ دورِ آخر میں حضرت مسیح کے نزول کے بارہ میں بعض حضرات نے مختلف رائیں پیش کی ہیں۔ مثلاً علامہ اقبال اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں :
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہیں یا مجدد، جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات ایئر پورٹ سے یروشلم کا سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ سڑک نہایت عمدہ تھی۔ درخت کی قطاریں کھڑی ہوئی تھیں۔ مگر درختوں پر وہ ہریالی نہ تھی جو ایک ہفتہ پہلے ہریا نہ کے سفر میں سڑک کے دونوں طرف میں نے دیکھی تھی۔ اس کی وجہ یہاں بارش کی کمی ہے۔
راستہ میں سڑک کے دونوں طرف بستیاں دکھائی دیں۔ وہ سب کریم کلر کے پتھروں سے بنائی گئی تھیں۔ یروشلم میں داخل ہوا تو تمام عمارتیں اسی قسم کے پتھروں کی نظر آئیں میرے ساتھی نے بتایا کہ عمارتوں کو پتھر سے بنانے کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ اس کی قدیم وضع کو باقی رکھنا چاہتے تاہم تمام عمارتیں جدید فن تعمیر کے مطابق بنائی گئی تھیں اور خوب صورت تھیں۔ یروشلم کا عرب سیکٹر جغرافی اعتبار سے یہاں کے سب سے بہتر اور خوب صورت علاقہ میں
یروشلم کی سڑکوں پر چلتے ہوئے مختلف قسم کے مناظر سامنے آئے۔ دکانوں کے سائن بورڈ میں انگریزی اور عبرانی کے ساتھ عربی زبان کے اندراجات بھی دکھائی دیے مثلاًٹیلی فون کے ساتھ تلفون وغیرہ۔
سڑک سے گزرتے ہوئے ہم ایک علاقہ میں پہنچے تو میرے گائیڈ نے کہا، یہ جنوش اسرما ہے۔ جیوش علاقہ واضح طور پر زیادہ صاف اور کشادہ تھا۔ ایک فرق یہ نظر آیا کہ عرب ایریا میں دکانوں کے آگے لوگ فٹ پاتھ پر کرسیاں بچھائے ہوئے باہر بیٹھے ہیں۔ تجارتی سامان بھی باہر رکھا ہوا تھا۔ مگر یہودی ایریا میں دکانوں کے سامنے نہ کرسی دکھائی دی نہ دکان کے باہر کوئی سامان رکھا ہوا نظر اسی طرح عرب ایریا میں دکانوں سے عربی گیت کی آواز سنائی دے رہی تھی جب کہ یہودی ایریا میں خاموشی کا منظر تھا۔
اسی خوب صورت عرب سیکٹر کے ایک سر سبز رقبہ میں وہ ہوٹل واقع ہے جس میں میرے ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس ہوٹل کا نام (Hotel 7 Arches) ہے۔ اس کے کمرہ نمبر ۶۰۲ میں میرا قیام اس کمرہ کے اندر میں داخل ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ ایک طرف کی لمبی دیوار جو پوری کی پوری شیشہ کی تھی۔ اس کے اوپر حسب قاعدہ پردہ پڑا ہوا تھا۔ میں نے پردہ ہٹایا تو سامنے کھلی دھوپ میں بیت المقدس کا سنہری رنگ کا گنبد چمک رہا تھا۔ ہوٹل سے بہت قریب ہے اور میرے کمرہ کے شیشہ سے بالکل صاف دکھائی دے رہا تھا۔ دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے یروشلم میں میرے لیے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے عین پڑوس میں قیام کا انتظام فرمایا۔
میں دیر تک بیت المقدس اور اس کے ارد گرد علاقہ کو دیکھتا رہا۔ یہی وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں الذي باركنا حوله کہا گیا ہے۔ تاریخ مجسم ہو کر سامنے کھڑی ہوئی نظر آئی۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق نے آکر اسی مقام پر نماز ادا کی تھی اور پھر وہاں مسجد بنائی گئی تھی۔ ۱۹۸۲ میں جب میں حج کو گیا تو اکثر بیت اللہ میں داخل ہو کر کعبہ کو دیکھتا رہتا تھا۔ یہاں میں خود اپنے ہوٹل کے کمرہ سے میں درج کر لیا تھا۔ امر بیت اللہ کو دیکھا ر ہا تھا۔ یہاں میں خود اپنے ہونے کے مزہ سے بیت المقدس کو دیکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے یہ سعادت بھی مقدر فرمائی تھی۔ دہلی میں میری رہائش ایک ایسے مکان میں ہے جو گویا نئی دہلی اور پرانی دہلی کے درمیان
موجودہ ہوٹل کی نوعیت بھی یہی ہے۔ اس ہوٹل کے ایک طرف جدید یروشلم کی عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری طرف قدیم یروشلم ہے جس میں عرب سیکٹر واقع ہے۔ ظہر کا وقت ہوا تو مختلف مسجدوں سے اذان کی آوازیں آنے لگیں۔ معلوم ہوا کہ ہندوستان کے شہروں کی طرح یہاں بھی عرب علاقہ کی مسجد وں میں اور خود بیت المقدس میں لاؤڈ اسپیکر لگے ہوئے ہیں اور پانچوں وقت ان سے اذان کی آوازیں فضا میں بلند ہوتی ہیں۔ مجھے تعجب انگیز خوشی ہوئی کہ پچاس سالہ یہود و عرب کے خونیں نزاعات کے باوجود آج بھی یہاں یہ مواقع موجود ہیں کہ مسلمان لاؤڈ اسپیکر پر پانچوں وقت اذان بلند کریں اور مسجدوں میں جمع ہو کر باقاعدہ نماز ادا کریں۔ فلسطین تین بڑے مذہب کا مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہود کا اس لیے کہ ان کے خیال کے مطابق وہ براہِ راست خدا کی طرف سے انھیں دیا گیا ہے۔ وہ ان کے لیے ارض موعود ہے (Promised Land) جس کا فیصلہ براہِ راست خدا کی طرف سے کیا گیا۔ عیسائیوں کا اس لیے کہ حضرت مسیح یہاں پیدا ہوئے اور اسی سر زمین میں انھوں نے اپنے مشن کی تکمیل کی۔ کا اس لیے کہ پیغمبر اسلام معراج کے سفر میں یہاں آئے اور ہجرت کے بعد ایک سال سے زیادہ مدت تک بیت المقدس کو اپنی عبادت کا قبلہ بنایا۔
فلسطین کا اہم ترین شہر یروشلم ہے۔ اسی کے علاقہ میں تینوں مذاہب کے مقدس مقامات اس کی تاریخ چودہویں صدی قبل مسیح تک جاتی ہے جب کہ اس علاقہ پر مصریوں کی حکومت اس کے بعد بار بار اس علاقہ کی حکومت بدلتی رہی۔ اس زمانہ کی تقریباً تمام قو میں ایک کے بعد ایک اس پر حکومت کرتی رہیں یہاں تک کہ ایک ہزار قبل مسیح میں حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت فلسطین وشام کے علاقہ میں قائم ہوئی۔ جو مزید اضافہ کے ساتھ ان کے صاحب زادہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ تک جاری رہی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے یروشلم کی توسیع کی اور قدیم یہودی عبادت خانہ (ہیکل) تعمیر کیا۔ جس کا اب صرف ایک حصہ دیوار گریہ (مغربی دیوار) کی صورت میں موجود ہے۔ حضرت سلیمان کے بعد مختلف حکمران یروشلم کو اور معبد کو تباہ کرتے رہے یہاں تک کہ سلیمانی ہیکل ایک کھنڈر کی صورت میں باقی رہ گیا۔
۶۳۸ میں جب کہ اس علاقہ میں رومیوں کی حکومت تھی، عربوں نے رومیوں کو شکست
دے کر فلسطین پر اپنا قبضہ قائم کیا ۔ خلیفہ دوم عمر فاروق فاتحانہ طور پر مدینہ سے یروشلم پہنچے۔ کے اس سفر کی یادگار مسجد عمر کی شکل میں آج بھی یروشلم میں کنیسۂ قیامہ کے پاس موجود ہے۔ کی سلطنت کے زمانہ میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مقدس صخرہ کے اوپر ایک گنبد تعمیر کیا جو بیت المقدس (قبة الصخرة) کے نام سے مشہور ہے۔
خلیفہ عمر فاروق نے اہل فلسطین کے ساتھ نہایت رواداری کا معاملہ فرمایا۔ وہاں انھوں نے جو تقریر کی تھی اس میں یہ اعلان کیا کہ اے اہل فلسطین تم کو بھی وہی تمام حقوق حاصل ہوں گے جو اسلامی قانون کے تحت مسلمانوں کو حاصل ہیں (یا اہل ایلیاء لكم مالنا وعلیکم ما علینا)
مسلم سلطنتوں کے زمانہ میں خلافت راشدہ کے بعد بھی رواداری کی یہی پالیسی جاری مورخین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ بنو امیہ اور بنو عباس دونوں نے یہودی اور عیسائی باشندوں کے حق میں فراخدلی کی پالیسی اختیار کی :
عباسی سلطنت کے بعد یہ پالیسی پوری طرح باقی نہ رہ سکی۔ کہا جاتا ہے کہ مصر کے فاطمی خلیفہ نے ۱۵۱۵ میں عیسائیوں کے مقدس مقامات کو توڑنے کی دھمکی دی۔
عیسائی اپنی سابق روایت کے مطابق مختلف مقامات سے جوق در جوق اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آتے تھے۔ اس سلسلہ میں مقامی طور پر غالباً کچھ ناخوش گوار واقعات سلجوقی سلطنت کے زمانہ میں ۱۰۷۱ میں عیسائی زائرین کے راستے بند کر دیے گئے۔ سے عیسائیوں کا مذہبی طبقہ بہت زیادہ برانگیختہ ہو گیا۔ اس نے یورپ کے مسیحی حکمرانوں کو غیرت اس کے نتیجہ میں قدس پر مسیحی قبضہ بحال کرنے کے لیے وہ طویل جنگ شروع ہوئی جو کروسیڈس کے نام سے مشہور ہے۔
ان صلیبی جنگوں کے نتیجہ میں مسیحی حکمراں عارضی طور پر یروشلم پر قابض ہو گئے ۔ ان کا یہ قبضہ ۱۰۹۹ سے ۱۱۸۷ تک باقی رہا ۔ اس کے بعد صلاح الدین ایوبی نے ایک فیصلہ کن جنگ
میں مسیحی قبضہ کو ختم کر کے دوبارہ مقدس پر مسلم سلطنت قائم کی۔
اس کے بعد تھوڑے تھوڑے وقفہ کے لیے چند انقلابات پیش آئے اور آخر میں ۱۵۱۷ء میں عثمانی سلطان سلیم اول نے یہاں ترک حکومت قائم کی جو مسلسل چار سو سال تک باقی رہی۔ میں برطانیہ نے لیگ مینڈ یٹ کے تحت یروشلم پر سیاسی بالا دستی حاصل کر لی۔ فلسطین کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد یروشلم کا نیا دور آیا تو ابتدامیں شہر ۱۹۴۸ء سے ۱۹۶۷ء تک دو حصوں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک کو اردنی سیکٹر اور دوسرے کو اسرائیلی سیکٹر کہا جاتا تھا۔ کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے بقیہ نصف پر قبضہ کر کے پورے یروشلم پر اپنا کنٹرول قائم مصر کے سابق حکمراں جمال عبدالناصر جوالاخوان المسلمون کی مکمل تائید سے حکومت میں آئے تھے، انھوں نے احمقانہ جوش کے تحت جولائی ۱۹۵۶ء میں نہر سوئز کے پٹہ کو قبل از وقت منسوخ کر دیا اور اس کو سر کاری قبضہ میں لینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد حالات میں جو زبر دست تبدیلی ہوئی اسی کا نتیجہ تھا کہ یروشلم پورا کا پورا اسرائیلی قبضہ میں چلا گیا ۔ بیشتر انسانی تباہیاں ہمیشہ نادانی کے اقدام کے نتیجہ میں پیش آتی ہیں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، الرسالہ نومبر ۱۹۹۲ء صفحہ ۲۸) یروشلم میں پہلی عبادت گاہ (ہیکل) حضرت سلیمان نے اپنی بادشاہت کے زمانہ میں بنائی۔ یہ ہیکل ، ۹۵ ق م میں بن کر تیار ہوا۔ اس عبادت گاہ کو بابل (عراق) کے حکمراں بنو خذ نصر (Nebuchadrezzar II) نے لوٹا اور ۵۸۶ ق م میں اس کو مکمل طور پر ڈھا دیا ۔ کے بعد یہودیوں نے یہ عبادت گاہ دوبارہ بنائی۔ اس دوسری عبادت گاہ (ہیکل) کو بھی رومیوں نے ۷۰ء میں ڈھاکر کھنڈر کر دیا۔ اس عمارت کی صرف ایک دیوار باقی رہ گئی ہے جس کو دیوار گریہ (Wailing Wall) یا مغربی دیوار کہا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یروشلم کی وہ کون سی "مسجد اقصی تھی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء اور معراج کے وقت ۶۲۲ء میں تمام انبیاء کے ساتھ نماز ادا فرمائی۔ تاریخی شہادت کے مطابق، اس وقت وہاں صرف کھنڈر تھا، اس وقت وہاں کوئی "مسجد" موجود نہ تھی۔ مگر صحیح بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں جب اپنے اس واقعہ کا اعلان فرمایا
تو قریش نے اس پر یقین یں کیا۔ اس وقت مکہ میں کچھ ایسے افراد تھے جنھوں نے یروشلم کا سفر کیا تھا اور مسجد کو دیکھا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کیا آپ مسجد کا نقشہ بتا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے نقشہ بتانا شروع کیا تو اس کی بعض چیزوں کے بارے میں آپ مشتبہ ہو گئے ۔ اسی وقت مسجد لا کر آپ کے سامنے رکھ دی گئی۔ اور آپ نے دیکھ کر اس کا پورا نقشہ بیان کر دیا۔ قریش نے کہا کہ جہاں تک بیان کرنے کا تعلق ہے انھوں نے ٹھیک بیان کیا (اما النعت فقد (صاحب) فتح الباری ۲۴۴/۸ بخاری کی روایت کے مطابق ، ۶۲۲ء میں وہاں باقاعدہ ”مسجد “ کی عمارت ہونا چاہیے۔ مگر موجودہ تاریخی شہادتوں سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ اس قابل ہے کہ از سر نو اس کی تحقیق کی جائے۔
ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اہل کتاب کی روایت کے مطابق ، حضرت یعقوب علیہ السلام جن کو یہودی اسرائیل کہتے ہیں ، انھوں نے مسجد اقصیٰ کی بنا ڈالی ، یہ فلسطین (ایلیا) کی مسجد ہے جس کو بیت المقدس کہا جاتا ہے (البدایہ والنہایہ ۱۶۲/۱)
اصل یہ ہے کہ حضرت یعقوب نے جس مقام پر یہودی معبد کی بنیاد رکھی تھی ، اسی مقام پر بعد کو ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی گئی ۔ اس ہیکل کو ایک سے زیادہ بار تباہ کر دیا گیا۔ معراج کے وقت یہاں زیادہ تر کھنڈر تھا۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی نے لکھا ہے کہ قرآن میں (المسجد الاقصیٰ سے مراد جگہ ہے نہ کہ کوئی عمارت :
(Masjid) properly denotes the site, not the building of a mosque. (3/2) مسجد اقصی بظاہر ہیکل سلیمانی کے کھنڈر پر بنائی گئی۔ اور بیت المقدس کی تعمیر صخرہ (چٹان) کے اوپر ہوئی ۔ یہاں دیکھ کر معلوم ہوا کہ مسجد اقصیٰ ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے اور وہ پورے معنوں میں ایک مسجد ہے ۔ مگر بیت المقدس معروف معنوں میں کوئی مسجد نہیں ہے۔ اس کی تعمیر مقبرہ جیسی ہے ۔ جس طرح ہمارے یہاں قبر کے اوپر گنبد بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح صخرہ کے اوپر گنبد بنایا گیا ہے ۔ اس کے اندر با جماعت نماز نہیں ہو سکتی ۔ اسی لیے یہاں کسی موقع پر نماز نہ ہوتی ہے تو قبہ کے باہر میدان میں صفیں قائم کی جاتی ہیں۔
صخرہ کے متعلق یہود کی روایت ہے کہ یہاں ان کے ستر نبی قتل کیے گئے ان میں حضرت یحییٰ بن زکریا
بھی تھے ۔ یہود کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کی قربانی بھی اسی صخرہ پر کی تھی ۔ کے نزدیک یہ حضرت اسحاق تھے۔ کیوں کہ وہ لوگ حضرت اسحاق علیہ السلام ہی کو ذبیح مانتے ہیں (البدایہ والنھایہ ۵۵/۲)
کویت کے میگزین المجتمع (یکم اگست ۱۹۹۵) میں سعودیہ کے سعود محمد الزعبی نے لکھا تھا کہ ۸۰ فیصد مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ قبة الصخرة ہی المسجد الاقصیٰ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ غالباً ۹۹ في صد لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اور یہ غلط فہمی بہت پہلے سے چلی آرہی ہے۔
ابن ہشام نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصٰی لے جایا گیا اور وہ بیت المقدس ہے (ثم اسریٰ برسول الله صلى الله عليه و سلم من المسجد الحرام الى المسجد الاقصی وهو بيت المقدس) سيرة ابن ہشام ۲/۲ ابن کثیر نے اپنی تفسیر قرآن میں لکھا ہے کہ : الی المسجد الاقصی وهو بيت المقدس (تفسیر ابن کثیر ۲/۳) یہی بات قرطبی نے بھی لکھی ہے کہ : (اسری به من المسجد الحرام الى المسجد الاقصی وهو بيت المقدس) (۲۱۰/۱۰)
اسی طرح مولاناشبیر احمد عثمانی نے اپنی تفسیر قرآن میں لکھا ہے کہ۔ یعنی جس ملک میں مسجد اقصی (بیت المقدس) واقع ہے۔ (صفحه ۳۶۵) مولانا ابوالاعلی مودودی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے : مسجد حرام یعنی بیت اللہ سے مسجد اقصی یعنی بیت المقدس تک (تفہیم القرآن ۵۸۸/۲) مسجد اقصی کا مسئلہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے نزدیک ان کا سب سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے اس کے بارے میں ساری دنیا کے مسلم پریس میں مسلسل مضامین اور رپورٹوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کی اصل نوعیت کے بارے میں لوگوں کی معلومات بے حد کم ہیں۔ ہر ایک بس جذباتی انداز کی تحریریں شائع کر رہا ہے ۔ مثلاً مسجد اقصی کی بازیابی پر ایک مضمون چھپے گا اور اس کے ساتھ جو تصویر شامل کی جائے گی وہ بیت المقدس حالاں کہ دونوں واضح طور پر دو الگ الگ عمارتیں ہیں اور دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے۔ مثلاً بمبئی کے ایک ماہنامہ میں اس مسئلہ پر ایک نہایت جذباتی
مسجد اقصیٰ صیہونی تابوت کے حصار میں سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ o (بنی اسرائیل: ۱) ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرد و پیش ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔
تحریر شائع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ مسجد اقصیٰ کی تصویر ہے اور اس تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے: ”مسجد اقصیٰ کو یہودی تولیت سے آزاد کراؤ (تصویر اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو) اصل مضمون جو نہایت جذباتی انداز میں لکھا گیا ہے۔ اس کے چند جملے یہ ہیں: جہاں تک مسجد اقصیٰ کا تعلق ہے اس پر پورے عالمِ اسلام کا حق ہے اور اس پر یہودیوں کے غاصبانہ تسلط کو عالم اسلام کبھی برداشت نہیں کر سکتا اور جب تک یہودی اس پر قابض ہیں دنیا کا ایک ایک مسلمان اس کی آزادی کے لیے جہاد کرتا رہے گا اور عالم اسلام میں اس وقت تک امن و چین کا ماحول پیدا نہیں ہو گا جب تک مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور پیغمبر اسلام کے معراج کی پہلی منزل یہودیوں سے آزاد نہیں ہو جاتی۔ اس لیے مسجد اقصیٰ اور عالمِ اسلام کے دوسرے مقاماتِ مقدس کی بابت یہودیوں سے ساز باز اور ان سے سیاسی سودے بازی کو مسلمان کبھی تسلیم نہیں کر سکتے۔ اور اس سلسلہ میں مصری علماء، اور شیخ الازھر کے کسی فتوے کو دنیا کے مسلمان تسلیم نہیں کر سکتے۔ مسجد اقصی مسلمانوں کی امانت ہے اس پر تولیت کا حق صرف مسلمانوں کا ہے (ماہنامہ البلاغ، اس طرح کے مضامین پڑھ کر اکثر میری زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں ۔ زیادہ عجیب بات شاید اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ مسجد اقصی کو جانتے بھی نہیں اور اس کے حقوق کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعد کے دور میں مسلمانوں نے قبلہ اول" کے لفظ کو جذباتی طور پر تو بہت استعمال کیا مگر مسجد اقصی کی زیارت کا رواج ان کے درمیان نہیں پڑا ۔ آمد و رفت کی اس کمی کا یہ نتیجہ ہوا کہ لوگوں کے ذہن میں واضح تصویر نہیں بنی کہ بیت المقدس کیا ہے اور مسجد اقصی کیا ہے۔
یہاں قریب سے دیکھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ اس کا ایک سبب غالباً دونوں کا جغرافی فرق بھی ہے۔ صورتِ واقعہ یہ ہے کہ بیت المقدس (قبة الصخرة) ایک اونچی چٹان پر ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسجد اقصی اس سے الگ نسبتاً نشیبی زمین پر ہے۔ اس بنا پر جب کوئی فوٹو لینے والا فوٹو لیتا ہے تو دونوں عمارتیں بیک وقت فوکس میں نہیں آتیں ۔ الا یہ کہ کسی بڑے کیمرے کر دیے، یہ سب کچھ اس نے اپنے طور پر کا پتا معلوم کر کے لکھا تھا۔ مجھے ان سب باتوں سے جو کچھ صدمہ ہوا، اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں یہ جانتا تھا کہ مجھ میں اور امراو میں کوئی ایسا معرکہ پیش آنے والا ہے جو میری زندگی کی کایا پلٹ دے گا۔ غرض، جیسے تیسے دن کٹے، مکان بدل کر میں دوسرے محلے میں منتقل ہو گیا اور اپنے بزرگوں کے ساتھ ہی رہنے لگا۔ میرا ارادہ تھا کہ امراؤ جان ادا کی یاد کو اپنے دل سے مٹا دوں اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو جاؤں۔ کچھ دنوں تک تو ایسا ہی رہا۔ میں صبح سویرے اٹھتا، اپنے دفتر جاتا، شام کو واپس آتا اور کتابیں پڑھنے میں مشغول ہو جاتا۔ لیکن انسانی دل عجیب شے ہے۔ لاکھ کوشش کرو، وہ اپنی پرانی یادوں کو دہراتا ہی رہتا ہے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میں بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک امراؤ کی گاڑی میرے پاس سے گزری۔ اس کی ایک جھلک نے میرے دل میں پھر سے طوفان برپا کر دیا۔ میں کچھ دیر کے لیے پتھر کا بت بن کر کھڑا رہ گیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ گاڑی رک گئی ہے اور امراؤ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔ لیکن یہ میرا وہم تھا۔ گاڑی تیزی سے آگے نکل گئی اور میں وہیں سڑک کے کنارے کھڑا رہ گیا۔ اس واقعے نے میرے دل کو پھر سے بے چین کر دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس محبت سے نجات حاصل کرنا اتنا آسان نہیں جتنا میں سمجھتا تھا۔
کے ذریعہ کافی دور سے اس کا فوکس لیا جائے ۔ تاہم دور سے فوکس لینے کی شکل میں بھی یہ صورت بدستور قائم رہتی ہے کہ اسی جغرافی فرق کی بنا پر تصویر میں بیت المقدس (قبة الصخرة) نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے اور مسجد اقصیٰ اس کے پیچھے صرف غیر نمایاں انداز میں نظر آتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہجرت کے بعد جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنایا ، اس وقت وہاں موجودہ گنبد نہ تھا، اس وقت صرف سنگ خارا کی ایک چو کور چٹان تھی۔ یہی چٹان یہودیوں کا قبلہ بھی تھا اور عارضی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ بھی۔ گویا قبلہ یہود یا قبلہ اول دونوں ہی ”صخرہ“ ہیں نہ کہ وہ سنہراگنبد‘‘ جس کو بیت المقدس کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ گنبد اس وقت سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (م ۳۱۰ھ) نے اپنی تفسیر قرآن میں قبلہ اول کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ خلاصہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ہی مدینہ کے مسلمان (انصار) بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶۲۲ء میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آپ نے بھی اسی کے مطابق عمل فرمایا۔ اس کی وجہ اہل کتاب کی تالیف قلب تھی ( فاختار بيت المقدس لكي يتألف أَهْلُ الكتاب)
بیت المقدس کتنے عرصہ تک قبلہ رہا ، اس میں اختلاف ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق، سولہ ماہ ، بعض کے مطابق سترہ ماہ اور بعض کے مطابق انیس ماہ ۔ غالباً اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ جن راویوں نے انصار کے زمانہ کو شامل کر کے بتایا انھوں نے زیادہ مدت بتائی، اور جنہوں نے صرف رسول اللہ ﷺ کی مدت کو بتانا چاہا انھوں نے کم مدت بیان کی۔
اس وقت بیت المقدس کی موجودہ عمارت (قبه) موجود نہ تھی۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ اللہ علیہ وسلم نے در اصل صخرہ (چٹان) کو قبلہ بنایا تھا جس کو یہود مقدس سمجھتے تھے اور وہی یہود کا قبلہ تھا (كان يستقبل صخرة بيت المقدس وهي قبلة اليهود) تفسیر طبری ۲/۲-۵ ابن کثیر نے حضرت عمر کے سفر کے بارے میں ایک روایت یہ نقل کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ مدینہ سے گھوڑے پر بیٹھ کر روانہ ہوئے تاکہ سفر تیزی سے طے ہو سکے۔ اور مدینہ میں حضرت علیؓ کو اپنا قائم مقام مقرر اس طرح چلتے ہوئے وہ جابیہ (سرحد فلسطین) پر پہنچے (البدایہ والنہایہ ، ۵۶/۷)
دوسری روایت کے مطابق ، آپ کا سفر اونٹ کے ذریعہ طے ہوا۔ اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ سفر کس طرح طے ہوا۔ ایک روایت کے مطابق ، آپ اور آپ کا غلام دونوں اونٹ باری باری بیٹھتے تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق ، تین باری تھی۔ ایک بار آپ اور ایک بار غلام سوار ہوتا تھا اور تیسری بار اونٹ کو خالی رکھا جاتا تھا تا کہ وہ آرام کرلے ۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق ۶۳۸ء میں فاتحانہ طور پر یروشلم میں داخل ہوئے ۔ اس کے بعد سے فلسطین مسلسل مسلمانوں کے قبضہ میں رہا۔ بارھویں صدی عیسوی میں مسیحیوں نے یروشلم پر قبضہ کر لیا جو ۸۸ سال تک جاری رہا۔ اس قبضہ کو صلاح الدین ایوبی نے ۱۱۸۷ء میں ختم کیا۔ ایک صاحب سے ہو سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں امیر المومنین کے فرمودات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ گفتاگرگ کی تمہید ہے؟ ہم ایک عجیب دور میں جی رہے ہیں۔ اس دور میں زندگی بڑی الجھنوں کا شکار ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بظاہر صلاح الدین ایوبی نے یہ کامیابی صرف ایک دن (۴ جولائی، ۱۱۸۷ء) کی جنگ حطین میں حاصل کی تھی۔ مگر یہ کامیابی جوش کا نہیں بلکہ تیاری کا نتیجہ تھی۔ اس ایک دن کی فتح کے لیے صلاح الدین نے کئی سال تک غیر معمولی تیاریاں کی تھیں، یہاں تک کہ اس کی فوجی طاقت لاطینی صلیبیوں کے برابر ہو گئی۔
مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں نے جب یروشلم کو فرینک (Franks) کے قبضہ سے واپس لیا تو انھوں نے وہاں کے باشندوں سے انتہائی شرافت کا معاملہ کیا۔ مسیحیوں نے جب یروشلم پر قبضہ کیا تو انھوں نے وحشیانہ طور پر وہاں کے باشندوں کو قتل کیا تھا اور آزادانہ طور پر لوگوں کا خون بہایا تھا۔ اس کے بالکل برعکس مسلمانوں کی دوبارہ فتح ممتاز طور پر پر شائستگی کا انداز لیے صلاح الدین اور اس کے فوجیوں نے لوگوں سے نہایت فیاضانہ سلوک کیا : In stark contrast to the city's conquest by the Christians, when blood flowed freely during the barbaric slaughter of its inhabitants, the Muslim reconquest was marked by the civilized good faith and courteous behaviour of Saladin and his troops. (16/177)
صلاح الدین ایوبی نے ۵۸۳ھ میں یروشلم (قدس) کو فتح کیا تھا۔ اس وقت یہ ایک حصار بند شہر تھا اور نہایت مشکل کے ساتھ اس کی فتح ممکن ہو سکی۔ فتح کے بعد جب مسلمان اندر داخل ہوئے تو مسجد اقصی اور قبة الصخرہ میں کثرت سے صلیب اور تماثیل وغیرہ رکھی ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ وہاں خنزیر بھی موجود تھے۔ مسلمانوں نے ان مقدس مقامات کی پوری صفائی کی اور اس کو پھر
سے پاک کبر کے اس کو عبادت کے قابل بنایا (البداية والنهاية ۳۲۴/۱۲)
جاک بیرک ایک فرانسیسی تھا۔ وہ ۱۹۱۰ء میں الجزائر میں پیدا ہوا۔ اس وقت الجزائر پر فرانس کا قبضہ تھا۔ جاک بیرک کے فرانسیسی والدین ایک استعماری ادارہ میں کام کرنے کے لیے الجزائر آئے تھے، جو لائی ۱۹۹۵ میں اس کا انتقال ہو گیا۔
جیک بیرک نے الجزائر میں عربی زبان سیکھی اور اس میں کمال حاصل کر لیا۔ موضوعات پر ایک عالم کی طرح کلام کرتا تھا۔ اسلامی لٹریچر کے مطالعہ سے وہ اسلام سے غیر معمولی طور پر متاثر ہو گیا۔ حتیٰ کہ وہ اسلام کی حمایت ومدافعت کرنے لگا۔ اس کی کئی کتابیں اس موضوع مثلاً (العرب امس واليوم ۱۹۶۰)۔ اس نے قرآن کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ بھی کیا جو ایک عمدہ ترجمہ شمار کیا جاتا ہے۔
ایک عرب نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا : (احب جان بيرك العربية والاسلام حتى لتحسبه عربيا مسلما ۔ وقد خسر العالم بموته خسارة يصعب ان تعوض - وخسى العرب والمسلمون صديقا من طراز نادر ۔
میں نے کہا کہ استعماری دور میں اس طرح کے بہت سے یورپی پیدا ہوئے جو یا تو اسلام دوست بن گئے یا انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس میں ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق چھپا ہوا وہ یہ کہ جب " استعمار " جیسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ کوئی غیر قوم آپ کے اوپر سیاسی غلبہ حاصل کر لیتی ہے۔ مگر اس کا دوسرا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس عمل کے دوران اہل اسلام اور غیر اہل اسلام کے درمیان اختلاط پیش آتا ہے۔ بالفاظ دیگر مدعو خود چل کر داعی کے پاس آ جاتا ہے۔ لوگ عام طور پر پہلے رخ کو دیکھتے ہیں، وہ اس واقعہ کا دوسرا پہلو نہیں دیکھتے، اس لیے وہ اس کو استعمال بھی نہیں کر پاتے۔ اگر اس دوسرے پہلو کو منظم طور پر استعمال کیا جائے تو جیک بیرک جیسے ہزاروں لوگ پیدا ہو جائیں۔ حتی کہ خود اسرائیلیوں میں بھی، جن کو اب تک آپ صرف دشمن اور مخالف اسلام کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
یہ وسلم میں میں کے مختلف لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہودی موجودہ مسجد اقصی کو ڈھا کر وہاں دوبارہ ہیکل سلیمانی بنانا چاہتے ہیں۔ مگر لوگوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
ایک صاحب نے کہا کہ یہ ایک بے وقوفی کی بات ہوگی کہ ہزار سال کی تاریخ کو رد کر کے نئی تاریخ لکھنے کی کوشش کی جائے ۔
ایک عیسائی انجینئر جو روم میں رہتے ہوں اور بار بار یروشلم آتے رہتے ہیں۔ کہا کہ میں نے کبھی نہیں سنا کہ یہودیوں میں کوئی سنجیدہ خواہش اس بات کی ہے کہ ہیکل سلیمانی کو دوبارہ اسی جگہ بنایا جائے ۔ بعض انتہا پسند افراد ایسا کہتے ہیں گے مگر نہ وہ یہودی قوم کی بات ہے اور نہ حکومتِ اسرائیل کی بات :
I have never heard that there is a serious intention to rebuild the temple of Israel on the same area where it was before its last destruction. (Antonello Paba)
مجھے جس ہوٹل میں ٹھہرایا گیا اس کا انگریزی نام (7-Hotel arches) ہے ، اور اس کا عربی نام فندق الاقواس ہے۔ جائے وقوع کے اعتبار سے یہ یروشلم کا نمبر ایک ہوٹل ہے۔ کے چاروں طرف قدرتی مناظر اور تاریخی نشانیوں کے سلسلے پھیلے ہوئے ہیں۔ ہوٹل میں یہودی اور مسلمان بالکل معتدل فضا میں ملتے ہوئے نظر آئے۔ اکثر صباح الخیر، السلام علیکم ، حیاک اللہ جیسے عربی الفاظ سنائی دیتے ہیں۔ ہوٹل کی دیواروں پر شیشہ کے فریم میں جو خوب صورت تصویریں لگی ہوئی ہیں ، ان میں متعدد خالص عربوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک بڑے فریم میں بہت سی رنگین تصویریں ہیں۔ اس کے اوپر عربی میں لکھا ہوا ہے : لمحة عن الحياة البدوية ۔ اس میں تصویروں کے ذریعہ بدوی علاقہ کے فلسطینیوں کی زندگی کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس طرح ایک اور فریم دیوار پر نظر سے گزرا۔ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا : التراث الفلسطینی ۔ اس میں فلسطینیوں کی بعض تاریخی چیزیں خوب صورت تصویروں کے ذریعہ دکھائی گئی تھیں۔
۲۷ اگست کو دو پہر بعد میں اپنے ساتھی کے ہمراہ نکلا۔ گاڑی ہم نے ایک جگہ پارک کر دی اور عرب سیکٹر کے بہت بڑے علاقہ میں پیدل گھومتے رہے۔ گھنٹوں ادھر سے اُدھر گئے، فلسطینی بچے، نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ بالکل معتدل انداز میں اپنا کام کرتے ہوئے نظر آئے ۔ چہروں پر غم یا خوف و ہراس نظر نہیں آیا۔ پورے علاقہ میں صرف ایک جگہ تین اسرائیلی فوجی
گن لیے ہوئے بیٹھے تھے۔ وہ آپس میں غالباً عبرانی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔ ۲۷ اگست کی صبح کو میں نیچے اترا۔ رسیپشن ڈسک کے پیچھے کھڑے ہوئے خوش پوش نوجوان نے کہا کہ آج آپ کیسے ہیں (How are you today) میں نے کہا کہ فائن۔ اس نے دوبارہ کہا: بعد کو مجھے معلوم ہوا کہ یہ ہوٹل فلسطینی عربوں کا ہے۔ چنانچہ ہوٹل کا عملہ بیشتر عرب افراد پر ایک نئی بات یہ نظر آئی کہ یہاں ہوٹل کی خدمات میں عام قاعدہ کے مطابق لڑکیاں ہیں ہیں بلکہ سارا کام مرد کرتے ہیں۔ کسی بھی شعبہ میں مجھے کوئی خاتون نظر نہیں آئی۔ ۲۷ اگست کی شام کو چار بجے مسٹر انٹونیو نیو (Mr. Antonello Paba) کے ساتھ مقامات مقدسہ دیکھنے کے لیے نکلا۔ کئی کلومیٹر کے دائرہ میں پھیلا ہوا ایک وسیع احاطہ ہے جس کے اندر یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات واقع ہیں۔ راستہ میں ہر جگہ سیاح مردوں اور عورتوں کی بھیڑ نظر آئی۔
طویل راستہ طے کرنے کے بعد ہم لوگ مسجد اقصی پہنچے۔ یہ ایک ہی بڑا احاطہ ہے جس کے اندر ایک طرف مسجد اقصی ہے اور دوسری طرف سو قدم کی دوری پر بیت المقدس (قبة الصخرہ) سب سے پہلے میں مسجد اقصی میں داخل ہوا۔ یہ بہت بڑی اور بلند و بالا مسجد ہے۔ اس کا اندرونی حصہ ایک طرف سے ۱۱۰ قدم اور دوسری طرف ۸۵ قدم ہے۔ یہاں میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور دعائیں کیں، کئی آدمی بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے بعد بیت المقدس میں گیا۔ اس کو قبة الصخرہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے نیچے درمیان میں پتھر کی ایک چٹان ہے۔ یہ چٹان تقریباً کمر تک اونچی ہے۔ چٹان کے چاروں طرف لکڑی کا کٹہرا بنا دیا گیا ہے۔ کٹہرا اور گنبد کی دیوار کے درمیان گول دائرہ میں ایک گیلری ہے میں نے اس گیلری میں چل کر دیکھا تو وہ دو تنو قدم تھی۔ اس گیلری میں میں نے دو رکعت نماز ادا کی اور دعائیں قبة الصخرہ مسجد نہیں ہے بلکہ چٹان کے اوپر قبہ ہے، اور اس کے باہر کشادہ صحن۔ اس کے بعد میں مسجد عمر بن الخطاب گیا۔ یہ مسجد چھوٹی ہے ۔ ۲۵ قدم چوڑی اور ۲۵ قدم اس کی چھت بھی زیادہ اونچی نہیں۔ یہاں بھی میں نے دو رکعت نماز ادا کی۔ مسجد کے بیرونی حصہ میں جدید طرز کے وضو خانے اور غسل خانے بنے ہوئے ہیں۔ مسجد کے پاس ہی
کنیسۃ القیامہ (Church of Resurrection) ہے جو کافی بڑا ہے۔
اس وقت مجھ پر ایک تحیر کی کیفیت طاری تھی۔ ان مقدس مقامات کی زیارت اور ان میں نماز ادا کرنا مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ کیوں کہ زندگی میں کبھی میں یہ سوچ بھی نہیں سکا تھا کہ میں قدس جاؤ ں گا اور وہاں ایسی جگہ سجدہ کروں گا۔ جہاں پیغمبروں نے اور اصحاب پیغمبر نے سجدے کیے ہیں۔
۲۸ اگست کو صبح کا وقت ہے۔ سورج کی چمک دار روشنی باہر کے پورے ماحول کو منور کیے ہوئے ہے۔ میرے کمرے کے قد دیوار “ شیشیوں کے باہر بیت المقدس اور مسجد اقصی کی عمارتیں دکھائی دے رہی ہیں۔
مسجدِ اقصی کے اندر آپ داخل ہوں تو وہ نہایت عظیم اور پرہیبت دکھائی دیتی ہے۔ میں نے اتنی پرہیبت مسجد کوئی اور نہیں دیکھی۔ بیت المقدس کا نقشہ دوسرا ہے۔ اس کا طرز مقبرہ جیسا ہے۔ یعنی درمیان میں بڑا سا پتھر، اس کے اوپر اونچا گنبد، اور پتھر کے گرد گول دائرہ میں ایک گیلری۔
کمرہ سے ان تاریخی مناظر کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں قرآن کی یہ آیت آئی: سُبحانَ الذي أسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى الذي باركنا حوله لنريه من آياتنا (الاسراء) ان قرآنی الفاظ پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ باركنا حوله سے مراد غالباً اس مقام کا یہ امتیازی پہلو ہے کہ یہاں کی سرزمین سے بہت سے جلیل القدر انبیاء کی تاریخ وابستہ ہے۔ گویا یہ سرزمین نبوت ہے۔ اور لنريه من آياتنا سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو چشم زدن میں مکہ سے ۸۰۰ کلومیٹر دور یروشلم میں لاکراس نئے آنے والے دور کا تعارف کرایا جس کو دور مواصلات (age of communication) کہا
اس غیر معمولی سفر کے ذریعہ اس بات کا ایک مظاہرہ کیا گیا کہ خدا کا دین اب قومی نبوت کے دور سے گزر کر بین اقوامی نبوت کے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ اب وہ مقامی پیغام رسانی کی محدودیت سے نکل کر عالمی پیغام رسانی کے وسیع تر دائرہ میں پہنچ گیا ہے۔
أسري بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى ـــــــــ یہ فقرہ اپنے ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے ذات نبوت کے بارے میں ہے مگر اسی کے ساتھ اس کا ایک وسیع تر مفہوم بھی ہے جس کا تعلق پوری امتِ محمدی سے ہے۔ پیغمبرِ اسلام کو ایک لمحے میں ۴۰ کلومیٹر کا دو طرفہ سفر کرانا گویا کہ علامتی طور پر پوری امت کو یہ بتانا تھا کہ اس دین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تیز رفتار سفر کا دور شروع کر دیا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کو عالمی پیغمبر بنانے کے ساتھ تھی یہ امکان بھی کھول دیا گیا ہے کہ آپ کے امتی سہولت آپ کے دین کی عالمی پیغام رسانی کر سکیں۔
سفر اسراء میں اس بات کا اشارہ تھا کہ اس نے دور کا سب سے اہم پہلو کمیونی کیشن ہوگا نہ کہ سیاسی اقتدار۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب یہ دور اپنے عظیم امکانات کے ساتھ ظاہر ہوا تو تمام دنیا کے مسلمان سیاسی اقتدار کے مسئلہ میں الجھ گئے۔ وہ دین خداوندی کی دعوت کو عام کرنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال نہ کر سکے ۔
اس نا کامی کا اصل سبب حکمت نبوت سے محرومی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے علماء اور دانشور، اس حکمت نبوی سے بالکل بے خبر ہیں جس کی ممتاز مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر اسراء میں پائی جاتی ہے۔ جس وقت آپ کا یہ سفر ہوا، اس وقت یروشلم پر ایک مشرک بادشاہ کی حکومت قائم تھی۔ اس کے با وجود آپ بجسدہ الشریف وہاں گئے اور تمام نبیوں کے ساتھ مسجد اقصی میں ایک خدا کی عبادت کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی ایک سنت الفصل بین القضیتین یعنی سیاسی اشوکو الگ کر کے دینی مواقع کو استعمال کرنا۔ مگر اس حکمت سے بے خبر ہونے کی بنا پر ہمارے تمام رہنما سیاسی مسائل میں الجھ گئے اور نئے دینی امکانات کو استعمال کرنے میں ناکام رہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، الرسالہ نومبر ۱۹۹۵)
۲۸ اگست کا دن خالی تھا۔ اس لیے آج تفصیل کے ساتھ یروشلم کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ مجھے خاص دل چسپی اس حصہ سے ہی جو عرب سکرلہا جاتا ہے اور یہیں تمام مقامات مقدسه اس علاقہ میں کثرت سے تنگ گلیاں ہیں ۔ اس لیے ہم نے گاڑی چھوڑ دی۔ کے ہر حصہ میں داخل ہوکر اس کو دیکھا جا سکے ۔ ایک چیز بڑی عجیب تھی کہ اس علاقہ کی دیواروں پر
کثرت سے عربی زبان میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔ یہ تقریباً ویسا ہی منظر تھا جو پرانی دہلی کی دیواروں پر پوسٹر کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ تمام کے تمام جنگ جو یانہ نعرے تھے۔ مزید یہ کہ وہ ہاتھ سے بدخط انداز میں لکھے ہوئے تھے اور بمشکل پڑھے جاتے تھے۔ ان راستوں سے مسلسل مرد اور عورت گزر رہے تھے مگر میں نے اپنے سوا کسی کو بھی نہیں پایا جس کو ان نعروں سے کوئی دلچسپی ہو یا وہ ان کو پڑھنے کے لیے ایک لمحہ وہاں رکنا پسند کریں۔ چند نعرے یہ تھے : قاتلو اعداء اللہ الارض لنا و القدس لنا التحية كل التحية لشهداء الخليل العيد لمن مات شهيداً تحية لكل قطرة دم سالت دفاعا تحية الى المتعلقين الابطال ـ فتح یہ پورا علاقہ تاریخی علاقہ ہے۔ یہاں قدم قدم پر عمارتوں کے اوپر ایسے بورڈ نظر آتے ہیں جو اس کی تاریخی حیثیت کی یاد دلاتے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ ایک عمارت کے گیٹ پر عربی میں لکھا ہوا نظر آیا : مكان مقدس، هنا بدأ يسوع آلاماً۔ ایک پھاٹک پر عبرانی اور انگریزی میں لکھا ہوا تھا : Tomb of the Prophets, Haggai and Maleachi ایک جگہ لکھا ہوا تھا : Birthplace of Virgin Marry ایک جگہ لکھا ہوا تھا : ساحة النبي داؤد (En-Nabi Dawoud Squire) مسلم نوعیت کے بورڈ بھی جگہ جگہ دکھائی دیے۔ مثلاً مثلاً ایک عمارت کے دروازہ پر لکھا ہوا تھا : (ادارة الاوقاف والشئون الاسلامية (مدير اوقاف القدس) ایک جگہ لکھا ہوا تھا : جامع الزاوية النقشبندية۔ اس علاقہ میں زیادہ تر دکانیں فلسطینیوں کی ہیں۔ ایک دکان کے آگے بنیان کے اوپر یہ الفاظ چھپے ہوئے تھے : بحبك يا فلسطين (اے فلسطین میں تجھ سے پیار کرتا ہوں)
۲۸ اگست کو دو بارہ میں اپنے ساتھی کے ہمراہ تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے نکلا۔ اپنی گاڑی چھوڑ دی تاکہ ہم گلیوں اور تنگ راستوں میں بھی جا سکیں اور زیادہ سے زیادہ مقامات
باقی رہے تایج لائے فتنہ جو کہ دین سے بیگانہ ہیں اور وہ خود بھی سن کر حیرت میں پڑ گئے لیکن اب تک کوئی یہ نہ سمجها کہ یہ حقیقت میں حضرت عیسی بن مریم ہی ہیں جو زمین پر اترے ہیں اور انہوں نے آن کر دنیا کو حق پرستی کی تعلیم دی ہے یہ سمجھانا چاہتی ہے ان لوگوں کو جو نہیں جانتے کہ حضرت عیسی ہی زمین پر آنے والے ہیں ہرگز نبردم گمان کز شرف اسکندری خاکسار تو گردد ز مهر، آفتاب خاورے
نادراً کیا آپ نے کوئی ایسی تاریخی عبادت گاہ دیکھی ہو گی جو اسلام کے اولین قبلہ اور حجاز مقدس کے بعد روئے زمین پر اس قدر مقدس مقام رکھتی ہو جتنی کہ مسجد اقصی۔ اس کا رقبہ تین ہزار پچاس گز ہے اور یہ چاروں طرف سے دیواروں سے گھری ہوئی ہے۔ اس میں کئی عمارتیں ہیں جن میں گنبد صخراً، مسجد اقصی اور حضرت عمر کا تیار کردہ محراب بھی شامل ہے (85) حصه تاریخ (اردو ڈائجسٹ) 15 مئی 1974ء
کو دیکھیں ۔ ہم ایک ڈھلوان راستہ پر چل رہے تھے کہ سامنے سے ایک فلسطینی مسلمان آتا ہوا دکھائی اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا جس کی عمر غالباً دس سال ہوگی۔ بچہ اپنے ہاتھ میں زیتون کی شاخیں لیے ہوئے تھا۔ اس نے ایک شاخ مجھ کو اور ایک شاخ میرے ساتھی کو پیش کی۔ نے بتایا کہ زیتون کی شاخ امن کی علامت ہے اور وہ اپنی امن پسندی کے اظہار کے لیے یہ شاخ ہمیں دے رہا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ انسان کی نمائندگی کر رہا ہو اور پوری انسانیت کی طرف سے کہہ رہا ہو کہ ان بے فائدہ جھگڑوں کو بند کرو اور ہمیں امن کے ساتھ
28 اگست کی دوپہر کو ایک اطالوی مسیحی کے ہمراہ کنیسۃ القیامہ (Church of Resurretion) یہ بہت بڑا ہے اور مسجد عمر سے ملا ہوا ہے۔ اسی کے اندر وہ جگہ ہے جس کے متعلق عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہاں حضرت مسیح کو سولی دی گئی تھی۔ اس کو مقدس سپلکر (Holy Sepulchre) کہا جاتا ہے۔ یہاں عجیب و غریب منظر ہے۔ دیوار سے ملا ہوا حضرت مسیح کا قد آدم مجسمہ ہے۔ اس کے پیچھے صلیب کی لکڑی ہے۔ اس لکڑی کے ساتھ آپ کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں میں کیل ٹھونکی ہوئی ہے جس سے خون نکل رہا ہے۔ گردن میں پھانسی کی رسی ہے۔ آپ کا جسم مردہ کی مانند لٹک رہا ہے۔
اسی کے ساتھ چرچ میں کئی اور مقدس مقامات ہیں۔ وہ مقام جہاں مسیحی عقیدہ کے مطابق، حضرت مسیح کے جسم کو صلیب سے اتار کر رکھا گیا تھا۔ یہاں ایک چبوترہ ہے جس کو عورتیں چومتی ہوئی ایک اور مقام ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ تین دن کے بعد حضرت مسیح دوبارہ زندہ ہو کریہاں نمودار ہو گئے ۔ اور یہاں سے پھر آسمان میں چلے گئے ۔
28 اگست کی شام کو دیوار گریہ (Wailing wall) دیکھی۔ یہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے احاطہ کی دیوار سے ملی ہوئی ہے۔ دیوار کے ساتھ ملا ہوا وسیع میدان ہے جس میں ایک رسی تان کر عورت اور مرد کا علاقہ الگ کر دیا گیا ہے۔ بہت سے یہودی مرد اور عورت دیوار کے پاس کھڑے ہو کر پیشانی کے ساتھ دیوار سے چٹے ہوئے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے۔ لاطینی زبان میں قبر کے لیے سپلکر (sepulchre) کا لفظ ہے۔ یروشلم میں مسیحی عقیدہ کے
مطابق، حضرت مسیح کی جو قبر ہے، اس کو مقدس مزار (Holy Sepulchre) کہا جاتا ہے۔ پہلے آنے والے جمعہ کو مسیحی حضرات گڈ فرائڈے کہتے ہیں اور اس کو حضرت مسیح کے مصلوب ہونے کی یادگار کے طور پر مناتے ہیں۔ ہر سال گڈ فرائڈے کو یروشلم کے " مقدس مزار" پر بڑی تعداد میں مسیحی لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس میں جو تقریبات کی جاتی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ صلیب کی صورت میں پھانسی کی لکڑی کھڑی کی جاتی ہے۔ اور ایک آدمی اس پر چڑھ کر ڈرامائی انداز میں اپنے آپ کو مصلوب کرتا ہے (ملاحظہ ہو، نیچے کی تصویر)
۲۸ اگست کو شام کا کھانا ہوٹل " امریکن کالونی " میں تھا۔ یہ ایک تاریخی ہوٹل ہے۔ کے بیشتر کارکن فلسطینی ہیں۔ اس میں ایک لمبی گیلری ہے جس میں فلسطین کی پچھلی تاریخ کو Mexican Roman Catholic worshippers re-enacting Jesus Christ crucifixion during the annual Good Friday procession at the Holy sepulchre in Jerusalem on Friday.
تصویروں کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ ترکی عہد کی بہت سی تصویریں یہاں خوب صورت فریم میں لگی ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ نمایاں تصویر فلسطین کے ترک حاکم جمال پاشا کی تھی۔ شاندار گھوڑے پر بیٹھے ہیں۔ میں دیر تک اس کو دیکھتا رہا، گھوڑا اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت جو شان گھوڑے کی سواری میں ہے وہ کسی بھی دوسری سواری میں نہیں۔
ہم لوگ کھانا کھا چکے تو شیشہ کے گلاس نما برتن میں آئس کریم لا کر سب کے سامنے رکھی میں چمچہ اٹھا کر کھانا چاہتا تھا کہ ہوٹل کا ایک نوجوان کارکن اچانک آیا، اس نے میری آئس کریم اور چمچہ تیزی سے اٹھا لیا، اور پھر دوسری آئس کریم اور دوسرا چمچہ لا کر رکھ دیا۔ فوری طور پر میں اس کا راز سمجھ نہ سکا۔ بعد کو معلوم ہوا کہ آئس کریم میں الکحل کی آمیزش تھی ۔ نوجوان نے میری صورت سے سمجھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ چنانچہ فوری طور پر اس نے الکحل کے بغیر دوسری آئس کریم تیار کی اور جلدی سے لا کر اس کو میرے سامنے رکھ دیا اور پچھلی آئس کریم کھانے سے مجھ کو بچا لیا۔ اس نوجوان سے مل کر میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ فلسطینی مسلمان ہے اور اس کا نام بھجت ہے۔ میں نے اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔ وہ عربی بولتا تھا اور بظاہر نہایت ذہین اور مستعد نوجوان تھا۔
یورپ کے ایک تعلیم یافتہ مسیحی جو اکثر یروشلم آتے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق، بہت تھوڑے یہودی ہیں جو مسجد اقصی کو توڑ کر اس کی جگہ سلیمانی ہیکل دوبارہ بنانے کی بات کرتے ہیں۔ بیشتر یہودی اس کے مخالف ہیں۔ مذہبی یہودیوں کے نزدیک دو ہزار سال پہلے جب رومن اس میں داخل ہوئے اور اس کو ڈھا دیا تو اب یہ جگہ ناپاک ہو چکی مسیحا جب آئیں گے تو وہی دوبارہ اس کو پاک کریں گے۔ دوسرے یہ کہ یہودیوں کے یہاں عبادت گاہ کا خاص مقصد سوختنی قربانی پیش کرنا ہوتا ہے۔ تعلیم یافتہ یہودی اس قسم کی قربانی کو غیر مہذب سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ کبھی نہیں چاہتے کہ ہیکل دوبارہ تعمیر ہو۔ اور وہاں اس قسم کے غیر مہذب کام دوبارہ کیے جانے لگیں۔
عرب علاقہ میں چلتے ہوئے ایک جگہ کچھ فلسطینی بچے نظر آئے۔ قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ کورس (chorus) کی صورت میں ایک پر جوش ترانہ (أنشودة حماسیة) گا رہے ہیں۔ یہ شعر کی
اصطلاح میں ایک ترجیع ت۸ھا جس میں ہر چند مصرعوں کے بعد اس شعر کی تکرار ہوتی تھی کہ آؤ ہم جنگ کریں، آؤ ہم جنگ کریں۔ کیوں کہ جنگ ہی رشد و فلاح کا راستہ ہے:
هَلُمُّوا نُقَاتِلُ هَلُمُّوا نُقَاتِلُ فَإِنَّ الْقِتَالَ سَبِيلُ الرَّشَادِ یہ تراز شریعت کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ھ میں دس ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف مارچ کیا تو ایک سردار کی زبان سے نکلا: (الیوم یوم الملحمة (آج گھمسان کی جنگ کا دن ہے) آپ نے فرمایا نہیں۔ آج رحمت کا دن ہے (اليوم يوم المرحمة)
وہ عقل کے خلاف اس لیے ہے کہ موجودہ زمانہ کی تبدیلیوں نے جنگی اقدامات کے بجائے پر امن جد و جہد کو طاقت کا سر چشمہ بنا دیا ہے۔ میں نے سوچا کہ فلسطینی قیادت ، اگر حدیث کے الفاظ میں اپنے زمانہ سے باخبر (بصیراً بزمانہ) ہوتی تو وہ اپنی نئی نسل کو جنگ کے بجائے امن کا سبق دیتی۔ اور آج بر عکس طور پر، ہر فلسطینی بچہ کی زبان پر یہ الفاظ ہوتے : هَلُمُّوا نُسَالِمْ هَلُمُّوا نُسَالِمْ فَإِنَّ السَّلَامَ سَبِيلُ الرَّشَادِ (آؤ امن کی روش اختیار کریں آؤ امن کی روش اختیار کریں۔ کیونکہ امن ہی رشد و کامیابی کا راستہ ہے) ایک عرب عالم سے جہاد (بحمنی قتال) کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ قرآن میں جنگ کا حکم اسلام کی اشاعت کے لیے دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح قرآن میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ جنگ کر کے اسلام کی اشاعت کرو۔ قرآن میں صرف یہ ہے کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ان سے جنگ کرو (۱۹۳ : ۲)
اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے ۔ جب مذہبی جبر ختم ہو جائے تو جنگ کا حکم اپنے آپ ساقط ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نماز کے لیے تیمم کی اجازت دی جائے جب کہ پانی نہ ہو۔ پھر جب پانی آ جائے تو اپنے آپ تیمم کی اجازت ختم ہو جائے گی۔ آب آید تیمم برخاست ۔
میں نے کہا کہ بخاری میں یہ روایت ہے کہ فتنہ ابن الزبیر کے زمانہ میں کچھ مسلمانوں نے اپنی اس جنگ کے لیے قتال برائے ختم فتنہ کی آیت کو استعمال کیا تو اس وقت حضرت عبداللہ بن عمر نے
اس کی تردید کی ۔ انھوں نے کہا کہ فتنہ کو اصحاب رسولؐ نے جنگ کر کے ختم کر دیا (قد فعلنا) اور جب فتنہ ختم ہو گیا تو اب جنگ کس لیے (فتح الباری، بشرح صحیح البخاری (۱۶۰/۸) میں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر کے اس قول کے مطابق ، خلافت راشدہ کے بعد ہی اس فتنہ (مذہکی جبر) کاخاتمہ ہو گیا جس کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا تھا۔ اور جب مذہبی جبر ختم ہو جائے تو اس کے بعد پرامن دعوتِ اسلام کا زمانہ آجاتا ہے نہ کہ غیر ضروری طور پر تشدد دانہ جنگ کا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد مسلمانوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں جو لڑائیاں کی ہیں وہ ملک گیری کی لڑائیاں تھیں نہ کہ حقیقی معنوں میں جہاد فی سبیل اللہ ۔ ۲۹ اگست ۱۹۹۵ بی صبح نو دوبار اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مسجد اقصی اور بیت المقدس کی زیارت کے لیے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ ایک مسلمان اور دو مسیحی تھے۔ ہم لوگ ایک گیٹ پر پہنچے۔ وہاں اسرائیلی پولیس کے دو آدمی تھے۔ انھوں نے عربی اخلاق کے مطابق گفتگو کی۔ مرحبا، صباح الخیر، اھلاً وسھلاً جیسے کلمات سے ہمارا استقبال کیا۔ مگر انھوں نے کہا کہ اس گیٹ سے صرف مسلم جا سکتے آپ کے مسیحی دوست کو سیاحوں والے گیٹ سے داخلہ ملے گا۔ ہم لوگ چلتے ہوئے دوسرے گیٹ پر پہنچے تو وہاں بھی پولیس کے دو آدمی تھے اور انھوں نے بھی دوبارہ یہی جواب دیا۔ پھر ہم لوگ روانہ ہو کر تیسرے گیٹ پر پہنچے تو وہاں بھی ہم کو یہی جواب دیا گیا۔ آخر کار ہم چوتھے دروازے پر (دیوار گریہ کے قریب) پہنچے۔ وہاں سب کو بیک وقت داخلہ دیا گیا ۔ ڈاکٹر محمد امین السماعیلی(المغرب) (المغرب) نے کہا: القضية كلها مادية ۔ چوں کہ مسلمانوں کے لیے داخلہ فری ہے۔ مگر غیر مسلم سیاحوں کو داخلہ کے لیے ٹکٹ لینا پڑتا ہے، اس لیے ان کے داخلہ کے لیے ایک گیٹ مخصوص کر دیا گیا ہے۔ تک مسلمان کا تعلق ہے، وہ کسی بھی دروازہ سے بغیر ٹکٹ داخل ہو سکتے ہیں۔
آج میں دوسری بار مسجد اقصی میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ اس وقت اسرائیل کے اعتبار سے ۹ بجے صبح کا وقت تھا اور ہندوستان کے لحاظ سے ساڑھے گیارہ بجے کا ۔ ہوئے دل بھر آیا۔ سجدہ میں روتے ہوئے دعا کے یہ الفاظ نکلے کہ خدایا، زمانہ کا فرق تیرے نزدیک کوئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں امامت کر رہے تھے اور ان کے پیچھے انبیاء صف باندھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔
اس کے بعد ہم لوگ بیت المقدس (قبۃ الصخرہ) میں داخل ہوئے۔ اس کا سنہری گنبد اس وقت سورج کی روشنی میں نہایت شان کے ساتھ چمک رہا تھا۔ وہاں بھی دو رکعت نماز ادا کی اور اپنے لیے اور دوسرے لوگوں کے لیے دعائیں کیں۔
شیخ الازھر جاد الحق علی جاد الحق نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ میں نے کبھی بھی قدس جا نے کے لیے نہیں سوچا جب کہ وہ اسرائیلی قبضہ کے تحت ہو۔ اللہ کے حکم سے میں اس کی آزادی کے بعد وہاں جاؤں گا (لم افکر ابداً فی زیارة القدس وهی تحت الاحتلال الاسرائیلی۔ ازورها باذن الله بعد تحریرها) الدعوة، الرياض، العدد ۰۰، ۴۱، ۲۵ شعبان ۱۴۱۵ھ، ۲۶ جنوری ۱۹۹۵ء، صفحه ۲۵ مگر شیخ جاد الحق علی جاد الحق ۶۹ سال کی عمر میں ۱۵ مارچ ۱۹۹۶ء کو قاہرہ میں انتقال کر گئے۔ اور وہ قدس کی زیارت نہ کر سکے۔ اس سفر کے دوران میں نے جب مسجد اقصی میں نماز پڑھی اور وہاں ان غیر معمولی کیفیات کا تجربہ کیا جو کسی بھی دوسرے مقام پر ممکن نہیں، تو میں نے سوچا کہ شیخ الازھر کا فیصلہ کوئی صحیح فیصلہ نہیں تھا۔ دینی رزق کے حصول میں سیاسی قبضہ کو مانع بنانا سنت رسول کے خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی جب کہ وہ مشرکین کے قبضہ میں تھا۔ اسی طرح آپؐ نے سفر معراج میں مسجد اقصی میں نماز ادا کی۔ حالاں کہ اس وقت اس پر ایران کے مشرک بادشاہ کی حکومت قائم تھی۔ شاید لوگوں کو روحانی یا فت کی قیمت نہیں معلوم ، اس لیے وہ سیاسی قضیوں کو غلو آمیز اہمیت دے کر اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کیے ہوئے ہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، فکر اسلامی کا باب، الفصل بین القضیتین) موجودہ زمانہ میں بین اقوامی طور پر مسلمہ قانون کے تحت ہر آدمی کو یہ آزادی ہے کہ وہ جہاں چاہے جائے مگر مذکورہ غلط پالیسی کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں نے یروشلم کا سفر ترک کر رکھا ہے۔ بھیانک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کو یروشلم اور اسرائیل کے حقیقی حالات کا سرے سے پتہ ہی نہیں۔ ساری دنیا کے مسلمان ایک ایسے دشمن کے خلاف لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں جس کے بارہ میں خود ساختہ پروپیگنڈوں کے سوا انھیں کچھ اور نہیں معلوم۔ حتیٰ کہ آمد و رفت نہ ہونے کے نتیجہ میں انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ قدس کیا ہے اور مسجد اقصی کیا ہے۔ دنیا کے تقریباً ۹۹ فی صد مسلمان قدس ہی کو مسجد اقصی سمجھتے ہیں۔ جب کہ دونوں نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے سے الگ ہیں بلکہ ان کی نوعیت
بھی ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہے۔
ایک فلسطینی نوجوان نے فلسطین کی آزادی کی تحریک کے لیے تطھیرالقدس من أبناء القردة والخنازير کے الفاظ استعمال کیے۔ یعنی قدس کو بندروں اور سوروں کی اولاد سے پاک کرنا۔ میں نے کہا کہ خدا کے فیصلہ کے تحت رسول اور اصحاب رسول نے ود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے مگر اس کے لیے انھوں نے آپ جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ رسول اللہ ﷺ نے سادہ طور پر فرمایا: اخرجوا اليهود والنصاری من جزيرة العرب ۔ اور آپ لوگ رسول کی اتباع کے نام پر اس قسم کی غیر شرعی اور یہ غیر اخلاقی زبان استعمال کر رہے ہیں۔
حیدر آباد کے ایک صاحب مرزا مشکور بیگ اپنے کسی کام کے تحت اسرائیل میں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنے کچھ تاثرات حیدر آباد کے روزنامہ سیاست (۵ نومبر (۱۹۹۵) میں چھپوائے ہیں۔ اس کا ایک جز یہ ہے : اسرائیل کے ہر باشندے کو ۱۸ سال) کی عمر ہوتے ہی ریوالور رکھنے کی اجازت ہو جاتی ہے۔ جس طرح ہمارے حیدر آباد میں ہر گلی میں ایک " شیر " ہوتا ہے جو گلے کے بٹن کھلے رکھ کر سینہ تان کر صرف کمزوروں کو دباتا ہے جس کو حیدر آبادی زبان میں " ابو شیر " کہتے ہیں۔ نہیں ہے کیوں کہ ہر ایک مسلح ہے۔ کمزور بھی اور طاقت ور بھی۔ اور دونوں ایک دوسرے سے ڈرے ہوئے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ اسرائیل میں ہر یہودی کو قانونی طور پر ریوالور رکھنے کی عام اجازت ہے مگر یہ لوگ اس کو صرف غیروں پر استعمال کرتے ہیں نہ کہ اپنے لوگوں پر۔ لیکن مذکورہ بیان کے مطابق، اس چیک کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہر ایک کے پاس ہتھیار ہے۔ اگر ہر ایک کے پاس ہتھیار ہونا چیک بن جاتا ہو تو کراچی اور افغانستان میں یہ واقعہ کیوں نہیں پیش آیا۔ جہاں ہر ایک کے پاس ہتھیار ہونا باہمی خانہ جنگی کا سبب بن گیا۔ اصل یہ ہے کہ یہودی ایک تعلیم یافتہ اور باشعور قوم ہیں۔ ان کی یہی صفت اس بات کے لیے روک بن گئی ہے کہ ایک یہودی اپنا ہتھیار دوسرے یہودی کے خلاف استعمال نہ کرے۔
یہاں کا ایک قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ ۱۹۴۹ میں ساری دنیا کے یہودیوں نے چندہ جمع کیا تھا تا کہ یروشلم میں ایک بہت بڑا اسٹنگاگ تعمیر کیا جائے۔ یہ رقم ایک بلین امریکن ڈالر پر مشتمل تھی۔
یہ پوری رقم چیف ربائی کی خدمت میں پیش کی گئی۔ لیکن چیف ربائی نے عبادت گاہ کی تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا : خدا ساری دنیا کا مالک ہے۔ ساری شان و شوکت اسی کے لیے ہے۔ کون ہوتے ہیں اس کے لیے ایک بلین ڈالر کی رقم کا محل تعمیر کرنے والے۔ اس کی بندگی تو ہر جگہ سوتے جاگتے کی جاسکتی ہے۔ خدا کو جاننے کے لیے علم ضروری ہے۔ جاؤ اس رقم سے ایک تعلیمی ٹرسٹ بناؤ تاکہ کوئی یہودی بے علم نہ رہے۔ اس طرح دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی ٹرسٹ ۱۹۷۰ میں اسرائیل میں وجود میں آیا۔
اسرائیل میں یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کے بعد سب سے بڑا درجہ تعلیم کا ہے۔ یہاں تعلیم کو ہوا اور پانی کی طرح فری کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر فرد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ یروشلم موجودہ زمانہ میں یہودیوں کا مرکز ہے۔ یہاں بہت سے یہودیوں سے ملاقات ہوئی اور ان سے باتیں ہوئیں۔ میرا احساس یہ تھا کہ یہودی کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہیں۔ وہ بھی اسی طرح انسان ہیں جس طرح دوسرے بہت سے انسان ہیں۔ وہ بھی اپنے اندر ایک فطرت رکھتے اسی طرح موجودہ اختلافی زمانہ میں بھی بہت سے یہودی مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تازہ مثال پاکستان کے مشہور کھلاڑی عمران خان کی بیوی جمائما کی ہے۔ وہ لندن کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ مگر اسلام کی تعلیمات نے انھیں متاثر کیا۔ انھوں نے اسلام قبول اس وقت وہ پاکستان میں رہ رہی ہیں۔ اور اب ان کا لباس قمیص اور شلوار اور دوپٹہ ہے۔ یہودیوں سے گفتگو کے دوران محسوس ہوا کہ ان کے بھی مفادات ہیں جس طرح ہمارے تاہم وہ بھی اسی طرح عقلی دلائل کے آگے جھکتے ہیں جس طرح دوسرے انسان عقلی دلائل سن کر جھک جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہودیوں کے سلسلہ میں ہم کو زیادہ فطری نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی ہم انھیں "دشمن" کے روپ میں دیکھنے کے بجائے "مدعو" کے روپ میں اور فطرت کے اسلوب میں انھیں دین حق کا مخاطب بنائیں۔
یروشلم کے چند روزہ قیام کے دوران بہت سے ادارے اور عبادت خانے دیکھنے کا مسلمانوں کے بھی اور غیر مسلموں کے بھی۔ میں نے پایا کہ عیسائی حضرات کے یروشلم میں کثیر تعداد میں بہت بڑے بڑے چرچ ہیں، یہاں ان کے شاندار ادارے ہیں۔ انھوں نے جلسوں اور میٹنگوں
کے لیے نہایت عمدہ قسم کے ہال بنارکھے کیں۔ مگر جہاں تک معلوم کر سکا تو فلسطینی مسلمانوں کے یہاں اس طرح جدید معیار کے اعلیٰ ادارے موجود نہیں ۔ اس کی وجہ غالباً دونوں کے مزاج کا فرق عیسائی حضرات تعمیری شعبوں میں اپنے کو مستحکم بنانے میں لگے رہتے ہیں ۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے ذہن سیاست اور اقتدار سے اتنا زیادہ ماؤف ہیں کہ وہ یہ سوچ نہیں پاتے کہ یہاں کوئی اور بھی کام ہے جس میں انھیں مشغول ہونا چاہیے ۔
یہ دراصل فکری پس ماندگی کی علامت ہے ۔ قدیم زمانہ میں سیاسی ادارہ ہی واحد سب سے بڑا ادارہ سمجھا جاتا تھا ۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی ادارہ نے ثانوی حیثیت حاصل کرلی ہے باشعور قوموں نے اس تبدیلی کو جان کر اس کے مطابق اپنی تعمیر کر لی ۔ مگر مسلم رہنما اور دانشور سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے سیاست ہی چٹان سے اپنا سرٹکرا رہے ہیں۔ بے شمار قربانیوں کے باوجود وہ کوئی بھی حقیقی چیز حاصل نہ کر سکے۔
مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اکثر جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ : مَن لِلقدس ؟ یعنی کون ہے جو قدس کے لیے کچھ کرے۔ یہ جملہ بظاہر یہ تاثر دیتا ہے جیسے کہ قدس کا میدان خالی پڑا ہوا ہے اور وہاں کوئی کچھ نہیں کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ بات صد فیصد بے بنیاد ہے۔ ۱۹۴۸ء میں شیخ حسن البنا نے قاہرہ میں جلوس نکالا جس میں ایک لاکھ مصری شریک تھے۔ اس کا نعرہ تھا : لبيك يا فلسطين (اے فلسطین ہم حاضر ہیں) پھر کئی بار باقاعدہ مسلم فوجوں نے اسرائیل سے جنگ کی۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کی عسکری تنظیمیں ہر روز قربانی دے کر اس محاذ پر لڑائی لڑرہی ہیں۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ پر جوش فلسطینی اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر اسرائیلی آبادی میں گھس جاتے ہیں۔ یہ خود کش بمبار خود بھی ہلاک ہوتے ہیں اور بہت سے اسرائیلیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔
ایسی حالت میں مِنْ لِلقدس کا جذبہ باقی نعرہ سراسر بے معنی ہے۔ اس قسم کے دانش وروں بھی نہیں ہو رہی ہے۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جدوجہد تو سر فروشانہ حد تک جاری مگر عملاً وہ سب کی سب بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہیں ۔ یہ یہ قرآنی الفاظ میں ، حبط اعمال کا
شکار ہو رہی ہیں۔ گویا کہ جو چیز مفقود ہے وہ جد و جہد کا نتیجہ ہے نہ کہ خود جد و جہد۔ ہندستان اور اسرائیل کے وقت میں ڈھائی گھنٹہ کا فرق ہے۔ ۲۹ اگست کی صبح کو مقامی وقت کے اعتبار سے آٹھ بجے ہیں۔ میری گھڑی ہندوستان کے اعتبار سے ساڑھے دس بجے کا وقت بتا رہی ہے۔ سورج میلوں تک کے پورے ماحول کو آخری حد تک روشن کیے ہوئے ہے۔ اپنے کمرہ میں لگے ہوئے ’’قد دیوار‘‘ شیشوں کے پیچھے کھڑا ہوا باہر شہرِ قدس کا منظر دیکھ رہا ہوں یہ حضرت داؤد کے محل کے کھنڈر ہیں۔ یہاں حضرت سلیمانؑ کے محل کا کھنڈر تھا۔ بیت القدس ہے جس کو عبد الملک بن مروان اموی نے بنوایا تھا۔ یہ وہ رومی عدالت ہے جہاں حضرت مسیحؑ کے خلاف فیصلہ سنایا گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت مریم کی پیدائش ہوئی۔ مسجد اقصی ہے جہاں پیغمبر اسلام نے تمام نبیوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا کی۔ یہ مسجد عمر ہے جہاں فتح فلسطین کے بعد حضرت عمر فاروق نے نماز ادا فرمائی۔ اسی طرح پورے علاقوں میں جگہ جگہ نبیوں کے نام کی تختیاں لگی ہوئی ہیں۔ سبھی مذہبی فرقے ان نبیوں اور بزرگوں کا احترام کرتے ہیں، مگر یہی فرقے آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرنے کے لیے تیار نہیں۔ فلسطین کا مسئلہ پچھلے پچاس سال سے پوری مسلم دنیا، خصوصاً عرب دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ اس دور کا عرب لٹریچر فلسطین کی باتوں سے پُر ہے۔ لکھنے اور بولنے والوں نے نہایت جذباتی انداز میں اس پر طبع آزمائی کی ہے۔ ایک عرب شاعر الزرکلی نے کہا کہ صلاح الدین کو دوبارہ ہمارے درمیان لاؤ اور حطین یا حطین جیسا معرکہ دوبارہ تازہ کرو :
هاتِ صلاح الدين ثانية فينا جددي حطين او شبه حطينا ایک اور عرب شاعر احمد مطار جو آج کل لندن میں رہتے ہیں، ان کی نظم کے دو شعر یہ ہیں : المقدس للدنيا قمر في القدس قد نطق الحجر لا مؤتمر لامؤتمر انا لا اريد سوى عمر (قدس دنیا کے لیے چاند ہے۔ قدس میں پتھر بھی بول پڑا۔ مجھے کانفرنس نہیں چاہیے۔ میں تو صرف عمر کو چاہتا ہوں) مگر عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطین کے محاذ پر اب تک کچھ بھی حاصل نہ کیا جا سکا۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔ اور اس کو اسلام کا
دشمن نمبر ایک کہتے ہیں۔ اس کا سبب ، ایک فلسطینی نوجوان کے الفاظ میں یہ ہے کہ ــــــ امریکی مددہی اسرائیل کے وجود وبقا کا واحد راز ہے (الدعم الامريكى هو سر استمرار عجیب بات ہے کہ عین اسی وقت ساری دنیا کے مسلمان امریکہ سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کوئی براہ راست طور پر اور کوئی بالواسطہ طور پر ۔ آج بھی ایک مسلمان یہ کہنے میں فخر محسوس کرتا ہے کہ میں نے امریکہ کا سفر کیا، یامیرابیٹا امریکہ میں سٹل ہو گیا ہے۔ مزید یہ کہ جو مسلمان امریکہ میں باقاعدہ بس گئے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ ان کی نئی نسل امریکی شہری ہونے پر فخر کرتی ہے۔ نکلنے والے العالم الاسلامی کی ( ۲۷ ذوالقعدہ ۱۴۱۶ھ) رپورٹ کے مطابق ، امریکہ کے ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ مجھے اس پر فخر ہے کہ میں ایک امریکی مسلمان ہوں :