Al-Risala · September 1997

I am proud to be an American Muslim.

Al-Risala, September 1997

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی دو عملی موجودہ دنیا کے مسلمانوں کی اصل کمزوری ہے۔ جس روش کو اصولی طور پر وہ ماننے کے لیے تیارنہیں، ، اسی روش کو نہایت اطمینان سے اختیار کر کے تراہ جھوٹ اور پر ہڑیاً لیے تیار ہیں، اسی روس کو نہایت اہمیاں سے تمام پوتے اور بھر کے لئے اختیار کیے ہوئے ہیں۔

عرب علاقہ میں کئی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک جگہ کچھ عرب نوجوان آپس میں باتیں کر رہے وہاں کھڑے ہو کر ہم لوگ انھیں دیکھنے لگے۔ پھر میں ایک نوجوان کے قریب گیا۔ کے دوران اس نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ صہیونی مقبوضہ فلسطین کو ایک عظیم قید خانہ میں تبدیل کر رہے ہیں (الصهاينة يحولون فلسطين المحتلة الى سجن كبير) میں نے کہا کہ آپ لوگ یہود کی طاقت کو جانتے ہیں مگر فطرت کی طاقت سے آپ لوگ بے خبر ہیں۔ اگر کوئی یہودی کہے کہ ”ہم پورے فلسطین کو ایک قید خانہ بنا دیں گے “ تو آپ کو اس کے جواب میں کہنا چاہیے کہ ایک پورے ملک کو قید خانہ بنانا کوئی سادہ بات نہیں، یہ خدا کے مقرر کیے ہوئے نظام فطرت سے لڑنا ہے۔ اور نظام فطرت سے لڑنا نہ کسی رمتی پاور کے لیے ممکن ہے اور نہ کسی سپر پاور کے لیے۔

دنیا کے کسی بھی حصہ میں کسی بھی مسلمان سے بات کی جائے تو وہ فلسطینی عربوں کے اوپر

اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کی بات کرے گا۔ بطور واقعہ یہ بات صحیح ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس شکایت اور احتجاج کا کوئی نتیجہ ہے۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ فلسطینی عربوں کا موقف اپنی جگہ پر درست ہے ، مگر جب وہ جنگ کی طاقت نہیں رکھتے تو وہ اپنی تحریک متشددانہ انداز پر کیوں چلاتے ہیں۔ جب کہ بار بار کے تجربہ سے معلوم ہو چکا ہے کہ وہ ایک اسرائیلی بس پر بم مارتے ہیں تو اسرائیل پوری عرب بستی پر بمباری کر کے اس کو تباہ کر دیتا ہے۔ ساؤتھ افریقہ کے پریسیڈنٹ نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela) نے فلسطینیوں کی حمایت میں ایک بیان دیا اور حماس کے نمائندوں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو تمام عرب خوش ہو گئے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کے ان الفاظ سے زیادہ کار آمد خود ان کا عملی نمونہ ہے۔ ان کو بھی اپنے ملک میں فلسطین جیسے حالات کا سامنا تھا۔ انھوں نے اپنی پوری تحریک پر امن انداز میں چلائی۔ یہاں تک کہ وہ کامیاب ہو گئے۔ ہوں کہ فلسطینیوں کو نیلسن منڈیلا کے اس تجربہ سے سبق لینا چاہیے۔

ایک بار میں نے ایک عرب اسکالر کو بتایا کہ میں ایک انٹرنیشنل پیس کانفرنس میں جانے والا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پیس کانفرنسیں بالکل بے کار ہیں۔ یہ لوگ انصاف کے سوال کو نظر انداز کر کے امن قائم کرنا چاہتے ہیں حالاں کہ انصاف کے بغیر امن مگر یہ ایک غیر حقیقی بات ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امن کا تعلق انصاف سے نہیں ہے۔ امن کا مقصد انصاف حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد صرف مواقع عمل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ معاہدہ کے ذریعہ امن حاصل کیا۔ حالاں کہ وہ واضح طور پر انصاف کے خلاف تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد انصار نے "منا امیر ومنکم امیر" کا مطالبہ واپس لے کر امن حاصل کیا۔ حالاں کہ وہ انصاف کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں جب بھی امن حاصل کیا گیا ہے، انصاف کے سوال کو نظر انداز کر کے حاصل کیا گیا ہے۔ انصاف تو اس جد و جہد کا ثمرہ ہے جو امن کے بعد جاری کی جاتی ہے۔ وہ خود امن کے اندر براہِ راست طور پر شامل نہیں ہوتا۔ سفر کے دوران ایک فلسطینی عرب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے امن کی اہمیت پر زور دیا

اور تشدد کو بے فائدہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ہم تشدد کے خلاف ہیں۔ مگر ہم امن چاہتے ہیں جو عدل کے ساتھ ہو (نحن نبذ ا للعنف وللننان نريد سلاما عادلا )

یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے طبقہ کا نظریہ ہے۔ اپنی اپنی زبان میں یہی بولی بول رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسلم انگریزی میگزین (ریڈینس ۳۰- مارچ ۱۹۹۶) نے اس موضوع پر ایک پر جوش آرٹیکل شائع کیا ہے ۔ اس کا خلاصہ مذکورہ میگزین نے اپنے ٹائٹل کے اوپر اس طرح جلی حرفوں میں نمایاں کیا ہے ________ امن بغیر انصاف ، دور کا خواب ہے :

یہ الفاظ بظاہر خوب صورت معلوم ہوتے ہیں مگر عملی اعتبار سے وہ سراسر بے معنی ہیں۔ موجودہ دنیا میں امن کبھی بھی نظری انصاف کی بنیاد پر نہیں ملتا، حتی کہ پیغمبر کو بھی نہیں۔ جب بھی کسی کو ملتا ہے صورت موجودہ پر راضی ہونے کی بنیاد پر ملتا ہے نہ کہ بوقت صلح غیر حاصل شدہ انصاف کو حاصل کرنے کی بنیاد پر۔ پیغمبر کی زندگی میں اس کی ایک واضح مثال حدیبیہ کا معاہدہ شدہ انصافی توحا مل کرنے کی بنیاد پر۔ پیغمبرانہ رمندی ہیں۔ اس کی دال ماں نے حدیبیہ کا معاہدہ اس کا حصول صرف اس وقت ممکن ہو سکا جب کہ پیغمبر نے صورت موجودہ (اسٹیٹس کو) پر اپنی رضا مندی ظاہر کردی۔

۱۹۱۷ء میں برٹش امپائر نے فلسطین کی تقسیم کا ایک فارمولا بنایا جو عام طور پر بالفور ڈیکلریشن کے نام سے مشہور ہے ۔ اس تقسیم میں فلسطین کا صرف ایک تہائی حصہ اسرائیل کو دیا گیا تھا اور اس کا دو حصہ عربوں کے لیے خاص کیا گیا تھا جس میں پورا کا پورا یروشلم بھی شامل تھا مگر اس وقت کی مسلم قیادت نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک عرب عالم نے اس کو قبول کر لینے کی بات کہی تو اس پر عرب مفاد سے غداری کا الزام لگایا گیا چنانچہ وہ شخص یہ شعر کہہ کر مر گیا ۔ عنقریب میری قوم جان لے گی کہ میں نے اس کو دھوکا نہیں دیا ہے ۔ اور رات خواہ کتنی ہی لمبی ہو جائے صبح بہر حال آکر رہتی ہے :

سیعلم قومی اننی لا اغشُّھم و مهما استطال اللیل فالصبح واصل اُس وقت کی مسلم قیادت نے اگر اسٹیٹس کو (حالت موجودہ) کو قبول کر لیا ہوتا تو فلسطینیوں کی حالت

آج سو گنا بہتر ہوتی۔ مزید یہ کہ وہ اس ناقابل بیان تباہی سے بچ جاتے جو پچھلے پچاس سال سے جاری ہے اور ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔

حقیقت یہ ہے کہ نزاعی مسائل کو حل کرنے کا واحد ممکن فارمولا یہی ہے۔ دسمبر ۱۹۹۶ء میں میری ملاقات اقوام متحدہ کے ایک ذمہ دار سے ہوئی ۔ انھوں نے ذاتی ملاقات میں مجھ سے پوچھا کہ اجودھیا اور کشمیر کے مسئلہ کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا، دونوں کے لیے واحد نکاتی فارمولا صرف ایک ہے ـــ حالت موجودہ کو قبول کرلیجیے۔

I have one-point formula for both-accept the status quo. فلسطینیوں نے یاسر عرفات کی قیادت میں اسرائیل کے یہودیوں سے جو صلح ستمبر ۱۹۹۵ء میں کی ہے اس پر مسلم دنیا میں مختلف رائیں ظاہر کی گئی ہیں۔ سعودی عرب کے مشہور عالم شیخ ابن باز نے اس کو درست قرار دیا ہے۔ اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ قرآن کے مطابق یہودیوں سے مودت اور موالات جائز نہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ ابن باز نے کہا ہے کہ یہودیوں اور دوسرے کافروں سے صلح ان کے ساتھ مودت اور موالات کو لازم نہیں کرتی (الصلح مع اليهود أو مع غيرهم من الكفرة لا يلزم مودتهم ولا موالاتهم) الدعوہ، ریاض ۲۵ شعبان ۱۴۱۵ھ / جنوری ۱۹۹۵ء شیخ ابن باز کے اس فتوے سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ کوئی گروہ خواہ بظاہروہ دشمن اسلام کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ معاہدہ ان کے ساتھ مودت اور موالات کو مستلزم نہیں ہوگا۔ دو چیزوں میں فرق کرتے ہوئے دونوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ دیکھنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت ہے اور اس پر آپ نے بار بار عمل فرمایا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ایک حکمت حیات ہے، اور اس حکمت کی رعایت کیے بغیر اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی نہیں ہوسکتی ۔

پی ایل او جس کو تقریباً . . . . ۵م فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم بتایا جاتا ہے، وہ ۱۹۶۴ء میں قائم کی گئی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد اس کے ابتدائی چارٹر کے مطابق یہ تھا ــــ اسرائیل کا استیصال اور صهیونی تحریک کا مکمل خاتمه۔

مگر عملاً بالکل بر عکس صورت پیش آئی ۔ یہاں تک کہ یہ تحریک اپنے اعلان کردہ مقصد میں اس سند کا نام ، ہوئی دھیریب ۲۵ اپریل ۱۹۹۶ کو حسین ، میل تو جل کی میٹنگ عنازہ پٹی میں ہوئی۔ اس میں اتفاق رائے سے قدیم چارٹر کی اس دفعہ کو سرے سے حذف کر دیا گیا۔

مسلم پریس نے عام طور پر یاسر عرفات کے زیر قیادت فلسطینی تنظیم کے اس فیصلے کی مذمت مگر میں سمجھتا ہوں کہ ٹھیک یہی قابل مذمت فعل ان دوسرے مسلم رہنماؤ ں نے بھی عملاً کر رکھا ہے جو ابھی تک مسلم پریس میں قابل تعریف سمجھے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں نے یہی کیا ہے کہ ابتداء وہ "باطل کی کامل تخریب" کے پر شور نعروں کے ساتھ اٹھے اور اب انھیں لوگوں نے ہر جگہ اس باطل کے ساتھ موافقت کا انداز اختیار کر رکھا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسطینی قیادت نے پسپائی کا یہ فیصلہ اعلان کے ساتھ کیا، جبکہ بقیہ مسلم رہنما بلا اعلان اسی مصالحانہ روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔

پاکستانی اخبار نوائے وقت کے شمارہ ۱۶ مارچ ۱۹۹۶ء میں ایک خبر جلی سرخیوں کے ساتھ نظر سے انسداد دہشت گردی کی عالمی کانفرنس کے خاتمہ پر حماس کی طرف سے اسرائیل کے خلاف ایک اعلان کیا گیا جو مذکورہ اخبار میں اس سرخی کے ساتھ چھاپا گیا : یہودیوں کو سکون کی نیند نہیں سونے دیں گے ۔

میں نے اس خبر کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ یہ اعلان ادھورا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس کا اعلان مکمل طور پر ان الفاظ میں ہونا چاہیے : یہودیوں کو سکون کی نیند نہیں سونے دیں گے، خواہ ہم کو وہ موت کی نیند سلا دیں۔

ایک صاحب کو مجھ سے کافی عقیدت ہے۔ کانفرنسوں میں کئی بار ان سے ملاقات ہو چکی اس بار ملاقات ہوئی تو انھوں نے جلدی سے میرا ہاتھ چوم لیا۔ اس کو دیکھ کر ایک بزرگ نے فرمایا: کیا یہ اسلام میں جائز ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی چیزیں ہمیشہ وقتی جذبہ کے تحت ہوتی ہیں ۔ ان کا جائز اور ناجائز سے کوئی تعلق نہیں۔

ابن کثیر نے باب "فتح بیت المقدس علی یدی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ " کے تحت لکھا ہے کہ

عمر جب شام پہنچے تو ابو عبیدہؓ اور دوسرے سردار ان سے ملے۔ مثلاً خالد بن الولیدؓ، یزید بن ابی سفیان۔ پھر ابو عبیدہ سواری سے اتر کر پیدل چلے اور عمر بھی سواری سے اتر کر پیدل چلے ــــــ پھر ابو عبیدہ نے اشارہ کیا تاکہ عمر کا ہاتھ چومیں، تو عمر نے چاہا کہ ابو عبیدہ کا پاؤں چوم چنانچہ ابو عبیدہ رک گئے اور عمر بھی رک گئے (البدایہ والنہایہ ۵۵/۷) ۲۹ اگست ۱۹۹۵ کی صبح کو افتتاحی اجلاس تھا۔ وہ یروشلم کے نوٹر ڈیم (Notre Dame) ہال میں ہوا۔ اسٹیج کے پیچھے حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے تھے :

Community of St. Egidio International Meetings: People and Religions Together in Jerusalem: Jews, Christians and Moslems معاًفی القدس : یہوداہ ومسیحین ومسلمین تقریروں کا خلاصہ یہ تھا کہ تینوں مذہب (یہودیت، مسیحیت، اسلام) کو پر امن طور پر مل کر کیوں کہ ہم ایک وسیع انسانی برادری کے افراد ہیں :

Printed page