Al-Risala · September 1997

With peace every thing, without peace nothing.

Al-Risala, September 1997

By Maulana Wahiduddin Khan

شیخ عبد السلام مدیر اوقاف القدس نے اپنی تقریر میں اسٹیج کو منبر الحب کہا۔ ان کا عربی لہجہ بہت اچھا معلوم ہو رہا تھا۔ انھوں نے موضوع سے متعلق قرآن کی مختلف آیتیں پڑھ کر سنائیں ۔ انھوں نے کہا کہ قدس کا نام ہی بتاتا ہے کہ اس علاقہ کو ہر قسم کی اخلاقی برائیوں سے پاک ہونا چاہیے۔ آیت لایشال عھد الظالمین کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو عہد پر قائم رہے اس کے لیے خدا کا وعدہ ہے جو عہد سے نکل جائے وہ اس سے نکل گیا " شرع من قبلنا شرع لنا ما لم ينسخ " پچھلی شریعت بھی ہماری شریعت ہے، جب تک وہ منسوخ نہ ہو۔ جہاد کے معنی کوشش (بذل الجھد) کے ہیں۔ اگر قولی دعوت کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو تو قتال نہیں ہے۔

غیر مسلم کی طرف سے قتال کیا جائے تو داعی بھی دفاع کرے گا ۔ ان کا پورا انداز پر جوش مجاہدانہ صدراجلاس نے اپنی تقریر کے لیے خیرمقدمی کلمات کہے۔

۲۹ اگست کو دوپہر کے سیشن میں کئی تقریریں تھیں۔ ربی ڈیوڈ روزن (David Rosen) نے اپنی پر جوش انگریزی تقریر میں یروشلم کی زبردست تعریف بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں جو حسن اتارا گیا اس کا دس میں سے نو حصہ یروشلم کو دیا گیا اور باقی ایک حصہ ساری دنیا میں تقسیم کیا انھوں نے یہودیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں صرف رہنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ اس لیے ہیں کہ ہم یروشلم سے محبت کریں :

We are here not just to live in Jerusalem, but to love Jerusalem. آج کے سیشن میں میں نے آدھ گھنٹہ کا ایک پیپر پیش کیا۔ اس انگریزی پیپر کا خلاصہ یہ تھا کہ یروشلم میں تین مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) کے درمیان جو نزاع پیدا ہوگئی ہے اس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت پر عمل کر کے حل کیا جا سکتا ہے۔ وہ ہے میرے لفظوں میں الفصل بین القضيتين ما عدم الخلط بین الشیئین ہے۔ معراج کے موقع پر پیغمبر اسلام خدائی انتظام کے تحت مکہ سے یروشلم آئے اور یہاں مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی۔ وقت یروشلم پر مشرک ایرانیوں کی حکومت تھی۔ آپ نے سیاسی اشو کو مذہب سے الگ اگر آپ ایسا نہ کرتے تو اس وقت آپ ایک ایسی مسجد میں نماز نہ ادا کرتے جو عملاً غیرمسلموں کے سیاسی اقتدار کے تحت تھی (یہ مقالہ پوری شکل میں الرساله نومبر ۱۹۹۵ میں دیکھا جاسکتا ہے) یہودی علماء اور دانشوروں کی باتوں اور ان کی تقریروں کو سن کر مجھے احساس ہوا کہ ان کے اندر وہ نفسیات مزید اضافے کے ساتھ موجود ہے جو موجودہ مسلمانوں میں ہے۔ یعنی "فخر" کے ساتھ کہو ہم یہودی ہیں“ میں نے سوچا کہ اس کا راز کیا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا راز یہ ہے کہ بائبل میں دور اول کے یہودیوں کے بارہ میں جو باتیں ہیں اس کو وہ اپنے اوپر چسپاں کر رہے اور بعد کے زوال یافتہ یہودیوں کے بارہ میں جو باتیں ہیں اس کو انھوں نے نظر انداز کر رکھا ٹھیک ایسا ہی خود مسلمان بھی کر رہے ہیں۔ قرآن وحدیث میں دورِ اول کے اہل ایمان کے بارہ میں جو باتیں ہیں موجودہ مسلمانوں نے اپنے آپ کو اس کا مصداق بنا رکھا ہے۔

میں جو باتیں بعد کے زوال یافتہ مسلمانوں کے بارے میں کہی گئی ہے، اس سے اس طرح چشم پوشی اختیار کرلی ہے جیسے کہ وہ کسی اور گروہ کے بارے میں ہوں۔

ایک یہودی دانشور جو آج کل امریکہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی تجویز تو بڑی اچھی ہے، مگر کیا یہ ممکن بھی ہے۔ میں نے کہا کہ یقینی طور پر ممکن ہے۔ اور وہ اس طرح کہ آپ فلسطینی عربوں کو وہی شہری حقوق اور وہی مذہبی آزادی دینے کے لیے تیار ہو جائیں جو آپ خود امریکہ میں حاصل کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ وہاں آپ کو یکساں شہری حقوق ملے ہوئے ہیں۔ یہی آپ دل سے فلسطینیوں کو دے دیں۔ اس کے بعد یہ تجویز سراسر قابل عمل ہو جائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جو سیاسی آرزوئیں اپنے سینہ میں لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ بیشتر لوگوں کی دل چسپی صرف اس سے ہوتی ہے کہ انھیں یکساں شہری حقوق حاصل ہوں۔ وہ آزادانہ طور پر اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ ان کے لیے تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے مواقع کھلے ہوئے ہوں۔ ان کو اپنے ماحول میں عزت و احترام ملا ہوا اگر کوئی حکومت عام شہریوں کو یہ چیزیں دے دے، جیسا کہ امریکہ اپنے شہریوں کو دیے ہوئے ہے تو سیاسی شورشیں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔

میں نے سنا تھا کہ اسرائیل میں خوف وہراس کا ماحول ہونے کی وجہ سے وہاں ہارٹ اٹیک کے واقعات بہت ہوتے ہیں۔ اس کی ایک تصدیق غالباً یہ تھی کہ میں نے ایک اشتہار دیکھا اس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل میں ایک نئی ہارٹ لائن ٹکنالوجی ڈولپ کی گئی ہے۔ مطابق آدمی کے ٹیلی فون سے جیبی سائز کا ایک ٹرانسمیٹر وابستہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ ممکن ہو جاتا ہے کہ بوقت ضرورت آدمی فی الفور میڈیکل سنٹر سے ربط قائم کر سکے اور ذاتی طور پر میڈیکل سنٹر پہنچے بغیر اس کی ای سی جی جانچ ہو جائے اور فوری طور پر وہ طبی مشورہ حاصل کر سکے۔ اس اشتہار کے چند الفاظ یہ تھے :

Heart attacks are still today's No. 1 Killer, But Heartline can help in saving lives.

اسرائیل کے شہری مسلسل طور پر اپنے کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کو تحفظ دینے کے لیے اسرائیلی ریاست ہر سال اپنے بجٹ کا بہت بڑا حصہ خرچ کرتی ہے۔ کو یہ مہنگا خرچ منظور ہے مگر اس کو یہ منظور نہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کا جائز حق دے دے۔ اور اس طرح فلسطین میں عدم تحفظ کی صورت ہال کا خاتمہ کر دے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ بجٹ والا مسئلہ صرف خرچ کا مسئلہ ہے، جب کہ حقوق دینے کا مسئلہ ان کے لیے قومی وقار کا مسئلہ ہے۔ اور تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ قومیں اپنے وقار کا جھنڈا کسی حال میں نیچے اتارنے پر راضی نہیں ہوتیں خواہ اس کے نتیجہ میں انھیں سوگنا زیادہ بڑے نقصان کو برداشت کرناپڑے۔ اطالوی مسیحی تنظیم (Community of St. Egidio) کی طرف سے یروشلم میں جو انٹرنیشنل کانفرنس (۲۹-۳۰ اگست (۱۹۹۵) منعقد کی گئی، اس کا شعار یہ تھا :

Together in Jerusalem: Jews, Christians and Moslems اس کانفرنس میں ۳۰ اگست کی صبح کو "راونڈ ٹیبل" کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ایک پولیٹیکل ڈائیلاگ تھا۔ اس میں فلسطینیوں کی طرف سے مسٹر فیصل حسینی شریک تھے جو سابق مفتی اعظم فلسطین کے صاحبزادے ہیں۔ اسرائیل کے نمائندہ کی حیثیت سے اس کے اکونمی اور پلاننگ شعبہ کے منسٹر مسٹر یوسی بیلین موجود تھے ۔ درمیانی مددگار کی حیثیت سے اٹلی کے سینیر جرنلسٹ مسٹر آریگو لیوی تھے ۔

۳ اگست کی صبح کو میں یروشلم کے نوٹر ڈیم سنٹر (Notre Dame Centre) پہنچا تو وہاں کے وسیع ہال میں ایک طرف سامعین کی کرسیاں مکمل طور پر بھری ہوئی تھیں۔ اسٹیج پر ایک لمبی میز تھی جس پر تین کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ ایک فلسطینی نمائندہ کے لیے ، دوسری اسرائیلی نمائندہ کے لیے ، اور تیسری درمیانی کرسی اطالوی صدر کے لیے۔ میز پر ناموں کی تختیاں حسب ذیل ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی تھیں :

Printed page