One open city with two capitals.
Al-Risala, September 1997
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر دونوں اپنے اپنے موقف پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ میٹنگ کا مقرر وقت ختم ہو گیا۔ گفتگو کے دوران واضح طور پر محسوس ہوتا تھا کہ اسرائیلی نمائندہ زیادہ ذہین اور ماہر اس کے مقابلہ میں فلسطینی نمائندہ ہر اعتبار سے کمتر ثابت ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیلی نمائندہ نے بتایا کہ میں نے پچھلے ہفتہ اریجا جا کر مسٹر یاسر عرفات سے ملاقات کی میں نے ان سے کہا کہ آپ نے ایک طرف ہم سے امن معاہدہ کیا ہے، اور دوسری طرف فلسطینی مسئلہ پر آپ جہاد کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔ یہ تضاد کیوں۔ فلسطینی نمائندہ نے اس کے جواب میں کہا کہ اسلام میں جہاد کا مطلب صرف قتال نہیں ہے۔ انھوں نے حدیث (رجعنا من الجهاد الأصغر الى الجهاد الاكبر) سنا کر کہا کہ اسلام میں زیادہ بڑا جہاد تو نفس کا جہاد ہے اور جہاد بالسيف چھوٹا جہاد ہے۔ انھوں نے جہاد اکبر کا انگریزی ترجمہ (bigger jihad) کیا اور جہاد اصغر کا ترجمہ (smaller jihad) میں سمجھتا ہوں کہ یہ جواب بھی نادرست تھا اور یہ ترجمہ بھی نادرست ۔ پچھلے دن کے اجلاس میں میں نے اپنا پیپر پیش کیا تھا جس میں کہا تھا کہ اس خطہ میں امن قائم کرنے کے لیے پولیٹکل اشو اور مذہبی اشو کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ کے اطالوی صدر نے آخر میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی اس نازک مسئلہ کا حل ہے۔ پاس اپنے پیپر کی ایک نقل موجود تھی۔ میں نے فوراً اٹھ کر صدر جلسہ کو وہ نقل دے دی۔ نے فوراً ہی اس کی مزید فوٹو کاپی کروائی۔ ایک اپنے پاس رکھی اور بقیہ فلسطینی اور اسرائیلی نمائندوں کو دی۔
فلسطین کے موجودہ مسئلہ کا آغاز برطانی گورنمنٹ کے بالفور ڈیکلریشن(۱۹۱۷) (۱۹۱۷) سے ہوتا
یہ ڈیکلریشن سر بالفور (Arthur James Balfour) کی طرف منسوب ہے جو اس وقت یہ دیرینہ تربا طوی برطانوی گورنمنٹ میں فارن سکریٹری تھا۔ اس وقت برطانیہ کے سامنے ایک ہی نوعیت کے دو مسئلے ایک یہ کہ آئرلینڈ کے لوگ ہوم رول مانگ رہے تھے۔ دوسری طرف برطانیہ (اور دوسرے ملکوں کے یہودی) یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ فلسطین کو یہودیوں کا ہوم لینڈ بنا دیا جائے ۔ بالفور نے آئرلینڈ کے قوم پرستوں کے لیے جو پالیسی بنائی وہ تھی ـــــ ہوم رول کو نرمی سے ختم کرنا (Killing home rule by kindness) مگر فلسطین کے لیے اس کی پالیسی یہ تھی کہ یہودی تنظیم کے مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کر دیا جائے ۔ ۲ نومبر، ۱۹۱۷ء کو حکومت برطانیہ کی طرف سے بالفور ڈیکلریشن کی صورت میں اعلان کیا گیا کہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک نیشنل ہوم (قومی وطن) قائم کیا جائے گا ۔
تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ برطانیہ کا یہ اقدام کسی اسلام دشمنی کی بنا پر تھا۔ یہ تمام تر آپ سیاست حکمت یہ پایا ۱۱۰ میں جب روس میں انقلاب آیا۔ قیادت میں زیادہ تر یہودی شامل تھے۔ برطانیہ کے سیاست دانوں نے یہ سمجھا کہ وہ یقیناً یہودی تحریک (Zionism) کی حمایت کرے گی۔ روس کو اپنے موافق بنانے کے لیے انھوں نے ضروری سمجھا کہ وہ یہودی مطالبہ کو مان لیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح انھیں عالمی سطح پر یہودیوں کی ہمدردی بھی حاصل ہو جائے گی۔ اس طرح کے اور بھی کئی اسباب تھے جس کی بنا پر برطانی سیاست دانوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہودی مطالبہ کو مان لینا ان کے ایمپائر کے حق میں مفید ہوگا۔ اگر چہ یہ رائے سطحی تاثر کے تحت تھی نہ کہ کسی گہرے تدبر کے تحت۔
کچھ لوگوں نے یہ رائے دی ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی شکل یہ ہے کہ یروشلم کو ایک کھلا شہر (Open City) قرار دے دیا جائے۔ یعنی یروشلم پر کسی بھی فریق کا کامل سیاسی اقتدار نہ بلکہ اقوام متحدہ کی ماتحتی میں اس کا انتظام چلایا جائے۔ اس انتظام کی حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ اس طرح ہر مذہب کے لوگوں کو وہاں آزادانہ داخلہ (free access) کی اجازت مل جائے گی۔ خاص طور پر یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کو، جن کے مقدس مذہبی مقامات یروشلم میں واقع ہیں ۔
یہ تجویز خواہ نظریاتی طور پر کتنی ہی خوب صورت ہو مگر عملاً وہ ممکن نہیں۔ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اصل مقصود مذہبی مقصد کے لیے آزادانہ داخلہ ہے اور وہ بالفعل ہر ایک کو یہ وشلم میں یہ آزادی اسرائیل کی کسی عنایت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ زمانی تبدیلی کی بنا پر ہے۔ زمانہ میں مذہبی آزادی کا جو انقلاب آیا ہے اور جس کی ضمانت خود اقوام متحدہ نے دے رکھی ہے۔ اس نے ناقابل تنسیخ انداز میں اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ ہر شخص ہر جگہ جا سکے، بشر ط طرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ وہ جہاں بھی جائے ہر جگہ وہ امن کی روش پر قائم رہے۔
۳۰ اگست کی شام کو سی این این (CNN) کے نمائندہ جیروڈکیسل(Jerrold (Jerrold Kessel) اور ان کی ٹیم نے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ابتداء انھوں نے صرف پانچ منٹ کے انٹرویو کے لیے مگر جب انٹرویو شروع ہواتو وہ آدھ گھنٹہ تک مسلسل بات کرتے رہے۔ انھوں نے آخر میں کہا کہ آپ کا انٹرویو بہت دل چسپ رہا۔
تمام سوالات اسلام کے بارہ میں تھے ۔ ان کے سوالات کسی قدر جار حانہ ہوتے تھے۔ مگر میں خدا کے فضل سے نہایت معتدل انداز میں ان کا جواب دیتا رہا۔ ایک سوال یہ تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اپنا رول ختم کر چکا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا تو خیال یہ ہے کہ اسلام از سر نو اپنا رول ادا کرنے کے لیے ابھر رہا ہے۔ کچھ سال پہلے تک لوگ کمیونسٹ آئیڈیا لوجی پر اعتماد کیے مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اب ساری دنیا میں ایک قسم کا نظریاتی خلا (ideological vacuum) پیدا ہو گیا ہے۔ اس خلا کو صرف اسلام ہی پُر کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر تو اسلام اس خلا کو پُر کر تا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ میں نے کہا کہ مجھے تو اس کے برعکس یہ نظر آرہا ہے کہ آج اسلام ساری دنیا کا مرکزِ توجہ بن گیا ہے۔ آپ کے ملک میں، ہیوی ویٹ چیمپین(ٹائسن)نے (ٹائسن) نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ برطانیہ میں ایک بہت اونچے خاندان کی لڑکی (جمائما) اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئی ہے۔ فرانس میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص (گارودی) نے قبول اسلام کا اعلان کر دیا ہے، وغیرہ۔
کناڈا کی ٹی وی کمپنی (Villagers Communication) کے نمائندہ اسٹیوڈی می (Steve Dawn Deme) اور ان کی پارٹی نے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات زیادہ تر
مسلمانوں کی موجودہ حالت کے بارے میں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں نے کہا کہ آپ کوچاہیے کہ مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھیں نہ کہ مسلمانوں کی روشنی میں اسلام کو رہتا ہے، تمہیں مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھنا چاہیے نہ کہ اس کے برعکس۔ You have to judge Muslims by Islam and not vice versa. تیسرا انٹرویو بی بی سی (ٹی وی) کی خاتون نمائندہ جانا بیرس (Jana Beris) کا تھا۔ مگر وقت کی کمی کے باعث وہ بہت مختصر رہا۔
مسلمانوں میں روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ یہودی بحیثیت قوم ہمیشہ کے لیے محتاج اور ذلیل کر دیے گئے ہیں۔ قتادہ نے کہا کہ تم کسی بھی ملک میں کسی یہودی سے ملو تو تم پاؤ گے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل ہے ( لا تلقى يهودياً فى بلد الا وقت وجدته من اذل الناس) تفسیر النسفی ۲۹۲/۱ موجودہ زمانہ میں معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہودی لوگوں کے درمیان کم از کم ظاہری طور پر باعزت جگہ پائے ہوئے ہیں اور مسلمان عملاً ہر جگہ بے قیمت حتیٰ کہ اقبال نے کہا :