سفر نامہ فلسطین ۷
Al-Risala, October 1997, pp. 2–10
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم اخباروں میں اکثر ایسی تصویریں چھپتی ہیں جن میں کچھ اسرائیلی سپاہی فلسطینی کو مارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تصویر کے اوپر یہ عنوان ہوتا ہے : اسرائیلی پولیس
لیکن اگر آپ دوسرے اخبارات کو دیکھیں تو یہی پولیس خود اسرائیلیوں کے خلاف ایسی ہی "بربریت" کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی پولیس کی "بربریت " کسی فلسطینی پر محض فلسطینی ہونے کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے مخالفانہ رویہ کی بنا پر ہوتی ہے۔ جو فلسطینی صرف اپنے کام سے کام رکھنا چاہتے ہیں، وہ آج بھی اسرائیل میں پر امن طور پر رہ رہے ہیں۔ مگر جو فلسطینی سیاسی حریف بنتے ہیں یا تشدد کا فعل کرتے ہیں ان کے اوپر پولیس بھی کارروائی کرتی ہے۔ پولیس یہی کارروائی خود یہودیوں پر بھی اس وقت کرتی ہے جب کہ وہ سیاسی ہنگامہ کریں یا تشدد اور تخریب کاری کریں۔ موجودہ زمانہ میں مسلم صحافت نے ہر جگہ ایک مجرمانہ رول ادا کیا ہے۔ میں اور ہر زمانہ میں عُشر اور یُسر ساتھ ساتھ موجود رہتے ہیں۔ یعنی منفی واقعات بھی اور مثبت واقعات بھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلم اخبارات نے یہ کیا کہ انھوں نے ہر جگہ صرف منفی پہلوؤں کی رپورٹنگ کی اور مثبت پہلوؤں کو سرے سے بیان ہی نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر جگہ کے مسلمان اپنے ملک اور اپنے سماج کے بارے میں منفی ذہنیت کا شکار ہو گئے۔ وہ یہ سمجھنے لگے کہ دنیا کی قومیں ان کی دشمن ہیں اور ان کے خلاف سازش کرنے میں مشغول ہیں۔ چنانچہ وہ تمام قوموں کے خلاف نفرت اور عداوت کی نفسیات میں مبتلا ہو گئے۔ اسی نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر ملک میں ، بشمول فلسطین مسلمانوں کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں مگر وہ عین مواقع کے درمیان ان کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔
ایک مسلم دانشور جنھوں نے فلسطین کے مسئلہ پر کئی کتابیں لکھی ہیں، ان سے میں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت لوگوں کو ویزا دینے میں بڑی فراخ دل ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا : اس کا سبب تو واضح ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ زیادہ
سے زیادہ ان کے یہاں جائیں اور ان کی ترقیوں کو دیکھیں۔
اس کی ایک مثال ہندستان کے مشہور قانون داں مسٹر نانی پالکھی والا ہیں، انھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ اسرائیل کا پانچ روزہ (۱۲-۱۶ جون ۱۹۹۴ء) دورہ کیا۔ اس سفر کے بعد مسٹر پالکھی والا نے ایک آرٹیکل لکھا جو نیوز فرام اسرائیل (News from Israel) کے شمارہ اگست ۱۹۹۴ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ پرچہ بمبئی میں واقع اسرائیلی قونصل (Consulate of Israel) کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے۔ مسٹر پالکھی والا کے مذکورہ آرٹیکل کے کچھ اقتباسات علاحدہ صفحہ پر یہاں نقل کیے جارہے ہیں۔
اس آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہا کہ جو مسلمان اس طرح کی باتوں پر غصہ ہوتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ مسلم ملکوں کو آمادہ کریں کہ وہ بھی اپنے یہاں ایسے واقعات رونما کریں جس کو لوگ آکر دیکھیں اور پھر واپس جا کر اس کی تعریف میں مضامین شائع کریں۔ کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھا۔ اس وقت دنیا بھر کے لوگ بغداد اور قرطبہ اور غرناطہ کو دیکھنے کے لیے آتے تھے اور پھر واپس جا کر اپنے ہم وطنوں سے اس کا شاندار تذکرہ کرتے تھے۔ حدیث میں آیا ہے کہ خالفوا الیهود (یہود کے خلاف عمل کرو) اس کا مطلب اس سفر میں میری سمجھ میں آیا۔ یہاں ”یہود“ کا لفظ علامتی معنی میں ہے۔ یہ حدیث یہود کی گروہی مخالفت کے معنی میں نہیں ہے۔ وہ دراصل ظاہر پرستی والے دین کے خلاف ہے جو دورِ زوال میں یہود کے اندر بہت زیادہ آگئی تھی۔
حدیث میں ہے کہ یہود جوتا پہن کر نماز نہیں پڑھتے ، اس لیے تم اس کے خلاف کرو۔ چنانچہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتا پہن کر نماز پڑھی (مشکاۃ المصابیح ۲۳۸/۱) اسی طرح آپؐ نے افطار میں تعجیل کرنے کی ہدایت فرمائی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہودی افطار میں تاخیر کرتے ہیں (لأن اليهود يؤخرون) سنن ابی داؤد ۳۱۵/۲ اس کی حکمت یہ ہے کہ یہود کے یہاں دین کی داخلی روح ختم ہو گئی تھی، البتہ وہ ظواہر کا خوب اہتمام کرتے تھے۔ مثلاً ان کا کہنا تھا کہ جوتا اتار کر عبادت کرنا افضل ہے اور جوتا پہن کر عبادت کرنا غیر افضل۔ اسی طرح یہودی اس کو متقیانہ احتیاط بتاتے تھے کہ روزہ افطار کرنے میں
دیر کی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مخالفت کی بات دراصل اسی ظاہر پرستی کو توڑنے کے لیے فرمائی۔ آپ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ یہود کی ربوبی میں جو ظہران کے بات پر تبت پر نہیں ہے۔ آپ کے ارشاد کے مطابق یہ عادت م یہود کی طرح نہ ہو جاو، جو ظاہر کے اہتمام کو دین سمجھتے ہیں۔ اس کے بجائے تم داخلی روح کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرو، کیونکہ وہی اصل مطلوب ہے۔
ابو عبیدہ بن الجراح کی قیادت میں شام فتح ہوا تھا۔ اس کے بعد ابو عبیدہ نے عمرہ (۲۹) الصله کی سرداری میں ایک لشکر فلسطین بھیجا۔ یہاں اس وقت رومی (بازنطینی) سلطنت تھی۔ کاسر دار ارطبوون تھا۔ مقابلہ میں رومی لشکر کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد وہ بیت المقدس (یروشلم) میں قلعہ بند ہو گیا۔ عمروبن العاص نے اس کا محاصرہ کر لیا۔ آخر کار وہ لوگ مجبور ہو گئے اور صلح کی پیش کش کی۔ البتہ یہ شرط رکھی کہ خلیفہ خود مدینہ سے یروشلم آئے۔ حضرت عمر فاروق مدینہ سے روانہ ہو کر جابیہ پہنچے۔ پھر وہاں سے یروشلم گئے۔ ادائیگی پر مصالحت ہوئی، اس معاہدہ کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس کی دفعات میں سے ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ ان کے عبادت خانے ڈھائے نہیں جائیں گے اور نہ ان میں کوئی کمی کی جائے گی اور نہ ان کے دین کے معاملہ میں ان پر کوئی جبر کیا جائے گا (لا تهدم كنائسهم ولا ينتقص منها ولا يكرهون على دينهم)
حضرت عمر فاروق یروشلم کے کنیستہ القیامہ میں داخل ہوئے۔ عصر کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ نے نماز پڑھنا چاہا۔ پادری نے کہا کہ یہیں پڑھ لیجئے مگر حضرت عمر نے اندر نماز نہیں پڑھی۔ بلکہ باہر نکل کر چبوترا پر اکیلے نماز پڑھی۔ یہ دیکھ کر پادری نے کہا کہ اگر آپ چرچ کے اندر نماز پڑھ لیتے تو مسلمان اس کو نظیر بنا لیتے اور کہتے کہ یہاں خلیفہ عمر نے نماز پڑھی ہے۔ جنرل وایزمان اسرائیل کی کیبنٹ کا ایک منسٹر تھا۔ وہ مصر سے دوستی کی باتیں کرتا تھا۔ ایک صاحب نے اس کا قول عربی میں اس طرح نقل کیا کہ اعتماد باہمی مفاہمت کی کنجی ہے اور وہ تمام مشکلات کے حل کا راستہ ہے (الثقة هي مفتاح التفاهم والوصول الى حلول للمشاكل) یہودیوں کا ایک گروہ اس کی مصروستی " کی بنا پر اس سے ناراض تھا۔ ان لوگوں نے وایز مان کا لقب مسٹر ایجپٹ (Mr. Egypt) رکھ دیا تھا۔ اب اس کا تقابل مسلمان، خاص طور
پر برصغیر کے مسلمانوں سے کیجئے۔ سرسید نے انگریزوں سے مفاہمت کی بات کی تو یہاں کے مسلمانوں نے ان کو مسٹر انگلینڈ نہیں کہا، بلکہ ان کو انگریزوں کا نمک خوار اور دشمنوں کا ایجنٹ مسلمانوں نے ان کو سر اسٹیلینڈ نہیں کہا ، بلکہ ان کو انگریزوں کا نمک خوار اور دشمنوں کا ایجنٹ اسی طرح مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوؤں سے مفاہمت کی بات کی تو ان کو بھی مسٹر انڈیا کہنے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ انھیں ہندوؤں کا ایجنٹ اور ملت فروش بتایا گیا ، وغیرہ۔
یہ بھی شاید ایک پہلو ہے اس حدیث کا جس میں آپؐ نے یہ خبر دی کہ ـــــــــ یہود میری سمجھ میں آیا کہ ہر جگہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جو تباہ کن جھگڑے پیدا ہوتے ہیں وہ صرف باہر والوں کی شرکت سے پیدا ہوتے ہیں۔ جھگڑا پیدا ہونے کے بعد اگر معاملہ صرف مقامی لوگوں تک محدود رہے تو دونوں فریق فطرت کی رہنمائی میں کام کرتے ہیں اور مل جل کر مسئلہ کو حل کر لیتے ہیں۔ مگر جب جھگڑا باہر کے ”لیڈروں“ کے ہاتھ میں چلا جائے تو بات بگڑ جاتی ہے۔ اور معمولی نزاع ناقابل حل مسئلہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ فلسطین کے مقامی مسئلہ کو سب سے پہلے افواہوں نے عالمی مسئلہ بنایا۔ شیخ حسن البنا نے جذباتی نعرے، تقریریں کر کے قاہرہ میں ایک لاکھ مصریوں کو جمع کیا اور قاہرہ کی سڑکوں پر لبیک یا فلسطین لگاتے ہوئے جلوس نکالا۔ یہ بیرونی دخل اندازی بڑھتی رہی۔ مگر اس کے نتیجہ میں عملاً جو ہوا وہ صرف یہ کہ ذلت اور ناکامی میں ناقابل تلافی حد تک اضافہ ہو گیا۔
ترکی خلافت کے لیے ہندستان میں دھواں دھار تحریک چلانا، پاکستان کے لیے ان علاقوں میں ہنگامہ کھڑا کرنا جہاں پاکستان بننے والا نہ تھا۔ بابری مسجد کو اجودھیا کے دائرہ سے نکال کر سارے انڈیا بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا مسئلہ بنانا۔ بوسنیا کے سوال کو مقامی مسلمانوں اور مقامی عیسائیوں سے بڑھا کر سارے عالم کے مسلمانوں کا سوال بنا دینا۔ یہ قیادت نہیں ہے بلکہ صرف نادانی ہے۔ اور اس نادانی نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
یروشلم میں ایک اسلامک آرٹ میوزیم ہے۔ اس میں ساتویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک کے ”اسلامک آرٹ“ رکھے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ اسلامی علوم کی ایک لائبریری بھی ہے جس میں قیمتی کتابیں جمع کی گئی ہیں۔
اس میں ایک قیمتی تصویر ہے۔ اس تصویر میں مغل حکمراں شاہ جہاں کو اپنے تخت پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ کو اوپر اٹھا کر خدا سے دعا کر رہا ہے۔ حال سے کہہ رہی ہے ـــــــــ میں اگرچہ بادشاہ ہوں۔ مگر خدا کے آگے میں بھی عام انسانوں کی طرح ایک محتاج انسان ہوں۔
اسی طرح اس میں کلیلہ و دمنہ کا ایک فارسی نسخہ ہے۔ اس میں کلیلہ و دمنہ کے واقعات کو رنگین تصویروں کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔
کویت کے عربی ہفت روزہ المجتمع (۴ ربیع الاول ۱۴۱۶ھ، یکم اگست ۱۹۹۵ء) میں المحامی خالد سیف (کردستان، العراق) کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے قبۃ الصخرۃ اور المسجد الاقصیٰ کی تصویریں چھاپی ہیں۔ اور لکھا ہے کہ دونوں واضح طور پر الگ الگ عمارتیں ہیں۔ مگر ۸۰٪ فی صد مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ایک ہیں اور جو قبۃ الصخرۃ ہے وہی مسجد اقصیٰ ہے (ان ۸۰٪ من المسلمين يعتقدون بان مسجد قبة الصخرة هو المسجد الاقصى) عجیب بات یہ ہے کہ خود مذکورہ مضمون نگار نے بھی قبۃ الصخرہ کو ”مسجد قبۃ الصخرۃ“ لکھا ہے، حالاں کہ وہ سرے سے مسجد ہے ہی نہیں۔
انھوں نے لکھا ہے کہ جب بھی مسجد اقصیٰ یا فلسطین کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن فوراً سنہری رنگ کے قبۃ الصخرہ کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کے ذرائع اعلام جب بھی فلسطین کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیشہ وہ قبۃ الصخرہ کی تصویر دکھاتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود فلسطینی بھی اپنے جلسوں میں جو لوح لگاتے ہیں اس پر بھی قبۃ الصخرہ (بیت المقدس) کی تصویر بنی ہوتی ہمارے یہاں فلسطین کے موضوع پر ایسی کتابیں چھپی ہیں جن کے ٹائٹل پر قبۃ الصخرہ (بیت المقدس) کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اور اس کے نیچے لکھا ہوا ہے : وا اقصاہ۔ مضمون نگار نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ایسا یہودی سازش کے تحت ہو رہا
عربی کا مثل ہے کہ آنکھ سے دور تو دل سے بھی دور (البعيد عن العين بعيد عن القلب) یہودی یہ چاہتے ہیں کہ مسجد اقصی کو مسلمانوں کی آنکھ سے دور کر دیں ، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ ان کے دل سے بھی دور ہو جائے گی ۔ اور یہی یہودی جب اس کو ڈھائیں گے تو مسلمانوں کو خبر بھی نہیں ہوگی کہ مسجد اقصی ڈھادی گئی ہے ۔
اس قسم کی باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ ۸۰ فی صد کا معاملہ نہیں ہے ، بلکہ مضمون نگار سمیت تمام ہی مسلمان اس مسئلہ کی حقیقی نوعیت سے بے خبر ہیں ۔
یروشلم میں یہودیوں کی سب سے زیادہ مقدس چیز دیوار گر یہ ہے ، اور مسلمانوں کی سب سے زیادہ مقدس چیز مسجد اقصی ۔ عجیب بات ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل متصل ہیں ۔ ذیل کی تصویر مسجد اقصی کا خارجی منظر پیش کرتی ہے ۔ اوپر کے حصہ میں مسجد کا گنبد اور اس کی بلند دیوار ہے ۔ اور نیچے اس سے بالکل ملی ہوئی دیوار گر یہ ہے جس کا ایک جزو تصویر میں دکھائی دے رہا ہے ۔
دیوارِ گریہ (Wailing Wall) کا دوسرا نام مغربی دیوار (Western Wall) ہے۔ رومیوں نے اس کو ۷۰ء میں تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس کی صرف ایک دیوار کا کچھ حصہ باقی رومیوں نے اس کو ۷۰ء میں تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس کی صرف ایک دیوار کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا جو ابھی تک موجود ہے۔ اس سے ملی ہوئی اور اس کے اوپر وہ اونچی فصیل تعمیر کی گئی ہے جو مسجد اقصیٰ کا احاطہ کیے ہوئے ہے :
The wall now forms part of a larger wall that surrounds the Muslim Dome of the Rock and Al-Aqsa mosque. (EB/X/627)
اس دیوار کی لمبائی ۱۶۰ فٹ ہے اور وہ ۶۰ فٹ اونچی ہے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ خدا کی رحمت کبھی بھی مغربی دیوار سے جدا نہیں ہوتی۔ یہود بڑی تعداد میں یہاں دعا مانگنے کے لیے آتے ہیں۔ مصری لطیفہ بنانے میں بہت مشہور ہیں۔ انھوں نے ایک لطیفہ بنایا کہ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر جب یروشلم گئے تو اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم مناہن بیجن ان کو لے کر دیوارِ گریہ کے پاس گئے۔ یہودیوں کی نظر میں یہ ان کی سب سے زیادہ مقدس جگہ ہے۔ وہاں پہنچ کر جمی کارٹر نے دعا کی۔ انھوں نے اپنی دعا میں کہا کہ اے خدا! عربوں کو اور اسرائیل کو امن تک پہنچنے میں مدد دے۔ بیجن جو پاس ہی کھڑے تھے، انھوں نے فوراً کہا آمین۔ اس کے بعد جمی کارٹر نے کہا کہ خدایا! مصر کو اور اسرائیل کو پر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی توفیق دے۔ بیجن نے کہا آمین۔ اس کے بعد جمی کارٹر نے کہا کہ خدایا! کو بتا دے کہ وہ عربوں کو وہ تمام علاقے واپس کر دیں جن پر انھوں نے ۱۹۶۷ کی جنگ میں قبضہ کیا ہے۔ یہ سنتے ہی بیجن کا لہجہ بدل گیا۔ انھوں نے کہا کہ جناب صدر، میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ ایک دیوار سے بات کر رہے ہیں۔
یہ لطیفہ خود عربوں کا مرثیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ۱۹۶۷ تک جو علاقے انھیں حاصل تھے، ان کو انھوں نے کیوں کر کھو دیا۔ یہ صرف اپنی پر جوش حماقت سے۔ مصر کی عرب قیادت نے اولاً سوئز کو قبل از وقت قومی ملکیت میں لینے کا احمقانہ اقدام کر کے سارے یورپ کو اپنا مخالف بنا لیا۔ اس کے بعد صحرائے سینا سے اقوام متحدہ کے مشاہدین کو واپس کر کے اسرائیل کے لیے اقدام کے دروازے کھول دیے۔ اس طرح کی کچھ اور نادانیوں نے اسرائیل کو موقع
دیا کہ وہ یورپ کی مدد سے مصر پر حملہ کرے اور اس کی فوجی طاقت کو توڑ دے ۔ اگر نااہل عرب قیادت احمقانہ غلطی نہ کرتی تو یہ علاقے تو اسے از خود حاصل تھے ۔ مسلمان عام طور پر قدس کے مسئلہ کو قبلہ اول کی بازیابی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ مگر یہ بات کسی اعتبار سے بھی درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ۱۳ سال تک کعبہ کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے رہے۔ اس لیے ”قبلہ اول“ کا لفظ اگر کسی کے لیے بولا جا سکتا ہے تو وہ خود ہجرت کے بعد تقریباً ۱۷ مہینہ تک آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز اس کے بعد تحویل قبلہ کا حکم آیا اور ہمیشہ کے لیے کعبہ مسلمانوں کا قبلہ عبادت بن گیا۔ تاریخ کے مطابق ، بیت المقدس قبلہ درمیانی ہے نہ کہ قبلہ اول ۔
دوسری اہم تر بات یہ ہے کہ قدس میں جو اصل اسلامی سبق ہے ، وہ قومی یا سیاسی یا جغرافیائی نوعیت کا نہیں ہے ۔ وہ ان جھگڑوں سے مکمل طور پر الگ ایک اور سبق ہے ۔ مدعو کی تالیف قلب ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنایا ۔ اس کی وجہ مسلمہ طور پر یہود کی تالیف قلب تھی جو رسول اللہ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے تھے ۔ صلی اللہ علیہ وسلم جب ، ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آپ کے لیے دو صورتیں تھیں ۔ ایک یہ کہ سابق کی طرح کعبہ کو قبلہ بنائیں ۔ دوسری صورت یہ تھی کہ مدینہ کے یہود کی پیروی کریں جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے ۔ آپ نے قدس کا انتخاب فرمایا ، اس طمع میں کہ یہود آپ کی طرف مائل ہوں گے اور ایمان لائیں گے (فاختار المقدس طمعاً في ايمان اليهود واستمالتهم) الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ، ۱۵۰/۲ گویا قدس کا اصل سبق یہ ہے کہ مدعو کی رعایت یہاں تک کرو کہ ان کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنالو۔ آج اگرچہ ہمیں قبلہ بدلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تاہم بہت سے دوسرے معاملات ہیں جن میں مدعو قوموں کی رعایت کر کے انھیں اسلام کے قریب لایا جا سکتا ہے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان اس سنت رسول سے مکمل طور پر بے خبر ہیں ، خواہ وہ فلسطین کے مسلمان ہوں یا دوسرے ملکوں کے مسلمان ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان غیر مسلم قوموں سے ہر جگہ رقابت قائم کیے
یہ قدس اسپرٹ کے سراسر خلاف ہے۔
ایک یہودی عالم جو اچھی عربی جانتا تھا۔ اس نے کہا کہ قدس کو ہم اپنا حق اس لیے کہتے ہیں کہ ہماری کتابوں ہی میں نہیں بلکہ خود آپ کی مقدس کتاب قرآن میں بھی اس کو ہمارا حق بتایا گیا ہے۔ جب کہ قرآن میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ قدس مسلمانوں کو دے دیا گیا۔ اس نے کہا کہ آپ لوگ قدس کو قبلہ اول کہتے ہیں مگر وہ قبلہ اول کہاں ہے وہ تو قبلہ آپ کے پیغمبر پہلے کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ پھر وقتی طور پر کچھ دنوں بیت المقدس کو قبلہ بنایا اور اس کے بعد پھر کعبہ کو قبلہ بنالیا۔ آپ کے عقیدہ کے مطابق، آپ کے پیغمبر نے یروشلم آکر یہاں نماز پڑھی۔ اس وقت یہاں غیرمسلموں کی سیاسی حکومت قائم تھی۔ بھی ہماری سیاسی حکمرانی کے تحت یہاں آکر نماز پڑھے۔ ہم آپ کو نہیں روکتے۔ میں نے جواب دیا کہ اس مسئلہ پر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان سنجیدہ انداز میں ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔
پاکستان میں اگر آپ جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں ہر چیز کو اسلامائز کر لیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک فلم کمپنی اپنی کسی فلم کو ریلیز کرنے والی ہوگی تو اس کا اشتہار ان الفاظ میں شائع کیا جائے گا ـــــــــ " ان شاء اللہ، اگلے جمعہ کو ہماری نئی فلم ریلیز کی جائے گی" یہی معاملہ اسرائیل کا ہے۔ وہاں ہر چیز کو یہودی رنگ دیا گیا ہے۔ یروشلم کی ایک جدید کالونی کا نام قریہ داؤد (David's Village) ہے۔ ایک اور کالونی کا اشتہار میں نے دیکھا۔ اس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا کہ ارض موعود میں آپ کا