Global business is our future.
Al-Risala, October 1997, pp. 11–17
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ میں کوئی ملک زیادہ تر اپنے مقامی ذرائع پر انحصار کرتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں جدید کمیونی کیشن کے ظہور میں آنے کے بعد صورت حال بالکل بدل گئی ہے۔ آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آپ ایک چھوٹے سے خطہ زمین پر بیٹھ کر ساری دنیا میں اپنے کاروبار کو پھیلائیں، اور ساری دنیا سے اپنے لیے رزق کا سامان حاصل کریں۔
ادارے چلانے کا روایتی طریقہ یہ ہے کہ اس کے ممبران کی ایک جگہ میٹنگ ہو۔ تبادلہ خیال کے بعد زیر بحث مسئلہ میں کوئی بات طے کی جائے اور پھر اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ اب یہ طریقہ دیر طلب قرار پا چکا ہے۔
یہودیوں نے موجودہ زمانہ میں ایسے عالمی ادارے قائم کیے ہیں جس کے ممبر صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو نہایت باشعور ہوں۔ یہ لوگ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں مگر دوری کے باوجود ان کے اجتماعی فیصلہ میں ایک یا دو دن سے زیادہ دیر نہیں لگتی۔ یہ معجزہ جدید کمیونی کیشن کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔
مثلاً عالمی پریس میں ایک چیز چھپتی ہے جو یہودی مفاد سے ٹکراتی ہے۔ اب یہ ادارہ یہ کرتا ہے کہ فوراً بذریعہ فیکس اس کی نقل تمام ممبروں کے نام ساری دنیا میں بھیج دیتا ہے۔ لوگ اپنے تبصرے دوبارہ فوری طور پر بذریعہ فیکس ادارے کو بھیج دیتے ہیں۔ اب یہ تمام کاغذات ایک اکسپرٹ شخص کو پہنچا دیے جاتے ہیں۔ وہ ان کا مطالعہ کر کے فوری طور پر اپنا تحریری رد عمل ادارہ کو دے دیتا ہے۔ ادارہ اس تحریر کو دوبارہ تمام ممبران کے نام فیکس کر دیتا ہے۔ میں تمام ممبران کی رائیں دوبارہ بذریعہ فیکس ادارہ کے صدر دفتر میں وصول ہو جاتی ہیں۔
سامنے رکھ کر مذکورہ ایکسپرٹ اپنی تحریر کو دوبارہ تیار کرتا ہے۔ وہ فوراً ہی عالمی پریس کے نام روانہ کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح صرف ایک یا دو دن میں یہودی نقطہ نظر عالمی پریس میں آجاتا ہے۔ میری تمنا ہے کہ میں بھی دعوتی مقصد کے تحت اس قسم کا ایک انٹرنیشنل ادارہ قائم یہ ادارہ جدید کمیونی کیشن کو استعمال کرکے ان شاء اللہ عالمی اسٹیج پر دعوت کی منصوبہ بندی کرے گا اور اس سلسلہ کے ضروری کام انجام دے گا۔ اور یہ سب کچھ رسمی میٹنگ کے بجائے ٹیلی فون، فیکس، انٹرنٹ کے ذریعہ انجام پائے گا۔ و ما ذلک علی اللہ بعزین۔ یروشلم میں مخصوص انداز کی ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے۔ اس کا انگریزی نام (Homage to Jerusalem) ہے۔ اس کو تین مذہبوں کا یروشلم کہا جاتا ہے: Jerusalem: The Three Religions اس میں تینوں سامی مذہب کے علامتی تقدس بنائے گئے ہیں۔ ان کو بتاتے ہوئے ایک یہودی
ایک صاحب سے مہدی سوڈانی کا تذکرہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ مہدی سوڈانی نے اگرچہ عوام کی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کر لی تھی۔ مگر وہ کوئی معتدل آدمی نہیں تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ مصر کے حکمراں محمد علی پاشا نے ۱۸۳۵ میں سوڈان پر حملہ کیا تھا۔ مہدی سوڈانی کو اس کی خبر ملی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ دریائے نیل کے راستہ سے سوڈان پہنچنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے مریدوں کی مجلس میں کہا کہ وہ دریائی راستہ سے سوڈان پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ خدا کی قسم، میں دریا کا سارا پانی پی کر اس کو خشک کر دوں گا (نااللہ اشرب البحر --) فلسطین (اسرائیل) کا ایک شہر حیفا ہے۔ یہاں پانچ مذہب کے لوگ رہتے ہیں اور ہر ایک کی عبادت گاہیں اور مذہبی ادارے وہاں موجود ہیں۔ یہودی ، مسلمان ، عیسائی، دروزی، اور بهایی۔ عرب مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ پچاس لاکھ کے قریب ہے، اور یہود، سلمان، عیسائی، ہے، اور وہاں کے باشندے، یہودی، مسلمان، عیسائی، دروزی اور بہائی ۔ عرب مسلمانوں کی تعداد ۸۰ فی صد سے کچھ اوپر ہے۔ ایک یہودی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ دیکھئے، یہ سب لوگ کس طرح رواداری کے ساتھ یہاں رہ رہے ہیں:
بہائی فرقہ دنیا میں پانچ ملین ہے۔ حیفہ میں ماؤنٹ کارمل کے اوپر اس کا مرکز ہے جس کا سنہرا گنبد دور سے دکھائی دیتا ہے۔ بہائی مذہب ایران میں ۱۸۴۴ میں وضع کیا گیا۔ اس کے بانی کا نام باب اللہ تھا۔ حکومت ایران سے ان کا اختلاف ہوا۔ حکومت نے ان کے ۲۰ ہزار آدمیوں کو قتل کرا دیا۔ اس کے بعد اس مذہب کو ماننے والے دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ اسرائیل کے قیام کے بعد ۱۹۴۸ میں انھوں نے یہاں اپنا مرکزی دفتر قائم کیا۔ موجودہ عمارت بن کر مکمل ہوئی۔ ایک بہائی نے کہا :
اسرائیل میں بہائیوں کی تعداد ایک سو سے کچھ زیادہ ہے۔ تاہم ان کے افراد بڑی تعداد میں یہاں ”زیارت“ کے لیے آتے رہتے ہیں۔ بہائی اپنے مذہب کو یونیورسل مذہب کہتے ہیں۔ یہاں شادی بیاہ پر کوئی پابندی نہیں۔ وہ وحدتِ ادیان کی وکالت کرتے ہیں۔ نے کہا :
اسرائیل کے زمانہ قیام میں کئی بار میں نے دیکھا کہ یہودی کس طرح یہاں ایک شاندار زندگی گزار رہے ہیں۔ ”کیا یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے“ میں نے سوچا۔ میری سمجھ میں آیا کہ لعنت کا کوئی لازمی تعلق خوش حالی یا بدحالی سے نہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ کوئی فرد یا قوم خدا کے نزدیک لعنت زدہ ہو مگر موجودہ دنیا میں وقتی طور پر وہ شاندار قسم کی مادی زندگی حاصل کرلے۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں، ملعون ہونے کا مطلب رحمت الہی سے محروم ہونا ہے۔ جن فرد یا گروہ پر خدا کی لعنت ہو وہ بے حسی کا شکار ہو جائے گا۔ خدا کی نظر میں اس کا ہر عمل بے قیمت ہو جائے گا، خواہ بظاہر وہ کوئی درست عمل کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔ یہودی نفسیات فخر کی نفسیات ہے۔ ان کی ہر بات میں فخر کا احساس جھلکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس زمانے میں اردو کے مشہور شاعر اور ادیب یہودی میوزیم (Diaspora) کے ناظم نے اپنے ادارہ کا تعارف کرتے ہوئے پر فخر طور پر کہا کہ دلائی لاما تک اسرائیل آئے تاکہ یہ دیکھیں کہ یہودیوں نے وہ کون سا طریقہ نکالا جس کے ذریعہ وہ اتنی لمبی مدت تک اپنی قومی شناخت کو برقرار رکھ سکیں :
میں خود اریحا (Jericho) نہ جا سکا۔ ایک کرسچین سیاح جو اریحا (مسلم علاقہ) میں گیا اس نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ سرحد پر زبردست پہرہ ہوگا۔ لیکن مجھے تعجب ہوا جب میں نے دیکھا کہ وہاں ایک گارڈ ہے جس کو ہماری جانچ سے کوئی دل چسپی نہیں۔ اس نے شلوم کہہ کر ہمارا استقبال کیا :
فلسطین کا ایک حصہ صحرا ہے۔ یہ صحرا ہزاروں سال سے یوں ہی پڑا ہوا تھا موجودہ زمانہ میں یہ معلوم ہوا کہ پانی سے محرومی کسی زمین کو ریگستان بناتی ہے۔ اگر پانی فراہم کیا جا سکے تو ریگستان کو سرسبز علاقہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہودی نے اس نئی دریافت سے فائدہ اٹھایا اور فلسطین کے صحرائی علاقہ کے بڑے حصہ کو کھیت اور باغ میں تبدیل کر دیا۔ ایک اسرائیلی نے اپنے مضمون میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فخر کے ساتھ لکھا تھا کہ ہم نے ڈرپ آبپاشی کے طریقہ کو ترقی دے کر ریگستان کو سرسبز و شاداب بنا دیا :
ایک سیاح جس نے فلسطین کے صحرائی علاقہ کو دیکھا تھا۔ اس نے کہا کہ ہم یہاں آئے تھے کہ صحرا کو دیکھیں گے مگر یہاں ہمیں سبزہ دیکھنے کو ملا :
یہاں ایک ہوٹل الحمراریستوراں (Alhambra Restaurant) کے نام سے ہے۔
اور تل ابیب اور یروشلم میں قائم ہے۔ میں اس نام کا سبب معلوم نہ کر سکا۔ تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلسطین (اسرائیل) پر مسلم تہذیب کا اثر کتنا زیادہ ہے۔ اسرائیل اور اردن کے درمیان ایک انوکھی جھیل ہے جس کو البحر المیت (Dead Sea) وہ سطح سمندر سے ۴۰۱ میٹر نشیب میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ ۴۰۵ مربع میل ہے۔ اس کے پانی میں نمک اور معدنیات کی آمیزش عام سمندروں سے چار گنا زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ آدمی اس کے اندر داخل ہو تو وہ غرق نہیں ہوتا۔ رومی حکمراں وسپاسین (Vespasian) ۶۸-۶۹ء میں فاتحانہ طور پر فلسطین میں داخل ہوا۔ اس کو بتایا گیا کہ بحر مردار کا پانی اتنا گاڑھا ہے کہ اس میں داخل ہونے والا آدمی اوپر ہی اوپر تیرتا رہتا ہے، اس نے تجربہ کے لیے کچھ یہودی قیدیوں کو اس کے اندر پھنکوا دیا :
جغرافیہ کے علماء بحر مردار جیسی انوکھی جھیل (سمندر) کو سطح زمین کی قدیم تبدیلیوں کے عہد (holocene epoch) کی ایک یادگار سمجھتے ہیں۔ مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ تبدیلیوں کے اس دور میں، جو کہ پچھلے دس ہزار سال کی ارضی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے، اس میں صرف بحر مردار ہی استثنائی طور پر ایسی وسیع جھیل کی صورت میں کیوں تبدیل ہو گیا۔ جب کہ اس کا بھی ثبوت ملا ہے کہ ایک عرصہ پہلے تک وہ عام جھیل کی مانند تھا۔
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں یہاں قوم لوط آباد تھی۔ اس کے اندر برائیاں پیدا ہوئیں تو حضرت ابراہیمؑ کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام ان کی اصلاح کے لیے بھیجے گئے۔ سرکش ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ دو ہزار سال قبل مسیح میں ایک شدید زلزلہ آیا۔ زمین کے اندرونی آتش گیر اجزاء بھڑک کر جل اٹھے۔ پورا علاقہ تباہ ہو کر رہ گیا۔
ہندوستان ٹائمس (۱۸ ستمبر) کے درمیانی صفحہ پر مسٹر این سی من (مقیم واشنگٹن) کا مضمون فلسطین کے مسئلہ پر تھا۔ اس کا عنوان تھا اور امن کا وقت :
مضمون نگار ۱۳ ستمبر ۱۹۹۳ کو واشنگٹن (وائٹ ہاوس) کی اس تقریب میں موجود تھے جہاں فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم یتزک رابن کے درمیان ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا مضمون نگار نے اس معاہدہ امن کو بے نظیر مفاہمت (unprecedented accommodation) سے تعبیر کیا ہے۔
مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اس قسم کا نسبتاً کم اہم معاہدہ ۱۹۶۹ میں سابق مصری صدر انور السادات اور سابق اسرائیلی وزیر اعظم مناہم بیجن کے درمیان ہوا تھا۔ اس وقت یاسر عرفات نے انور السادات کو غدار (traitor) بتایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس قابل ہیں کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔ مگر آج خود یاسر عرفات، سادات کی اسی سنت پر زیادہ بڑے پیمانے پر عمل کر رہے ہیں۔ یاسر عرفات اب اگر امن کی پالیسی کو ضروری سمجھتے ہیں تو ان کے لیے اپنی اس رائے پر عمل کرنا کوئی غلط بات نہیں۔ مگر ایسی صورت میں انھیں یہ اعلان بھی کرنا چاہیے کہ اس سے پہلے انھوں نے فلسطین کے بارہ میں جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہ تھی۔ اور انور السادات کو برا بتانا بھی ایک سنگین غلطی تھی۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنا ان کے لیے خود سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ابن عساکر (۶۰۰ ۔ ۵۲۷ھ) مشہور محدث اور مورخ ہیں۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ کے موضوع پر ایک کتاب لھی ہے۔ اس کا نام ہے : الجامع المستقصى فی فضائل المسجد الاقصیٰ۔ اس موضوع پر سب سے زیادہ جامع کتاب ہے۔
قبطی چرچ کے پوپ نے ۴ جولائی ۱۹۹۵ کو ایک بیان میں کہا کہ یہودی اب شعب مختار (Chosen people) کی حیثیت نہیں رکھتے۔ مسیحیت کے ظہور کے بعد اب ان کی یہ حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ میں نے ایک عیسائی اسکالر سے کہا کہ یہ بات جزئی طور پر صحیح ہے۔ کیونکہ پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد خود مسیحیت کی حیثیت بھی ختم ہو چکی ۔ اور اب خدا کا مختار گروہ وہ ہے جو دین محمدی کو اختیار کرے۔ اس نے توجہ کے ساتھ میری بات سنی اور پھر کہا: مگر کیا محمد عربی ایک عالمی پیغمبر تھے ۔
...یرک ہو گا ہو اور اپنی مذہب ایک حامی پیغمبر ہے۔
ایک صاحب سے جہاد (بمعنی قتال) کے موضوع پرگفت گو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اسلام میں جہاد صرف دفاع کے لیے ہوتا ہے۔ مگر دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
ماہرینِ جنگ کا تو کہنا ہے کہ اقدام خود بہترین دفاع ہے :