Al-Risala · October 1997

Offence is the best defence.

Al-Risala, October 1997, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو صرف پرانے زمانہ کی باتیں معلوم ہیں۔ نئے زمانہ کی آپ کو کچھ خبر نہیں۔ یہ سب مقولے اس زمانہ کے ہیں جب کہ جنگ صرف دو فوجوں کے درمیان ہوتی تھی۔ اس کے نقصان سے بچے رہتے تھے۔ مگر آج کی جنگ پورے ملک میں تباہی برپا کرتی ہے۔ اب نہ اقدامی جنگ کا کوئی نتیجہ ہے اور نہ دفاعی جنگ کا۔ اب تو صرف تدبیر کاراستہ انسان کے لیے باقی رہ جاتا ہے۔

میں نے کہا کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے جنیوا سے اس سلسلہ میں ایک جائزہ (1995 World Disasters Report) چھاپی ہے۔ کے مطابق، دوسری عالمی جنگ کے بعد ۵۶ جنگوں میں جو لوگ شدید طور پر اس سے متاثر ہوئے ان میں ۹۵ فی صد تعداد غیر فوجی شہریوں سے تعلق رکھتی تھی : Ninety-five percent of the victims were civilians. ایسی حالت میں جنگ دو طرفہ تباہی کے ہم معنی بن کر رہ گئی ہے۔

اگست ۱۹۶۹ میں یروشلم کی مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد ساری دنیا میں مسلمانوں کی طرف سے اس کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

۲۹ اگست کی شام کو دہلی کے آسمان نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ یہ مسلمانوں کے دو جلسے تھے جو ایک ہی تاریخ کو ایک ہی مقصد کے تحت مگر دو الگ الگ شامیانوں کے نیچے کیے دونوں کا مقام جامع مسجد دہلی کے قریب کا آزاد پارک تھا۔ ایک جلسہ شام کو ۵ بجے ہوا اور دوسرا ساڑھے نو بجے شب میں۔

دونوں جلسوں کا مقصد ایک تھا۔ مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی کے خلاف یوم احتجاج منانا۔ دونوں جلسوں میں اپنے اپنے حلقہ کے لوگ اکھٹا ہوئے۔ میں دونوں ہی میں شریک تھا۔ میں نے سنا کہ دونوں جلسوں میں اسرائیل کے خلاف پر جوش تقریریں ہو رہی ہیں۔ کا خلاصہ یہ تھا کہ اے عربو ! متحد ہو کر اسرائیل کا مقابلہ کرو۔

آخری جلسہ سے فارغ ہو کر جب میں رات کے وقت اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوا تھا تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری تھے اور زبان سے یہ الفاظ نکل رہے تھے : ہم متحد ہو کر مشورہ بھی نہیں دے سکتے ، اور وہ متحد ہو کر مقابلہ کریں (الجمعیۃ ویکلی ۱۲ ستمبر ۱۹۶۹) حال میں فلسطین کی سیاسی جدوجہد کے بارے میں ایک کتاب ایک برطانی مصنف نے شائع کی ہے ۔ اس انگریزی کتاب کے مصنف کا نام گراہم اشر ہے :

Palestine in Crises: The Struggle for Peace and Political Independence, by Graham Usher یہ کتاب ان فلسطینیوں یا ان عربوں میں پسند کی جارہی ہے جو یاسر عرفات کی کوششوں سے زیادہ اتفاق نہیں کرتے۔ اس کتاب میں برطانوی مصنف نے لکھا ہے کہ یاسر عرفات کی پالیسیوں کے نتیجہ میں فلسطین کو جو امن حاصل ہوا ہے، وہ وقتی اور مصنوعی ہے۔ اور وہ امریکہ اور اسرائیل کی شرطوں پر قائم ہوا ہے نہ کہ عربوں کی شرطوں پر۔

میں نے ایک صاحب سے کہا کہ گراہم اشر کی یہ بات کوئی زیادہ اہم بات نہیں۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے جو معاہدہ کیا تھا وہ بھی وقتی تھا اور وہ تمام تر فریق مخالف کی شرطوں پر کیا گیا تھا۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کے حق میں فتح مبین بن گیا۔ اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ کی جگہ ہے یہاں اصل اہمیت صلح کی دفعات کی نہیں ہے۔ بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ صلح کے بعد مستقبل کی تعمیر کے لیے آپ کتنی اہلیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ کسی بھی صلح کو مستقبل کے نتائج کے اعتبار سے دیکھنا چاہیے نہ کہ حال کی لفظی دفعات کے اعتبار سے۔ میں نے کہا کہ الفاظ ہمیشہ تاریخ کے تابع ہوتے ہیں، تاریخ کبھی الفاظ کے تابع نہیں ہوتی۔

مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ ساری دنیا میں یہ غلطی کر رہے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کو قول سدید (الاحزاب ۷۰) کی زبان میں پیش نہیں کرتے۔ وہ ہمیشہ ان کو جذباتی بلکہ غیر واقعی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی بھی ملی یا قومی مسئلہ میں مسلمانوں کے درمیان حقیقت پسند رائے نہیں بنتی۔ ساری دنیا کے مسلمان ذہنی اعتبار سے غیر واقعی دنیا میں جیتے ہیں۔ اور جو لوگ غیر واقعی فضا میں جیتے ہوں وہ کبھی اپنے معاملات کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔

فلسطین کا مسئلہ بھی اسی ذہنیت کا شکار ہوا ہے۔ اس کی ایک علامتی مثال نیچے کی تصویر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ کویت سے ایک عربی ہفتہ وار نکلتا ہے جس کا نام المجتمع ہے۔ اس کو جمعیۃ الاصلاح الاجتماعی نے ۱۹۶۰ میں جاری کیا تھا۔ اس کے شمارہ ۳۰ مئی ۱۹۹۵ کے صفحہ اول پر ایک نمایاں تصویر شائع کی گئی ہے۔ یہ بیت المقدس کی تصویر ہے۔ اس کے ایک طرف اسرائیلی جھنڈا گڑا ہوا ہے، اور دوسری طرف ایک اسرائیلی فوجی گن لٹکائے ہوئے کھڑا ہے۔ یہ تصویر واضح طور پر مصنوعی جھنڈا اور فوجی کی تصویر الگ سے کاٹ کر یہاں چپکائی گئی ہے۔ بیت المقدس کے پاس ایسی کوئی چیز حقیقۃ موجود نہیں۔

عربی اخبارات ورسائل میں مسلسل " القدس" کے بارے میں مضامین شائع ہوتے مگر وہ زیادہ تر جذباتی انداز میں لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس کویت ٣٦٠ فلس، المملكة السعودية ٤ ریالات، البحرين ۸۰ فلس، قطر ٤ ریالات، الامارات ٤ دراهم، سلطنة عمان 6 بيسة، الأردن ٧٠٠ فلس، مصر جنيهان، السودان ٢٥ جنيهاً، اليمن ٢٠ ريـالاً، لبنان ١٥٠٠ ليرة، المغرب ١٢ درهماً Belgium 300 B.Fr. - Canada $ 4 C - France 15 F. Fr. - Germany 7 DM - Holland 10 NFL - Italy 5000 L - Singapore SS. $ - Switzerland 7 SW. Fr. - Turkey 25000 TL. - U.K. £ 1.5 - U.S.A. $ 3

ہوتا ہے کہ ان لکھنے والوں کو قدس کے حقیقی مسئلہ کی خبر نہیں۔ مثال کے طور پر مکہ سے نکلنے والے ماہنامہ الرابطہ کے شمارہ ۳، ۴ میں ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے حول قضیۃ یعنی بیت المقدس کے مسئلہ کے بارہ میں ۔ اس مضمون کے ساتھ ایک تصویر سایا ماں طور پر چھاپی گئی ہے جو یہاں نقل کی جاتی ہے۔ یہ تصویر واضح طور پر قبتہ الصخرة کی ہے مگر اس کے نیچے لکھا ہوا ہے : مسجد اقصیٰ کو عرب سیادت کے تحت واپس لانا بالکل صر ہے۔ جب میں دہلی سے یروشلم کے لیے روانہ ہوا تو میرے ذہن میں سر المقدس اور مسجد اقصیٰ کی واضح تصویر نہ تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ شاید دونوں ایک ہی ہیں۔ چنانچہ ماں کی کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے میں نے جو پیپر تیار کیا اس میں بھی میں نے مسجد اقصیٰ لکھ کر کے آگے بریکیٹ میں بیت المقدس لکھ دیا تھا۔ گویا کہ دونوں ایک ہی ہیں۔

یہ غلط فہمی کوئی انفرادی نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ۹۹ فی صد مسلمان اس معاملہ میں اسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ دونوں کے بارے میں کوئی واضح شعور نہیں رکھتے۔ حتیٰ کہ یہ غلط فہمی بہت پہلے سے چلی آرہی ہے۔

صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اس امت کا معاملہ مستقیم رہے گا یہاں تک کہ،

Printed page