Al-Risala · October 1997

لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -

Al-Risala, October 1997, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری کتب حدیث میں بھی یہ روایت الفاظ کے فرق کے ساتھ آئی ہے۔ الاوسط للطبرانی میں یہ الفاظ ہیں : يقاتلون على ابواب بيت المقدس وما حوله لا يضرهم مَن خذ لهم ظاهرين الى يوم القيامة (فتح الباری ۳۰۸/۱۳) یعنی امت کے یہ اہل حق بیت المقدس کے دروازوں پر اور اس کے آس پاس قتال کریں گے ۔ ان کا کوئی حریف انھیں نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے ۔ ایک اور روایت : لا تزال عصابة من امتى يقاتلون على امر الله قاهرين لعدوهم لا يضرهم من خالفهم حتى تأتيهم اس روایت میں قتال سے مراد جنگ نہیں ہے ، بلکہ غیر حربی کوشش ہے۔

(فتح الباری ۳۰۶/۱۳)

اس سے معلوم ہوا کہ بیت المقدس کے علاقہ میں ابدی طور پر مسلمانوں کا غلبہ مقدر کر دیا گیا اس حدیث کے مطابق ، حکومت اسرائیل کے قیام کے باوجود اس غلبہ کو قائم

قرآن میں دو جگہ یہود کے ایک مخصوص گروہ (نہ کہ تمام یہودی نسل) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مسلسل سرکشی اور نافرمانی کی پاداش میں ان پر لعنت کی اور ان کو ذلیل و خوار بندر بنا دیا (سورۃ البقرۃ آیت ۶۵ ، سورۃ الاعراف آیت ۱۶۶) سورۃ المائدۃ کی آیت ۶۰ میں یہ اضافہ ہے کہ اس گروہ کو بیک وقت بندر اور خنزیر بنا دیا گیا۔ البتہ اس سلسلہ میں ابتداء سے مفسرین کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے کہ بندر اور خنزیر بنا دینے سے کیا مراد ہے۔ بعض اس کو حقیقی جسمانی تبدیلی (physical transformation) کے معنی میں لیتے ہیں اور بعض اس کو مجازی طور پر صرف فکری اور مزاجی تغیر (moral metamorphosis) قرار دیتے ہیں۔

مشہور تابعی مجاہد کا قول ہے کہ اصلاً ان کے دل مسخ کیے گئے نہ کہ خود ان کو (جسمانی اعتبار سے) بندر بنا دیا گیا۔ یہ عین اسی طرح کی ایک تمثیل ہے جیسی تمثیل یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الجمعہ ۵) میں بیان کی ہے کہ وہ ” اس گدھے کی مانند ہیں جو اپنے اوپر کتابوں کا بوجھ لادے ہوئے ہو“ (مُسخت قلوبهم ولم يمسخوا قردةً۔ وإنما هو مثل

ضربہ اللہ « كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَاراً » (تفسیر المنار ۳۴۳/۱) جرمن نو مسلم محمد اسد نے مجاہد کے اسی قول کو سامنے رکھتے ہوئے بقرۃ اور اعراف کی مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ کا ترجمہ (Be as apes despicable) یعنی ہو جاؤ بندروں کی مانند ذلیل و خوار۔ اس کے علاوہ حاشیہ میں مجاہد کے قول کو انگریزی میں اس طرح نقل کیا ہے :

تاہم اس لفظی بحث سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر مسخ کو حقیقی جسمانی تبدیلی کے معنی میں لیا جائے تب بھی اس ضمن میں دو باتیں تمام مفسرین کے یہاں متفق علیہ ہیں۔ ایک یہ کہ صحیح حدیث کے مطابق نہ یہود بندر اور خنزیر کی نسل سے ہیں نہ یہ جانور یہود کی نسل سے ، بلکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مستقل مخلوق ہیں۔

علامہ ابن کثیر نے ابو داؤد الطیالسی کے واسطہ سے عبداللہ بن مسعود کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بندر اور خنزیر مسخ شدہ یہود کی نسل آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو لعنت زدہ ٹھہرا کر اسے مسخ کیا ہو اور پھر اس سے کوئی نسل چلی ہو۔ بلکہ یہ تو ایک مستقل مخلوق ہے جو واقعہ مسخ کے پہلے سے چنانچہ جب یہود پر خدا کا غضب نازل ہوا اور ان کو مسخ کر دیا تو ان کو انہیں کے جیسا بنا دیا (سألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القردة والخنازير أهي من نسل اليهود ؟ فقال : " لا ، ان الله لم يلعن قوماً قط فيمسخهم فكان لهم نسل ، ولكن هذا خلق كان - فلما غضب الله على اليهود فمسخهم جعلهم مثلهم ) مختصر تفسیر ابن کثیر ۱/ ۵۳۱ - ۵۳۰ دوسرے یہ کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ و تابعین سے صراحتہً منقول ہے کہ کوئی مسخ شدہ قوم تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہی ، نہ اس نے کچھ کھایا ، نہ کچھ پیا ، اور نہ

اس سے توالد و تناسل کا کوئی سلسلہ جاری ہوا (لم یعش مسخ قط فوق ثلاثة ایام، ولم یاکل ولم یشرب ولم ینسل) مختصر تفسیر ابن کثیر ۴/۱، مسجدِ اقصیٰ کے گرد و پیش میں جو آبادی ہے وہاں زبان کو مستثنیٰ کر کے بڑی حد تک پرانی دہلی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ بھیڑ، گندگی، بدنظمی، شور و غل، بچوں کی اچھل کود، دیواروں پر حکومت کے خلاف احتجاجی نعرے وغیرہ ــــــــ آزادیٔ فلسطین کے لیے وہاں جو تنظیمیں زیادہ سرگرم ہیں ان میں ایک حركة المقاومة الاسلامية ہے جس کا مختصر نام (short form) حماس ہے۔ ایک جذباتی اور انتہا پسند تنظیم ہے۔ اسی کے زیرِ قیادت ۷ دسمبر، ۱۹۸۷ء کو ایک مخصوص حادثہ (المقطورة) کے بعد وہ پرشور تحریک وجود میں آئی جو اخبارات میں الانتفاضہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ کے تحت فلسطینی لڑکوں اور نوجوانوں کو اکسایا گیا کہ وہ جہاں کہیں بھی کسی یہودی کو دیکھیں پتھر مار کر اس کا چہرہ زخمی کر دیں۔ جن لڑکوں نے اس تحریک میں حصہ لیا انھیں فخر طور پر اولاد الحجارة کہا جاتا ہے۔

جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح ایک طاقت ور فوج کے مقابلہ میں ”پتھر“ اٹھانا بلاشبہ ایک مجنونانہ حرکت ہے۔ مگر اپنے اس طریق کار پر حماس کو اتنا یقین ہے کہ اس کے بقول عربوں کے تمام ٹینک اور میزائل بھی وہ کارنامہ انجام نہ دے سکے جو ان کے پتھر نے کر دکھایا، وہ پتھر جو ”غاصب“ کے چہرہ کو لہولہان کر دیتا ہے (کل الدبابات وكل صواريخ العرب، ماساوت حجراً، حجراً يُرمى وجه المحتل)

اس علاقہ میں جس طرف سے بھی گزر ہوا اکثر دیواریں حماس کی طرف سے لکھے گئے جذباتی نعروں (شعارات) سے رنگین نظر آئیں۔ مثلاً: نعم للحجر، لا للمؤتمر، پتھر کے لیے ہاں، کانفرنس کے لیے نہیں (یعنی ہمارا مسئلہ صرف پتھر کے ذریعہ لڑ کر حل ہو سکتا ہے نہ کہ امن کانفرنسوں میں بات چیت کے ذریعہ)

بالقوة وبالقوة فقط تُحرّر ارض فلسطین، طاقت اور صرف طاقت کے ذریعہ ہی سرزمین فلسطین کو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔

جند حماس للاقصى حراس، حماس کی فوج اقصیٰ کی محافظ۔

Printed page