Al-Risala · October 1997

زیادہ اہم مسئلہ

Al-Risala, October 1997, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

ریحاوم زیوی (Rehavam Zeevi) اسرائیل کی فوج میں ایک آرمی جنرل تھے۔ ان کی عمر اب ۶۳ سال ہے۔ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ پالی ٹکس میں شامل ہو گئے ہیں۔ وہ اسرائیل کی پارلیمنٹ (Knesset) کے ممبر ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اسرائیل میں پرو ٹرانسفر (protransfer) کہا جاتا ہے۔ یعنی اس نظریہ کے حامی کہ عربوں کو فلسطین سے نکال کر انھیں دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے ۔

امریکی میگزین نیوز ویک (Newsweek) کے نمائندہ اسٹینگر (Theodor Stanger) نے ان سے اسرائیلی پارلیمنٹ کے دفتر میں ملاقات کر کے ان کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال و جواب یہ تھا : (نیوز ویک ۱۲ نومبر ۱۹۹۰ صفحہ ۵۶)

س : کیا آپ فلسطینیوں کے ساتھ امن چاہتے ہیں ؟

ج : فلسطینی لوگوں کے لیے واحد حل یہودیوں سے علیحدگی ہے۔ ہر قوم اپنے باپ دادا کی زمین کی طرف لوٹنے کا حق رکھتی ہے۔ ہم یہودی اپنے باپ دادا کی زمین کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ فلسطینیوں کے باپ دادا یہاں سعودی عرب ، سوڈان اور لیبیا سے آئے تھے (اس لیے وہ دوبارہ وہاں لوٹ جائیں)

س : کیا آپ دس لاکھ سے اوپر ان فلسطینیوں کو زبردستی بسوں اور ٹرکوں میں بھریں گے اور انھیں لے جا کر باہر ڈال دیں گے ؟

ج : مسٹر زیوی نے جواب دیا کہ نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ عرب ممالک انھیں اپنے یہاں بلا لیں یا فلسطینی خود ایسا کریں کہ وہ ڈیڑھ لاکھ ، دو لاکھ سالانہ کی تعداد میں یہاں سے جانا شروع چند سال کے بعد یہاں کوئی مسئلہ نہ ہوگا :

In a few years, there would be no problem. (p. 56)

یہ ایک انتہا پسند یہودی کی بات ہے ۔ اس طرح کے انتہا پسند افراد ہر قوم میں ہوتے ہیں۔ نہ صرف دوسری قوموں میں بلکہ خود مسلمانوں میں بھی ایسے انتہا پسند افراد مل سکتے ہیں مگر ایسے انتہا پسند افراد کبھی کسی قوم میں قبول عام حاصل نہیں کرتے ۔ ان کے لیے صرف یہ انجام مقدر ہے کہ

وہ چند سال تک اس قسم کے سخت الفاظ بولیں اور اس کے بعد مکہ تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو جائیں۔

کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے ــــ یہ مثل ایسے ہی مسائل کے لیے بنائی گئی ہے، اور بلاشبہ ایسے مسائل کا اس سے بہتر کوئی حل نہیں۔ ۱۹۷۸ء کے اوآخر میں مصر کے مقتول صدر انور سادات نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پیش قدمی کی۔ جس کے نتیجہ میں بالآخر فریقین نے اس معاہدہ پر دستخط کیے جو کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس سلسلہ میں مصر اور اسرائیل کے درمیان چرمت ہوئی اس کی سرپرستی سابق امریکی صدر جی کارٹر (Jimmy Carter) نے کی تھی۔ نیز انھیں کے حسب منشاء، معاہدہ کا آخری مسودہ تیار کیا گیا ، جس کا پورا نام یہ تھا : A Framework for Peace in the Middle East Agreed at Camp David اس معاہدہ کی دفعہ نمبر (c) مغربی کنارہ اور غازہ پٹی میں فلسطینیوں کی حکومت خود اختیاری (Self-governing authority) کے بارہ میں تھی۔ مگر اس کی عبارت نہایت مبہم اور بالواسطہ انداز میں (ب اسلوب غامض و غیر مباشی) لکھی گئی تھی۔ محمد ابراہیم کامل مصر کے وزیر خارجہ تھے۔ اسی کے ساتھ امن مذاکرات کے دوران وہ سادات کے خصوصی ایڈوائزر بھی تھے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے اس پہلو پر توجہ دلاتے ہوئے سادات سے کہا کہ معاہدہ میں یہ بات بالکل واضح اور براہ راست الفاظ میں درج ہونی چاہیے کہ فلسطینی مقررہ حدود کے اندر اپنی آزاد اور خود مختار حکومت کی تشکیل کا حق رکھتے ہیں۔ جواب میں سادات نے کہا کہ خود مجھے اس کا احساس ہے اور اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے میں نے جی کارٹر سے بات چیت بھی کی تھی۔ لیکن انھوں نے کہا کہ اسے یوں ہی رہنے دیا کیونکہ اس کو بدلنے کی صورت میں مجھے اس کی قیمت اپنی کرسی صدارت سے ادا کرنی پڑے گی :

Printed page