'It would cost me my chair.'
Al-Risala, October 1997, pp. 36–40
By Maulana Wahiduddin Khan
( السلام لصنائع في اتفاقیات کامب دیفیر ، مطبوعات ادارۃ الشرق الاوسط، صفحہ ۶۰۳)
آج انسان کھلے طور پر ایک حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتا کہ اس کے نتیجہ میں وہ دنیا کے وقتی اور محدود اقتدار کی کرسی سے محروم ہو جائے گا۔ حالاں کہ مرنے کے بعد جب انسان یہ دیکھے گا کہ مقتدرِ اعلیٰ کے دربار میں سچائی کی کرسی (مقعدِ صدق) پر صرف وہی لوگ بٹھائے گئے ہیں، جنہوں نے دنیا میں اعلانِ حق کی خاطر اپنی ”کرسی“ کھو دی تھی۔ تو وہاں وہ اپنی کرسی اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جائے گا۔ مگر اس وقت اس کے حصہ میں حسرت و افسوس کے سوا کچھ نہیں آئے گا کیوں کہ آخرت کی کامیابی کے لیے وہی قربانی مطلوب ہے جو دنیا میں پیش کی گئی ہو۔ آخرت کے لیے آخرت میں قربانی کی پیش کش خود اپنے خلاف حجت قائم کرنا ہے۔ یہ انسان کو عذاب کا مستحق بناتا ہے نہ کہ انعام و اکرام کا۔
ایک عرب اسکالر نے گفتگو کے دوران بتایا کہ مختلف ملکوں کے بارے میں عالمی سطح پر جو تازہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، ان میں تمام عرب ممالک کو بلا استثناء علمی اعتبار سے فاقہ زدہ (الدُّوَلُ الجَائِعَةُ عِلمِيّاً) قرار دیا گیا ہے جب کہ ان کے مقابلہ میں اسرائیل کو جدید ٹکنالوجی کا حریص ملک (دولة نهمة تكنولوجياً) بتایا گیا ہے۔ یہی فرق ایک لفظ میں عربوں کی ہر محاذ پر مسلسل شکست کا واحد سبب ہے۔ قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ ”لاٹھی“ کی جگہ سائنس اور ٹکنالوجی نے لے لی ہے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں ”بھینس“ پر براہِ راست یا بالواسطہ قبضہ اسی کا ہوتا ہے جس کے پاس سائنس اور ٹکنالوجی کی طاقت ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں سائنس کو طاقت کی حیثیت حاصل ہوگئی ایسی حالت میں سائنس میں پس ماندہ قوم کا برتر قوم سے جنگ کرنا صرف خودکشی ہے نہ کہ جہاد فی سبیل اللہ۔
ایک یہودی سے گفتگو ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا اور عربی زبان اچھی جانتا تھا۔ نے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ پورے علاقہ پر اسرائیلی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں مدینہ اور خیبر بھی شامل ہے۔ اس نے کہا کہ یہ اسرائیل کی کوئی قومی پالیسی نہیں۔ کچھ یہودی انفرادی طور پر اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔
پھر اس نے کہا کہ بالفرض یہودیوں کا ایسا ہی خیال ہو تب بھی آپ لوگ اس کو اتنا
زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ ہم کو دیکھئے۔ ہم جانتے ہیں کہ الاخوان المسلمون کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا نشانہ ساری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے وہ ہدف الاخوان ھو ( اقامة دولة الاسلام العالمية ) اس کے مطابق ، نہ صرف اسرائیل کو اسلامی حکومت کا جزیہ گزار بننا ہے بلکہ ہم دنیا کے جس حصہ میں بھی ہوں ہر جگہ ہمیں اسلامی حکومت کا ماتحت بننا پڑے گا ۔ مگر ہمیں اس قسم کی باتوں پر کوئی پریشانی نہیں ۔
میں نے پوچھا کہ آپ کے پریشان نہ ہونے کی وجہ کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ الاخوان المسلمون مصر میں ۱۹۲۸ میں قائم ہوئی ۔ اس طرح اس کے قیام کو تقریبا ستر سال ہو رہے ہیں ۔ ستر سال کے عرصہ میں وہ خود اس نے ملک مصر میں بھی اتنے تصور کی اسلامی حکومت قائم نہ کر سکی۔ پھر اس رفتار سے پوری دنیا کو اسلام کا سیاسی ماتحت بنانے کے لیے تو سات ہزار سال بھی ناکافی ہیں۔ ایسی حالت میں ہم ابھی سے اس کے لیے کیوں پریشان ہوں ۔ قرآن میں واقعہ اسراء کے ذکر کے تحت ارشاد ہوا ہے : سبحان الذي اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذي باركنا حوله لنريه من آياتنا ( بنی اسرائیل (۱) اس آیت میں ایک سوال یہ ہے کہ لريه من آياتنا (تاکہ رسول کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں) سے کیا مراد ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کو بار کرنا سے جوڑا ہے۔ کے آس پاس کی برکتیں دکھائیں۔ لیکن زیادہ صحیح رائے ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس کو اسریٰ سے جوڑا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد آپ کو ایک رات میں مکہ سے مسجد اقصی لے جانا ہے جو ایک مہینہ کی مسافت پر واقع ہے (اسراؤه من مكة الى المسجد الاقصى في ليلة وهو مسيرة شهر) القرطبي ۲۱۴/۱۰ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس آیت میں ایک اہم سبق تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم دانش وروں اور مسلم علماء نے نہ اس کو سمجھا اور نہ وہ اس کو استعمال کر سکے۔ یہ اسراء دراصل فطرت کے اس عظیم امکان کو دکھانا تھا جس کو ہم تیز رفتار کمیونی کیشن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دور کے سب سرسدا کے گئے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دور کے سرے پر پیدا کیے گئے۔ آپ کو مخصوص اہتمام کے تحت اس فطری طاقت کو پیشگی طور پر دکھا دیا گیا۔ تاکہ آپ کی امت اس
سے آشنا ہو جائے اور جب یہ امکان اپنی پوری شکل میں ظاہر ہو تو اس کو دین کی خدمت میں استعمال کر سکے۔
مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں اور مسلم دانش وروں نے قدس کے سیاسی پہلو کو دیکھا، مگر اس سے وابستہ وسیع تر اور عظیم تر پہلو (جدید کمیونی کیشن) کی حقیقت کو وہ سمجھ نہ سکے۔ ہے کہ سیاست کی چٹان سے تو وہ نصف صدی سے ٹکرا رہے ہیں مگر کمیونی کیشن کی جدید طاقت کو دینِ حق کے لیے استعمال کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہوسکا۔
پاکستان کے لوگ پاکستان کو ملکِ خداداد کہتے ہیں۔ مثلاً لاہور کے ایک اسلامی ماہنامہ (اپریل ۱۹۹۶) میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا قیام اللہ کی ایک آیت اور معجزہ ہے۔ اس کی پشت پر اکابرین ملت کی چار سو برس کی کوششیں ہیں۔ پاکستان خدائی تدبیر کے تحت وجود میں آیا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی درج ہے کہ پاکستان جو اسلام کے لیے بنا تھا وہ اسلام کو چھوڑ کر سیکولرزم کی طرف بگٹٹ رواں دواں ہے۔ اسی رسالہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان مکمل طور پر یہودی نرغہ میں ہے۔ یہودی سازشوں نے اس کا رخ اسلام کے بجائے سیکولرزم کی طرف کر دیا حالاں کہ اس کے بعد پاکستان کے علاحدہ ملکی وجود کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہتا۔ یہ رسالہ قرآنک وزڈم کا علم بردار ہے۔ مگر مذکورہ بات کا قرآنک وزڈم سے کوئی تعلق کیوں کہ قرآن میں تو یہ تصور دیا گیا ہے کہ خدا کی تدبیر ہر مخالف تدبیر پر بالا ثابت ہوتی ہے ، وان کان مکرهم لتزول منه الجبال۔ مگر پاکستان کے قرآنی دانشور یہ خبر دے رہے ہیں کہ پاکستان میں نعوذ باللہ خدائی تدبیر پر یہودی تدبیر غالب آگئی۔
کہنے والے ایسی عجیب بات کیوں کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس کا سبب خود تشکیل پاکستان میں ہو سکتا ہے۔ اور جب آدمی ایک غلطی کو نہ مانے تو اپنی غلطی کو درست کرنے کے لیے وہ مزید ایسی غلطیاں کرتا ہے جو پہلے سے بھی زیادہ غیر معقول ہوتی ہیں۔
مولانا محمد علی جوہر کی قبر یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے قریب ہے۔ مولانا محمد علی گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے ہوئے تھے۔ اس وقت وہ بیمار تھے۔ چنانچہ لندن کے ایک
ہوٹل میں ۴ جنوری ۱۹۳۱ اکوان کا انتقال ہو گیا۔ ہالی ڈے پارک (محمد علی پارک) میں نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ پھر سمندری جہاز کے ذریعہ ان کی میت لندن سے یروشلم لائی گئی جو کہ ایک تابوت میں جب ان کی میت پورٹ سعید پہنچی تو مصر کے وزیرِ اعظم آئے اور میت کو مسجد عباس میں لے گئے۔ وہاں دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔ شہزادہ محمد علی نے غلافِ کعبہ کا ایک ٹکڑا تابوت اس کے بعد جب میت یروشلم پہنچی تو جنازہ میں تقریباً دو لاکھ آدمی شریک تھے۔ مفتی اعظم آگے آگے چل رہے تھے۔ مسجد اقصیٰ پہنچ کر جنازہ کی آخری نماز ادا کی گئی مولانا محمد علی کی سوانح عمری میں یہ الفاظ درج ہیں: ” اولین قبلہ اسلام کا سینہ پھٹ گیا اور وہ اس میں ان کے جسدِ خاکی کی آخری آرام گاہ وہ ارضِ قدس ہوئی جس کو قرآن نے الذی باركنا حولہ کہا ہے“ اس تدفین پر اقبال نے کہا :