Al-Risala · October 1997

سوئے گردوں رفت زاں راہی کہ پیغمبر گذشت

Al-Risala, October 1997, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ہے کہ لقد انزلنا الیکم کتابا فیہ ذکرکم (الانبیاء ١٠) اس کی تشریح سہل بن عبد اللہ نے کی ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر قرآن اتارا۔ اس میں وہ عمل بتایا گیا ہے جس میں تمہارے لیے زندگی ہے (العمل بما فیہ حیاتکم) القرطبی ۲۷۳/۱۱ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس آیت کے مطابق، یقیناً فلسطین کے مسئلہ کا حل بھی قرآن میں مذکور ہونا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ اس معاملہ میں واضح رہنمائی قرآن میں موجود ہے، اور وہ یہ آیت ہے : ان یمسسکم قرح فقم مس القوم قرح مثلہ وتتلک الایام نداولھا بین الناس (آل عمران ۱۳۰)

اس آیت میں اسلامی تاریخ کے اس واقعہ کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور اصحابِ رسول کو بدر کے دن مشرکوں کے اوپر غالب کیا۔ اس کے بعد احد کے دن اللہ نے ان کے دشمنوں کو ان کے اوپر غلبہ دے دیا (اظهر الله عز وجل نبيد صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ علی المشركين يوم بدر و اظهر عليهم عدوهم يوم (احد) تفسیر الطبری ۴/ ١٠۵ اس وقت مسلمانوں میں غم اور مایوسی کے جذبات پیدا ہوئے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ آخرت کی نعمتیں تو صرف اہلِ ایمان کے لیے ہیں۔ مگر دنیا کا نظام امتحان اور

الیکٹرک اصولی طور پر قائم کیا گیا ہے جس کے یہاں غریب اور مغلوب سیرت کا تجربہ جاری ہے اور آزمائش کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ اس لیے یہاں غلبہ اور مغلوبیت کا تجربہ باری باری ہر ایک کو کرایا جائے گا، تاکہ ہر ایک کی ہر پہلو سے آزمائش ہو سکے (تلك الايام نداولها

یہی بات ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں کہی ہے کہ ـــــــــ دانشمند چڑیا جب جال میں پھنس جائے تو اس کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے :

Printed page