مرغ زیرک چوں بدام افتد تحمل بایدش
Al-Risala, October 1997, pp. 41–50
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا کا مطا س ان ان ہی نہیں س بلکہ اس کا مطا س کا جز اتنی دعا س بج کر صاران منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
موجودہ زمانہ میں تمام مسلم دانشور اور رہنما فلسطین کی بازیابی کے مسئلہ کو ملت مسلمہ کا مسئلہ نمبر ایک بتاتے ہیں۔ مگر عین اسی وقت تمام دنیا کے مسلمان باہمی لڑائیوں میں اپنی بہترین طاقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس میں متشددانہ جنگ اور غیر متشددانہ جنگ دونوں شامل ہیں۔ مزید ستم یہ ہے کہ ہر ایک اپنے کو خادم دین اور مجاہد اسلام سمجھ رہا ہے۔ ایران اور عراق دونوں مسلسل فلسطین کے خلاف پر شور بیان دیتے رہتے ہیں۔ آٹھ سال (۱۹۸۰-۱۹۸۸) تک خوں ریز قسم کی باہمی لڑائی لڑتے رہے۔ اس جنگ کے زمانہ کے ایرانی لیڈر آیت اللہ خمینی کے حامی کہا کرتے تھے کہ قدس کا راستہ بغداد ہو کر جاتا ہے (الطریق الی القدس یمر ببغداد) عین اسی وقت عراقی لیڈر صدام حسین کے حامی بلند بانگ طور پر یہ کہتے تھے کہ قدس کا راستہ تہران ہو کر جاتا ہے (الطریق الی القدس یمر بطهران) دوبارہ صدام حسین نے ۱۹۹۰ میں کویت پر فوج کشی کر دی۔ اب صدام حسین کے حامی یہ کہنے لگے کہ قدس کا راستہ کویت ہو کر جاتا ہے (الطریق الی القدس یمر بالکویت) اس قسم کے الفاظ فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی کا ثبوت نہیں ہیں۔ بلکہ صرف مسلم رہنماؤں کی استحصالی ذہنیت کا ثبوت ہیں۔ یہ صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتے ہیں، وہ ان کو کسی انعام کا مستحق نہیں بناتے۔
۳۱ اگست ۱۹۹۵ کی شام کو واپسی ہوئی۔ یروشلم سے تل ابیب تک کا راستہ
بذریعہ کار طے ہوا۔ تل ابیب سے ایل آیل کی فلائٹ ۸۱ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ل ابیب پر اپنے گھر پر ہے، ہم لوگ آہرین ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ابیب پر ایک طائرانہ نظر ڈال لوں۔ یہ ایک ماڈرن شہر ہے ۔ یہ میڈیٹرینین کے کنارے واقع ہے اور اسرائیل کا سب سے بڑا شہری مرکز ہے۔ یہ ایک قدیم بستی کو ترقی دے کر ۱۹۵۰ء میں بسایا گیا ہے۔ تل ابیب اور حیقہ اور یروشلم میں اسرائیلی آبادی کا تقریباً ۵۵ فی صد حصہ رہتا ہے ۔ ایل آل کی ایر ہاسٹس اخبارات لے آئی۔ یہ انگریزی اور عبرانی کے اخبارات تھے۔ قریب بیٹھے ہوئے اسرائیلی تاجر نے عبرانی اخبار لیا۔ اس تقریب سے ان سے عبرانی زبان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ اسرائیل میں سب سے بڑا عبرانی اخبار ایدوست (Y'edio) اس کے معنی ہیں تازہ خبریں ۔ اس کے بعد نمبر ۲ کا اخبار ماریو (Maariv) ہے۔ زبان دائیں سے بائیں کی طرف لکھی جاتی ہے۔ اس کے طرزِ تحریر کا ایک نمونہ یہ ہے : חברת אל על שמחה להציג בפניכם תרגילי "התעמלויות כסא", שניעדו לשפר את הרגשתכם בזמן הטיסה. את התרגילים, המיועדים לאנשים בריאים, מומלץ לבצע מספר פעמים במשך הטיסה (8-5 פעמים כל תרגיל, בקצב איטי). את התרגיל האחרון רצוי לבצע כשעה לפני הנחיתה. אין להתעמל מיד לאחר הארוחה, אלא כשעה וחצי אחריו. תרגילים 1, 2, 3, 7-1 יש לבצע לשני הצדדים. תיהנו!
مذکورہ تاجر سے میں نے پوچھا کہ عبرانی تو ایک مردہ زبان تھی ۔ پھر اتنی کم مدت میں وہ اسرائیل کی ایک زندہ قومی زبان کس طرح بن گئی۔ اس نے کہا کہ عبرانی اگر چہ ہمارے یہاں عام استعمال میں نہیں تھی ۔ مگر عام طور پر لوگ عبرانی کو سمجھتے تھے۔ کیوں کہ دعا اور عبادت میں وہ اس کو روزانہ استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ جب اس کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو آسانی سے عبرانی زبان قومی زبان کے طور پر رائج ہو گئی۔ اور یہ صرف ایک شخص کی کوششوں سے ہوا۔ پاکستان میں کچھ رہنماؤں نے چاہا کہ عربی زبان وہاں کی قومی زبان بن جائے۔ مگر وہ کامیاب حالاں کہ پاکستان میں بھی تمام مسلمان عربی کو دعا اور عبادت کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ یہودیوں کو صرف عبرانی کے الفاظ نہیں رٹائے جاتے تھے بلکہ اس کا مطلب بھی انھیں پڑھایا گیا تھا۔ پاکستان کے مسلمانوں کو صرف عربی کے الفاظ یاد کرائے گئے تھے ، اس کے مفہوم سے وہ نا آشنا تھے۔
دوران پرواز اسرائیلی ایئر لائنز (El Al) کا میگزین بابت جولائی۔ اگست ۱۹۹۵ء دیکھا۔ اس میں کثرت سے مکانات کے اشتہار تھے۔ مختلف کمپنیوں کے بنائے ہوئے مکانات کی خوب صورت تصویریں، اور ان کے نیچے اس طرح کے خوش کن الفاظ لکھے ہوئے تھے : Your dream home in Israel یا یہ کہ اس خوب صورت کامپلیکس میں اپنے لیے ایک اپارٹمنٹ حاصل کیجئے اور دنیا کی جنت میں رہنے کا لطف اٹھائیے۔ میں نے ایک اسرائیلی مسافر کو یہ اشتہارات دکھا کر اس کا تاثر پوچھا۔ اس نے کہا کہ ہم نے خوب صورت قسم کے رہائشی مکانات تو ضرور بنا لیے ہیں۔ مگر ایک نامعلوم خوف ہر یہودی کے دماغ میں ہوتا ہے کہ کیا معلوم، کب کہاں ایک بم پھٹ جائے۔ میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں پر مسرت زندگی ممکن ہی نہیں۔ یہاں ہر حال میں کوئی نہ کوئی حزن لگا رہتا ہے۔ اس لیے حقیقی معنوں میں پر مسرت زندگی صرف آخرت کی جنت ہی میں ممکن جہاں خدا اپنی برتر طاقت سے حزن کو حذف کر دے گا (اذهب عنا الحزن (فاطر ۳۴) بمبئی ائیر پورٹ پر مسز سوزن جیکب (Ms Susan Jacob) نے پریشان کیا تھا۔ کے بعد اسرائیلی کمپنی کا ایک نوجوان آیا۔ اس نے اپنا نام نیویل مستری (Naville Mistry) بتایا۔ نے مزید بتایا کہ اس کا باپ پارسی ہے اور اس کی ماں کیتھولک عیسائی ہے، ماں کے اثر سے لڑکا بھی عیسائی ہو گیا ہے۔ اس نوجوان نے ائیر پورٹ پر میری رہنمائی کی۔ اس نے میرا بیگ اصرار کر کے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مجھ کو آخری گیٹ تک پہنچایا۔
سفر سے واپسی کے بعد مولانا انیس لقمان ندوی کا خط (۸ جولائی ۱۹۹۶) ملا۔ وہ آجکل ابوظبی میں مقیم ہیں۔ یہ خط فلسطین کے مسئلے سے متعلق ہے اس لیے اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے : ابوظبی میں قیام کے دوران پچھلے چھ مہینوں میں سو سے زیادہ عربوں سے ملاقات ہوئی۔ جن میں مقامی باشندوں کے علاوہ مصر، فلسطین، شام اور دیگر ملکوں سے آئے ہوئے (وافدین) بھی شامل ہیں۔ ان کے ساتھ جن موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ان میں مسئلہ فلسطین سر فہرست جس شخص نے بھی عربی جرائد و مجلات اور عالم عرب میں چھپنے والی جدید کتابوں کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ فلسطین پر یہود کا قبضہ عرب دنیا کا واحد سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
اب تک میرا احساس یہ تھا کہ قبلۂ اول (بیت المقدس) کو اسلام میں جو مقام حاصل ہے اس نے فلسطین کو اتنا زیادہ اہم اور سنگین مسئلہ بنا دیا ہے۔ بلکہ فلسطین کے مسئلہ پر بولنے اور لکھنے والا ہر شخص خواہ وہ عرب ہو یا غیر عرب عام طور پر یہی سمجھتا ہے کہ آزادی فلسطین کے لیے عربوں کے مجاہدانہ جوش و خروش کا اصل محرک دینی اور اسلامی ہے۔ مگر عربوں کے ساتھ رہنے اور قریب سے ان کی نفسیات اور مزاج کا تجزیہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جہاد فلسطین‘‘ کا حقیقی محرک دینی حمیت یا اسلامی غیرت سے زیادہ عربوں کی قومی نخوت اور نسلی
مسئلہ فلسطین غالباً واحد مسئلہ ہے جس کے بارہ میں عرب دنیا کا تقریباً ہر شخص حساس بلکہ یہی ایک معاملہ ایسا ہے جس میں وہاں کا سیکولر اور اسلام پسند طبقہ دونوں ایک دوسرے کا ہمنوا ہے حالاں کہ دوسرے تمام معاملات میں ان کا حال یہ ہے کہ پہلا گروہ دوسرے کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا الزام دیتا ہے تو دوسرا گروہ پہلے کو کافر اور ملحد قرار دیتا اگر آزادیٔ فلسطین کا اصل محرک اسلامی غیرت وحمیت کو قرار دیا جائے تو پھر اس واقعہ کی توجیہہ نا ممکن ہو جاتی ہے کہ کیوں ایسے لوگ ہی اس "جہاد" میں اسلام پسندوں کے شانہ بشانہ شریک ہیں جنھیں یہ کافر اور ملحد سمجھتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حسن البنا اور شاہ فیصل کی طرح عرب حکام اور عوام دونوں کے درمیان ایک تعداد ایسے افراد کی پائی جاتی ہے جن کے لیے فلسطین پر یہودی قبضہ ان کی دینی غیرت کو چیلنج ہے اور فلسطین کی بازیابی کے لیے کوشش کرنا ایک اسلامی ذمہ داری۔ عربوں کی اکثریت کے لیے یہ حقیقتہً عرب قومیت (العروبۃ) کو چیلنج کرنے کا مسئلہ ہے۔ ان کے لیے حد درجہ نا قابل برداشت ہے کہ یہود، جو تعداد میں انتہائی قلیل ہیں اور سیکڑوں برس تک ان کے محکوم رہے ہیں، وہ ان کے اپنے ایک ملک پر اس طرح قابض ہو جائیں کہ بقیہ ممالک کے لیے ان کا وجود خطرہ بن جائے۔ عربوں کی قومی نخوت اس کا تحمل نہیں کر سکتی کہ وہ یہود کے مقابلہ میں پست ثابت ہوں یا یہود ان کے پڑوس میں ان کے ہم سطح اور ہمسری کی حیثیت سے آزادانہ زندگی گزاریں۔ ایک لفظ میں یہ کہ اصل مسئلہ یہودی نسل پرستی (صہیونیت) کے
بالمقابل عرب قومیت (العروبة) کی بالادستی کے درمیان کشمکش کا مسئلہ ہے۔ چونکہ تقریباً ڈیڑھ ہزار برس تک یہود کے اوپر عرب کا غلبہ اور تسلط رہا ہے۔ صدی کے نصف اول تک عرب دنیا میں یہود کی حالت کم و بیش وہی تھی جو قرآن کے ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ ”حتیٰ یعطوا الجزیۃ عن ید وھم صاغرون“ مگر جب حالات بدلے اور نئے دور میں طاقت اور غلبہ کے جدید وسائل کو بروقت استعمال کر کے یہود نے داخلی طور پر اپنے آپ کو مستحکم کر لیا۔ جب کہ عرب دنیا ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ اور بالآخر یہود فلسطین کے اوپر قابض ہو کر عربوں کے لیے مستقل خطرہ بن گئے تو نہایت شدت کے ساتھ ان کے قومی جذبات بھڑک اٹھے۔ ذہنی اور نفسیاتی طور پر وہ سخت تناؤ اور جھنجلاہٹ اور احساس کمتری کا شکار ہو گئے۔ اسی جھنجلاہٹ اور احساس کمتری کو دور کرنے کے لیے وہ ایک طرف اپنے عظیم ماضی کا تذکرہ کرتے ہیں اور دوسری طرف یہود کو احفاد القردہ والخنازیر (بندر اور خنزیر کی اولاد) اور اسی طرح کے دوسرے حقارت آمیز ناموں سے پکارتے ہیں۔ لفظوں میں یہ کہ وہ یہود کو اپنے ماضی کے آئینہ میں دیکھ کر یہ جھوٹی تسکین حاصل کرتے ہیں کہ ہمیں ان کے اوپر برتری اور بالادستی حاصل رہی ہے۔ مگر وہ اپنے حال کا تقابل یہود کے حال سے کیوں کہ ایسا کرنے میں ان کے اندر جھنجلاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ ان کی قومی نخوت اس واقعہ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی غفلت اور دوسروں کی زمانہ شناسی کے نتیجہ میں (احفاد القردة والخنازیر) کہیں براہ راست ان کے اوپر غالب ہیں اور کہیں بالواسطہ طور پر مسلط ہیں۔
آج کل عرب دنیا کی اسلامی تنظیموں خصوصاً آزادی فلسطین کے لیے سرگرم تنظیم حركة المقاومة الاسلامية (حماس) میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے۔ وہ یہ کہ اس تنظیم کے افراد اپنے جسم پر بم باندھ کر دشمن کے کسی ٹھکانے یا کسی اہم سرکاری یا عسکری اہمیت کے حامل دفتر میں کود پڑتے ہیں، ان کے جسم سے بندھا بم جب پھٹتا ہے تو وہ خود تو ہلاک ہوتے ہی ہیں مگر اپنے ساتھ دشمن کے بھی بہت سے افراد اور املاک کو تباہ کر دیتے ہیں۔ عام آدمی اگر ایسا عمل کرے تو اسے خودکشی کہا جائے گا۔ مگر بعض مسلم علماء حماس کے اس عمل کو خودکشی (عملية انتحارية) کے
بجائے شہادت طلبی (عملیہ استشهادِیة) کہہ رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں دکتور یوسف القرضاوی کا ایک مستقل مقالہ ہفت روزہ روڑہ ۱۰ مع ( ۱۸ جون ۱۹۹۶ ) صفحات ۴۵ - ۴۴ ) میں چھپا
مذکورہ مقالہ میں یوسف القرضاوی نے مختلف دلائل کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حماس کے نوجوانوں کا یہ اقدام شہادت طلبی کا عمل ہے نہ کہ خودکشی کا ۔ کیوں کہ وہ دشمن کو خوف زدہ کرنے (ارھاب العدو) کی ایک جدید اور موثر تکنیک ہے۔ دوسرے یہ کہ ان نوجوانوں کا مقصد محض خدا کی رضا جوئی ہے اور اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف کسی کارروائی پر اگر کوئی اس طرح اپنے کو ہلاک کرتا ہے تو یہ لا تلقوا بایدیکم الی التہلکہ کا مصداق ہلاکت نہیں بلکہ شہادت ہے۔ جس طرح صحابہ کرام کے بارے میں آتا ہے کہ مختلف غزوات میں انھوں نے اپنے آپ کو دشمن کے نرغہ میں ڈال دیا اور بالآخر شہید ہو گئے ۔
اس سلسلہ میں دو باتیں ملحوظ رکھنی چاہئیں۔ اولاً یہ کہ صحابہ وغیرہ نے بعض غزوات میں جو یہ کیا کہ میدانِ جنگ میں دیوانہ وار کود پڑے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ایسا میدانِ جنگ میں کیا۔ جہاں عملاً جنگ برپا تھی۔ نہ کہ ایسی جگہ جہاں دشمن کے علاوہ بھی بہت سے غیر متعلق لوگ موجود ہیں۔
دوسرے یہ کہ صحابہ نے اگر چہ شہادت کے شوق میں جاں بازی دکھائی۔ مگر اس جاں بازی میں جتنا ان کا لڑ کر مر جانے کا امکان تھا اتنا ہی امکان اس بات کا بھی تھا کہ وہ لڑ کر دشمن کو ماریں گے اور فتح یاب ہو کر لوٹیں گے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ جب قتال کرتے تھے تو یا دشمن کو قتل کرتے تھے یا دشمن کے ہاتھوں قتل ہوتے تھے (فيقتلون ان يقتلون) گویا صحابہ کے اقدام میں احتمالی طور پر دو بہتر نتائج (احدى الحسنين) پوشیدہ تھے۔ یعنی وہاں فتح اور شہادت دونوں کا پچاس پچاس فیصد امکان رہتا تھا۔ مگر اس کے برعکس حماس وغیرہ کے موجودہ اقدام کا نتیجہ یقینی موت ہے۔ ایسی صورت میں اس کو صحابہ کے جاں بازانہ اقدام کے مشابہ قرار دینا قیاس مع الفارق ہے۔ قرآن و حدیث اور آثار صحابہ میں اس بات کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں کہ جہاں پیشگی طور پر صد فی صد موت یقینی ہو ایسے موقع پر اقدام درست ہے۔
دوسری بات یہ کہ اسلام کا ایک متفقہ اصول یہ ہے کہ جہاد کے معاملہ میں مسلمانوں کی داخلی قوت اصل معیار ہے۔ اگر داخلی اعتبار سے مسلمان مستحکم ہیں تو جہاد کا اقدام کیا جائے گا اگر داخلی استحکام مطلوبہ معیار سے کم ہے تو اسی تناسب سے جہاد کے حکم میں تخفیف ہو جائے گی۔ ابتدائے اہلِ اسلام اپنے ایمان اور اللہ و رسول کے ساتھ محبت و وفاداری میں بہت بڑھے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے سے دس گنی طاقت کے مقابلہ میں جہاد کا حکم دیا۔ جب اس پہلو سے اہل اسلام کی صفوں میں کمزوری آ گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں تخفیف کردی اور صرف اپنے سے دوگنی قوت کے مقابلہ میں اقدام کی اجازت دی۔ یہ تخفیف اس گروہ کے لیے کی گئی جن کو صحابہ کہا جاتا ہے اور جو نبی آخر الزماں کے ساتھ تھا۔ آج کوئی قائد یا گروہ یہ دعویٰ کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ وہ کسی بھی اعتبار سے پیغمبر یا آپ کے اصحاب سے زیادہ مستحکم اور طاقت ور ہے۔ چنانچہ آج مسلمانوں کے اوپر تخفیف کا اصول بدرجہ اولیٰ منطبق ہوتا ہے (الئن خفف عنكم ...)
۳ جون کو مغرب کی نماز کے بعد دو عرب طالب علموں سے ملاقات ہوئی۔ ایک کا نام محمد داؤد تھا جو فلسطین کے رہنے والے ہیں اور ابوظبی کے مدرسہ بن درید میں اول ثانوی میں دوسرے کا نام عمار مصطفےٰ تھا جو مدرسہ ربعی بن عامر، ابوظبی، میں زیر تعلیم ہیں۔ فون (458752) گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ ابھی ابھی اپنا سالانہ امتحان دے کر فارغ ہوئے ہیں۔ اور اب ان کی گرمی کی چھٹیاں شروع ہوئی ہیں۔
میں نے کہا کہ اسکول کا امتحان تو معمولی امتحان ہوتا ہے اس کو چند ہفتوں یا مہینوں کی محنت کے ذریعہ پاس کیا جا سکتا ہے۔ مگر ایک بہت بڑے امتحان میں پوری عرب دنیا پچھلے پچاس برس سے مبتلا ہے لیکن ابھی تک وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔ یہ امتحان فلسطین کو یہودی قبضہ سے آزاد کرانے کا مسئلہ ہے۔
پھر میں نے کہا کہ آپ لوگوں کا تعلق اس نسل سے ہے جسے اکیسویں صدی میں میدان عمل میں اترنا ہے۔ شاید آپ لوگ اس امتحان میں کامیاب ہو جائیں جس میں پچھلی تین نسلیں مسلسل ناکام ہوتی رہی ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ فلسطین کو آزاد کرانے کے سلسلہ میں
آپ لوگوں کا کیا خیال ہے ۔ اسے طاقت کے ذریعہ آزاد کرایا جاسکتا ہے یا دعوت کے ذریعہ ( تُرَى ، كيفَ نُمكنُ أن تُحرّرَ أرضُ فلسُطين ، بالقوّة ، أم بالدّعوة ؟ یہ سوال میں نے ایک کاغذ پر لکھ کر دونوں نوجوانوں کو دیا اور کہا کہ اس پر کم از کم تین دن غور کر کے مجھے بذریعہ ڈاک تحریری یا بذریعہ ٹیلی فون زبانی اپنے جواب سے مطلع کرو۔ ہو سکے تو اس معاملہ میں اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لو۔
تین دن بعد میں نے خود ان کے گھر فون کیا۔ داؤد کے والد نے کہا کہ اپنے لڑکے کو میں نے امتحان کے زمانے میں بھی اتنا سنجیدہ غور و فکر اور مطالعہ میں غرق نہیں پایا جتنا وہ پچھلے تین روز سے آپ کے سوال کا جواب تیار کرنے میں محو ہیں۔ انھوں نے بڑا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چھٹیوں میں ہم اپنے بچوں کو کوئی بامعنی سرگرمی کا کام نہیں دے پاتے۔ آپ نے بڑا اچھا کیا کہ ان کے خالی اوقات کو ایک بامعنی سرگرمی سے پر کر دیا۔ (لَقَدْ اَحْسَنْتَ اِذْ مَلَأْتَ فَرَاغَهُمْ بِنَشَاطٍ هَادِف) اس کے بعد داؤد سے براہِ راست گفتگو ہوئی۔ وہ اپنا اور اپنے ساتھی عمار کا مشترک جواب مجھے فون پر پڑھ کر سنا رہے تھے۔ ان کے تفصیلی جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ سر زمینِ فلسطین کو یہود کے جابرانہ قبضے سے طاقت کے سوا کسی اور ذریعہ سے آزاد نہیں کرایا جا سکتا۔ ہم نہیں سمجھتے کہ دعوت طاقت کی متبادل یا قائم مقام ہو سکتی ہے (لا یُمکِنُ تَحرِيرُ ارضِ فلسطين من الاحتلالِ الْیَهُودِئ الغَاشِمِ إلا بالقوة، ولا نَظُنُّ أنَّ الدّعوة يُمكِنُ أن تَكُوْنَ بَدِيلاً عَنِ القُوَّةِ أَوْ أَنْ
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان ابھی تک دعوت کی تسخیری طاقت کا راز دریافت نہیں کر سکے ہیں۔ حالاں کہ تاریخ میں اسلام کی تمام عظیم فتوحات کا دروازہ دعوت ہی کے ذریعہ اگر اکیسویں صدی میں فلسطین اور اس جیسے دوسرے ملی اور عالمی مسائل کو حل کرنا ہے تو جدید مسلم نسل میں صحیح دعوتی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ہمارے مسائل آئندہ کئی صدیوں میں بھی غیر حل شدہ پڑے رہیں گے۔