مسلم معاشرہ میں جذباتیت کا مسئلہ
Al-Risala, November 1997, pp. 24–27
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے مسلم معاشرہ میں بظاہر بہت سے مسائل دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو تمام مسائل کی جڑ صرف ایک نظر آئے گی۔ اور وہ مسلمانوں کی بڑھی ہوئی جذباتیت ہے۔ مسائل زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ بے مسائل زندگی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب مسائل پیش آئیں تو کیا کیا جائے ۔ اس کا جواب صرف ایک ہے ۔ اور وہ یہ کہ جلد بازی چھوڑ کر صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ یہ اصول قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ چنانچہ فرمایا : پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا ، اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (الاحقاف ۳۵)
انفرادی یا اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو اس کے مقابلہ میں رد عمل کے دو طریقے ایک ہے فوری اور جذباتی جواب (emotional response) اور دوسرا ہے سوچا سمجھا ہوا جواب (considered response) ۔ پہلے قسم کے رد عمل کا نام عجلت ہے اور دوسرے قسم کے رد عمل کا نام صبر ۔ عجلت ہر قسم کی نا کامی کا راز ہے۔ اور صبر ہر قسم کی کامیابی کا راز ۔ زندگی کا نظام فطرت کے قانون پر چل رہا ہے ۔ یہ قانون مسابقت اور کا مپیٹیشن ہے۔ کو قرآن میں اس کے انتہائی مفہوم کے اعتبار سے عداوت کہا گیا ہے۔ (البقرہ ۳۶) کوئی بھی اس پر قادر نہیں کہ وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے اس نظام کو بدل سکے ۔ مسابقت یا عداوت کا یہ معاملہ خود آدم کے زمانہ میں ہابیل اور قابیل کے نزاع کی صورت میں سامنے آگیا تھا۔ وہ تمام پیغمبروں کے ساتھ اسی طرح وہ قیامت تک برابر جاری رہے گا۔
اب کرنا کیا ہے۔ کرنا یہ ہے کہ جب مسائل پیش آئیں تو مشتعل ہو کر جذباتی ہنگامہ آرائی نہ کی بلکہ اپنے آپ کو تھام کر سوچا جائے ۔ اہل افراد سے مشورہ کیا جائے۔ دعا اور استخارہ کیا اس کے بعد ٹھنڈے ذہن کے تحت فیصلہ کر کے اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ جذباتیت غیر منظم عمل ہے ، اور صبر اس کے مقابلہ میں منظم عمل ۔ بدقسمتی سے ہندوستانی مسلمانوں نے پچھلے دو سو سال کے دوران ایک بار بھی صبر والے طریقہ پر
عمل نہیں کیا۔ انھوں نے ہمیشہ ایک ہی طریقہ اختیار کیا۔ کوئی خبر سنی ، یا کوئی واقعہ پیش آیا تو فوراً اپنے جذباتی لیڈروں کی رہ نمائی میں بھڑک کر اس کے مقابلہ میں ہنگامہ آرائی کے لیے کھڑے ہو گئے۔ کا یہ انداز فطرت کے قانون کے سراسر خلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دو سو سال کی لمبی مدت میں ہزاروں پرشور اقدامات اور بے شمار قربانیوں کے باوجود ان کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ بلکہ ان کا ہر جذباتی اقدام مسائل میں صرف اضافہ کا سبب بنتا چلا گیا۔
ہندوستان کی دو بڑی تحریکوں کو اس کی مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ میں انگریزوں کی آمد کے بعد مسلمانوں کو کچھ تلخ تجربے ہوئے۔ اس کے بعد مسلم رہ نماؤں میں انگریزوں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو گئی۔ حتیٰ کہ مقدس بزرگوں تک کے حالات میں ہم پڑھتے ہیں کہ ”حضرت کو انگریزوں سے بہت نفرت تھی“۔
نفرت صبر کا مظہر نہیں۔ بلکہ عجلت اور جذباتیت کا مظہر ہے۔ چنانچہ جب ہمارے رہنماؤں کو انگریزوں سے نفرت ہوئی تو وہ اندھا دھند بس ان کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ انھیں اس کے سوا کوئی اور کام نظر نہ آیا کہ جس طرح بھی ہو، انگریزوں کی سیاسی غلامی ختم کر کے آزادی حاصل کریں۔ ۱۹۴۷ء میں آزادی کا یہ نشانہ پورا ہو گیا۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل مزید اضافہ کے ساتھ اس کی وجہ یہ تھی کہ نفرت اور اشتعال کی بنا پر ہمارے رہنما یہ سوچ نہ سکے کہ انگریزوں کا ہندوستان سے واپس جانا بذات خود مسلمانوں کے مسائل کا حل نہیں بن جائے گا۔ بلکہ انھیں جدید تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو تیار بھی کرنا ہو گا۔
ہندو قوم آزادی کی جدوجہد کے ساتھ تعلیم، صنعت، تجارت وغیرہ میں بھی سرگرم رہی۔ آزادی آئی تو وہ آزادی کے مواقع کو استعمال کرنے کے قابل بھی ہو چکی تھی۔ اس کے برعکس مسلمان تعمیر و تیاری کے میدان میں پس ماندہ ہونے کی وجہ سے اس قابل نہ تھے کہ آزادی کے مواقع کو استعمال اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آزاد ہندوستان کے ہر شعبہ میں ہندو بدرجہا آگے ہیں۔ اور مسلمانوں کے حصہ میں صرف یہ فریاد و ماتم آیا ہے :
یہاں تک گردشِ دورِ فلک سے پست ہونا ہے کہ گردِ راہ بھی کرتی پھرے گی شوخیاں ہم سے اب دوسری بڑی تحریک کو لیجئے جو بالآخر ملک کی تقسیم پر منتج ہوئی۔ اس تحریک کا آغاز کس طرح ہوا۔
وہ اس طرح ہوا کہ مسلمانوں کو اپنے پڑوسی ہندوؤں سے کچھ تلخ تجربات پیش آئے مثلاً مسجد کے سامنے باجا بجانا یا اشتعال انگیز نعرے لگانا، وغیرہ۔ اس قسم کے تجربات کو لے کر مسلمانوں کے جذباتی رہ نما بھڑک اٹھے۔ انھوں نے پوری قوم کو جذباتیت کا طوفان بنا دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندو ہندوؤں کا الگ کلچر ہے۔ ہندو مسلمانوں کے لیے مسئلے پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک علاحدہ خطہ (مسلم لینڈ) چاہیے جہاں ہم اس قسم کے مسائل سے محفوظ رہ کر پر امن زندگی گزار سکیں۔ یہ جذباتی تحریک مسلمانوں میں اتنا زیادہ مقبول ہوئی کہ ملت کا بیشتر حصہ اس کے ساتھ ہو گیا۔ یہاں تک کہ مجبوراً، ۱۹۴۷ میں ملک کو تقسیم کرنا پڑا۔
اب اگر نتیجہ کو دیکھے تو وہ نہ صرف صفر ہے بلکہ الٹا نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں پر جو کچھ گزرتا جا رہا ہے وہ ہر شخص کو معلوم ہے۔ مگر خود مسلم لینڈ (پاکستان) کی حالت کیا ہے۔ پچھلے پچاس سال سے وہاں شدید ترانداز کی لڑائی جاری ہے۔ پنجابی اور بنگالی کی لڑائی، مہاجر اور سندھی کی لڑائی، شیعہ مسلمان اور سنی مسلمان کی لڑائی۔ حتی کہ سپاہ صحابہ اور سپاہ محمدی کی لڑائی۔ تقسیم کی تحریک کا یہ الٹا نتیجہ کیوں برآمد ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہندوؤں کی طرف سے جب کچھ تلخ تجربات ہوئے تو اس پر صبر و تحمل کے ساتھ غور نہیں کیا گیا۔ اگر صبر و تحمل کے ساتھ غور کیا جاتا تو معلوم ہوتا کہ یہ ہندو کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسان کا مسئلہ ہے۔ جہاں بھی کچھ انسان ہوں گے، خواہ وہ کئی مذہب کو ماننے والے ہوں یا ایک مذہب کو ماننے والے، لازماً ان کے درمیان نزاعات پیدا نزاع اور چیلنج سے خالی سماج اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔
تقسیم کے علم بردار اگر غور کرتے تو وہ اس حقیقت کو جان لیتے ۔ پھر وہ مسلمانوں سے کہتے کہ تم لوگ ملک کو بٹوا کر اگر علاحدہ مسلم لینڈ بنو الو گے تو وہاں بھی نزاع جاری رہے گی۔ پھر تم کیا کرو گے۔ اس لیے صبر و تحمل کے ساتھ جینا سیکھو۔ زندگی کے مسائل کا حل علیحدگی میں نہیں ہے۔ مسلمانوں کو یہ سبق نہیں دیا اس لیے وہ پہلے بھی لڑتے تھے اور اب بھی لڑ رہے ہیں۔ یہ دوتاریخی مثالیں محض ایک اندازہ کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ ورنہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے لیڈروں کی رہ نمائی میں جتنی بھی تحریکیں اٹھائی ہیں وہ سب کی سب جذبات کے تحت اٹھیں اور جذبات ہی کے اوپر ختم ہو گئیں۔ اس کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے۔
اب مسلمانوں کو مزید تباہی سے بچانے کی واحد صورت یہ ہے کہ مذکورہ قرآنی آیت کی روشنی میں انھیں اس معاملہ میں باشعور بنانے کی کوشش کی جائے۔ انھیں بتایا جائے کہ مسئلہ پیش آنے پر بھڑک اٹھنا یا جذباتی اقدام کرنا کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ ایسا اقدام صرف برعکس نتیجہ والا (counter-productive) ثابت ہوگا اور ہماری تباہی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے تاکہ وہ معاملات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ وہ باشعور انسان کی مانند جینے والے بنیں۔ وہ سطحی نعروں اور گہری تدبیروں کے فرق کو سمجھیں۔ وہ اس راز کو سمجھیں کہ تباہ کن اچھل کود اور چیز ہے اور نتیجہ خیز اقدام اس سے بالکل مختلف دوسری چیز۔
مسلمانوں کو جب تک جذباتیت اور اشتعال پذیری کے موجودہ گڑھے سے نہ نکالا جائے کسی بھی قسم کی کوئی ترقی ہرگز ممکن نہیں۔
جذباتیت کا یا جذباتی طریقہ کا مہلک ہونا ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے کامن سنس ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام قومیں ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مسلمان دنیا کی واحد قوم ہیں جو موجودہ زمانہ میں استثنائی طور پر جذباتیت کے مسئلہ سے دوچار ہیں۔ اس کی وجہ تمام تر وہ نااہل مسلم رہنما اور بے دانش مسلم دانشور ہیں جنھوں نے ناقابل فہم نادانی کے ساتھ اس قسم کی کارروائیوں کو جہاد بتایا۔ اور اس میں پیش آنے والی تباہی کو شہادت بتا کر اسے آخری حد تک گلوریفائی کیا۔
اس قسم کی باتیں کرنا رہ نمائی نہیں ہے بلکہ رہزنی ہے۔ وہ دانش وری نہیں ہے بلکہ سراسر بے دانشی ہے۔ اس غلط ذہنی قیادت نے مسلمانوں کے ذہن کو اتنا زیادہ بگاڑ دیا ہے کہ اب اس کا کوئی فوری حل ممکن نہیں۔ ضرورت ہے کہ خاموشی کے ساتھ لمبی مدت تک مسلمانوں کی ذہنی تعمیر اور فکری اصلاح کی جائے۔ اس کے بعد ہی ان کے لیے کسی حقیقی مستقبل کی امید کی جاسکتی ہے۔