ھریانہ کا سفر
Al-Risala, November 1997, pp. 28–40
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر دیبی سنگھ تیوتیا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ انھوں نے کچھ اصولی اختلاف کی بنیاد پر اس عہدہ سے استعفاء دے دیا۔ جسٹس تیوتیا نے اس کے بعد ایک پولٹیکل پارٹی بنائی ہے جس کا نام جن ستا پارٹی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کرپشن سے پاک ہندوستان کی تعمیر کرنا ہے۔ ان کی پارٹی کے چھ ایجنڈے میں سے ایک صد فی صد تعلیم کا حصول ہے :
جن ستاپارٹی کی دعوت پر ہریانہ کا سفر ہوا۔
19 مئی 1995ء کی صبح کو دہلی سے گورگاؤں کے لیے بذریعہ کار روانگی ہوئی۔ سپریم کورٹ کے سنیئر ایڈووکیٹ مسٹر بلونت سنگھ ملک (8955901 .Tel) تھے۔ راستہ میں ان سے معلوماتی گفتگو ہوتی رہی۔
انھوں نے بتایا کہ وہ جاٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہریانہ کے میو پہلے جاٹ تھے۔ پھر وہ مسلمان ہو گئے۔ مگر ان کا رہن سہن بڑی حد تک پہلے ہی کی طرح رہا۔ میں کہا جاتا ہے کہ : جاٹن کا کہا ہندو، میون کا کہا مسلمان۔ یعنی ایک ہی قوم ہے، وہ ہندو ہو تو جاٹ کہی جاتی ہے، اور مسلمان ہو تو اس کو میو کہتے ہیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ، 1947ء سے پہلے مسٹر محمد علی جناح کو چھوڑ کر، تمام بڑے بڑے مسلمان لیڈر متحدہ ہندوستان چاہتے تھے۔ مثلاً حکیم اجمل خان، سر خضر حیات، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی پھر ملک تقسیم کیسے ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے آپ سر چھوٹو رام کو پڑھیے۔ ان کے بارہ میں حسب ذیل کتاب بہت جامع اور مستند ہے :
Chhotu Ram—a political biography by Madan Gopal اس کتاب میں سرچھوٹورام کابیس صفحہ کا وہ خط بھی شامل ہے جو انھوں نے مہاتما گاندھی کو لکھا تھا اور جس میں مشورہ دیا گیا تھا کہ آپ کسی حال میں بھی بٹوارہ کو مت مانئے ۔
سرچھوٹو رام ایک جاٹ لیڈر تھے۔ وہ اسلام اور مسلمانوں سے اتنا زیادہ قریب تھے کہ عام ہندوان کو "چھوٹو خان" کہتے تھے۔ رہتک میں جاٹ کالج کے سامنے ان کی سمادھی ہے۔ اردو رسم الخط میں اقبال کا یہ شعر لکھا ہوا ہے :
خدا کے بندے تو لاکھوں دیکھے پھر ے بنوں میں ہیں مارے مارے میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا پنڈت لوگ سنسکرت کے سوا کوئی اور زبان سمادھی پر لکھنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ مسٹر ملک نے بتایا کہ جاٹ لوگ بہت کم برہمن کے اثر میں ہیں۔ وہ درمیانی واسطہ کے بغیر براہ راست خدا سے تعلق پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں جاٹ لوگ بہت آسانی سے اسلام میں داخل ہوگئے ۔
آگے بڑھے تو جگہ جگہ دہلی کی تاریخی عمارتیں نظر آئیں ۔ انھیں میں سے ایک انڈیا گیٹ تھا۔ اب یہ ہے کہ وہ ایک بار پھر اسی طرح کے کسی موقع پر ایک چھوٹی سی جھلک یا ایک خوبصورت نظر آسکتا ہے،
کے آغاز میں برٹش حکمرانوں نے اس علاقہ کی تعمیر کی اور ۱۹۱۲ء میں ملک کی راجدھانی کو کلکتہ سے نئی دہلی اس وقت انڈیا گیٹ انگریزوں کے داخلہ ہند کی علامت تھا، آج وہ ایک گزری ہوئی تاریخ کی یادگار ہے۔
دہلی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے مجھے یاد آیا کہ یہ شہر کسی وقت عظیم سلطنت دہلی کا مرکز تھا جو تیرھویں صدی سے سولھویں صدی تک قائم رہی۔ سلطنت دہلی کو سلطان محمد غوری نے قائم بابر نے ۱۵۲۶ء میں سلطان ابراہیم کو شکست دے کر دہلی کی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ یہ سلطنت مزید وسعت کے ساتھ مغل خاندان میں ۱۸۵۷ء تک باقی رہی۔
جس زمانہ میں سلطنت دہلی عروج پر تھی، اسی زمانہ میں اسپین میں مسلم سلطنت کا خاتمہ ہوا۔ ۱۴۹۲ء میں جب کہ اسپین کا آخری مسلم بادشاہ ابو عبداللہ قلعہ الحمراء کی کنجیاں مسیحی حکراں فرنینڈ بنز کے حوالے کر رہا تھا، عین اسی سال سکندر لودی اپنی سلطنت کی تو سیع کے لیے جونپور کے علاقہ پر لشکر کشی کرنے میں مشغول تھا۔
علمی ترقی کا کام ہمیشہ حکومتوں کی سر پرستی اور تعاون سے ہوتا ہے۔ اسپین کی مسلم سلطنت کی سرپرستی میں علمی ترقی کا کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا تھا۔ جب یہ سلطنت کمزور ہوئی تو وہاں کے علماءء اسپین کو چھوڑ کر یورپ کے دوسرے ملکوں (اٹلی، فرانس، وغیرہ) جانے لگے۔ تھے جنھوں نے یورپ کو تاریک دور سے نکال کر جدید ترقی کے دور میں پہنچانے کا ابتدائی کام اگر دہلی کی مسلم سلطنت یا اس زمانہ کی دوسری مسلم سلطنتیں اسپین کے علما کی سر پرستی کرتیں تو یقیناً یہ لوگ مسلم اسپین سے نکل کر دوبارہ کسی مسلم خطہ میں آجاتے اور یہاں اپنے ترقیاتی کام کی تکمیل مگر اس زمانہ کی مسلم سلطنتوں کی واحد دل چسپی سیاسی تو سیع سے تھی، اس لیے علمی تو سیع کے لیے موافق زمین فراہم کرنے میں بھی وہ ناکام رہے۔
دہلی ہندوستان کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کا رقبہ ۱۴۸۵ مربع کلومیٹر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی صدی قبل مسیح میں مور یہ راجہ ڈھلو کے نام پر اس کا نام دہلی رکھا گیا۔ عام خیال ہے کہ دہلی سات بار اجڑی اور سات بار آباد ہوئی۔ مگر کچھ محققین کہتے ہیں کہ پندرہ بار ایسا ہوا۔ دہلی کا قدیم ترین حوالہ مہا بھارت میں پایا جاتا ہے۔ اس وقت اس کا نام اندر پرستھ تھا۔ یہ ۴۰۰ قبل مسیح کی بات ہے ۔
مختلف بادشاہوں نے بار بار دہلی کو تاراج کیا ہے۔ تیمور ۱۳۹۸ء میں اپنی وحشی فوجوں کو لے کر دہلی میں داخل ہوا۔ اور تقریباً پورے شہر کو تباہ کر ڈالا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ہی دن میں اس نے پچاس ہزار آدمی قتل کروا دیے ۔
تیمور ( ۱۳۳۶ - ۱۴۰۵ء ) ابتداً ایک معمولی سردار تھا۔ اس کے بعد اس نے دنیا کی ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ اس نے منگولیا سے لے کر میڈیٹرینین تک کا وسیع علاقہ فتح کر ڈالا۔ مگر ۷۰ سال سے بھی کم عمر میں جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹوں اور پوتوں میں جانشینی کا جھگڑا کھڑا ہو گیا جس کے نتیجہ میں اس کی وسیع سلطنت دوبارہ سکڑ کر سمر قند کے علاقہ تک محدود ہو گئی۔ تیمور اپنے کو مسلمان کہتا تھا۔ وہ بے حد بہادر مگر مکمل طور پر جاہل تھا۔ اس نے محض فوجی طاقت کے بل پر ایک ایسا ایمپائر قائم کرنے کی کوشش کی جو اس کے مرتے ہی ختم ہو گیا۔ مزید یہ کہ اس فرضی ایمپائر کو قائم کرنے کے جنون میں اس نے ۱۴۰۲ء میں سلطان بایزید کی یورپ کی جانب پیش قدمی کو روک دیا۔ ایک تاریخ بنتے بنتے رہ گئی (تفصیل کے لیے: عظمتِ اسلام ، صفحہ ۲۷۶ - ۲۷۷) ہم لوگ دہلی سے ہریانہ جانے والی سڑک پر چل رہے تھے۔ راستہ میں ایک جگہ سڑک کے کنارے ٹرک الٹا ہوا نظر آیا۔ وہ وسیع شاہراہ پر تیزی سے دوڑ رہا تھا کہ ایک مقام پر ڈرائیور کی غلطی سے اس کا پہیہ سڑک کے نیچے چلا گیا۔ اور پھر اچانک وہ الٹ گیا۔ اس کا سفر معطل ہو کر رہ گیا۔ میں نے سوچا کہ ایسا ہی کچھ معاملہ مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان زندگی کی شاہراہ پر تیزی سے رواں دواں تھے کہ ان کے نااہل لیڈروں کی غلطی سے ان کی گاڑی الٹ گئی۔ ٹرک کے لیے جو حیثیت ڈرائیور کی ہے، ٹھیک وہی حیثیت کسی انسانی قافلہ کے لیے لیڈر کی ہوتی ہے۔ لیڈر اگر اہل ہے تو وہ گاڑی کو آگے لے جائے گا۔ اور لیڈر اگر نااہل ہے تو وہ پوری گاڑی کو خندق میں گرا دے گا۔ دہلی کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے ہم اس علاقہ میں داخل ہوئے جس کو مہرولی کہا اسی علاقہ میں قطب مینار واقع ہے جو اپنی نمایاں بلندی کی وجہ سے بہت دور تک مسافر کا تعاقب کرتا ہے۔ ایک طرف وہ ماضی کی عظمت کا نشان ہے اور دوسری طرف دنیا کی بے ثباتی کا نشان بھی۔
قطب مینار کو تیرھویں صدی کے آغاز میں قطب الدین ایبک نے بنوایا تھا۔ اس کی بابت
تاریخ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ ــــــــ دہلی کا قطب مینار ابھی تک قطب الدین ایبک کی فتوحات کی یاد دلاتا ہے :
The Qutub Minar in Delhi still stands to commemorate his معز الدین محمد (غور) کو ہندوستان میں مسلم سلطنت کے بانیوں میں سمجھا جاتا ہے۔ میں اس کو اس کے حریفوں نے قتل کر دیا۔ اگر چہ یہ واضح نہیں کہ اس کو قتل کرنے والے ہندو تھے یا قطب الدین ایک غلام تھا جو محمد غوری کے یہاں ملازمت میں آیا۔ ابتداء وہ اصطبل کے کام پھر ترقی کر کے فوجی افسر بنا اور بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ۔ ۱۱۹۳ء میں پرتھوی راج کو شکست دے کر اس نے دہلی پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد اس نے فتح کے نشان کے طور پر یہاں ایک اونچا مینار بنایا جو اس کے نام پر قطب مینار کہا جانے لگا۔
سلطان معزالدین محمد غور کے قتل (۱۲۰۶ء) کے بعد قطب الدین کو سلطان کا درجہ حاصل ہو گیا۔ تا ہم وہ زیادہ دنوں تک حکومت نہ کر سکا۔ گھوڑوں کے ایک کھیل میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا۔ اسی میں ۱۲۱۰ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔
آٹھ سو سال پہلے جب عظیم قطب مینار بنایا گیا، اس وقت وہ فتح کا نشان تھا۔ مگر آج وہ صرف عبرت کا نشان ہے۔ اب اس کی حیثیت صرف تاریخی علامت کی ہے نہ کہ زندہ حقیقت کی۔ ترقی یافتہ ملکوں میں تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کا نہایت خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔ میں اکثر تاریخی عمارتیں غفلت کا شکار ہو رہی ہیں۔ انھیں میں سے ایک قطب مینار بھی ہے۔ آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا نے باقاعدہ پریس میں اپنی یہ شکایت دی ہے کہ قطب مینار کے باہر لال کوٹھی باؤنڈری کے پاس بہت سے مکانات ناجائز طور پر بنا لیے گئے ہیں۔ کی شکایت کے باوجود پولیس اس معاملہ میں کچھ نہیں کر رہی ہے۔ آرکیا لوجی کے کارکن جب جب ان تعمیرات کو ہٹانا چاہتے ہیں تو اس کے مالکان فوراً عدالت میں جا کر وہاں سے اس کے خلاف امتناعی حکم استے حاصل کر لیتے ہیں۔ جبکہ قانون کے مطابق ، باؤنڈری وال کے بعد ۲۳۰ میٹر تک کا علاقہ ممنوعہ علاقہ ہے۔ اور اس کے اندر اس قسم کی کوئی تعمیر نہیں کی جا سکتی :
گاڑی جب دہلی کے شہری حدود سے باہر پہنچی تو سڑک کے دونوں طرف بڑے بڑے فارم ہاؤس دکھائی دینے لگے۔ یہ علاقہ دہلی اور گوڑ گاؤں کے درمیان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہندوستان کا سب سے زیادہ مہنگا علاقہ ہے۔ یہاں صرف وہی خوش قسمت لوگ رہ سکتے ہیں جو کم از کم کروڑ پتی ہوں۔ اس سے پہلے میں اس علاقہ میں چند بار آیا ہوں۔ یہ فارم ہاؤس دہلی کے کثافتی صحرامیں نخلستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر آدمی بیک وقت فطرت کے ماحول میں بھی آ جاتا ہے اور سکون کے ماحول میں بھی۔ مگر اس قسم کی پر سکون زندگی صرف وہی لوگ پسند کرتے ہیں جو یا تو ریٹائرڈ
یا جن کے پاس کرنے کا کوئی کام نہ ہو۔ جو کام والے لوگ ہیں وہ کبھی اس پر عیش تنہائی میں رہنا پسند نہیں کر سکتے۔
اس علاقہ کے کئی فارم ہاؤسوں میں کسی میٹنگ یا فنکشن کے تحت مجھے بلایا گیا ہے۔ مگر ہر بار مجھے یہ تجربہ ہوا کہ داخل ہونے کے بعد کچھ لمحہ تک تو یہاں بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر کچھ دیر کے بعد ہی حبس کی سی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ یہاں میرے لیے آرام تھا مگر یہاں میرے لیے کام نہیں تھا۔ اور انسان صرف آرام میں دیر تک مطمئن نہیں رہ سکتا۔ انسان کے مستقل سکون کے لیے اس کی پسند کا کام ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔
پون گھنٹہ بذریعہ روڈ سفر کرنے کے بعد ہم لوگ نور گاؤں کے مضافاتی علاقہ (قطب انکلیو) میں داخل ہوئے۔ یہاں جسٹس دیبی سنگھ تیوتیا کی وسیع رہائش گاہ (350797-8-0124 .Tel) پر میٹنگ کا انتظام کیا گیا تھا۔
جسٹس تیوتیا ایک جاٹ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جاٹ اور میو (مسلمان) ہریانہ کے علاقہ میں صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ مگر دونوں کے مزاج میں حیرت انگیز طور پر نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ جاٹ برادری کا مزاج کیا ہے، اس کو ایک میو کہاوت میں غالباً طنزیہ طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے :
جاٹ کہے سن جاٹنی یائی گاؤں میں رہنا اونٹ بلیا لے گئی ہاں جی ہاں جی کہنا میو لوگ اس کو فخر سمجھتے تھے کہ وہ کسی حکمراں کی اطاعت قبول نہ کریں۔ چنانچہ وہ دہلی کی ہر سلطنت سے لڑتے رہے، مسلم عہد میں بھی اور انگریزی عہد میں بھی۔ اپنی اس روش کی انھیں نہایت سخت سزا بھگتنی پڑی۔
مثلاً ۱۲۶۰ء میں انھوں نے بلبن کی شاہی فوج کے اونٹ لوٹ لیے۔ بلبن اس خبر کو سن کر نہایت غصہ ہوا۔ وہ دہلی سے روانہ ہو کر میوات کے علاقہ میں پہنچا۔ جہاں اس نے ۲۰ دن تک قتل و غارت گری جاری رکھی۔ بہت سے میو شارع عام پر بری طرح قتل کر دیے گئے۔ سے کچھ کو ہاتھیوں سے کچلوایا گیا۔ کچھ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے۔ تقریباً سو میوؤں کی زندہ کھال کھنچوائی گئی۔ مگر میوؤں کی باغیانہ روش ختم نہ ہو سکی۔ انھوں نے دوبارہ بدامنی شروع کر دی۔
بلبن دوبارہ اپنی فوج کے ساتھ اس علاقہ میں آیا اور میوؤں کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔ اور تقریباً بارہ ہزار مردوں اور عورتوں کو تہہ تیغ کر ڈالا۔ (تاریخ میو چھتری، از مولانا حکیم عبدالشکور صاحب، صفحہ ۳۳۲-۳۳۳)
میوؤں کے اس مزاج کا انھیں یہ نقصان اٹھانا پڑا کہ ان کی ترقی رک گئی۔ جب کہ اسی علاقہ میں دوسرے لوگ ترقی کرتے رہے۔ یہ صرف پچھلے ۲۰ برسوں کی بات ہے کہ میوؤں نے بھی کچھ ترقی شروع کی ہے اور یہ اس وقت ہوا جب کہ انھوں نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر موافقت کا طریقہ اختیار تاہم یہ تبدیلی ابھی تک کچھ افراد کی سطح پر ہے نہ کہ پوری میو قوم کی سطح پر۔ اس سے پہلے ۲۲ فروری ۱۹۹۳ء کو میں اس علاقہ میں آیا تھا۔ مسٹر احمد رشید شروانی نے یہاں ڈی ایل ایف کالونی میں اپنا ایک گھر بنایا ہے۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک کلب ہے۔ میں دو بڑے بڑے لان ہیں۔ اس لان کے درمیان کلب کی کھلی ہوئی عمارت اس طرح واقع ہے جیسے ایک وسیع ہرے بھرے باغ میں خوب صورت فارم ہاؤس بنا ہوا ہو۔
شروانی صاحب کی دعوت پر میں اور نانا صاحب دیش مکھ اور ڈاکٹر ہیمیش شرما چند گھنٹے کے لیے یہاں آئے تھے۔ یہاں کے پرسکون ماحول میں شروانی صاحب کے ساتھ دن کا کھانا کھایا گیا۔ پھر ملک کے موجودہ حالات پر باتیں ہوئیں ، اس کے بعد ہم لوگ دہلی واپس چلے گئے۔ اس طرح کے کلب اور فارم ہاؤس ہندوستان کے وسیع صحرا میں نخلستان کی طرح معلوم پروفیسر ہیرن مکرجی آزادی کے بعد بننے والی پہلی لوک سبھا کے ممبر تھے۔ نئی دہلی میں لوک سبھا کے اجلاس میں شرکت کے بعد جب وہ بذریعہ ٹرین کلکتہ کے لیے روانہ ہوئے تو سڑک کے کنارے جھگی جھونپڑی کے مناظر نے انھیں متاثر کیا۔ واپس پہنچ کر انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کو خط لکھا کہ جھگیوں میں رہنے والے یہ غریب لوگ اگر ہم سے پوچھیں کہ ہندوستان کی آزادی سے ہم کو کیا ملا تو مجھ کو نہیں معلوم کہ ہمارا کیا جواب ہوگا۔
پنڈت جواہر لال نہرو (اس وقت کے وزیر اعظم ہند) نے براہ راست اس کا جواب نہ دیتے ہوئے پروفیسر ہیرن مکرجی کو لکھا کہ تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو : You are paying the price of being sensitive.
گونگاؤں ریاست ہریانہ کا ایڈمنسٹریٹو ہیڈ کوارٹر ہے۔ وہ دہلی اور ریواڑی کے درمیان کسی زمانے میں وہ ہدایت پور کہا جاتا تھا۔ اب اس کا نام گونگاؤں ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو علامتی طور پر بتاتی ہے کہ ہمارا ملک کہاں سے کہاں چلا جا رہا ہے۔ آزادی (۱۹۴۷) کے وقت ہریانہ نام کی کوئی ریاست انڈیا میں موجود نہ تھی۔ وہ یکم نومبر ۱۹۶۶ کو ہندوستان کے نقشہ پر ظہور میں آئی۔ اس سے پہلے یہ علاقہ قدیم پنجاب میں شامل تھا۔ اس کے بعد لسانی ریاستوں کے مطالبات شروع ہوئے ۔ وہ اتنی شدت پکڑ گئے کہ حکومت کو اس کے آگے جھکنا پڑا۔ چنانچہ ایک ایکٹ کے مطابق، پنجابی بولنے والا علاقہ پنجاب بن گیا اور ہندی بولنے والا علاقہ ہریانہ پنجاب کے علاقہ میں زیادہ تر سکھ آباد تھے، اور ہریانہ کے علاقہ میں زیادہ تر ہندو۔ ہریانہ کے علاقہ کو ہندو مذہب کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے۔ کرو کشیترا اسی ریاست میں واقع ہے ۔ جہاں ہندو روایات کے مطابق، ارجن نے اپنی لڑائی لڑی تھی اور کرشن نے وہ اپدیش دیا جو بھگوت گیتا کے نام سے مشہور ہے۔ ۱۵۲۶ء میں پانی پت کی تاریخی لڑائی بھی اسی علاقہ میں ہوئی جس میں بابر نے ابراہیم لودی کو شکست دی تھی۔ پی ایک، اس کے بعد ۲۸ مارچ سے ۳۱ مئی ۱۹۷۱ء ہریانہ ایک ہندی اسپیکنگ ریاست ہے۔ اس کی پچھمی سرحد دہلی سے ملی ہوئی ہے۔ کی مردم شماری کے مطابق، ریاست کی آبادی تقریباً ایک کروڑ (10,000,000) ہے۔ ۸۹ فی صد ہندو، چار فی صد مسلمان اور چھ فی صد سکھ ہیں۔ جین تقریباً ایک فی صد بتائے جاتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا خیال ہے کہ ان کی موجودہ تعداد اس سے کافی زیادہ ہے جتنا ۱۹۶۱ کی مردم شماری میں بتایا گیا تھا۔
ہریانہ کے وزیر آبپاشی و پارلیمانی امور مسٹر جگدیش نہرہ نے کناڈا وغیرہ کا سفر کیا تھا۔ میں انھوں نے اپنا طویل سفرنامہ ”میری بدیش یاترا“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ مجھے اس کی پانچویں قسط پڑھنے کا موقع ملا۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا :
”شام کے وقت میں اپنے ایک دوست شری کرم ویر راٹھی کے گھر ڈنر پر مدعو تھا شری راٹھی تھے جو کہ مختلف صنعتوں سے وابستہ تھے ۔ مجھے وہاں ان سے مفصل بات چیت کرنے کا موقع ملا۔
اور میں نے ان کو کہا کہ آپ بھارت کے ساتھ بیوپار بڑھائیں۔ اور بھارت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ تاکہ آپ کے فائدہ کے ساتھ ساتھ بھارت کا بھی زیادہ وکاس ہو۔ لگ بھگ وہ سبھی بھارت میں سرمایہ کاری کرنے اور اپنا بیوپار بڑھانے کے لیے متفق تھے۔ لیکن انھوں نے مجھے بتایا کہ بھارت کی افسر شاہی اور انتظامیہ ویوستھا کے کارن ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ واضح کیا کہ ایڈمنسٹریٹو سطح پر بھارت میں بھرشٹا چار پھیلا ہوا ہے۔ امپورٹ، ایکسپورٹ کے لیے غیر ضروری کارروائیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور بلا وجہ تاخیر ہونے کے کارن ان کے بیوپار پر برا اثر پڑتا ہے۔ انھوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر ویوستھا میں سدھار لایا جائے تو وہ بخوشی بھارت سے اپنے تجارتی تعلقات بڑھائیں گے میں نے بھی محسوس کیا کہ ان کی یہ بات ٹھیک ہے کاروبار شروع کرانے کا عمل آسان ہونا چاہیے ۔ بدیشی خود بھارت میں پیسہ لگانے میں نہ ہچکچائیں ۔ (ہند سماچار ، ۱۳ جون ۱۹۹۵) ہریانہ کی ریاستی راجدھانی چنڈی گڑھ میں ہے ۔ چنڈی گڑھ کو ہریانہ اور پنجاب کی مشترک راجدھانی کہا جاتا ہے ۔
چنڈی گڑھ ہندوستان کا واحد شہر ہے جو مکمل طور پر منصوبہ بند انداز میں بنایا گیا ہے ۔ نقشہ سوئٹزر لینڈ کے سٹی پلاننگ کے مشہور ماہر لی کار بوزر (Le Corbusier) نے بنایا تھا ۔ کی تعمیر انگریزی دور میں پنجاب کی راجدھانی کے طور پر ہوئی ۔ بعد کو ۱۹۶۶ میں جب زبان کی بنیاد پر پنجاب اور ہریانہ کی تقسیم ہوئی تو نزاع پیدا ہوئی کہ چنڈی گڑھ کو دونوں میں سے کس کے حصہ میں دیا آخر کار اس نزاع کو اس طرح ختم کیا گیا کہ اس کو دونوں ریاستوں کی مشترک راجدھانی بنا دیا گیا ۔ گویا یہاں بھی تقسیم کا فارمولا اپنا کر مسئلہ کو حل کیا گیا ۔
انیسویں صدی کے وسط میں جب انگریزوں نے دہلی کی سلطنت پر قبضہ کرنا چاہا تو سکھوں نے اس مہم میں انگریزوں کی کافی مدد کی تھی ۔ اس کی وجہ سکھوں کی وہ ناراضگی تھی جو ان کو مغل حکمرانوں کے بعض سلوک کی وجہ سے پیدا ہو گئی ۔ چنانچہ جب ہندوستان پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہو گیا تو انھوں نے سکھوں کو بہت زیادہ نوازا ۔ پنجاب میں کثرت سے سڑکیں اور نہریں بنائی گئیں ۔ پہنچائی گئی ۔ ان کے لیے چنڈی گڑھ کی صورت میں شاندار راجدھانی کی تعمیر کی گئی ۔ بعد بھی یہ نوازش جاری رہی ۔ چنانچہ سکھوں کو نہایت فیاضی کے ساتھ برطانیہ کا ویزا دیا گیا ۔ یہی وجہ ہے
کہ آج سردار لوگ بڑی تعداد میں برطانیہ کے شہروں میں موجود ہیں۔ اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پہلی بار۱۹۶۰ میں میں نے چندی گڑھ کاسفر کیا تھا اس وقت ڈاکٹر احسان اللہ خاں صاحب چندی گڑھ میں رہتے تھے۔ میرا چند روزہ قیام انھیں کے مکان پر تھا۔ یہ ایک علمی سفر تھا۔ مقصد نظریہ ارتقاء کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا تھا۔
ہندوستان میں سوالک پہاڑیوں میں قدیم جانوروں کے متحجرات فانس برآمد ہوتے ڈاکٹر احسان اللہ اس کی کھدائی کے انچارج تھے۔ سوالک پہاڑیاں چندی گڑھ سے بالکل قریب یہاں پہنچ کر میں ان کے ساتھ سوالک پہاڑیوں میں گیا۔ وہاں متجرات کا مشاہدہ کیا۔ علاوہ چندی گڑھ میں واقع نیچرل ہسٹری میوزیم کو تفصیل کے ساتھ دیکھا۔ نیز یہاں کی لائبریری میں ارتقاء سے متعلق لٹریچر کا مطالعہ کیا ۔ اس مشاہدہ اور مطالعہ کے بعد میں وہ مضمون لکھا جو نظریہ ارتقاء کے نام سے ماہنامہ زندگی (رامپور) کے شمارہ ذوقعدہ ۱۳۸۰ ھ میں شائع کیا گیا۔ الجمعیة ویکلی کی ادارت (۱۹۷۱ - ۱۹۷۲) کے زمانہ میں میں نے میوات (ہریانہ ، راجستھان) کے تقریباً ۲۰ سفر کیے تھے۔ ان اسفار میں اس علاقے کے گاؤں میں گیا تھا۔ ان سفروں کی روداد اولاً لمحہ بہ لمحہ نکال کر، میں رکھ رہا تھا اس کے بعد ۱۹۵۵ میں "معارف" کا سفینہ" شائع کر کے نام سے شائع ہونے لگا۔ الجمعیۃ وی کلی میں چھپی تھی۔ اس کے بعد ۱۹۸۸ میں ان کا مجموعہ "میوات کا سفر" کے نام سے شائع کیا گیا۔ اس دوران پہلی بار میں ۱۹۶۹ میں گڑگاؤں آیا تھا۔ اس وقت میوات کے مشہور لیڈر چودھری یٰسین خان زندہ تھے۔ اگر چہ اب وہ بہت کمزور ہو چکے تھے۔ میوات کا سفر نامی کتاب میں ان سے پہلی ملاقات کی رو داد اس طرح درج ہے :
" ہمارے سفر کی پہلی منزل گڑگاؤں تھی۔ یکم اگست ۱۹۶۹ کی صبح کو جب کہ رکشا مجھ کو اور مولانا عبدالرحیم بڑیڈوی کو چودھری محمد یسین صاحب کی قیام گاہ کی طرف لے جا رہا تھا۔ کو سن کر رکشے والا اچانک بولا — " چودھری یٰسین ۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ رات کو اٹھ کر تنہا جنگل چلے جاتے ہیں اور بھگوان کی دُیا ان پر ایسی ہے کہ شیر ان کے تلوے چاٹتا ہے " ہم لوگ چودھری ٹیسین کے کمرہ میں پہنچے تو وہ بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے صاحب فراش ہو چکے میں نے سوچا کہ وہ شخص جو کبھی میوات کا شیر کہا جاتا تھا، وہ اب نڈھال ہو کر بستر پر پڑ گیا ہے۔ ان کی نقاہت کو دیکھ کر میں نے پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہوگی۔ انھوں نے جواب دیا : صورت یہی ہے عالم پر پرس ۔
میں نے تکرار کہا کہ کچھ اپنے تجربات بتائیے ۔ مگر وہ کچھ بول نہ سکے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں انھوں نے سخت مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کے نزدیک ان مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کرنا گویا مردہ شخص کو طاقت کا انجکشن لگانا ہے۔
گوڑگاؤں کی اس میٹنگ کا موضوع یہ تھا کہ کیا ملک کو سیاسی متبادل (Political alternative) مہیا کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں نے اپنے اپنے خیالات پیش کیے۔
میں نے کہا کہ یہی بھارتیہ جنتا پارٹی کا نعرہ بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کانگریس کاسیکولرزم سوڈو سیکولرزم ہے۔ اور وہ خود ہندوتو کی شکل میں اس کا متبادل پیش کرنا چاہتی ہے۔ کے ساتھ دیکھیے تو سوڈو سیکولرزم کا متبادل ہندو تو نہیں ہے۔ سوڈو سیکولرزم کا متبادل سچا سیکولرزم اس معاملہ کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ فی الواقع اس معاملہ میں سنجیدہ ہیں تو فی الحال اپنی ساری طاقت ہر یانہ اسٹیٹ پر خرچ کیجیے۔ یہاں آپ ایک ایسا سسٹم بنائیے جہاں کسی درجہ میں ایسا ہو کہ دفتروں میں رشوت کے بغیر کام ہو۔ انصاف خریدے بغیر انصاف مل جائے ۔ ہر نوجوان کو تعلیم کی سہولت حاصل ہو جائے۔ میں امن وامان کی حالت قائم ہو جائے ۔ اگر ایک ریاست میں یہ باتیں قابل ذکر درجہ میں وجود میں آجائیں تو سارے دیش پر اس کا اثر پڑے گا اور پھر وہ وقت آئے گا جب کہ ہم ایک نئے ہندوستان کی تعمیر میں کامیاب ہو جائیں۔
یہ میٹنگ اصلاً سیاسی موضوع پر بات چیت کے لیے بلائی گئی تھی۔ تاہم دوران گفتگو بہت سی دوسری باتیں بھی سامنے آئیں۔ جسٹس دیبی سنگھ تیوتیا نے کہا کہ ہر آدمی کو سچائی کا پتہ ہے، مگر کوئی ترغیب (temptation) آدمی کو پاگل کر دیتی ہے۔ میں نے کہا کہ اس بات کو ایک عربی مقولہ میں اس طرح کہا گیا ہے کہ کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے (حبُّک الشیئ یعمٰی و یصم) جن ستہ پارٹی کے سکریٹری اپنی ایک بات کہتے ہوئے بار بار "حضرت صاحب" کا لفظ بولتے تھے ۔ پہلے میری سمجھ میں نہیں آیا کہ حضرت صاحب سے کیا مراد ہے۔ مگر جب انھوں نے مکہ، مدینہ کا نام لیا اور کچھ واقعات کے حوالے دیے تو معلوم ہوا کہ اس سے ان کی مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔
نہ تو اکہ شابانِ مکہ کے بڑے کھو میں 1004 مہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر تراج موم میں نے اکثر پایا ہے کہ پڑھے لکھے ہندوؤں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت احترام پایا جاتا ہے۔ ایک مجلس میں ایک بار ایک صاحب نے کہہ دیا کہ اسلام علم سے روکتا ہے۔ ہے کہ مسلمان تعلیم میں پیچھے ہو گئے ہیں۔ اس مجلس میں مشہور قانون داں مسٹر رام جیٹھ ملانی بھی موجود انھوں نے فوراً تردید کی۔ اور کہا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ علم کی اہمیت پر تو پیغمبر اسلام کا ایک ایسا قول ہے جو آپ کو کسی کے یہاں بھی نہیں ملے گا۔ آپ نے فرمایا کہ عالم کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے زیادہ قیمتی ہے۔
آج (۱۹ مئی) کے انگریزی روز نامہ ہندوستان ٹائمّس میں میرا ایک مضمون چھپا تھا۔ عنوان تھا ---- ہندوستان کی تعمیر نو :