Al-Risala · November 1997

Towards a new India

Al-Risala, November 1997, pp. 40–46

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر لوگ اس مضمون کو آج صبح پڑھ چکے تھے۔ چنانچہ اپنے آپ وہ گفتگو کا موضوع بن گیا۔ لوگوں نے اس کو پسند کیا اور اس کے نکات سے اتفاق کیا۔

فوجوں کے لے اس کو پسند کیا اور اسے الھاس کر لیا ۔

ایک صاحب نے الیکشن کے ذریعہ پولیٹیکل چینج کی حمایت میں تقریر کی ۔ میں نے ان کے جواب میں جیمز فری مین کلارک (James Freeman Clarke) کا یہ قول دہرایا کہ سیاست داں اور مدبر میں یہ فرق ہے کہ سیاست دان اگلے الیکشن کے لیے سوچتا ہے۔ اور مدبر اگلی نسل کے لیے سوچتا ہے : میں نے کہا کہ جو لوگ محض الیکشن جیتنے کے مقصد سے سیاست کے میدان میں آتے ہیں وہ قوم کو زبردست نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے سامنے صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ الیکشن میں لوگوں کا ووٹ حاصل کر لیں۔ اس لیے وہ عوام کو بھڑکاتے ہیں۔ وہ عوام کے جذبات کا میں ووٹوں کا ووٹ حاصل کریں۔ اس لیے وہ عوام کو بھرکاے ہیں۔ وہ عوام کے جذبات کو استحصال کرتے ہیں۔ وہ الیکشن کے مفاد کے لیے قومی مفاد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ الیکشن یا وقتی سیاسی مفاد کے لیے ہر پارٹی نے یہ کیا کہ اسکول اور کالج کے لڑکوں کو کلاس سے باہر لے آئی ۔ اس طرح اسکولوں اور کالجوں میں تعلیمی روایات ٹوٹ طلبہ تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے وقتی سیاست کے ہنگاموں میں شریک ہونے لگے ۔

میں محنت کرنے کے بجائے وہ سیاسی نوعیت کے کےموں میں دل چسپی لینے لگے۔ یہی خاص وجہ ہے جس نے موجودہ زمانہ میں تعلیمی معیار کو پست کر دیا ہے۔ حالاں کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ گورگاؤں کی اس میٹنگ میں ایک عجیب بات میں نے دیکھی کہ اکثر ہندو اپنی گفتگو کے دوران اقبال کا کوئی شعر پڑھتے تھے۔ ہر ایک کے اندر میں نے اقبال کے لیے خاص احترام پایا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ خود پنڈت جواہر لال نہرو اپنی تقریروں میں اقبال کا یہ شعر بڑے ذوق وشوق سے پڑھا کرتے تھے :

یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے باقی مگر ہے اب تک نام و نشاں ہمارا میں نے سوچا کہ جب ہندوؤں کے دل میں اقبال کے لیے اتنا عزت و احترام تھا تو انھوں نے ہندوؤں سے کٹ کر علاحدہ مسلم اسٹیٹ بنانے کی تجویز کیوں پیش کی جس نے بالآخر پاکستان کی صورت اختیار ایسی حالت میں تو چاہیے تھا کہ اقبال ہندوؤں کے ساتھ میل جول پر زور دیں اور ہندوؤں کے درمیان سفیر اسلام کا کردار ادا کریں۔

حال میں ایک جلسہ میں میری ملاقات ملکہ کے آرملکانی سے ہوئی جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے وائس پریسیڈنٹ ہیں۔ میں نے کہا کہ مسٹر جناح ملک کے بٹوارہ کے ذمہ دار تھے۔ مگر ہند وؤں سے بات چیت کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ہندوؤں کو مسٹر جناح سے کوئی نفرت نہیں۔ حتی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی والوں کو بھی نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ مسٹر ملکانی نے جواب دیا : جناح کے خیالات جو بھی ہوں ، مگر وہ ایک دم دار آدمی تو تھا۔

جن لوگوں کے درمیان اسلام اور مسلمانوں کے لیے اس طرح نرم گوشہ موجود ہو، ان سے کٹ کر الگ ملک بنانا سرا سر ایک غیر دانش مندانہ بات تھی۔ ایسے لوگوں کے درمیان کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ یہ کہ غیر ضروری طور پر ان سے قطع تعلق کر لیا جائے ۔

ایک صاحب نے کہا کہ آج کا مسئلہ اعتماد کا بحران (Crisis of credibility) کا مسئلہ اعتماد بالکل ختم ہو چکا ہے۔ اس لیے ایک آدمی اچھی بات کہتا ہے تو کوئی اس پر دھیان نہیں وہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف کہنے کے لیے ہے ، کرنے کے لیے نہیں ہے۔ ایک صاحب جن کا تعلق جاٹ برادری سے تھا، انھوں نے کہا کہ جاٹ عام طور پر سیدھے

ہے کہ جاتوں کی فطرت ابھی بگڑی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ایسے ہیں۔ ہرآدمی ابتداء فطرت ہی پر ہوتا اور فطرت ہمیشہ صحیح رہنمائی کرتی ہے۔ آدمی کو اگر اس کی پیدائشی فطرت پر رہنے دیا جائے تو وہ کبھی بگاڑ میں مبتلا نہیں ہوگا۔

ایک معمر ہندو نے کہا کہ لوگ خواہ مخواہ اور نگ زیب کو برا کہتے ہیں۔ اور نگ زیب سے اچھا تو کوئی رولر نہیں۔ وہ بے حد سادہ تھا اور اپنے ذاتی خرچ کے لیے وہ سرکاری خزانہ سے کچھ نہیں لیتا تھا، بلکہ خود پارسی کر اس کی سر اپکہ کام چلاتا تھا۔

ہمیں لیتا تھا۔ بدو پٹیاں نے اپنا کام چلایا تھا۔

ایک صاحب نے کہا کہ " میں محمدن کو ہندوؤں سے الگ تو مانتا ہی نہیں۔ آپ قرآن کو لیجئے اور اپنشد کو لیجئے ۔ دونوں کو پڑھتے جائیے ۔ کہیں کوئی فرق ملے گا ہی نہیں۔ ایک صاحب نے ٹی این سیشن کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ آج دیہات کا آدمی بھی صبح اٹھ کر پوچھتا ہے کہ سیشن نے آج کیا کہا۔ میں نے کہا کہ یہ ایک منفی مقبولیت ہے۔ سشن جوں کہ اٹھارٹی سر پوچھا ہے کہ حسن کے ان دیکھا ہے ۔ میں نے کہا یہ ایک سی نوعیت ہے۔ سن پچوں کہ اٹھاری کے خلاف بولتے ہیں اس لیے وہ ہیرو بنے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح ساری دنیا میں لوگ اٹھاریٹی کے نے خلاف تقریریں کرکے ہیروبن جاتے ہیں۔ مگر اس قسم کی مقبولیت کی کوئی مثبت افادیت نہیں۔ یہاں تقریباً سبھی لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی پر تنقید کر رہے تھے۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے بتایا کہ میری بات چیت ان کے ایک بڑے لیڈر سے ہوئی ۔ میں نے کہا نا آپ لوگ ہندودھرم کی سروس نہیں کر رہے ہیں ، بلکہ آپ لوگ اس کی ڈس سروس کر رہے ہیں ۔ میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ پورے ملک کی سطح پر دیکھا جائے تو ہندوؤں کی اکثریت بھارتیہ جنتا پارٹی کو پسند نہیں کرتی ۔ اس کا ایک عمومی مظاہرہ بعد کو ۴ مئی ۱۹۹۶ء کو ہوا۔ اس دن بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت پر پارلیمنٹ میں مباحثہ تھا۔ یہ پوری کارروائی عین اسی وقت ٹی وی پر آرہی تھی جس کو سارا ملک دیکھ رہا تھا۔ جن لوگوں نے پارلیمنٹ کے اس اجلاس کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ تقریبا تمام ممبران بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف بول رہے تھے۔ اور دو ہفتہ کے وزیر اعظم شری اٹل بہاری باجپئی جواب دینے سے عاجز ہو رہے تھے۔ پارلیمنٹ میں جب ان کو حمایت نہ مل سکی تو ایک خاتون ممبر نے اپنی تقریر میں کہا : بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

جسٹس دیبی سنگھ توتیا نے بتایا کہ لاہور کے لا کالج نے اپنی ایک تقریب میں مجھے اولڈبوائے کی حیثیت سے بلایا تھا۔ وہاں میں ہوٹل میں ٹھہرنے کے بجائے ایک پاکستانی وکیل کے یہاں ٹھہرا۔ مریل کے پورے خاندان نے میرے ساتھ جس طرح عزت اور محبت کا برتاؤ کیا وہ اتنا زیادہ تھا کہ اس سے زیادہ میں سوچ نہیں سکتا۔

میں نے کہا کہ اگر آپ پاکستان کے اخبارات پڑھیں، یا پاکستان کا ٹی وی دیکھیں اور وہاں کا ریڈیو سنیں تو آپ پائیں گے کہ وہاں کا پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا رات دن ہندوستان کے خلاف نفرت کی باتیں پھیلا رہا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ میڈیا خواہ کتنا ہی طاقت ور ہو، اس کی ایک حد ہے۔ اس حد پر جاکر میڈیا کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔ یہ حد خود انسان کی فطرت ہے۔ میڈیا کے تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود انسان کی فطرت پھر بھی زندہ رہتی کوئی بھی خارجی چیز انسان کی فطرت کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔

مسٹر سوراجیہ سنگھ گوڑگاؤں ضلع ہریانہ نے اس سلسلہ میں سر تنہا وہ ایک عظیم سے جڑے ہوئے ہیں جو بندھوا مزدور کے خلاف تحریک چلا رہی ہے۔ چار سال پہلے وہ ہریانہ کے ایک مقام پر گئے جہاں ایک سو کے قریب بندھوا مزدور تھے۔ انھوں نے ان کو رہا کرانے کی کوشش شروع کی۔ مگر مالکوں نے انھیں اتنا مارا کہ ان کے دونوں پاؤں ٹوٹ گئے۔ اس کے بعد وہ کئی مہینہ تک اسپتال میں پڑے رہے۔

بندھوا مزدور خاتمہ قانون (Bonded Labour System (abolition) Act 1976) تقریباً ۲۰ سال پہلے پاس کیا گیا تھا۔ پچھلے سال گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ ہم نے سواد و لاکھ بندھوا مزدور رہا کرائے ہیں اور اب یہ سماجی برائی ملک میں بہت کم ہو گئی ہے۔ ہریانہ گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ ریاست میں بندھوا مزدور سسٹم کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

مگر مسٹر سوراجیہ سنگھ نے بتایا کہ یہ سب پروپیگنڈے کی باتیں ہیں۔ ان کے اندازہ کے مطابق ابھی بھی ملک میں ۵۰ لاکھ بندھوا مزدور موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ابھی حال میں ہم نے ہریانہ کے ایک مقام سے ۴۱ بندھوا مزدور رہا کرائے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون میں درج ہے کہ جہاں کہیں بھی بندھوا مزدور بنانے کے الزام میں کوئی شخص پکڑا جائے تو سمری ٹرائل کر کے اس کا فوراً فیصلہ

کیا جائے اور ملزم کو کڑی سزا دی جائے۔ مگر آج تک کسی ایک شخص کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ میں بند ھوا مز دور بنانے کا نظام کیسے ختم ہو سکتا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ صرف بندھوا مزدور کی بات نہیں ہے۔ ہر معاملہ میں آج یہی حالت ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ قوانین کی کثرت کے باوجود ابھی تک جرائم پر کنٹرول نہ کیا جا سکا۔

آج جمعہ کا دن تھا۔ میجر محمد عثمان (ریٹائرڈ) کے ساتھ گوڑ گاؤں کی جامع مسجد میں جاکر جمعہ کی نماز ادا اس مسجد کے امام حافظ جان محمد ہیں۔ وہ آٹھ سال سے یہاں امامت کر رہے ہیں۔ مسجد کے منتظم جناب ولی محمد ایڈووکیٹ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرے باپ کا نام پھوپت تھا۔ میرے دادا کا نام مُرلی یہ لوگ مسلمان تھے۔ میوات میں پہلے اسی طرح نام رکھے جاتے تھے۔ ابھی بھی میوؤں کے کلچر پر پڑوسی قوموں کی گہری چھاپ ہے۔ مثلاً قریب کے رشتوں میں نکاح نہ کرنے کا رواج انھیں غیر مسلموں سے میوؤں میں آیا ہے۔

راستہ میں میجر عثمان صاحب (۶۳ سال) نے بتایا کہ وہ ۱۹۴۹ میں فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ سروس کے زمانہ کا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے ساتھ پندرہ سو جوان ٹریننگ کے لیے بنگلور بھیجے گئے۔ یہ سب تقسیم کے زخم خوردہ تھے۔ شروع شروع میں ہر ایک شکایت ہر ایک دوسرے کے خلاف بولتا تھا۔ مگر چھ مہینہ ایک ساتھ رہنے کے بعد ہندو مسلم سب ایک ہو گئے ۔ پہلے ہم اپنے کو مسلمان، ہندو، سکھ سمجھتے تھے۔ اب ہم ایک دوسرے کو صرف انڈین سمجھنے انھوں نے کہا کہ اختلاط سے اور مل جل کر رہنے سے سارا جھگڑا ختم ہو سکتا ہے ۔ فہمیاں پیدا کرتی ہے ، قربت غلط فہمیوں کو ختم کر دیتی ہے ۔

میجر عثمان صاحب نے ریٹائر ہونے کے بعد کام تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ انھیں محسوس ہوا کہ ان کی مرضی کا کام ملنا مشکل ہے ۔ انھوں نے اس کا خیال چھوڑ دیا ۔ اور اپنے لیے ایک اور مشغولیت تلاش کر لی ۔ گوڑ گاؤں میں دو ایکڑ زمین پر انھوں نے ایک اسکول کھول دیا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ اس کو وہ دی میں دوڑ رہیں ہیں۔ یہ ایک اور پر جو دیا ہے ، اس درمیان ہے اس کی رائے ہے نمونہ کا اسکول سنائیں ۔ یہ اسکول ہمارے راستہ میں سڑک کے کنارے تھا ۔ چنانچہ چند منٹ کے لیے گاڑی نمونہ کا اسکول بنائیں۔ یہ اسکول ہمارے راستہ میں سڑک کے کنارے تھا۔ چنانچہ چند منٹ کے لیے گاڑی روک کر ان کا اسکول دیکھا۔ فی الحال یہ اسکول ایک عارضی عمارت میں ہے ۔ مگر مشکلات کے باوجود

میجر عثمان صاحب کے حوصلے بلند ہیں۔ اور بلا شبہ اس دنیا میں کامیابی کے لیے سب سے بڑی چیز حوصلہ ہے۔ گوڑ گاؤں کی جامع مسجد پہنچے تو وہاں کافی لوگ جمع تھے۔ شہر کے علاوہ اطراف کے لوگ بھی نماز سے پہلے تقریباً آدھ گھنٹہ کی ایک تقریر کی۔ تقریر میں میں نے (المساجد بیوت المتقین (حدیث) کو موضوع بنایا ۔

میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد تقویٰ کی تربیت گاہ کا مرکز ہے ۔ اس کے بعد مسجد اور نماز اور عبادت کی تشریح کی اور بتایا کہ تقویٰ دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا زینہ ہے ۔ اگر لوگوں میں تقویٰ کی صفات آجائیں تو وہ اہل دنیا کے لیے محبوب بن جائیں گے اور پھر آخرت میں جنت کے مستحق قرار پائیں گے ۔

نماز کے بعد تھوڑی دیر کے لیے امام صاحب کے کمرہ میں نشست ہوئی۔ یہاں ولی محمد صاحب ایڈووکیٹ اور دوسرے صاحبان سے مختصر گفتگو ہوئی۔

مسجد سے باہر نکلا تو ایک بڑا کتب خانہ نظر آیا اس میں کتابوں کی کثرت تھی۔ نے بتایا کہ یہ چودھری یسین صاحب کا مکان تھا۔ اس کو ان کے صاحبزادے چودھری طیب حسین نے از سر نو بنوایا ہے۔ اس کی پانچ منزلیں ہیں۔ اوپر ان کی رہائش گاہ ہے۔ نیچے کے تمام حصے مارکیٹ بنا دیے گئے ہیں۔

پہلی بار جب میں گوڑگاؤں آیا تھا تو اسی مکان میں چودھری یسین صاحب سے ملاقات ہوئی اس وقت وہ صاحب فراش ہو چکے تھے۔ جہاں تک یاد ہے، یہ قدیم وضع کا ایک خستہ مکان مگر اسی جگہ آج شاندار کئی منزلہ عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ علامتی طور پر یہ اس ملک میں مسلمانان ہند کی حالت کا نشان ہے ۔ ۱۹۴۷ء کی تقسیم کے وقت مسلمان جس معاشی حالت میں تھے اس سے آج وہ بہت زیادہ آگے جا چکے ہیں۔ اس پر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ایک صاحب نے گوڑگاؤں کی ایک ماڈرن مسلم فیملی کا قصہ بتایا۔ یہ لوگ انگریزی تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے گھر میں انگریزی زبان ہی لکھی اور بولی جاتی ہے۔ ان کے لڑکے کی شادی ایک سابق گورنر کی لڑکی سے ہوئی۔ یہ لڑکی اگر چہ تعلیم یافتہ تھی، مگر اس کی تعلیم زیادہ تر اردو میں ہوئی تھی اور وہ اردو زبان بولتی تھی۔

یہ بات لڑکے کی انگریزی تعلیم یافتہ ماں کو پسند نہ تھی۔ وہ اکثر کہتی کہ بہو کو انگریزی زبان سیکھنا مگر بہو اس معیار کو پورا نہ کر سکی۔ ایک روز ماں نے غصہ ہوکر بہو سے کہا کہ آخر وہ کس مگر یہ ہوا اس معیار کو پورا نہ کرسکی۔ ایک روز ماں سے غصہ ہو کر ہو کے بارہ میں کہا کہ اردوہ لب انگریزی طریقہ اختیار کرے گی :

Printed page