Al-Risala · November 1997

When she will become anglicised?

Al-Risala, November 1997, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ قصہ میں نے سنا تو میں نے کہا کہ اس کے برعکس اگر ایسا ہوتا کہ مذکورہ مسلم خاندان ہندی داں خاندان ہوتا جیسا کہ آج کل اکثر جگہ ہو رہا ہے اور وہاں ایسی بہو آتی جو انگلش اسکول کی پڑھی ہوئی ہوتی اور انگریزی زبان بولتی تو شاید اس کی ساس ایسا نہ کرتی کہ وہ اس کو ہندی بولنے کی تلقین کرتی ۔ جب وہ ہندی نہ بولتی تو ساس کہتی کہ یہ بہو آخر کب ہندی طریقہ اختیار کرے گی ۔ انگریزی زبان اور ہندی زبان میں اس فرق کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایک کے بارہ میں ذہنی مرعوبیت ہے ، اور دوسرے کے بارہ میں ذہنی مرعوبیت نہیں۔

نماز جمعہ سے فراغت کے بعد دوبارہ میجر عثمان صاحب کے ساتھ واپسی ہوئی۔ راستہ میں میں نے عثمان صاحب سے پوچھا کہ اپنی سروس کے زمانہ کے کچھ تجربات بتائیے ۔ مجھے تعجب ہوا کہ عام رواج کے برعکس انھوں نے نہ تو ہند و تعصب کی بات کی ۔ نہ یہ کہا کہ میراپروموشن نہیں ہونے دیا گیا۔ یونٹ سے ریٹائر ہو سکتا تھا مگر مجھ کو مینیجر ہی کے درجہ پر باقی رکھا گیا۔ اس قسم کی شکایتی باتیں کرنے کے بجائے انھوں نے کہا کہ میری سروس نے مجھے سب کچھ دیا۔ اس معاملہ میں میرے پاس کلمہ شکر کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

پھر انھوں نے کہا کہ دیکھیے ، اسی سروس پر رہ کر میں نے اپنے بچوں کو تعلیم دلائی۔ آج میرے بچے سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ میں ایک میو کالج کا لڑکا تھا۔ مگر اس سروس نے مجھے افسر کے عہدہ پر سروس نے مجھے سارا ہندوستان دکھا دیا۔ میں گاؤں میں پیدا ہوا مگر اسی سروس کی بدولت آج میں شہر کے اندر اپنے ذاتی مکان میں رہتا ہوں۔ میرے پاس کار اور تمام ضرورت کی چیزیں موجود ہیں۔ مجھے کبھی کسی تعصب کا تجربہ نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا: اگر آپ اپنے کو ٹھیک رکھیں تو تعصب والا اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا۔ میجر عثمان صاحب فرید آباد میں رہتے ہیں، اور ان کا ٹیلی فون نمبر (Tel. 8-230291) یہ ہے

نماز کے بعد ہم لوگ جسٹس تیوتیا کی رہائش گاہ پر پہنچے تو دوپہر کا کھانا میز پر رکھا جا چکا تھا۔ شرکاء کے ساتھ کھانا کھایا گیا۔ کھانا بالکل سادہ اور میرے مزاج کے عین مطابق تھا۔ کھانے کے بعد دیر تک ملکی موضوعات پر تبادلہ خیال جاری رہا۔

شام کو گوڑ گاؤں سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ اس سفر میں مسٹر مول چند جین ساتھ تھے۔ وہ عرصہ تک عملی سیاست میں رہے نہیں۔ ہریانہ کے منسٹر بھی بنے۔ مگر اب وہ ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں اور کرنال میں مال روڈ پر رہتے ہیں۔

انھوں نے بہت جوش کے ساتھ کہا کہ خرابی کی وجہ یہ ہے کہ لوگ بس اپنے سے باخبر ہوتے ہیں۔ وہ دوسرے کو نہیں جانتے۔ مثلا اسلام میں وحدت کا تصور جہانگیر ہے، ہاسی اور دھرم میں ہیں۔ اسی طرح اسلام میں جو مساوات ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر لوگ بے بنیاد طور پر غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے گنٹروں (خوبیوں) کو جانیں تو سارا اختلاف ختم ہو جائے۔ مسٹر جین اردو جانتے ہیں۔ انھوں نے میٹنگ میں سب کے سامنے یہ بات کہی کہ اسلام میں جو خلیفہ ہوئے ہیں ان سے بڑھ کر اچھے حکمراں کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ ہمارے یہاں راجہ جنک کانمونہ بتایا مگر کون جانتا ہے کہ جنک کب تھے ، اور تھے بھی یا نہیں۔ وہ کوئی ہسٹاریکل فیگرنہیں اسلامی خلیفہ تو تاریخی شخصیتیں ہیں۔

مغرب کے قریب ہم لوگ دہلی واپس آگئے۔

Printed page