Al-Risala · November 1997

دوسرا سفر

Al-Risala, November 1997, pp. 47–50

By Maulana Wahiduddin Khan

مول چند جین ہریانہ کی ایک معروف شخصیت ہیں۔ وہ ایک فریڈم فائٹر ہیں۔ اس کے علاوہ مسٹر اور ایم پی اور مختلف بڑے عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ اب ان کی عمر ۸۰ سال ہو چکی ہے۔ ۲۰ اگست ۱۹۹۵ کو ان کا اکیاسی واں جنم دن تھا۔ اس موقع پر ان کے آبائی گاؤں سکندر پور ما جرا (کہنال) میں ایک عوامی تقریب منائی گئی۔ شری مول چند جین کو بچوں کو لائبریریوں کا بہت شوق ہے اور انھوں نے اپنے آبائی گاؤں سکندر پور ماجرا میں ایک اچھی لائبریری قائم کی ہے۔ اس لیے لوگوں نے طے کیا کہ اس بار مول چند جین کے جنم دن کو لائبریری دن کے طور پر منایا جائے منتظمین کی طرف سے مجھے بھی اس موقع پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں یہ سفر پیش آیا۔

20 اگست 1995ء کی صبح کو جسٹس دیوی سنگھ تیوتیاکے ساتھ روانہ ہوا۔ دہلی کی سڑکوں پر چلتے ۲۰ اگست ۱۹۶۵ء صبح کا وقت ساڑھے چھ بجے دبی کے ساتھ روانہ ہوا۔ دہی کی سرڑوں پر پئے سے مڑی ، الّا قلعہ کے پاس پہونچی ۔ ہماری گاڑی الّا قلعہ کی دیوار کے پاس کر کے جاتی ہے میری جھگڑا مجھ اکا ہوئے ہم لال قلعہ کے پاس پہنچے۔ ہماری گاڑی لال قلعہ کی دیواروں کے متوازی چل رہی تھی۔ شاعر کا شعر یاد آیا جو اس نے اس تاریخی قلعہ کے بارہ میں لکھا تھا :

اے قلعۂ سرخ اے اثر شاہ جہانی برباد شدہ عظمت ماضی کی نشانی میں نے اپنے دل میں سوچا کہ کچھ لوگ لال قلعہ کو عظمت کی نشانی کے طور پر دیکھتے ہیں مگر میں اس کو عبرت کی نشانی کے طور پر دیکھتا ہوں۔ جمنا کے کنارے بنا ہوا ۵۷ فٹ اونچی دیواروں والا یہ عظیم قلعہ دریا کے سیلاب سے اپنے مکینوں کو بچا سکتا تھا مگر اس میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ حقائق کے سیلاب سے ان کو بچا سکے ۔ حقائق کا سیلاب ہر دوسری چیز سے زیادہ طاقت ور ثابت ہوتا ہے۔ دہلی سے نکل کر ہم ہریانہ میں داخل ہوئے ۔ ہماری گاڑی سڑک پر دھکے کھاتی ہوئی جارہی تھی جس میں جگہ جگہ گڑھاتھا۔ میں نے باہر دیکھا تو سڑک کے دونوں طرف دور تک سر سبز و شاداب زمینیں پھیلی ہوئی تھیں ، ہریانہ ایک نہایت سرسبز مالامال ریاست ہے مگر اس کی سڑک مفلسی کا منظر پیش کر رہی یہ سارا کرشمہ اس لفظ کا ہے جو آزادی کے بعد ہر آدمی کے لیے ایک معلوم لفظ بن چکا ہے ۔ یعنی پولیٹیکل کرمیشن ۔ یہ حقیقت ہے کہ ۱۹۴۷کے بعد یہ عظیم ملک ہمارے لیڈروں کو ملا تو انھوں نے اس کو لوٹ کا دسترخوان سمجھ لیا نہ کہ تعمیر و ترقی کا میدان۔ ایک ہندو بھائی نے کرپال سنگھ بیدار کا یہ شعر سنایا :

بیدار سحر کے ہوتے ہی کچھ اور سیاہی پھیل گئی آغاز ہمارا یہ کچھ ہے انجام ہمارا کیا ہوگا سونی پت پہنچے تو ایک مقام پر سڑک بھینسوں سے بھری ہوئی تھی۔ ہماری گاڑی ان چلتی پھرتی کالی چٹانوں کے درمیان سے اس طرح گزر رہی تھی کہ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ ان میں سے کوئی دھکا یا سینگ مار کر نئی ڈیلکس ماروتی کو نقصان پہنچا دے۔ تاہم گاڑی نہایت آہستہ چلتی ہوئی خیریت کے ساتھ باہر آگئی ۔ جسٹس تیوتیا نے کہا :

رسیدہ بودبلا ئے ولے بخیر گذشت رسیدۂ بود بلائے بے لذت پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ میں نے تو بچپن میں اردو اور فارسی پڑھی ہے۔ ایک عرصہ تک اردو ہی پڑھتا تھا۔ وہ بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلینڈ گئے تو اردو چھوٹ گئی اور ان کی عام زبان انگریزی بن گئی۔

جسٹس دیبی سنگھ تیو تیا کلکتہ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس تھے۔ انھوں نے ایک اصول کی بنیاد پر ۱۹۸۸ میں اس عہدہ سے استعفادے دیا۔ وہ ایک اصول پسند آدمی ہیں اور با اصول موقف (principled stand) کے لیے مشہور ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے ملکی حالات میں اصلاح کے لیے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے جب الیکشن کمیشن میں اپنی پارٹی (جن ستہ پارٹی) کو رجسٹر کرایا تو معلوم ہوا کہ ہندوستان میں تقریبا چار سو پولیٹیکل پارٹیاں رجسٹرڈ پارٹی کی حیثیت سے

انھوں نے بتایا کہ ان کی ابتدائی تعلیم لاہور میں اردو اسکول میں ہوئی۔ جب وہ تیسری کلاس میں پڑھتے تھے تو ان کے مسلمان استاد نے ایک شعر بتایا تھا جو اب تک انھیں یاد ہے : کاٹ لینا ہر کٹھن منزل کا کچھ مشکل نہیں اک ذرا انسان میں چلنے کی ہمت چاہیے Justice Debi Singh Tewatia A-27, D.L.F. Qutub Enclave, Phase-I Gurgaon, Tel. 0124-8-350797 کرنال کے نام سے بہت سی تاریخیں وابستہ ہیں۔ نادر شاہ (۱۷۳۷ء - ۱۷۸۸) ایک ایرانی سردار اٹھارویں صدی میں وہ اسی ہزار کی فوج کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوا۔ ہوئے فروری ۱۷۳۹ میں وہ کرنال پہنچا۔ یہاں اس نے مغل فوج کو فیصلہ کن شکست دی۔ بعد وہ دہلی میں داخل ہوا۔ یہاں کچھ مسلمانوں نے اس کے ایک فوجی کو مار دیا۔ اس پر وہ سخت برہم اس نے دہلی میں قتل عام کا حکم دے دیا۔ دہلی کی سڑکوں اور گلیوں میں تیس ہزار آدمی قتل کر دیے گئے۔

نادر شاہ نے نہایت سفاکی کے ساتھ ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کی۔ تاہم آخر میں خود اسی کے حفاظتی فوجیوں نے اس پر حملہ کر کے جون ۱۷۴۷ میں اسے مار ڈالا ۔ نادر شاہ کی موت کے بعد اس کی حکومت بھی منتشر ہوگئی۔

لندن کے البرٹ میوزیم میں نادر شاہ کی ایک تصویر رکھی ہے جوکسی مصورنے ۱۷۴۰ میں بنائی اس تصویر میں اس کے چہرے پر شرعی داڑھی ہے اور ہاتھ میں تسبیح لٹک رہی ہے۔ مگر نادر شاہ نہایت سفاک آدمی تھا۔ اس نے خود اپنے بیٹے کو اندھا کروا دیا۔ کیوں کہ اس کو شبہ ہو گیا تھا کہ اس

کا بیٹا اس کے خلاف سیاسی سازش کر رہا ہے۔ نادر شاہ نے جب دہلی کی مسلم سلطنت کو توڑا اور مسلمانوں کا قتل عام کیا تو دہلی کے ایک بزرگ نے اس پر یہ شعر کہا تھا کہ یہ خود ہمارے اعمال کی شامت تھی جس نے نادر کی صورت اختیار کرلی :

Printed page