اسلامی تہوار
Al-Risala, February 1997, pp. 4–7
By Maulana Wahiduddin Khan
تہوار اجتماعی خوشی کا دن ہے۔ یہ انسان کی اور انسانی سماج کی ایک فطری ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اور ہر سماج میں تہوار کا رواج کسی نہ کسی صورت میں پایا جاتا ہے۔ عام حالات میں لوگ اپنی اپنی ذمہ داریوں میں اور اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے اب ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے لئے بے تکلف انداز میں اجتماعی ملاقات کا ایک موقع تہوار اسی قسم کا ایک موقع فراہم کرتے ہیں جب کہ کسی بستی یا کسی انسانی گروہ کے لوگ آپس میں کھلے طور پر ملتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں بے تکلف حصہ دار بنتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں آدمی اکثر کسی نہ کسی سبب سے ذہنی تناؤ میں رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ اگر کسی کو راحت و آرام کے سارے سامان حاصل ہوں تب بھی کچھ عرصہ کے بعد وہ اس نفسیاتی حالت میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کو اکتاہٹ (بورڈم) کہا جاتا ہے۔ اس عمومی صورت حال نے بھی تہوار کو ہر قوم اور ہر سماج کی فطری ضرورت بنا دیا ہے تاکہ لوگ اکٹھا ہو کر اپنے غموں کو بھلائیں، ایک دوسرے سے مل کر اپنے ذہنی بوجھ کو ہلکا کریں۔ یہ تہوار اکثر کسی خاص قومی دن میں یا کسی یادگار تاریخ پر رکھے جاتے ہیں۔ ہر قوم اپنے تاریخی دنوں میں اپنا تہوار مناتی ہے۔ چنانچہ سال کی اکثر تاریخوں میں کسی نہ کسی قوم کا تہوار کسی نہ کسی مقام پر جاری رہتا ہے (تفصیلی فہرست کے لئے (مائیکرو پیڈیا ۴/۴۱-۷) ان تہواروں میں عام طور پر کھیل کود ہوتا ہے۔ تفریحی پروگرام کئے جاتے ہیں۔ سماجی روایات کی حدود کو توڑ کر لوگ خوشیاں مناتے ہیں۔ ان میں ہر طبقہ کے لوگ شریک ہوتے ہیں، خواہ وہ سیاسی ہوں یا مذہبی یا سیکولر ہوں۔
مسلمانوں کے لئے اس قسم کے دو تہوار مقرر کئے گئے ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحی۔ مسلمانوں کے لئے مذہبی اعتبار سے یہ دو سالانہ خوشی کے دن ہیں۔ عید الفطر شوال کی پہلی تاریخ کو آتی ہے اور عید الاضحیٰ ذوالحجہ کی ۱۰ تاریخ کو۔
مکی دور میں باقاعدہ اسلامی سماج نہیں بنا تھا۔ اس لئے مکی دور میں عیدین کے یہ تہوار
بھی مقر نہیں ہوئے تھے۔ منظم اسلامی معاشرہ، ہجرت کے بعد مدینہ میں بنا۔ اس وقت جس طرح دوسرے اجتماعی نظام بنائے گئے، اسی طرح عیدین کا نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس زمانہ میں مدینہ کے لوگوں میں دو قبائلی تہواروں کا رواج تھا۔ اس دن وہ لوگ کھیل کے مقابلے کرتے تھے۔ شعر و شاعری کی محفلیں سجاتے تھے۔ تاریخی فخر والی چیزوں کی نمائش کرتے تھے۔ مجموعی اعتبار سے اس تہوار کو ایک قسم کا قومی میلہ کہا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ آئے اور آپ نئے وہاں کے تہواروں کو دیکھا تو آپ نے ان کے بجائے عیدین کی صورت میں دو تہوار مقر کئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو اس وقت اہل مدینہ کے دو سالانہ دن تھے۔ ان میں وہ کھیل کود کرتے تھے۔ آپ نے پوچھا کہ یہ تمہارے دو دن کیا ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یہ یہاں کا پرانا رواج ہے۔ ان دنوں میں ہم لوگ کھیل کود کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے ان دو دنوں کے بدلے تم کو زیادہ بہتر دو دن دئے ہیں۔ یہ دو دن یوم الاضحیٰ اور یوم الفطر ہیں (سنن ابی داؤد ۲۹۳/۱)
عیدین کے یہ تہوار گویا تہوار کے قدیم جاہلی طریقوں کا اسلامائزیشن ہیں۔ اصل مقصد اجتماعی خوشی ہے۔ اس کو عیدین میں پوری طرح باقی رکھا گیا۔ البتہ اس میں غیر سنجیدہ قسم کے کھیل کود کو گھٹاکر اس کی جگہ مہذب خوشی اور سنجیدہ تفریح کا اضافہ کر دیا گیا۔ عیدین کے سلسلہ میں مختلف روایتیں جو حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، ان کی بیشتر تعداد کو مشکاۃ المصابیح میں اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ ان کو صلاۃ العیدین میں اور بعض دوسرے ابواب کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔
پہلی بات یہ کہ عید کے تہوار کو قمری کیلنڈر کے ہلال سے جوڑ دیا گیا۔ اس طرح نے چاند کا ظہور تہوار کی آمد کا ایک آسمانی اعلان بن جاتا ہے۔ تا ہم اس خوشی کا رخ اعلیٰ انسانی قدروں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہلال کو دیکھا تو یہ دعائیہ کلمات آپ کی زبان سے نکلے: اللّهم اهلّه علينا بالامن والايـمان والسلامة والاسلام، ربی وربک الله (مشکوة المصابیح ۵۱/۲)، یعنی اے اللہ، اس چاند کو ہمارے لئے
امن اور یقین کا چاند بنا دے۔ اس کو سلامتی اور اطاعت کا چاند بنا دے۔ میرا رب بھی اللہ ہے، اور اس چاند کا رب بھی اللہ۔
یہ دعا بتاتی ہے کہ عید کا چاند دیکھ کر لوگوں کے اندر کس قسم کے احساسات وجذبات پیدا ہونے چاہئیں ۔ وہ یہ کہ ہمارے اندر یہ تمنا اہل پڑے کہ آنے والے دن ہمارے لئے اور ساری انسانیت کے لئے امن کے دن ہوں ۔ جب کہ تمام لوگوں کو صحت وسلامتی کی نعمتیں حاصل ہوں ۔ انسانی خوشیوں میں چاند کی شرکت کو دیکھ کر انسان کے اندر یہ احساس جاگ اٹھے کہ پوری کائنات ایک وسیع خدائی عیال ہے۔ اس میں انسان سے لے کر آسمانی اجرام تک سب شامل ہیں۔ سب ایک ہیں، اس لئے کہ سب کا خدا ایک ہے۔
پھر جب صبح آتی ہے تو تمام بڑے اور بچے ، عورتیں اور مرد نہادھو کر صاف کپڑے پہنتے ہیں۔ اپنی پسندیدہ خوراک کھا کر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد گھر سے چل کر کسی کھلے میدان میں پہنچتے ہیں۔ اور وہاں دو رکعت شکر کی نماز پڑھتے ہیں۔ اس طرح گویا وہ اقرار کرتے ہیں کہ جس خدا نے خوشی کا موقع دیا ہے، وہی خدا اس قابل ہے کہ اس کے لئے اس کا شکر ادا کیا نماز کے بعد امام خطبہ دیتا ہے جس میں نصیحت کی باتیں ہوتی ہیں۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ خوشی ہر انسان کا حق ہے۔ مگر خوشی کو ذمہ داری کے حدود میں رہ کر منانا چاہئے۔ اس کے بعد لوگ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں۔ مبارکبادی کے کلمات کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر اس طرح کہ ایک کی خوشی دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث نہ ہو۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر ان کی خوشی میں شور وغل نہیں ہوتا ۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ راستوں میں کوئی گندگی نہ پھیلے ۔ ان کی خوشی پڑوسیوں کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے ۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر اس طرح کہ مقصدیت کا عنصر کسی طرح اس سے حذف نہ ہونے پائے۔
اسلامی تیوہار کے دن جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے ، ان میں سے ایک صدقہ ہے۔ صورت میں بھی اور کھانے پینے کی چیزوں کی صورت میں بھی ۔ یہ گویا انفرادی خوشی کی اجتماعی توسیع ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک کو خوشی منانے کے اسباب مہیا کئے جائیں۔ سماج میں کوئی ایسا نہ رہے
جو خوشی کے اسباب سے محروم ہو۔ جو اپنی خوشی کی مادی قیمت دینے سے عاجز ہو جائے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئے۔ اس وقت دولڑکیاں حضرت عائشہ کے پاس بیٹھی ہوئی دف بجارہی تھیں اور عربی گانے گارہی تھیں۔ حضرت ابو بکر نے ان کو ڈانٹا کہ رسول کے گھر میں تم لوگ گانے بجانے کا لغو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے۔ اپنے چہرہ سے چادر ہٹائی اور فرمایا کہ اسے ابو بکر ، انہیں چھوڑ دو ، ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے (فتح الباری ۵۱۶/۲)
اسلام میں خوشی منانے کو تہذیب اور انسانیت کی حد میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خوشی ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ حد کی پابند نہیں رہتی۔ وفور شوق میں کبھی کبھی کوئی شخص تجاوز بھی کر جاتا ہے۔ اس لئے حد بندی کے ساتھ اسلام میں انسانی جذبات کی رعایت بھی رکھی گئی ہے۔ اور وہ رعایت یہ ہے کہ اگر کوئی عورت یا مرد وقتی جذبہ کے تحت کچھ سادہ قسم کی بے ضرر تفریح کر لیں تو سماج کے بڑوں کو چاہئے کہ وہ اسے نظر انداز کریں۔ وہ اس قسم کی معصومانہ خوشی پر روک لگانے کی کوشش نہ کریں۔
ایک بزرگ نے کہا: ليس العيد لمن تزين بزينة الدنيا ، إنما العيد لمن تزود من آۃ التقویٰ۔ یعنی عید اس کی نہیں ہے جو دنیا کی زینت سے اپنے آپ کو سنوارے بلکہ عید اس کی ہے جو آخرت کے لئے تقویٰ کا زاد راہ اکٹھا کر لے۔
اس قول سے اسلامی تہوار کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ اسلامی تیوہار وہ ہے جس میں خوشی کے ساتھ خدا کا شکر شامل ہو جس میں کہیں کے ساتھ اعتدال موجود ہو۔ جس میں بے تکلفی ہو مگر وہ ادب کے دائرہ میں ہو۔ جس میں کھانا پینا ہو مگر وہ اسراف سے پاک ہو۔ جس میں انسانی جذبات کی رعایت ہو مگر وہ خدائی احکام کے ماتحت ہو۔ جس میں تفریح ہو مگر اس کے ساتھ اس میں مقصدیت بھی پوری طرح برقرار رہے۔
یہ ہے عید ، اور یہ ہے تیوہار کا اسلامائزیشن۔
نوٹ: آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۱ فروری ۱۹۹۶ کو نشر کیا گیا۔