Al-Risala · November 1997

شامت اعمال ما صورت نادر گرفت

Al-Risala, November 1997, pp. 50–51

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد بن قاسم عراق سے اپنی فوج لے کرسندھ آیا۔ اس وقت یہاں راجہ داہر کی حکومت تھی۔ اس نے نہایت آسانی سے ۷۱۲ء میں سندھ کو فتح کر لیا۔ اس سلسلہ میں جسٹس دیبی سنگھ تیوتیانے بتایا کہ سندھ میں پہلے ایک جاٹ راجہ کی حکومت تھی (جسٹس تویتا خود بھی ایک جاٹ ہیں۔ ) چچ نامی ایک برہمن اس راجہ کا وزیر تھا، اس وزیر نے محل کے بعض افراد کو ملا کر راجہ کو زہر دے دیا۔ مرنے کے بعد چچ راج گدی پر قابض ہو گیا۔ داہر اسی کا لڑکا تھا جو چچ کے مرنے کے بعد راج گدی

اس واقعہ کی بنا پر سندھ کے جاٹ لوگ چچ اور داہر سے بہت ناراض تھے۔ محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوا تو جاٹ سرداروں نے محمد بن قاسم کا ساتھ دیا۔ اس طرح داہر کے مقابلہ میں وہ بہت آسانی کے ساتھ کامیاب ہو گیا۔ اس کے بعد ان جاٹوں نے محمد بن قاسم کی اطاعت قبول کر لی اور محمد بن قاسم نے بھی ان کے ساتھ نہایت اچھے سلوک کیے۔ اسی واقعہ کو بعض ہندوستانی مورخین نے اس طرح لکھا ہے کہ محمد بن قاسم کو کچھ بے وفاسر داروں کی غداری سے بہت مدد ملی : His work was greatly facilitated by the treachery of certain renegade chiefs. (p. 172)

تقریباً تین گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم لوگ سکندر پورہ ماجرا (کرنال) پہنچے۔ یہاں ایک اسکول کے وسیع ہال میں جلسہ کا انتظام کیا گیا تھا۔ کرنال کے علاقہ کے عوام و خواص بڑی تعداد میں اس میں

یہاں اگر چہ ہر یانہ کے دو منسٹر، کئی وکیل اور ڈاکٹر اور پروفیسر وغیرہ بھی آئے تھے۔ تاہم تعداد کے اعتبار سے وہ زیادہ تر ایک عوامی جلسہ تھا۔ مختلف دیہاتوں کے لوگ بڑی تعداد میں جمع تھے۔ پہنچا تو عورتوں اور بچوں اور بڑوں کی ایک بھیڑ دکھائی دی۔ سب کسان طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔

گانے اور باجے کا ایک ہنگامہ جاری تھا۔

میں زیادہ تر کانفرنسوں میں جاتا رہا ہوں۔ وہاں سب کے سب پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں۔ کانفرنس اور سیمنار کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ میں ذاتی طور پر کانفرنس کا آدمی ہوں۔ میں عوامی جلسوں کا آدمی نہیں۔ تاہم میں نے سوچا کہ کانفرنسوں میں جو لوگ آتے ہیں وہ ملک کی آبادی کا کتنا فی صد حصہ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ دس فی صد سے زیادہ نہیں۔ ملک کے ۹۰ فی صد لوگ یا تو ناخواندہ ہیں یا نیم خواندہ۔

مگر عجیب بات ہے کہ ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں وہ ۹۹ فی صد شہروں میں ہوتے ہیں۔ راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کے تحت دو سینیر رپورٹروں نے چھ ماہ کی تحقیق کے دوران شہری علاقہ اور دیہی علاقہ میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے اعداد و شمار جمع کیے۔ روشنی میں انھوں نے دونوں علاقوں کے فرق کو بتانے کے لیے ایک چارٹ بنایا ہے۔ بتاتا ہے کہ دونوں قسم کے علاقوں کے درمیان فساد کے اعتبار سے جو تناسب ہے وہ اس برگ اور اس کی ٹپ جیسا ہے۔

یہاں کے جلسہ میں رام گوپال ایڈوکیٹ (پانی پت) سے ملاقات ہوئی ۔ وہ اچھی اردو انھوں نے اپنے قلم سے میری ڈائری میں لکھا : میں ۱۹۱۴ میں پیدا ہوا۔ ہنسوارہ (پانی پت) میں سب مل جل کر رہتے تھے۔ مذہب وملت کی بنا پر کوئی مت بھیدنہیں ۱۹۳۹ سے میں شہر پانی پت میں رہنے لگا۔ یہاں شہر میں بھی کسی قسم کامت بھیدنہیں تھا۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ پانی پت کے چودھری ممتاز حسین (ریٹائرڈ تحصیل دار) کا احسان نہیں بھول سکتا۔ میں نے ایف اے تک فارسی اور بی اے تک اردو میں تعلیم حاصل کی۔ باہر کی طاقت بٹوارہ کرنے میں کامیاب ہو گئی (۲۶ اگست ۱۹۹۵)

جلسہ میں جو کارروائیاں ہوئیں ان میں سے ایک یہ تھا کہ گاؤں کی بچیوں نے مل کر گانا گایا اور اس طرح مہمانوں کا سواگت کیا۔ ایک شعر یہ تھا :

Printed page