Al-Risala · November 1997

Muslims are bad, because they are meat eater.

Al-Risala, November 1997, pp. 53–55

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد میرا داخلہ ایک کالج میں ہوا۔ وہ ہندو کالج تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ہندو بھی میٹ کھاتے

چنانچہ وہاں دوپارٹی تھی۔ ایک کو ماس پارٹی اور دوسری کوگھاس پارٹی کہتے تھے۔ کہ خود آریہ سماجیوں میں دونوں قسم کے لوگ ہیں۔ اس تجربہ کے بعد مسلمانوں سے میری نفرت ختم ہوگئی۔ ایک ریٹائرڈ ہندو جج نے کہا کہ یہ سب تو اس وقت کی باتیں ہیں جب کہ زرعی دور تھا اور اکانومی گائے پر بیس میں کرتی تھی۔ اب گائے کی اقتصادی قابلیت (economic viability) ختم ہوگئی۔ اب ہل بیل کی جگہ ٹریکٹر آگیا ہے۔ اس لیے اب اس قسم کی بحثوں کو بھی ختم ہو جانا چاہیے۔ بھی ویسی ہی ایک جانور ہے جیسے کہ دوسرے جانور ۔

واپسی دوبارہ جسٹس دی سنگھ تیوتیا کے ساتھ ہوئی ۔ راستہ میں مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی جسٹس تیوتیا کی ابتدائی تعلیم لاہور میں ہوئی۔ ۱۹۹۲ء میں وہ پاکستان گئے تو وہاں کے لوگوں نے ان سے بے حد محبت کا اظہار کیا۔ وہاں وہ بالکل اپنوں جیسے ماحول میں رہے۔ انھوں نے بتایا کہ واپسی میں جب وہ لاہور سے دہلی آنے والے جہاز پر سوار ہوئے تو جہاز میں ان کی ملاقات ایک ۸۰ سالہ پاکستانی سے ہوئی ۔ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ لکھنو جارہے تھے۔ بوڑھے پاکستانی نے کہا کہ ”میں اپنے ملنے کو اسی جہنم کھومی دکھانے جا رہا ہوں ۔ اٹھھوں نے مزا کہاکہ جب میں لکھنؤ کی زمن سرہیختا اپنے بیٹے کو اپنی رحم ہوگی دکھائے جارہا ہوں ۔ اٹھوں کے خرید ہالہ جب میں چھوٹی زمین پر پہنچا ہوں جو میرا آبائی وطن ہے تو میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔

جسٹس تیوتیانے اپنے سفر پاکستان کے بارہ میں اس قسم کے مختلف تجربے بتانے کے بعد کہا کہ ۱۹۴۷ء میں یہاں جو جغرافی تقسیم ہوئی اس نے انسانی تقاضوں کو کچل ڈالا۔ اب ضرورت ہے کہ برصغیر کے ملاپ (sub-continental reconciliation) کاپراسس جاری کیا جائے ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ سیاست وہی ہے جو حالات کے اعتبار سے قابلِ موجودہ حالات میں مذہبی سیاست قابلِ عمل نہیں۔ کیوں کہ اس کے موافق ذہنی فضا ملک میں موجود نہیں۔ اس وقت ہم جن حالات کے درمیان ہیں اس میں قابلِ عمل سیاست صرف ایک ہے، اور وہ سیکولر سیاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی سیاست فیل ہو گئی ، اور اسی طرح ہندوستان میں بھی ہندو کی سیاست فیل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہی رکھتی کہ دونوں ممالک میں کسی بھی ملک طرح ہندوستان میں بھی سیاست فیل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ دونوں میں سے کسی ملک میں راس الوقت نہ تو مذہبی سیاست پر اصلو بر سیاست چلا جانے کا موقع موجود تھا اور نہ ہی کسی کسی نظام میں اس وقت مذہب کے اصولوں پر سیاست چلانے کے مواقع موجود نہیں۔ اگر کسی کو مذہبی نظام لانا ہے تو سب سے پہلے اس کو سماج کے اندر مذہبی ماحول بنانا پڑے گا۔

واپسی میں ہم لوگ سونی پت سے گزرے۔ یہاں کچھ دیر کے لیے چودھری رزق رام ایڈووکیٹ (022-760 .Tel) کے مکان پر ٹھہرے ۔ ۸۳ سال کی عمر میں بھی وہ کافی سرگرم نظر آئے۔ کسی اطلاع کے بغیر یہاں پہنچے تھے۔ جسٹس تیوتیانے کہا کہ ہم لوگ پیشگی اجازت لیے بغیر آپ کے انھوں نے مسکرا کر جواب دیا : آمد ن بہ ارادت، رفتن به اجازت ۔ چودھری رزق رام نے ایک عجیب بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ سونی پت بہت قدیم سے آباد مکہ کا قبیلہ قریش سونی پت ہی کا تھا۔ پہلے اس کانام کروؤ نس(kuruvans) (Kuruvans) تھا۔ جا کر وہ لوگ عرب میں آباد ہو گئے۔ اس کے بعد وہ قریش کہے جانے لگے۔ اس کے بعد انھوں نے کہا : حضرت صاحب اسی قبیلہ میں پیدا ہوئے ۔ ۲۰ اگست کی شام کو ۵ بجے کو یہ بات انھوں نے اپنے مکان پر کہی۔

۱۹ مئی ۱۹۹۵ کی رات کوعشاء کی نماز کے وقت ہم لوگ دہلی واپس آگئے۔ دعوت حق کے نام سے ایک نئی کتاب تیار ہوئی ہے۔ یہ کتاب ۹۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں دعوت کی اہمیت ، اس کے احکام ، نیز دعوتی واقعات اور موجودہ زمانہ میں اس کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔

دوسری نئی کتاب کا نام ہے، اسلام ایک تعارف ۔ یہ کتاب پونے تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں اسلام کا عمومی تعارف کیا گیا ہے۔ سادہ اور مثبت انداز میں ہے۔

Printed page