خبر نامه اسلامی مرکز
Al-Risala, November 1997, pp. 56–57
By Maulana Wahiduddin Khan
اپریل ۱۹۹۷ کے آخری ہفتہ میں صدر اسلامی مرکز نے بھوپال کا سفر کیا۔ اکیڈمی کے تحت تین روزہ پرو گرام میں شرکت کی۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔
آلٹرنیٹیو ڈویلپمنٹ سنٹر، جے پور کے چیرمین پر ہلا د سنگھ شیخاوت(فون (فون نمبر ۳۸۲۰۰) نے ۷ مئی ۱۹۹۷ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو " اسلام اور ہندوستان “ کے موضوع پر تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کلچرل اتحاد کی بنیاد پر ملکی اتحاد قائم کرنے کا نظریہ ایک خیالی نظریہ ہے جو کبھی کامیاب ہونے والا نہیں۔ کسی بھی سماج میں اتحاد کا راز ہچری یکسانیت نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ سماج کے افراد با شعور ہوں۔ وہ اس راز کو جانیں کہ اختلاف ایک فطری حقیقت ہے۔ اس دنیا میں اختلاف کے باوجود مل جل کر رہنے سے اتحاد قائم ہوتا ہے۔ اتحاد کا تعلق ذہنی سوچ سے ہے نہ کہ کسی قسم کے خارجی مظاہر ہے۔
۳- ٹائمز آف انڈیا کے چیف سب ایڈیٹر مسٹر کرشنن کٹی نے ۷ مئی ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلام کی بنیادی تعلیمات سے تھا مثلاً آخرت، ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام میں خدا اور بندے کے درمیان کوئی تیسرا وسیلہ نہیں مانا گیا ہے۔ اسلام کے مطابق ہر آدمی براہ راست خدا کی نگرانی میں ہے، اور خدا ہر ایک کے بارے میں اپنے براہ راست علم کے مطابق فیصلہ کرے گا۔
۴- ۱۷مئی ۱۹۹۷ کی شام کو گول مارکیٹ (نئی دہلی) میں ایک اجتماع ہوا جس میں تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوئے۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے تقریباً ایک گھنٹہ کی تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں اصل اہمیت دعوتی ہے ۔ دعوت کے مقابلہ میں ہر دوسری مصلحت کی حیثیت ثانوی ہے۔
۵- مسٹر کرم دت اور ان کی پارٹی نے ۲۸ مئی ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز کا دورہ رشن کے
ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع ناقص الاعضاء انسانوں کے مسائل پر ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ ناقص الاعضاء آدمی اپنے پچھلے جنم کی کسی غلطی کو بھگت رہا ہے اس لیے وہ قابلِ احترام بلکہ اسلام میں ایسا آدمی دوسروں سے زیادہ قابلِ احترام سمجھا جاتا ہے چنانچہ ایک بار پیغمبر اسلامؐ کے پاس کچھ سردار لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس درمیان میں ایک نابینا شخص آگئے۔ پیغمبر سرداروں سے بات کرتے رہے اور نابینا کی طرف التفات نہیں کی۔ اس پر قرآن کی سورہ نمبر ۸۰ میں تنبیہ اتری۔
نیوز اینڈ ویوز الائنس کے چیف ایڈیٹر نسیم نقوی نے ۱۲ جون، ۱۹۹۷۷ کو صدر اسلامی مرکز کا خصوصی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع زیادہ تر سوامی وویکانند سے متعلق تھا۔ مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے لیے وحدتِ ادیان کا نظریہ قابلِ عمل نہیں۔ شہنشاہ اکبر کی طاقت، ڈاکٹر بھگوان داس کا علم اور مہاتما گاندھی کی قیادت اس کو حاصل کرنے میں پوری طرح ناکام رہی۔ کے لیے بہترین فارمولا وہ ہے جو سوامی وویکانند نے دیا :
یعنی ایک کو مانو اور کسی سے نفرت نہ کرو ( فالوؤن اینڈ ہیٹ نن) ہندی اخبار دینک جاگرن کے کرسپانڈنٹ مسٹر اویناش مشرا نے ۱۳ جون ، ۱۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ۱۹۴۷ سے پہلے اور ۱۹۴۷ کے بعد کے بارے میں ذاتی مشاہدات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم دونوں ابتدائی طور پر اپنی فطرت پر ہوتے ہیں۔ اگر انھیں بہکایا نہ جائے تو وہ بھائی بھائی کی طرح ہی زندگی گزاریں۔ یہ دراصل بہکانے والے لیڈر ہیں جو ان کو فطرت کے راستہ سے ہٹا دیتے ہیں۔
کلکی پگنا ٹرسٹ ٹرسٹ(مدراس) کی طرف سے راج گھاٹ نئی دہلی میں ۲۸ جون ، ۱۹۹ کو ایک جلسہ ہوا۔ کا موضوع مذاہب میں عبادت کا تصور تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت اور اسلامی عبادت اور نماز کے موضوع پر ایک تقریر کی۔