قانونِ فطرت
Al-Risala, December 1997
By Maulana Wahiduddin Khan
اسپین میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کو عام طور پر صلیبی جنگوں کا انتقام بتایا جاتا صلیبی جنگیں تیرھویں صدی کے آخر میں ختم ہوئی تھیں۔ مولانا شبلی نعمانی نے پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۴) تک ہونے والے اس قسم کے تمام واقعات کی یہی ایک توجیہہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا : کہاں تک لوگے ہم سے انتقام فتح ایوبی دکھاؤ گے ہمیں جنگِ صلیبی کا سماں کب تک مسلم دانشوروں میں یہی ذہن اب تک باقی ہے۔ چنانچہ فلسطین سے لے کر بوسنیا تک کے تمام واقعات کو دوبارہ وہ اسی انتقامی توجیہہ کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ مگر یہ توجیہہ قرآن اور قانونِ فطرت دونوں کے خلاف ہے۔
ابنِ خلدون کا زمانہ عین وہی تھا جب کہ اسپین میں مسلم سلطنت کا زوال ہوا۔ اس نے اپنے مقدمہ میں تاریخ اور فطرت کا یہ قانون بتایا کہ ہر سلطنت یا ہر عروج یافتہ قوم آخر کار زوال کا شکار ہوتی ہے (ملاحظہ ہو مقدمہ ابنِ خلدون کا باب : ان الدولة لها عماد طبيعية كما تلاشخاص) صفحہ ۱۷۰۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام چیلنج کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس کو قرآن میں کہیں تلك الایام نداولھا بین الناس کہا گیا ہے اور کہیں اس کو بعضکم لبعض عدو کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں ایک قوم کا ابھرنا دوسری قوم کے لیے چیلنج بنتا ہے۔ اس چیلنج سے مغلوب قوم کی صلاحیتیں جاگتی ہیں۔ وہ اٹھ کر غالب قوم کو زیر کرتی ہے۔ اس طرح غالب اور مغلوب کے درمیان مختلف صورتوں میں مسابقت جاری رہتی ہے۔ یہی مسابقت یا چیلنج تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔ اس عمل کے دوران کبھی ایک قوم گرتی ہے اور کبھی دوسری قوم، تا ہم مجموعی اعتبار سے انسانیت کا سفر ترقی کی طرف جاری رہتا ہے مغلوب قوم پیش آمدہ چیلنج کا مقابلہ کر کے دوبارہ غالب آسکتی ہے۔ لیکن فریاد اور احتجاج کا طریقہ اس کو خدا کی دنیا میں کہیں پہنچانے والا نہیں۔ انتقامی توجیہہ صرف نفرت کے جذبات ابھارتی ہے۔ اس کے برعکس فطرت پر مبنی توجیہہ آدمی کے اندر یہ جذبہ پیدا کرتی ہے کہ وہ پیش آمدہ چیلنج کا مقابلہ کرے اور اس طرح اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کرلے۔